مبارز و مدافع انقلاب ایران حجت الاسلام غلام رضا اسدی کی زندگی کےمختصرواقعات

آیت اللہ خامنہ ای کو اسی جیل میں لایا گیا، ایک افسر جو سید اور شیخ میں فرق نہیں کرسکتا تھا، آقا کی داڑہی مونڈنے کہ بعد ان سے کہتا ہے " شیخ صاحب، کیسا ہے اب؟!"۔ انھوں نے آیینے میں دیکھا اور اس سے جواب دیتے ہوئے کہا:" بہت ہی خوبصورت اور حسین لگ ہو گیا ہوں، خیر اب تمہارا مقصد کیا ہے؟ یہ داڑہی تو دوبارہ نکل آئے گی" ۔

امیرانی اور ان کا میگزین "خواندنی ھا"

خواندنی ہا رسالہ کہ جس کی اشاعت تقریبا چالیس سال پر محیط تھی اس کا پہلا ایڈیشن رضا شاہ کہ آخری دور میں شایع ہوا اور آخری ایڈیشن انقلاب اسلامی کے آخری سالوں یعنی ۱۳۵۸ شمسی میں شایع ہوا۔

ایک تصویر کی کہانی

کتاب کی جلد کے لئے کس طرح تصویر کا انتخاب کیا گیا

مجھے خیال آیا کہ ان کی تصویر اسی ناک سے دو حصوں میں تقسیم کردوں اور آدھی تصویر سرورق پر اور آدھی پشت پر چھپواؤں تاکہ ناک کی اصل بناوٹ دیکھنے والے پر گراں نہ گزرے اور پھر یہی میں نے کیا

آیت اللہ یحیی انصاری شیرازی

یہ استاد کی سادہ زیستی اور فروتنی تھی جو بزرگی اور ضعیفی کے باوجود ہماری میزبانی کو قبول کیا، اور اس سادگی نے ہمیں اپنی پرخلوص محبت کے حصار میں لے لیا۔

اصحاب جمعرات

اگر گلشیری کی ادبی زندگی میں دقت کریں تو ہم کئی پر تلاطم موجوں کا ملاحظہ کریں گے جو ابھی تک ہمارے پاس آچکی ہیں اور ہم سے بھی گزر جائیں گی۔ لہذا بہتر یہی ہے کہ اس مقالہ کا عنوان یہ ہو: گلشیری، ایک موثر لکھاری۔

صادق طباطبائی

یادوں کو بیان کرنے والا شخص

ڈاکٹر سید محمد صادق سلطانی طباطبایی بروجردی کہ جنکو سب صادق طباطبائی کے نام سے جانتے تھے۔ رواں ماہ، سرطان( کینسر) کے خلاف ایک قابل ستائش مزاحمتی جنگ لڑ تے ھوئے، دار فانی سے کوچ کر کے، اپنے مالک حقیقی سے جا ملے۔ ان لوگوں کے لئے،جو کہ تاریخ شفاہی پر کام کر رھے ھیں، صادق طباطبائی ھمیشہ ایک گرانقدر سرمایہ رھے، کیونکہ ان کے پاس، انقلاب اسلامی سے مربوط، بہت سے موضوعات پر، بہت ساری باتیں، مشاھدات اور یادداشتیں موجود تھیں۔ خاندانی حسب و نسب، جرمنی کی...

انقلاب کی تا ریخ نگاری کا ایک نیا باب

انقلاب اسلامی کےثقافتی محاذ کی زبانی تاریخ

ہائی اسکول کی تاریخ لکھنا یعنی اپنی ذات میں ایک لشکر، کی تاریخ لکھنا انقلاب اسلامی کےثقافتی محاذ کی تاریخ شفاھی، انقلاب کی تاریخ نگاری کا ایک نیا باب ہے۔

سال کا آخری بدھ

سال کا آخری بدھ، پرانی یادوں کے احساس کو تازہ کرتا ہے، جسکا بڑا حصہ ماضی کی میراث ہے۔ وہ وراثت، جو صدیوں سے، ہمارے اجداد اور بزرگوں کے وسیلے سے ، زبان در زبان اور سینہ با سینہ محفوظ رہی، اور جس نے مختلف اقوام یا گروھوں کے ثقافتی عقیدے کے بعض حصوں کو جنم دیا۔

شہر مشہد کی فوٹو گرافی کی تاریخ کے کچھ پوشیدہ پہلو

آستان قدس سے منسلک ماھر عکاس (مھدی حسامی) ، شھر مشھد میں فوٹوگرافی کے حوالے سے اس بات کے معتقد ھیں کہ دور حاضر میں، ایران کی سیاسی تاریخ میں، فوٹوگرافی کی اھمیت کو دیکھتے ھوئے، شھر مشھد میں فوٹوگرافی کی تاریخ بہت مبہم اور پوشیدہ ھے

فرسٹ کیپٹن ہوشنگ صمدی کی یادداشتیں

فرسٹ کیپٹن ہوشنگ صمدی کی یادداشتیں سید قاسم حسینی کی کوشش و کاوش سے زیور طباعت سے آراستہ ہوئی۔ کیونکہ بحری فوج کی بہت کم یادداشتیں منظر عام پر آئی ہیں اس لیے یہ یادداشتیں دوسری جنگ کی یادداشتوں سے منفرد ہیں۔
...
23
 
حسن مولائی کی یادیں

سو افراد، سینکڑوں افراد، ہزاروں

وہ لوگ جو چند گھنٹوں پہلے جمرات جا رہے تھے تاکہ رمی جمرات کا فریضہ ادا کرسکیں اب تولیہ اوڑھے سو رہے تھے۔ جب جنازے ختم ہوئے، تو مجھے سمجھ نہیں آئی کہ مجھے کہاں لوٹنا چاہئیے۔ اچانک میرے پیروں نے کام کرنا چھوڑ دیا اور میں نے پہلی مرتبہ وہاں گریہ کرنا شروع کردیا۔ واپس پلٹ کر ان سفید پیکروں کو دیکھنا شروع کیا۔ پوری سڑک جنازوں سے سفید ہوچکی تھی۔ ایک جوان مرد کی آواز پر چونکا جو میرے ساتھ کھڑا تھا اور میرے پیروں کے سامنے چپلیں رکھ رہا تھا۔
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔