موسم گرما کے واقعات

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات - پینتیسویں قسط

سن 1981ء کا موسم گرما جیسے ہماری بریگیڈ کے ٹھکانے پر ایرانی فورسز کے آرام کرنے کا موسم تھا۔ جنگ کی اہم سرگرمیاں ایک دوسرے پر فائرنگ، جنگی-جاسوسی گشتی آپریشنز اور گھات لگانے کے عمل تک محدود تھیں۔ اس کے باوجود کہ ایرانی فورسز سست پڑ گئی تھیں اور تھکن محسوس کر رہی تھیں لیکن ہماری فورسز تمام دفاعی تدابیر اپنانے کے بعد مکمل طور پر الرٹ رہتی تھیں۔

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات - چونتیسویں قسط

یہ بیوقوف ڈرپوک بھی یقین کر لیتا تھا۔ وہ اپنے بنکر کے کونے میں پناہ لے لیتا تھا اور پورے دن میں صرف واش روم جانے کے لیے چند مرتبہ باہر آتا تھا۔ اس طرح سے سپاہی اس سے انتقام لیتے تھے اور اس کی سرگرمیوں کو محدود کر دیتے تھے

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – تینتیسویں قسط

لیفٹیننٹ "کنعان" میرے ساتھ کام کرنے کے دوران جنگ کے جاری رہنے کے حوالے سے اپنی ناراضگی کا اظہار کرتا تھا اور عراقی حکومت پر تنقید کرتا تھا، لیکن فوجی آپریشنز میں وہ سنجیدگی اور اخلاص کے ساتھ کام کرتا تھا

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – بتیسویں قسط

"ابوفوزی" نے کچھ فوجیوں کے ساتھ مل کر لاش کو گاؤں کے قریب دفنا دیا اور اس کی قبر پر ایک نشانی لگا دی۔ واپس لوٹتے وقت غم اور دکھ کے آثار فوجیوں کے چہروں پر بخوبی دیکھے جاسکتے تھے۔ اس سے پتہ چل رہا تھا کہ عراقیوں اور ایرانیوں کی دشمنی معمولی اور ناپائیدار ہے اور آج بھی دونوں فریقوں کے دل اسلام اور انسانیت کے لیے دھڑکتے ہیں

ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

ملتان کا مصلح، چودہواں حصہ

خانہ فرہنگ کا راستہ گم ہوچکا تھا

رکشے والے نے کرایہ بڑھانے کے لئے کہا کہ اسے راستہ معلوم نہیں میں نے اسے سمجھایا کہ بھائی تم چلنا شروع کرو میں گلیاں ، سڑکیں دیکھ کر خود راستہ پہچان لوں گی اور ہم خانہ فرہنگ پہنچ جائیں گے۔ کچھ دور سفر کرنے پر مجھے احساس ہوا راستہ طویل ہوگیا ہے اور خانہ فرہنگ کے آس پاس کی گلیوں کا کوئی نام و نشان نہیں ہے

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – تیسویں قسط

یونٹ کے افراد نے پیرامیڈک وارنٹ آفیسر "محمد سلیم" کی قیادت میں ہمارا استقبال کیا۔ موبائل یونٹ، 3 خندقوں پر مشتمل تھا۔ پہلی خندق چھوٹی اور مضبوط تھی جس میں دوائیاں رکھی جاتی تھیں، دوسری خندق اس کے برابر میں تھی جو پیرامیڈکس کے کام کرنے کی جگہ تھی، اور تیسری خندق دوسری خندقوں سے 40 میٹر کے فاصلے پر تھی جو ایمبولینس ڈرائیورز کے آرام کی جگہ تھی۔

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – اُنتیسویں قسط

ایمبولینس رکی اور ہم پانی کے کنویں کے پاس اترے۔ ہم نے ڈول کو پانی سے نکالا اور ہاتھ منہ دھویا۔ ڈرائیور نے ریڈی ایٹر میں بھی تھوڑا پانی ڈالا۔ چند لمحوں کے لئے ہم اس گاؤں میں چہل قدمی کرنے میں مشغول ہو گئے۔ میں نے اپنے پاس موجود چھوٹے کیمرے سے کچھ یادگار تصویریں کھینچیں۔ اس کے بعد میں نے مزار کا رخ کیا۔

ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

ملتان کا مصلح، تیرہواں حصہ

شب و روز کی اس گریہ زاری سے میری آنکھیں سوج گئیں تھیں اور ہر وقت لال رہتی تھیں۔ دوسرے لوگ بھی میری حالت دیکھ دیکھ کر کڑھتے رہتے ۔ مہمان خانہ ہمیں سونپ دیا گیا تھا تاکہ مہدی کی بہتر دیکھ بھال ہو سکے

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – اٹھائیسویں قسط

محاذ پر زندگی بہت تھکا دینے والی اور بورنگ تھی۔  مجھے لگ رہا تھا جیسے میری گھڑی کی سوئیاں آہستہ آہستہ چل رہی ہیں۔ ان دنوں میری روزمرہ کی سرگرمیاں اپنی خندق، آرام کی خندق، افسروں کے ساتھ کھانا کھانے اور دوسری خندقوں میں آنے جانے تک محدود تھیں۔  عام طور پر میں اپنے فارغ اوقات دوسروں سے گفتگو کرنے، مطالعہ کرنے اور ریڈیو پروگرامز سننے میں گزارتا تھا۔  میرے دو خوش مزاج، کرد زبان پڑوسی تھے۔ ان میں سے ایک آپریشن آفیسر، میجر جنرل "نوری" کا ڈرائیور...

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – چھبیسویں قسط

اس منحوس رات میں ایک پیرامیڈکس نے مجھے دو پین کلر انجکشن لگائے۔ اگلے دن صبح میں نڈھال بستر پر لیٹا ہوا تھا۔ ڈاکٹر "یعقوب" یونٹ کمانڈر کے پاس گئے اور اسے میری حالت سے آگاہ کیا۔ انھون نے مشورہ دیا کہ مجھے علاج اور آرام کے لئے ہسپتال بھیجا جائے۔ لیکن اس نے منع کردیا اور کہا: "اسے یہیں رہنے دو اور اس کا علاج ہونا چاہیے۔ آخرکار وہ ایک ڈاکٹر ہے!"
...
14
 
عبدالحمید رؤفی نژاد کی یادداشت

حسن باقری کے شناسائی کے گروہ کی رہنمائی

حسن باقری نے جنگ کے ہنگاموں میں بھی اپنی فطری اور ہنری ذوق کو محفوظ رکھا تھا۔ شجاع گاؤں کی عمارت میں ایک کمرہ تدارکات کے لیے تھا۔ جب ہم موٹر سائیکل پر سوار ہونے لگے تو دیکھا کہ وہ دوبارہ کمرے میں گئے۔ میں انتظار کرتا رہا لیکن وہ نہیں آئے
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔