پاوہ شہر کے اہل سنت امام جمعہ ماموستا ملا قادر قادری کی یادداشتیں
ماموستا 55
مصنف: علی رستمی
ترجمہ: ضمیر علی رضوی
ویرائش: یوشع ظفر حیاتی
2026-1-4
پہلوی حکومت کے خلاف سیاسی سرگرمیوں کا آغاز(چوتھا حصہ)
شہر کے جوانوں کے دو روزہ دھرنے اور اس کے فاتحانہ اختتام نے صوبۂ کرمانشاہ میں حکام اور قومی اسمبلی میں اورامانات کے نمائندے سالارجاف کا غصہ بھڑکا دیا۔ تہران اور صوبے کے مرکزی حکام نے سالارجاف کو مجبور کیا کہ وہ اپنے حامیوں کے ساتھ 30 اکتوبر 1978(8 آبان 1357) کے روز پاوہ شہر جائے اور پاوہ کی عوام کے مظاہرے کے خلاف پہلوی حکومت کے دفاع میں کوئی ریلی نکالے۔
بعد میں پتا چلا کہ پاوہ کے کچھ عہدیداروں کی دعوت پر سالارجاف کو اس ریلی کے لیے بلایا گیا تھا۔ اس نے بھی پاوہ کے کچھ باسیوں سے اپنی ذاتی دشمنی نکالنے کے لیے ہاتھ آئے موقع سے پورا فائدہ اٹھایا۔ اس ریلی میں شرکت کرکے ایک جانب وہ اپنے پاوہ کے مخالفین کے سامنے طاقت کا مظاہرہ کرنا چاہتا تھا اور دوسری جانب وہ تہران کے حکام کی نظروں میں نام کمانا چاہتا تھا۔
سالار کے پاوہ آنے کی خبر سنتے ہی، درپیش بحران سے نمٹنے کی منصوبہ بندی کے لیے نماز عشاء کے بعد شہر کے بزرگان، اساتذہ اور مولانا قریب بیس افراد جامع مسجد میں جمع ہوئے اور ہم نے سالارجاف کے حملے کی تباہی کو روکنے کے طریقوں پر تبادلۂ خیال کیا۔ جمع شدہ افراد پاوہ کے ممتاز مولانا اور اساتذہ تھے جو عوامی قیام کے ہر مرحلے اور حساس دنوں میں پیش پیش تھے۔
تازہ ترین خبروں کے مطابق، 30 اکتوبر(8 آبان) کے روز قومی اسمبلی میں پاوہ اور اورامانات کی عوام کے نمائندے، سالار کی قیادت میں قریب دو ہزار لوگ ’’شاہ زندہ باد‘‘ کے نعرے کے ساتھ پاوہ پر حملہ کریں گے۔ ان کا حملہ یقینی تھا اور ہم اس جہالت سے ہونے والے جانی اور مالی نقصان کو کم کرنے کا راستہ ڈھونڈ کر رہے تھے۔
یہ میٹنگ طولانی ہوگئی اور آدھی رات تک جاری رہی۔ اس میٹنگ میں تین تجاویز پر تبادلۂ خیال ہوا؛ ایک گروہ نے تجویز دی کہ دوریسان اور پاوہ کے درمیان شہر کے داخلی راستے پر بنکرز بنائے جائیں اور شہر کے داخلی راستے پر ہی حملہ آوروں کو کھدیڑ دیا جائے۔ اکثر شرکاء نے برادر کشی کے قوی احتمال کے سبب اس تجویز کو مسترد کردیا۔ دوسری تجویز یہ تھی کہ اسمبلی کے نمائندے اور حملہ آوروں کے پہنچتے ہی ہم گلیوں اور سڑکوں کو چھوڑ کر گھروں کو چلے جائیں اور کوئی ایسا کام نہ کریں جو ان کے غصے اور اشتعال کا باعث بنے۔ ہم انہیں شہر میں چکر لگانے دیں اور وہ تھک ہار کر روانسر کی طرف چلے جائیں گے۔ اس تجویز کو بھی مسترد کردیا گیا اور شرکاء بالخصوص جوانوں نے اسے قبول نہیں کیا۔ جوانوں کی نظر میں یہ تجویز، قومی غیرت اور کُردوں کے اخلاق کے خلاف تھی اور ایک طرح کی ذلت تھی۔ بالآخر تیسری تجویز کو شرکاء نے قبول کرلیا۔ طے پایا کہ سارے مرد اور جوان، شہر سے نکل کر سید محمود اصفہانی کے مقبرے سے کچھ بلندی پر اور ہولی چشمے کے پیچھے احتجاج کے طور پر دھرنا دیں گے اور شہر کی خواتین گھروں سے نہیں نکلیں گی۔ ہمارا خیال تھا کہ وہ لوگ مرکزی سڑک سے شہر میں داخل ہوں گے، پاوہ کے میئر آفس تک ریلی نکالیں گے اور پھر روانسر کی جانب عقب نشینی کرلیں گے۔ ہم اس بات سے بے خبر تھے کہ شہر میں داخل ہونے سے پہلے ہی ساواک اور جینڈرمیری نے انہیں، عوام کے دھرنے کی جگہ کے بارے میں بتا دیا تھا اور ان بدقسمت لوگوں کو رِنگ روڈ، یعنی اسی روڈ کی طرف بھیج دیا تھا کہ جس سے کچھ میٹر کی بلندی پر ہم نے پوزیشن لی ہوئی تھی۔ ہم نے اردگرد کے ٹیلوں پر جہاں سے پورا پاوہ نظر آتا تھا، چار جوانوں کو چوکیداری کے لیے تعینات کر رکھا تھا کہ ان لوگوں کے آتے ہی وہ آگ جلا کر دھویں کے ذریعے ہمیں ہوشیار کردیں۔
ہم نے ظہر کی نماز پڑھی۔ سب اپنے ساتھ کھانا لائے ہوئے تھے اور ایک کونے میں بیٹھ کر کھانے میں مشغول تھے کہ اچانک درہ نیشہ اور آس پاس کی پہاڑیوں سے دھواں اٹھنے لگا۔ چوکیداروں کے دھویں اور عجیب طریقے سے بجائے جانے والے نقاروں کی آواز شہر میں گونجنے لگی، ہم ہوشیار ہوگئے اور ہمیں معلوم ہوگیا کہ دشمن ہمارے قریب پہنچ چکا ہے اور ہمیں مقابلے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔
سالار کا کارواں، پاوہ کے قریب آتا جارہا تھا۔ گاڑیوں کے آگے ساواک اور جینڈرمیری کی گاڑیاں نظر آرہی تھیں۔ حملہ آور نقارے بجا رہے تھے اور ہلہلہ(جنگ کے وقت مجایا جانے والا شور) کر رہے تھے۔ گاڑیوں کی قطار بالکل فوجی قطار کی طرح منظم انداز میں آہستہ آہستہ ہمارے قریب آتی جارہی تھی۔ کچھ ٹویوٹا گاڑیوں میں پیچھے سوار افراد اس طرح سے نقارے بجا رہے تھے کہ انسان کا دل لرز اٹھے۔ ہمارے ہاں نقارہ بجانا یعنی اعلان جنگ اور تیار ہوجاؤ۔ جب حملہ آور، ہولی چشمے کے قریب ہجوم سے چند میٹر کے فاصلے پر پہنچے تو وہ اپنی گاڑیوں سے اتر گئے اور ’’شاہ زندہ باد‘‘ کا نعرہ لگاتے ہوئے قدم بہ قدم ہمارے قریب آنے لگے۔ سالارجاف کے دوہزار کارندوں کا ہلہلہ اور ہمہمہ(جنگ کے وقت مچایا جانے والا شور) ہمارے چھوٹے سے شہر میں گونجنے لگا اور ایک مسلح گروہ نے ساواک اور جینڈرمیری کی حمایت کے سبب ایک خاص غرور و تکبر کے ساتھ اسلحہ نکالا جبکہ جینڈرمیری کا ہیلی کاپٹر ہجوم کے اوپر گشت کر رہا تھا اور انہوں نے کچھ بے گناہ افراد کو زخمی اور شہید کر ڈالا۔ شہر کی حدود میں ظالموں کے ہاتھوں پاوہ کے شہریوں کی ناحق شہادت نے عوام کا خون کھولا دیا اور ان میں بدلہ لینے کا جذبہ پیدا کردیا۔
شاہ کے حامی اور سالار کے کارندے، غرور اور تکبر کے ساتھ اور اپنے زعم میں فتح پا کر میدان جنگ سے نکل کر میئر آفس کی جانب جارہے تھے۔ اس دوران، کچھ غیرت مند جوان، درۂ چشمۂ ہولی سے مولوی چوک پہنچے اور ان لوگوں کا واپسی کا راستہ بند کردیا، جوانوں نے ان پر حملہ کردیا، چاروں طرف سے ان پر پتھر، گولیاں اور آگ برسائی۔ ان کی گاڑیوں کو نذر آتش کردیا اور کچھ ہی لمحوں میں واپس لوٹتے ہوئے مولوی چوک پر انہیں تہس نہس کردیا۔ ان کے قریب بیس لوگ زخمی اور ہلاک ہوئے، دوسری طرف پاوہ کے بھی تین افراد شہید اور قریب تیس افراد زخمی ہوئے تھے۔
غروب آفتاب کے قریب پاوہ کے کونے کونے سے دھواں اور شعلے اٹھ رہے تھے۔ بہت سی خواتین، جن کے مدد کرنے کے بارے میں ہم نے سوچا بھی نہیں تھا، انہوں نے سڑک سے بلند مقام پر واقع اپنے گھروں کے پتھریلے رولر اونچائی سے حملہ آوروں کی گاڑیوں پر پھینکے تھے، کہا جارہا تھا کہ ان سے کچھ لوگوں کے ہلاک ہونے کے علاوہ ان کی کئی گاڑیاں بھی خراب ہوگئی تھیں اور کچھ لوگ زخمی بھی ہوئے تھے۔
پاوہ سے روانسر اور کرمانشاہ جانے والے راستے کو شاہ اور سالارجاف کے حامیوں نے بند کردیا تھا۔ انہیں بہت بری شکست ہوئی تھی اور پاوہ کے لوگوں پر ان کا غصہ بالکل فطری تھا۔ اس واقعے کو دیکھنے والے ہر شخص کا ضمیر یہ جانتا تھا کہ دونوں طرف ناحق خونریزی کے اصلی مجرم سالارجاف، اسے بلانے والے اور اس وقت کے ذمہ داران ہی تھے۔
حکومت اور قومی اسمبلی کے نمائندے کے اس اقدام نے اورامی کُردوں اور جوانرود کے جافوں کے اختلاف، کینے اور دشمنی کے پرانے زخم کو اتنا گہرا کردیا تھا کہ ایک طویل عرصے تک ہمارا کرمانشاہ کا سفر نوسود، مریوان اور سنندج کے راستوں سے ہوتا تھا اور ہم اس حملے کے زخمیوں کو سنندج لے جا رہے تھے۔ اگر لوگوں کو کرمانشاہ میں کوئی کام ہوتا تھا تو وہ سنندج روڈ سے کامیاران اور پھر کرمانشاہ جاتے تھے اور کرمانشاہ جانے کے لیے چار گنا فاصلے طے کرتے تھے۔
صارفین کی تعداد: 43
گذشتہ مطالب
سب سے زیادہ دیکھے جانے والے
سید ناصر حسینی کی قید کے دوران کی یادداشت
جب میں نے واپس حراستی مرکز جانا چاہا، تو ہاتھوں کے شدید درد کی وجہ سے مشکل سے عصا کے سہارے وہاں پہنچا۔ جب بجلی کے کیبل سے ہاتھوں پر ضرب لگتی، چھالے پڑ جاتے اور پھر کئی دنوں تک میں اپنے ہاتھ استعمال نہیں کر سکتا تھا۔ بغیر عصا کے ایک پاؤں پر کودتا اور خود کو حرکت دیتا۔"1987 میں حج کا خونی واقعہ"
دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیںساواکی افراد کے ساتھ سفر!
اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!
کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح
دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
