کتاب: تهران، خیابان آشیخ هادی

کتاب تهران، خیابان آشیخ هادی ع۔پاشائی کے نام احمد شاملو(۱)کے خطوط پر مشتمل ہے اور یہ کتاب حالیہ دنوں میں چشمہ پریس سے شائع ہوکر منظر عام پر آئی ہے۔

فرسٹ کیپٹن ہوشنگ صمدی کی یادداشتیں

فرسٹ کیپٹن ہوشنگ صمدی کی یادداشتیں سید قاسم حسینی کی کوشش و کاوش سے زیور طباعت سے آراستہ ہوئیں۔ کیونکہ بحری فوج کی بہت کم یادداشتیں منظر عام پر آئی ہیں اس لیے یہ یادداشتیں دوسری جنگ کی یادداشتوں سے منفرد ہیں۔

رضا شاہ، ایران کی عصری تاریخ کے روشن سائے میں

«رضاشاه در سایہ روشن تاریخ معاصر ایران، از آغاز تا پایان سلطنت» رضا شاہ ،ایران کی عصری تا ریخ کی روشنی میں، ابتدا سے حکومت کے خاتمے تک۔ رضا شاہ پہلوی کے بارے میں ایک نئی کتاب ہے جس میں موجودہ ماخذوں کی طرف رجوع کرتےہوئے سیاسی منظر نامہ میں رضا شاہ پہلوی کی تاریخی شخصیت اور حالات کا تجزئیہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

عراق کی یادداشتیں

کتا ب ’’یادداشتہائے عراق ‘‘ کو معروف اور نوبل انعام یافتہ مشہور مصنف ماریو ورگس لیوسا (Jorge Mario Pedro Vargas Llosa) کے عراق کے سلسلہ میں عینی مشاہدات کی بنیاد پر لکھا گیا ہے ۔ اس کتاب کے مطالب عراق پر اتحادی فوج کے حملہ اور اس کے سلوک کے سلسلہ میں دستاویزات کو شامل ہے ۔اس کتاب کے قارئین کو ،عراقی عوام کے صدام کی آمرانہ حکومت سے آزاد ی حاصل کرنے میں کامیابی کے تجربہ سے بخوبی آگاہی حاصل ہوسکتی ہے اور قارئین عراق میں رونما ہونے والے واقعات کے سلسلہ میں درست قضاوت کرسکتے ہیں ۔

ایران کی معماری پر زبانی تاریخ کا ایک مقدمہ

آج بھی ایران میں معماری کے بہت سے قدیم شواہد موجود ہیں کہ جن سے لوگ غافل ہیں۔ ہمارے پاس زبانی تاریخ مٹنے والی ہے، ایران میں معماری پر ماضی کی تاریخ جو آج بھی لوگوں کے سینوں میں پوشیدہ ہے اس سے پہلے کہ ہم اس قیمتی معلومات سے ان کے مرنے کے ساتھ محروم ہوجائیں بیدار ہونا چاہیے۔ کتاب حاضر زبانی تاریخ کے علمی اور عملی مباحث کے سلسلے میں ایک لمحہ فکریہ ہے۔ "زبانی تاریخ " معماری ایران کے قیمتی شواہد کو محفوظ کرنے کے سلسلے میں پہلا قدم ہے۔

شاملو کا سفر نامہ امریکہ

کتاب «روزنامہ سفر میمنت اثر ایالات متفرقہ امریغ» کو ایران کے مشہور شاعر احمد شاملو نے لکھا ہے یہ کتاب ۱۳۶ صفحات پر مشتمل ہے جو ۲۳ سال کے انتظار کے بعد مازیار پریس سے شائع ہوئی ۔یہ کتاب ۱۳۸۴ ش سے وزارت ثقافت و تعلیم کی طرف سے طباعت کی اجازت کی منتظر تھی ۔تقریبا دو مہینہ پہلے اس کو شائع کرنے کی اجازت ملی ۔شائع ہوکر منظر عام پر آتے ہی احمد شاملو کے معتقدین نے اس کا پرزور استقبال کیا اور اب یہ دوسری بار زیر طبع ہے ۔

شمس لنگردوی کی کتاب پر ایک نظر

کتاب کے فریم سے باہر کی تصویریں

بعض چیزوں کے ساتھ صرف تجربہ کیا جاسکتا ہے اور ان کے ساتھ زندگی گزاری جاسکتی ہے تاکہ صحیح شناخت حاصل ہوجائے۔ یہ پہلا نکتہ تھا جو شمس لنگرودی کے بارے میں کہنا چاہ رہا تھا۔ خوش قسمتی سے یہاں اس کا موقع مل گیا۔

کتاب "ایران میں ماموریت"

یہ کتاب خاص توجہ اور اہمیت کی حامل ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کتاب میں مصنف کا کردار اور اس کی موقعیت انقلاب ایران کی تبدیلیوں میں اہم معلومات تک پہنچاتی ہے۔

پہلوی حکومت کی سیاسی شخصیت لیفٹیننٹ جنرل عبد اللہ آذر برزین سے گفتگو

۷۲۸ صفحات پر مشتمل کتاب (فرماندہی و نافرمانی) ایران کی شفاہی و تصویری تاریخ کا ایک مجموعی عنوان ہے کہ جو پہلوی دوم کے زمانے سے متعلق ہے جسے حسین دھباشی کی سرپرستی و کوششوں نے آراستہ کیا ہے۔

سردار محمد جعفر اسدی کی یاداشت

کتاب "تیسری ہدایت"

سید حمید سجاد منش نے کتاب’’ہدایت سوم ‘‘ میں سردار محمد جعفر اسدی (۱) کی بچپن سے لیکر مسلط کردہ جنگ کے خاتمہ تک کی یادوں کو تحریر کیا ہے۔ یہ کتاب ان ستر واقعات کو شامل ہے جن میں سردار اسدی کے جوانی کے دور اور شہیدمحراب آیۃ اللہ مدنی سے ملاقات ،انقلاب سے پہلے کی مزاحمتیں ،انقلاب کی کامیابی اور مسلط کردہ جنگ کا تذکرہ کیا گیا ہے ۔
...
8
 
ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

ملتان کا مصلح، پہلا حصہ

قارئین سے گفتگو
میں ایک ایسی خاتون کے سامنے بیٹھی تھی جس کی جوانی کا بیشتر حصہ غریب الوطنی میں گذرا تھا اور سفر کا اختتام، ہمسفر زندگی کی زندگی کے خاتمہ کے ساتھ ہوا تھا۔ اور وہ پچھلے ۱۸ سال سے تن تنہا ماں اور باپ بن کر بچوں کی کفالت کے فرض سے عہدہ برآں ہو رہی تھیں ۔ ایک ایسی خاتون کہ جس کی تمام تر زندگی اب اس کے بچے تھے۔

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔