سیاسی قیدی اور عید نوروز

پہلوی دور میں قیدی کمترین امکانات کے ساتھ بہار کی آمد کا جشن مناتے تاکہ بتاسکیں کہ موسم سرما کا اختتام ہوچکا ہے۔ انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد خاص شرائط میں پیش آنے والے ان قیدیوں کے مختلف گروہوں کے قصے و واقعات قلمبند کیے گئے جو اس دور کے تلخ و شیریں ایام کی یادگار ہیں۔

زبانی روایت کا مطالعہ؛ خدو سردار، سرکشی سے حکمرانی تک

کتاب فرمانروای جنگ و موسیقی کو پڑھنے والے کے ذہن میں سب سے اہم سوال جو آتا ہے وہ یہ ہے کہ کیا مصنف نے اس کتا ب میں اس علاقہ کی شناخت کے عناصر کو بیان ہے؟

مبارز و مدافع انقلاب ایران حجت الاسلام غلام رضا اسدی کی زندگی کےمختصرواقعات

آیت اللہ خامنہ ای کو اسی جیل میں لایا گیا، ایک افسر جو سید اور شیخ میں فرق نہیں کرسکتا تھا، آقا کی داڑہی مونڈنے کہ بعد ان سے کہتا ہے " شیخ صاحب، کیسا ہے اب؟!"۔ انھوں نے آیینے میں دیکھا اور اس سے جواب دیتے ہوئے کہا:" بہت ہی خوبصورت اور حسین لگ ہو گیا ہوں، خیر اب تمہارا مقصد کیا ہے؟ یہ داڑہی تو دوبارہ نکل آئے گی" ۔

امیرانی اور ان کا میگزین "خواندنی ھا"

خواندنی ہا رسالہ کہ جس کی اشاعت تقریبا چالیس سال پر محیط تھی اس کا پہلا ایڈیشن رضا شاہ کہ آخری دور میں شایع ہوا اور آخری ایڈیشن انقلاب اسلامی کے آخری سالوں یعنی ۱۳۵۸ شمسی میں شایع ہوا۔

ایک تصویر کی کہانی

کتاب کی جلد کے لئے کس طرح تصویر کا انتخاب کیا گیا

مجھے خیال آیا کہ ان کی تصویر اسی ناک سے دو حصوں میں تقسیم کردوں اور آدھی تصویر سرورق پر اور آدھی پشت پر چھپواؤں تاکہ ناک کی اصل بناوٹ دیکھنے والے پر گراں نہ گزرے اور پھر یہی میں نے کیا

آیت اللہ یحیی انصاری شیرازی

یہ استاد کی سادہ زیستی اور فروتنی تھی جو بزرگی اور ضعیفی کے باوجود ہماری میزبانی کو قبول کیا، اور اس سادگی نے ہمیں اپنی پرخلوص محبت کے حصار میں لے لیا۔

اصحاب جمعرات

اگر گلشیری کی ادبی زندگی میں دقت کریں تو ہم کئی پر تلاطم موجوں کا ملاحظہ کریں گے جو ابھی تک ہمارے پاس آچکی ہیں اور ہم سے بھی گزر جائیں گی۔ لہذا بہتر یہی ہے کہ اس مقالہ کا عنوان یہ ہو: گلشیری، ایک موثر لکھاری۔

صادق طباطبائی

یادوں کو بیان کرنے والا شخص

ڈاکٹر سید محمد صادق سلطانی طباطبایی بروجردی کہ جنکو سب صادق طباطبائی کے نام سے جانتے تھے۔ رواں ماہ، سرطان( کینسر) کے خلاف ایک قابل ستائش مزاحمتی جنگ لڑ تے ھوئے، دار فانی سے کوچ کر کے، اپنے مالک حقیقی سے جا ملے۔ ان لوگوں کے لئے،جو کہ تاریخ شفاہی پر کام کر رھے ھیں، صادق طباطبائی ھمیشہ ایک گرانقدر سرمایہ رھے، کیونکہ ان کے پاس، انقلاب اسلامی سے مربوط، بہت سے موضوعات پر، بہت ساری باتیں، مشاھدات اور یادداشتیں موجود تھیں۔ خاندانی حسب و نسب، جرمنی کی...

انقلاب کی تا ریخ نگاری کا ایک نیا باب

انقلاب اسلامی کےثقافتی محاذ کی زبانی تاریخ

ہائی اسکول کی تاریخ لکھنا یعنی اپنی ذات میں ایک لشکر، کی تاریخ لکھنا انقلاب اسلامی کےثقافتی محاذ کی تاریخ شفاھی، انقلاب کی تاریخ نگاری کا ایک نیا باب ہے۔

سال کا آخری بدھ

سال کا آخری بدھ، پرانی یادوں کے احساس کو تازہ کرتا ہے، جسکا بڑا حصہ ماضی کی میراث ہے۔ وہ وراثت، جو صدیوں سے، ہمارے اجداد اور بزرگوں کے وسیلے سے ، زبان در زبان اور سینہ با سینہ محفوظ رہی، اور جس نے مختلف اقوام یا گروھوں کے ثقافتی عقیدے کے بعض حصوں کو جنم دیا۔
...
11
 

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – پانچویں قسط

عراق کی بعثی حکومت نے سن ۱۹۸۰ء میں عراقی ہزاروں گھرانوں کو اس بہانے سے کہ اُن کی اصلیت ایرانی ہے اور وہ عراق میں ہونے والی متعدد تخریب کاریوں میں ملوث ہیں، ایران جلا وطن کردیا

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔