امام خمینی رح کے تعارف کے لئے اشعار سے استفادہ

راوی: حجت‌الاسلام سیدعلی‌اصغر دستغیب
ترجمہ: یوشع ظفر حیاتی

2021-05-18


اس زمانے میں مقابلے کے لئے شعر کے فن سے استفادہ کیا جاتا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ آیت اللہ حاج شیخ حسنعلی نجابت مرحوم کے احباب یہ کام کیا کرتے تھے۔ وہ لوگ امام خمینی رح کی شان میں اشعار لکھتے اور انہیں انتہائی خوبصورت آواز و انداز سے پڑھتے بھی تھے پھر اسے کیسٹوں میں ریکاڈ کروا کر قم سمیت دیگر شہروں میں بھیجا کرتے تھے۔ اور کسی کو پتہ بھی نہیں چلتا تھا کہ یہ کام کس نے کیا ہے۔ میں نے بھی امام خمینی رح کی شان میں اشعار لکھے اور پڑھے جس پر آیت اللہ نجابت نے میری حوصلہ افزائی بھی کی۔ ان کے وہ احباب جو انقلابی اشعار لکھتے اور پڑھا کرتے تھے ان میں جواد زارع، محمد رضا گل آرائش اور سید کمال عندلیب صاحبان نمایاں تھے۔ اس کے علاوہ ہم نے خود مشاہدہ کیا ہے کہ راتوں کو منعقد ہونے والے جلسوں میں آیت اللہ نجابت اور انکے احباب ایسے اعلانیہ کی ہاتھ سے کاپیاں بنایا کرتے تھے جن کو چھاپنے کے لئے نہیں دیا جاسکتا تھا۔ اور پھر انہیں وسیع پیمانے پر خفیہ طریقے سے ملک بھر بھجوا دیا جاتا تھا۔

 

منبع: خاطرات حجت‌الاسلام سیدعلی‌اصغر دستغیب تدوین مرکز اسناد انقلاب اسلامی، تهران، مرکز اسناد انقلاب اسلامی، 1378، ص 13.



 
صارفین کی تعداد: 185


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

ملتان کا مصلح، سترہواں حصہ

تمہارا یہ رزمیہ جوش و جذبہ۔۔۔ واقعاً خوش رہو
میں جانتی تھی کہ یہ ہندوستانی چینلز زیادہ تر عراقی فوج کی خبریں دے رہے ہین اور یہ تصاویر اور خبریں حقیقت پر مبنی نہیں ہیں، رات تک ان کی فکروں میں گم رہتی اور ایرانی شہداء کے خاک و خون آلود چہرے میری آنکھوں کے سامنے گھومتے رہتے۔ علی کے آتے ہی میں اس پر برس پڑتی

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔