’’زندان قصر‘‘ میں بہت سے افراد شھید ہوئے تھے

۱۵ خرداد ۱۳۴۲ کے بعد سے جیلوں کی نوعیت تبدیل ہوگئی تھی کیوں کہ اس سے پہلےتک ان میں زیادہ تر کمینوسٹ قیدی رہا کرتے تھے لیکن امام رہ کی تحریک کے بعد سے ان میں زیادہ تر متدین قیدی آنے لگے تھے۔یا یوں کہا جائے کہ جیل امام خمینی کی تحریک سے وابستہ افراد سے پر ہوگئے تھے۔

۱۲ اہم یادیں جن کے مختلف پہلو ظاہر سامنے آئے

کہا جاتاہے کہ جناب ھاشمی رفسنجانی صاحب یادداشتوں کو مبہم لکھتے ہیں اور ساتھ ساتھ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ راوی کے عنوان سے مرکزی کردار ادا کرتے ہوئے ہر بات کی تفسیرکا حق خود سے مخصوص رکھیں

زبانی تاریخ کو لکھنا اورلکھا جانا

ہم روزانہ، ہفتے میں، مہینوں اورسال بھر متعدد مسائل کے سلسلہ میں گفتگو کرتے ہیں۔فطری سی بات ہے ہم انسان ہیں اور ہمارا ایک مشغلہ باتیں کرناہےاور یہ عمل عام طور پردوسروں کے ساتھ کلامی رابطہ برقرار کرنے،اپنی رائے کے اظہار،دوسروں کی رائے کو جاننے کےلئے انجام دیا جاتا ہے۔نیز یہ عمل اپنی ضرورتوں کو پورا کرنے کا بھی ایک راستہ ہے۔اب آپ حساب لگائیے کہ اگر ان باتوں کی صرٖف ضروری اوراہم نکات کو لکھاجائے توبھی بہت زیادہ صفحات کی ضرورت پڑیگی۔اور اگر جدید وسائل کا استعمال کریں اوراسے انٹرنٹ کی نامحدود فضا میں ڈالاجائے توبھی ہمیں اس کو اپگریڈ کرنے کی ضرورت پڑے گی۔

دو آدھے دن

ظہر کے بعد تک خزاں کے بارے میں لکھنے میں اس قدر ذہن کھپایا کہ میرے سر میں درد ہونےلگا۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ جو اتفاقات اس خزاں کے بارے میں تحریر کرنے کے دوران پیش آئے ان کا حجم ایک دن میں اتنا زیادہ ہوجایئگا کہ پوری مملکت کا احاطہ کرلے گا

ایران میں دہشت گردانہ حملے زبانی تاریخ کے آئینہ میں

اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد سیاسی،سماجی،ثقافتی اور بیرونی اوراندرونی مشکلات کے لحاظ سےاسلامی جمہوری ایران جن مسائل سے دوچار ہوا تھا ان میں سے ایک اہم مسئلہ دہشت گردانہ حملے تھے۔دہشتگردانہ حملوں میں ۱۷ہزار سے زائد افراد کا شہید اور زخمی ہوجانا اوراس کےبعد بھی اس سلسلہ کا جاری رہنا ایک ایسا عمل ہے جس نے اس بات پر وادارکیا کہ اس کے مختلف اہم پہلوؤں کو بیان کیاجائے۔

ڈاکٹر حبیبی کی یونان کے سفر سے جڑی یادیں

اس مقالے میں ثقافتی اور فرہنگی شخصیت مرحوم ڈاکٹر حسن حبیبی اور ان کی انقلاب کی کامیابی کے موقع پر ،15سال بعد سن 1357 میں ایران واپسی،زیر بحث نہیں ہے بلکہ اس مقالے میں ان کے اس سرکاری دورے کومدنظر رکھا گیا ہے جو انہوں نے ایران کے اولین (پہلے) نائب کے بطور ملک یونان کا کیا۔

جب اسپتال، جلادوں اور قاتلوں کے پیروں تلے تھے

ہنگاموں کی ذیادتی کے باعث ڈاکٹر اور میڈیکل اسٹاف اپنی عوام کے شانہ بشانہ اس مشن میں شامل ہوگۓ ، اور 1357 کی خزاں میں جابرانہ حکومت کے ہاتھوں، بے گناہ شہریوں کے قتل عام کے بعد مشہد میں میڈیکل کے شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد سراپا احتجاج بن گۓ اور انہوں نے احتجاجا فوج کے کیسز اور مریضوں کو دیکھنے سے انکار کر دیا

کنفیڈریشن کے رکن، بیزن کلانتریان ( بیزن سپاہی) کی یادیں

کنفیڈریشن کا نام ایران کی تاریخ میں ضرور رقم ہونا چاہیے کیونکہ یہ اس تاریخ کا درخشاں باب ہے، میں خوش ہوں اور اس بات پر فخر کرتا ہوں کہ کنفیڈریشن کا، رکن ہوں اور فخر سے کہتا ہوں کہ میں نے شاہ کی سفاکانہ حکومت کے خلاف ہر مظاہرے میں شرکت کی ہے۔

سیمین اور جلال کی یادیں ، ان کے گھر" اختتام دنیا" پر۔۔

ویکٹوریہ بتاتی ہیں کہ جس دن سیمین کا انتقال ہوا میں کن کے پاس تھی انہوں نے مجھ سے کہا میں آج بستر سے نہیں اٹھ پارہی ہوں اور میری حالت ٹھیک نہیں ہے میں تھوڑی دیر ان کے پاس رہی پھر اپنے گھر واپس آگئی مگر دل بہت پریشان تھا اس لۓ ان کی ہمسائی کو فون کیا تو انہوں نے بتایا کہ وہ ٹھیک ہیں اور اب سیمین کی حالت بہتر ہے ظہر کے بعد جب ان کی ہمسائی نے محسوس کیا کہ ان کی حالت بگڑ رہی ہے تو ان کو آب زم زم ّدیا اور فورا ہمیں فون کیا مگر جب تک میں پہنچی وہ اس دنیا سے کوچ کر چکیں تھیں

ورلڈ کنفیڈریشن کے نمائندے پیام حسین رضائی

پیام حسین رضائی ،نمائندہ ورلڈ کنفیڈریشن اور بین الاقوامی تنظیم العفو کا،شاہ کے زمانے میں ایران کے قیدیوں سے ملاقاتی دورہ

میری اہم ترین ذمے داری جوکہ میری سیاسی زندگی کا اعزاز ہے وہ مشکل حالات اور خطروں میں میرے کنفیڈریشن کے ساتھی مجاہدین کا مجھ پراعتماد ہے جوکہ میری استقامت اور ہمت و حوصلے کا سبب بنا،ان کا یہ اعتماد اور بھروسہ باعث بنا کہ میں خود پر اور اس راہ پر فخر کرتا ہوں
...
8
 

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – تیسری قسط

میں ان لوگوں کے جہل اور لا علمی کو ثابت کرنے کیلئے ایک مضحکہ خیز واقعہ کی طرف اشارہ کرتا ہوں جو میں نے ٹیلی ویژن پر دیکھا۔ صدام نے ایک بند کو معنی کے لحاظ سے برعکس پڑھا۔ اس دفعہ بھی حاضرین نے ایک آواز میں کہا: " جی جناب، ہم متفق ہیں! " البتہ صدام کو ہوش آگیا اور اس نے اپنی غلطی کی اصلاح کرلی۔

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔