تنہائی والے سال – ساتواں حصّہ

دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات

اُس نے گھنٹی بجائی، نگہبان اندر آیااور مجھے اپنے ساتھ باہر لے گیا۔ اس دفعہ ہم چند برآمدوں سے گزر کر ایک کمرے میں داخل ہوئے۔ اُس نے آنکھوں سے پٹی کو ہٹایا۔ اُسی تفتیشی عمارت کے آس پاس کوئی نئی جگہ تھی۔ کمرے کے اندر، نگہبان نے میرے ہاتھ میں ہتھکڑی لگائی اور پوچھا: تمہیں کسی چیز کی ضرورت تو نہیں؟

تنہائی کے سال – چھٹا حصّہ

دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات

مجھے بہت تعجب ہوا۔ مجھے اب پتہ چلا تھا کہ دشمن نے کس طرح ذلیلانہ طریقے سے ایک بڑی سازش کا جال بچھایا ہے تاکہ انقلاب کی سانسوں کو روک دے

تنہائی کے سال – پانچواں حصّہ

دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات

ہم لوگ گاڑی میں سوار ہوئے۔ تقریباً پانچ منٹ تک اِدھر اُدھر مڑنے کے بعد گاڑی ایک گلی کے کونے پہ جاکر ٹھہری۔ میں آنکھوں پر بندھی پٹی کے ایک کنارے سے بہت مشکل سے دیکھ پا رہا تھا۔ ہم دفاتر کی ایک عمارت میں داخل ہوئے۔

تنہائی کے سال – چوتھا حصّہ

دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات

اُسی راستے اور اُسی لوہے کی سیڑھیوں سے گزر کر، جو میرے لئے بہت دشوار تھیں ، ہم اوپر آئے۔ آنکھوں پر اور ہاتھوں پر پٹیاں بندھ جانے کے بعد ہم ایک اسٹیشن گاڑی میں سوار ہوئے، جس میں حفاظت کیلئے دو نگہبان اور ایک ڈرائیور تھا، ہم نے بغداد کی طرف چلنا شروع کیا

تنہائی کے سال – تیسرا حصّہ

دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات

میں سب سے پہلے ہدف پر پہنچا۔ میں نے دیکھا کہ بالکل ایئرپورٹ کے اوپر دو مگ طیارے نگہبانی دے رہے ہیں اور فضائی چکر لگانے میں مصروف ہیں۔ میں نے ایک دم اپنے ہدف پر اور اُن کے پیچھے اپنے بمبوں کو گرایا

تنہائی کے سال – دوسرا حصّہ

دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات

مجھے حکم ملا کہ فوراً شہر جاؤں اور غیر عامل دفاع کے منصوبے، حملہ کی صورتحال اور دیگر حکمت عملیوں کے بارے میں فوج، سپاہ پاسداران اور صوبائی عہدیداروں کے ساتھ ضروری اقدامات کیلئے ہماہنگی کروں اور طے کیا جائے کہ ہر حکمت عملی کے بارے میں حکومتی عہدیداروں اور لوگوں کی طرف سے کیا کام انجام پائے

تنہائی کے سال – پہلا حصّہ

ہم اس ہفتہ سے "تنہائی کے سال: رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین کی دس سالہ قید کے واقعات" کا مطالعہ کریں گے۔ ان واقعات کو رضا بندہ خدا نے تالیف کیا ہے۔آرٹ گیلری کے ادبی دفتر اور ثقافتی مرکز نے "تنہائی کے سال" نامی کتاب کو سن ۱۹۹۶ء میں پہلی بار اس مجموعہ کی طرف سے ۳۶۲ ویں تیار کردہ کتاب اور اس مجموعہ میں رہائی پانے والوں کی یادوں پر مشتمل اٹھاونویں کتاب کے عنوان سے شائع کیا۔

"مہرنجون" دفاع مقدس میں

تمام دلاور ایک گاؤں سے

"مہرنجون" ایک گاؤں کے نوجوانوں کا ایران پر عراق کی جانب سے تھونپی گئی جنگ کے محاذوں پر شرکت کیلئے جوش و ولولہ کی داستان ہے۔ وہ گاؤں کے اسکول کی دریوں سے اُٹھ کر فوجی ٹریننگ کیلئے جاتے ہیں اور پھر جنگی کاروائیوں میں شرکت کرتے ہیں۔ جن میں سے کچھ لوگ گاؤں واپس آجاتے ہیں اور کچھ درجہ شہادت پر فائز ہوجاتے ہیں۔ اس کتاب میں، نوجوانوں نے محاذ پر جو کوششیں کی اور جو تجربات کسب کئے ہیں، اُنہیں کتاب لکھنے والے کے ذریعے سامنے لا یا گیا ہے ، جو خود انہی نوجوانوں میں سے ایک تھے ۔

مٹی کے برتن بنانے والے شہید کی زندگی سے کچھ باتیں

انقلاب میں ایک مرد کا روپ

بہت سے لوگ اُس سے متاثرتھے، اُس کی خصوصیات میں سے ایک اُس کا پرکشش ہونا تھا۔ اُس نے چودہ سال کی عمر سے ہی جدوجہد کا آغاز کر دیا تھا، ۳۳ سال کی عمر میں جیل کا مزہ بھی چکھ لیا تھا، ۱۳ سال تک جیل میں رہا۔ کام کرنے کے ساتھ ساتھ اُسے پڑھائی کا بھی شوق تھا۔ اُس کی پڑھائی اور جدوجہد ساتھ ساتھ چلتے تھے۔

"تب و تاب*" محمد رضا فرتوک زادہ کی نگاہ میں جدوجہد کا زمانہ

شیراز یونیورسٹی کی انقلابی فضا کا واقعہ

ڈاکٹر محمد رضا فرتوک زادہ نے اپنی کتاب "تب و تاب" میں شیراز اور تہران میں انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بارے میں بہت سی معلومات سے اپنے قارئین کو آگاہ کیا ہے۔ چونکہ وہ اُن دنوں ایک اسٹوڈنٹس تھے اس لئے اُن کے زیادہ تر واقعات یونیورسٹی اور پہلوی حکومت کے خلاف طلباء جدوجہد سے مربوط ہیں۔
6
 

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – پانچویں قسط

عراق کی بعثی حکومت نے سن ۱۹۸۰ء میں عراقی ہزاروں گھرانوں کو اس بہانے سے کہ اُن کی اصلیت ایرانی ہے اور وہ عراق میں ہونے والی متعدد تخریب کاریوں میں ملوث ہیں، ایران جلا وطن کردیا

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔