زبانی روایت کا مطالعہ؛ خدو سردار، سرکشی سے حکمرانی تک

یہ بچہ آج را ت ہی پیدا ہوگا یہ بیٹا ہوگا اور بہت بلند قسمت کا حامل ہوگا۔وہ اس قدر شہرت اور قدرت حاصل کریگا کہ اس کے سامنے کوئی ٹک نہیں سکے گا۔ اس کانام ہرجگہ پھیل جائیگا اور اپنے زمانے میں اس کی شخصیت بے مثل و بے نظیر ہوگی۔

ایک اخبار بیچنے والے کی یادداشتیں

رنجبر نے ایرانی پریس کی دنیا میں ۸۶ سال تک اخبار بیچنے کا ریکارڈ قایم کیا ہے۔ اس کتاب میں ۱۲۹۹کی بغاوت سے ۱۳۵۷ش کے انقلاب تک کے تاریخ کے واقعات کے سلسلے میں رنجبر صاحب کی یادداشت کو تحریر کیا گیا ہے۔

احمد یوسف زادہ کی تحریر کی ہوئی یادداشت

وہ 23 افراد

گرفتاری کے بعد انہیں صدام کے محل لے جایا جاتا ہے اور وہ ان جوانوں سے ملاقات کرتا ہے ۔اس وقت کا عراقی صدر صدام انہیں دیکھنے کے بعد بہت تعجب کرتا ہے اور کہتا ہےکہ انہیں آزاد کردیگا تاکہ جاکر تعلیم حاصل کریں اور ڈاکٹر انجینئر بنیں اور اس کے بعد اسے خط لکھیں ۔ اس ملاقات میں صدام ان سے کہتا ہے جاؤ جاکر پڑھائی لکھائی کرو نہ کے محاذ پر آکر جنگ کرو، اور دعویٰ کرتا ہے کہ دنیا بھر کے بچے میرے بچے ہیں۔

کتاب جولائی ۸۲

’احمد متوسلیان،سیدمحسن موسوی، کاظم اخوان اور تقی رستگار۔ لبنان میں ایرانی سفارت خانہ کے ان چار افراد کو ۱۳۶۱ میں عراق کی طرف سے ہمارے ملک پر تھونپی ہوئی جنگ کے دوران اسرائیلی عناصر کیطرف سے اغوا کر لیا گیا تھا۔ ان کی کھوج میں لگی ہوئی انجیسیوں کے مطابق ان کے اثرات اب بھی موجود ہیں۔ حمید داؤدآبدی نے اپنی کتاب ’’جولای ۸۲‘‘ میں ان چار ایرانی سفارتی افراد کے بارے میں لکھاہے جنہیں ۳۲ سال پہلے اغوا کر لیا گیا تھا اور وہ اب بھی صیہونی قید میں ہیں ۔یہ کتاب ۵۲۴ صفحات پر مشتمل ہے ۔

باقر کاظمی کی زندگی کی یادیں

سید باقر کاظمی ایران کی مشہور شخصیتوں میں سے ہے جس کا تعلق احمد شاہ کے دور سے ڈاکٹر مصدق کے وزارت عظمیٰ کے دور تک ہے ،وہ پہلوی اول کے زمانہ مین ایران کا وزیر خارجہ تھا ۔اس نے ہر سال کے لحاظ سے اپنی یادوں کو تحریر کیا ہے۔ کاظمی المعروف بہ مہذب الدولہ ولد سید محمود معتصم الدولہ ۱۲۷۱ ش کو شہر تفرش مین پیدا ہوا ۔ سیکنڈری تعلیم حاصل کرنے کے بعد مدرسہ علوم سیاسی سے تعلیم مکمل کرکے فارغ ہوا اور وہیں تدریس کرنے لگا۔۱۳۰۶ ش ،میں اس کو مدرسہ علوم سیاسی کے علمی انجمن کا رکن بنایا گیا اور اس نے وہاں جغرافیا کی تعلیم دینا شروع کردی۔

کتاب لشکر نامہ دیلمقانی پر ایک نظر

کتاب لشکر نامہ میجر محمد تقی دیلمقانی کی لکھی ہوئی یادیں ہیں جو انہوں نے سماجی اور فوجی مسائل کے سلسلے میں لکھی تھیں۔ ان یادداشتوں کو رامین رامین نژاد نے جمع کیا ہے اور یہ کتاب ۱۳۹۳ میں آہنگ قلم پریس سے طبع ہوئی۔

تقی مکی نژاد کی زندگی کے کچھ پہلو

تاریخ سے متعلق دونئی کتابوں پر ایک نظر

کتاب ’’روز گار سرکشی (تقی مکی نژاد کی زندگی سے متعلق ہے جو ایران میں کمیونسٹوں کے ۵۳ افراد پر مشتمل گروہ کا ایک فعال رکن تھا)‘‘یوسف نیکنام اور کتاب’’اندیشہ اجتماعی متفکران مسلمان (از فارابی تا ابن خلدون)‘‘ تقی آزاد ارمکی کے ذریعہ لکھی گئی ہے جو منظر عام پر آچکی ہے۔

کتاب: تهران، خیابان آشیخ هادی

کتاب تهران، خیابان آشیخ هادی ع۔پاشائی کے نام احمد شاملو(۱)کے خطوط پر مشتمل ہے اور یہ کتاب حالیہ دنوں میں چشمہ پریس سے شائع ہوکر منظر عام پر آئی ہے۔

فرسٹ کیپٹن ہوشنگ صمدی کی یادداشتیں

فرسٹ کیپٹن ہوشنگ صمدی کی یادداشتیں سید قاسم حسینی کی کوشش و کاوش سے زیور طباعت سے آراستہ ہوئیں۔ کیونکہ بحری فوج کی بہت کم یادداشتیں منظر عام پر آئی ہیں اس لیے یہ یادداشتیں دوسری جنگ کی یادداشتوں سے منفرد ہیں۔

رضا شاہ، ایران کی عصری تاریخ کے روشن سائے میں

«رضاشاه در سایہ روشن تاریخ معاصر ایران، از آغاز تا پایان سلطنت» رضا شاہ ،ایران کی عصری تا ریخ کی روشنی میں، ابتدا سے حکومت کے خاتمے تک۔ رضا شاہ پہلوی کے بارے میں ایک نئی کتاب ہے جس میں موجودہ ماخذوں کی طرف رجوع کرتےہوئے سیاسی منظر نامہ میں رضا شاہ پہلوی کی تاریخی شخصیت اور حالات کا تجزئیہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
...
8
 
ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

ملتان کا مصلح؛ گیارہواں حصہ

اس وقت تک میں کبھی ایران سے باہر نہ گئی تھی۔ کوئی اور زبان مجھے آتی نہ تھی
عید الفطر کے اگلے دن، فہیمہ سادات کی ولادت ہوئی۔ علی کی امی کے بقول بہت اچھی صابرہ بچی ہے سارا ماہ رمضان المبارک صبر کیا کہ ہم روزہ رکھ لیں

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔