کیا قدیم زمانہ تھا۔۔۔۔

سلام کی تعلیمات زندگی میں فضول خرچی کو حرام کہا گیا ہے، اس دور کے لوگ بھی، جو کم آمدنی کی بنا پر تنگدست تھے، فضول خرچی کے بارے میں بہت محتاط رہتے تھے اور جہاں تک ممکن ہوتا اسراف اور فضول خرچی سے پرھیز کرتے۔

سیاسی قیدیوں کی یادوں میں عید نوروز

عید میں کچھ ہفتے باقی تھے عمومی جلسے میں نوروز کے جشن پر بحث چھڑی ہوئی تھی اور جیل میں نوروز کی رسموں کے اجراء کی مخالفت پر۔ بعض لوگ کہہ رہے تھے کہ ہمیں ثقافتی جشن کی حمایت نہیں کرنی چاہئے ہے۔ بعض لوگ کہتے کہ یہ رسم جمشید شاہ نے شروع کی ہے اور یہ جشن شہنشاہوں کا ہے۔

ایک "روشن" کی تاریک موت ۔۔۔

آپ پولینڈ میں چار سال رہیں اور وہیں پر" لشک وژنیاک" جو کہ انجینئرنگ کا طالب علم تھا، ملاقات ہوئی اور پھر وہیں پولینڈ میں شادی کرلی اس کے بعد اعلی تعلیم حاصل کرنے مغربی برلن میں سکونت اختیار کر لی

باقر کاظمی کی زندگی کی یادداشتیں

سید باقر کاظمی ایران کی مشہور شخصیتوں میں سے ہے جس کا تعلق احمد شاہ کے دور سے ڈاکٹر مصدق کے وزارت عظمیٰ کے دور تک ہے، وہ پہلوی اول کے زمانہ مین ایران کے وزیر خارجہ تھے۔ انہوں نے ہر سال کے لحاظ سے اپنی یادوں کو تحریر کیا ہے۔

میں اپنی یادوں سے پیچھے نہیں ہٹونگا

ایک جگہ لکھا کہ بیژن جلالی مجھ سے ۱۰ سال بڑا تھا اور دوسری جگہ کہ شاپور بنیاد ۱۰ سال مجھ سے چھوٹا تھا اور دونوں چل بسے اور میں نے لکھا کہ اگر ملک الموت باری باری پھرتا تو بیژن کے بعد میری باری تھی نہ کہ شاپور کی اور یہاں لکھ رہا ہوں کہ ھوشنگ گلشیری میرے ھمسن و سال تھے وہ بھی چلے گئے اور اگر مدت زمان کا حساب کتاب ہوتا، مجھے بھی اسکے مرنے کے ساتھ اس جہان سے کوچ کرجانا تھا۔

سیاسی قیدی اور عید نوروز

پہلوی دور میں قیدی کمترین امکانات کے ساتھ بہار کی آمد کا جشن مناتے تاکہ بتاسکیں کہ موسم سرما کا اختتام ہوچکا ہے۔ انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد خاص شرائط میں پیش آنے والے ان قیدیوں کے مختلف گروہوں کے قصے و واقعات قلمبند کیے گئے جو اس دور کے تلخ و شیریں ایام کی یادگار ہیں۔

زبانی روایت کا مطالعہ؛ خدو سردار، سرکشی سے حکمرانی تک

کتاب فرمانروای جنگ و موسیقی کو پڑھنے والے کے ذہن میں سب سے اہم سوال جو آتا ہے وہ یہ ہے کہ کیا مصنف نے اس کتا ب میں اس علاقہ کی شناخت کے عناصر کو بیان ہے؟

مبارز و مدافع انقلاب ایران حجت الاسلام غلام رضا اسدی کی زندگی کےمختصرواقعات

آیت اللہ خامنہ ای کو اسی جیل میں لایا گیا، ایک افسر جو سید اور شیخ میں فرق نہیں کرسکتا تھا، آقا کی داڑہی مونڈنے کہ بعد ان سے کہتا ہے " شیخ صاحب، کیسا ہے اب؟!"۔ انھوں نے آیینے میں دیکھا اور اس سے جواب دیتے ہوئے کہا:" بہت ہی خوبصورت اور حسین لگ ہو گیا ہوں، خیر اب تمہارا مقصد کیا ہے؟ یہ داڑہی تو دوبارہ نکل آئے گی" ۔

امیرانی اور ان کا میگزین "خواندنی ھا"

خواندنی ہا رسالہ کہ جس کی اشاعت تقریبا چالیس سال پر محیط تھی اس کا پہلا ایڈیشن رضا شاہ کہ آخری دور میں شایع ہوا اور آخری ایڈیشن انقلاب اسلامی کے آخری سالوں یعنی ۱۳۵۸ شمسی میں شایع ہوا۔

ایک تصویر کی کہانی

کتاب کی جلد کے لئے کس طرح تصویر کا انتخاب کیا گیا

مجھے خیال آیا کہ ان کی تصویر اسی ناک سے دو حصوں میں تقسیم کردوں اور آدھی تصویر سرورق پر اور آدھی پشت پر چھپواؤں تاکہ ناک کی اصل بناوٹ دیکھنے والے پر گراں نہ گزرے اور پھر یہی میں نے کیا
...
23
 

سب سے زیادہ دیکھے جانے والے

ایران میں ایک جاپانی ماں کی داستان

اسے ابھی گئے ہفتہ بھی نہیں ہوا تھا کہ بسیجیوں کی جانب سے ایک خط مجھے موصول ہوا۔ لفافے پر محمد کے دستخط دیکھ کر دل کو سکون ملا۔ خط کھولا تو اس میں لکھا تھا: " پہلے میں مغربی جنگی محاذوں پر، جو پہاڑی علاقوں میں ہیں، مصروف تھا۔ لیکن اب جنوبی علاقے کی طرف آگیا ہوں
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔