کی کہانی، امریکہ میں رہنے والے ایک ایرانی پروفیسر کی زبانی

ایرانی فوجیوں کی کہانی، در اصل، جنگ کی تاریخ کے ابتدائی اجزاء میں سے ہے وہ ابتدائی اجزاء جو اس جنگ کی اصل حقیقت ہیں مگر یہ جنگ ان کے نقطہ نظر سے بیان ہی نہیں ہوئی

۱۷ شہریور ۱۳۵۷ کے عینی شاہدوں سے گفتگو، اکبر براتی

جب گولی چلانےکا پہلا حکم صادر ہوا۔۔۔۔

اس سے پہلےکہ میں اپنی یادداشت بیان کروں ،آپ کی خدمت میں عرض کرتا چلوں کہ ۱۷شہریور کے واقعہ میں امریکہ کا ہاتھ ہونا مکمل طور پر واضح اور روشن ہے۔اس وقت تک ایران میں ۴۵ ہزار امریکی مشیر موجود تھے جو ایرانی فوج کو اپنے اشاروں پر چلارہے تھے۔

کیا قدیم زمانہ تھا۔۔۔۔

سلام کی تعلیمات زندگی میں فضول خرچی کو حرام کہا گیا ہے، اس دور کے لوگ بھی، جو کم آمدنی کی بنا پر تنگدست تھے، فضول خرچی کے بارے میں بہت محتاط رہتے تھے اور جہاں تک ممکن ہوتا اسراف اور فضول خرچی سے پرھیز کرتے۔

سیاسی قیدیوں کی یادوں میں عید نوروز

عید میں کچھ ہفتے باقی تھے عمومی جلسے میں نوروز کے جشن پر بحث چھڑی ہوئی تھی اور جیل میں نوروز کی رسموں کے اجراء کی مخالفت پر۔ بعض لوگ کہہ رہے تھے کہ ہمیں ثقافتی جشن کی حمایت نہیں کرنی چاہئے ہے۔ بعض لوگ کہتے کہ یہ رسم جمشید شاہ نے شروع کی ہے اور یہ جشن شہنشاہوں کا ہے۔

ایک "روشن" کی تاریک موت ۔۔۔

آپ پولینڈ میں چار سال رہیں اور وہیں پر" لشک وژنیاک" جو کہ انجینئرنگ کا طالب علم تھا، ملاقات ہوئی اور پھر وہیں پولینڈ میں شادی کرلی اس کے بعد اعلی تعلیم حاصل کرنے مغربی برلن میں سکونت اختیار کر لی

باقر کاظمی کی زندگی کی یادداشتیں

سید باقر کاظمی ایران کی مشہور شخصیتوں میں سے ہے جس کا تعلق احمد شاہ کے دور سے ڈاکٹر مصدق کے وزارت عظمیٰ کے دور تک ہے، وہ پہلوی اول کے زمانہ مین ایران کے وزیر خارجہ تھے۔ انہوں نے ہر سال کے لحاظ سے اپنی یادوں کو تحریر کیا ہے۔

میں اپنی یادوں سے پیچھے نہیں ہٹونگا

ایک جگہ لکھا کہ بیژن جلالی مجھ سے ۱۰ سال بڑا تھا اور دوسری جگہ کہ شاپور بنیاد ۱۰ سال مجھ سے چھوٹا تھا اور دونوں چل بسے اور میں نے لکھا کہ اگر ملک الموت باری باری پھرتا تو بیژن کے بعد میری باری تھی نہ کہ شاپور کی اور یہاں لکھ رہا ہوں کہ ھوشنگ گلشیری میرے ھمسن و سال تھے وہ بھی چلے گئے اور اگر مدت زمان کا حساب کتاب ہوتا، مجھے بھی اسکے مرنے کے ساتھ اس جہان سے کوچ کرجانا تھا۔

سیاسی قیدی اور عید نوروز

پہلوی دور میں قیدی کمترین امکانات کے ساتھ بہار کی آمد کا جشن مناتے تاکہ بتاسکیں کہ موسم سرما کا اختتام ہوچکا ہے۔ انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد خاص شرائط میں پیش آنے والے ان قیدیوں کے مختلف گروہوں کے قصے و واقعات قلمبند کیے گئے جو اس دور کے تلخ و شیریں ایام کی یادگار ہیں۔

زبانی روایت کا مطالعہ؛ خدو سردار، سرکشی سے حکمرانی تک

کتاب فرمانروای جنگ و موسیقی کو پڑھنے والے کے ذہن میں سب سے اہم سوال جو آتا ہے وہ یہ ہے کہ کیا مصنف نے اس کتا ب میں اس علاقہ کی شناخت کے عناصر کو بیان ہے؟

مبارز و مدافع انقلاب ایران حجت الاسلام غلام رضا اسدی کی زندگی کےمختصرواقعات

آیت اللہ خامنہ ای کو اسی جیل میں لایا گیا، ایک افسر جو سید اور شیخ میں فرق نہیں کرسکتا تھا، آقا کی داڑہی مونڈنے کہ بعد ان سے کہتا ہے " شیخ صاحب، کیسا ہے اب؟!"۔ انھوں نے آیینے میں دیکھا اور اس سے جواب دیتے ہوئے کہا:" بہت ہی خوبصورت اور حسین لگ ہو گیا ہوں، خیر اب تمہارا مقصد کیا ہے؟ یہ داڑہی تو دوبارہ نکل آئے گی" ۔
...
11
 

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – چودہویں قسط

میں ہیڈ کوارٹر کی اکیلی خندق میں داخل ہوا جو دو حصوں میں تقسیم ہوتی تھی ایک کلینک اور دوسرا بریگیڈ کے سیکریٹری کا آفس۔ باقی لوگ ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں کے نیچے مضبوط اڈوں میں زندگی گزار رہے تھے۔

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔