ایرانیوں کی پولینڈ کے پناہ گزینوں کی مہمان نوازی کی خوبصورت یادیں

زیادہ تر مہاجرین کے کپڑے جوؤں سے بھرے ہوئے تھے ایرانیوں نے ان کے دوسرے کپڑے دیئے اور ان کے کپڑوں کو جلادیا اور پھر ان کو تہران منتقل کردیا اسکے علاوہ پانچ کیمپ بھی ،دولاب ،یوسف آباد،قلعہ مرغی اور تہران میں بنائے گئے،آنے والے مہاجرین ان کیمپوں میں گزر بسر کرنے لگے وہ مرد اور خواتین جو جنگ میں شرکت کے خواہش مند تھے اور صحت مند تھے انہیں محاذ پربھیج دیا گیا.

کتاب "وہ ۲۳ افراد" سے اقتباس

ان ۲۳ افراد کا رمضان کیسا گذرا ؟

افطار سے آدھا گھنٹہ قبل کوئی سر پھرا عراقی نگہبان ہمارےحوالات میں داخل ہوتا ہے اس بوتل کو منہ لکا کر پی جاتا اور خالی کرکے ہنستا ہوا باہر چلا جاتا مگر نہ تو وہ جرات اعتراض رکھتا تھا نہ ہم جرات ممانعت

یہ اصفہان ہے ۔۔۔

مصدق کی طرف سے دی گئی بے جا آزادی کی وجہ سے تودہ پارٹی والے منہ زور ہوگئے تھے اور بہر حال کیونکہ ہماری عوام مسلمان ہے تو کمیونسٹوں کے ساتھ مل کر کیسے رہ سکتی تھی، اور دوسری جانب انہوں نے خود اس تفرقے کو ایجاد کیا تھا مثلا مین نے سنا کہ تہران میں ایک کتے کے اوپر لکھا تھا، آیتاللہ جس سے مراد آیت اللہ کا شانی تھے اس کام نے مذہبیوں کا دل خون کردیا۔

بحرین کی ایران سے علیحدگی کی کہانی، اور جنرل فریدون جیم کی یادیں

فریدون جم کو ان کی اس گفتگو کے کچھ عرصے بعد ہی ، معزول کردیا گیا اور ایرانی سفارت نے اس کو اسپین میں سفیر کے عہدے پر فائز کر دیا گیا یہ ایک طرح کی مہذب جلا وطنی تھی

ورلڈ کنفیڈریشن کے سابق سیکریٹری، فریدون اعلم کی یادیں

مظاہروں میں ایرانی طلباء بھی طبق معمول شریک تھے اور اپنی یکجہتی کا ثبوت دے رہے تھے کہ انہی کے ساتھ ساتھ ایک سیاہ فام جوان بھی چل رہا تھا، پولیس کے افسر نے کہا کہ میں ایک ایک ایرانی کو اس کے نام کے ساتھ جانتا ہوں یہ بتاؤ کہ یہ سیاہ فام تم لوگوں کے درمیان کیا کر رہا ہے؟

۱۷ شہریور کے عینی شاہدوں کی گفتگو

۱۷ شہریور کی یادداشتیں

17شہریور دراصل اس انقلاب اور عظیم کام کی ابتداء تھی مگر شاہ سمجھتا تھا کہ یہ اختتام ہے جو کہ اسکی سب سے بڑی غلط فہمی تھی۔

جنگ کی کہانی، امریکہ میں رہنے والے ایک ایرانی پروفیسر کی زبانی

یہ کہانی محمد کی ہے ، میرے بہترین دوستوں میں سے ایک کی، جو ایران عراق جنگ کے دوران مارا گیا۔مجھے اور محمد کو ایرانی فوج میں خدمات سر انجام دینے کیلئے، فوجی سروسز بھیجا گیا لیکن دونوں کی ڈیوٹیاں الگ الگ یونٹس اور محاذوں پر تھیں ہر ایک یا ڈیڑھ ماہ کے بعد آٹھ سے دس دنوں کی چھٹی ہوتی جس میں گھر جاتے ، شاور صاف ستھرا بیڈ، گردوغبار سے دوری اور سب سے بڑھ کر گولیوں، میزائلوں اور دستی بموں کی آوازوں سے دور یہ لمحات، بہت قیمتی ہوا کرتے تھے مگر جمعرات کا دن اس لحاظ سے دکھ والا ہوتا تھا کہ اس دن جنگ میں شہید ہونے والوں کے جنازے عمومی تدفین کے لئے لائے جاتے تھے۔

ورلڈ کنفیڈریشن کے سابق سیکریٹری، فریدون اعلم کی یادیں

سن 1967 کی گرمیوں کی بات ہے، میں کنفیڈریشن کا سیکریٹری تھا کہ محمد رضا شاہ ،جرمنی کے صدر کی، سرکاری دعوت پر جرمنی آیا،اس زمانے کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں، مجھ سمیت، زندہ یاد رحمت خسروی، چنگیز پہلوان، حسن ماسالی، بہمن نیرومند شامل تھے۔

سید مرتضیٰ نبوی اور محل کی یادیں

ہمارا جیل میں ایک نیٹ ورک یا تنظیم تھی اور ظاہر سی بات ہے دوسو،تین سو لوگ تھے بغیر کسی نظم وضبط اور تنظیم کے کام نہیں کرسکتے تھے لہذا ہم نے خفیہ طور پر ایک کمیٹی بنائی ہوئی تھی ہر دن ایک نمائندہ انتخاب کرتے جو باقی کاموں کی تقسیم بندی کرتا،ساتھ ہی یہ بھی بتاتا چلوں کی جیل میں مل کر کام کرنا،میرے پسندیدہ اور یادگار لمحوں میں سے ہے،جیسے جس دن ہماری باری ہوتی تو صبح جلدی اٹھ کر قہوہ بنانا،دسترخوان لگانا،سبکو بلانا پھر برتن دھونا پھر دوپہر کے کھانے اور رات کے کھانے کے انتظامات میں سارا دن اتنا مصروف گزرتا کہ پتہ ہی نہ چلتا۔

17شہریور کی یادیں

شاہ کا تختہ الٹ گیا اور قصہ تمام ہوگیا،بالآخر ریلی ختم ہوئی اور میں انہی گاڑیوں میں سے ایک پر سوار ہوکر روانہ ہوا، نعرے لگ رہے تھے کہ کل صبح 8بجے ژالہ چوک باب تازہ میں شہداء چوک پر جمع ہوں گے سب نعرے لگاتے اپنے اپنے گھروں کی طرف لوٹ رہے تھے۔
...
9
 

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – تیسری قسط

میں ان لوگوں کے جہل اور لا علمی کو ثابت کرنے کیلئے ایک مضحکہ خیز واقعہ کی طرف اشارہ کرتا ہوں جو میں نے ٹیلی ویژن پر دیکھا۔ صدام نے ایک بند کو معنی کے لحاظ سے برعکس پڑھا۔ اس دفعہ بھی حاضرین نے ایک آواز میں کہا: " جی جناب، ہم متفق ہیں! " البتہ صدام کو ہوش آگیا اور اس نے اپنی غلطی کی اصلاح کرلی۔

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔