تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات :تینتالیسویں قسط

مجتبی الحسینی

مترجم: ضمیر رضوی

2021-01-16


 ترقیاں اور بہادری کے میڈل:

جنگ شروع ہونے کے چند ماہ بعد سپاہیوں اور نان کمیشنڈ افسران کی ترقی کے اختیارات بریگیڈ کمانڈرز  کو منتقل کر دیئے گئے۔ اس اجازت کے بعد ہر دفاعی یا جارحانہ آپریشن کے اختتام پر بڑی تعداد میں فوجیوں کو اعلی عہدوں پر ترقی دی جاتی تھی۔ عام طور پر فوج میں ان لوگوں کو ترقی دی جاتی ہے جو بہادری والے یا جدید آپریشنز کرتے ہیں لیکن اس جنگ میں ہر کسی کو بغیر کسی معیار اور ضابطے کے ترقی ملی اور کبھی کبھار جنگی یونٹ کے تمام افراد یہاں تک کہ وہ لوگ جو چھٹی پر گئے ہوئے تھے( حزب کی سرگرمیاں انجام دینے کی صورت میں) انسینٹو پاتے تھے۔ مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ اسسٹنٹ سپاہی اور باورچی بھی اس مہربانی سے محروم نہ تھے۔ کچھ مہینوں کے عرصے میں ہزاروں سپاہیوں کی نان کمیشنڈ آفیسر اور سینکڑوں نان کمیشنڈ آفیسرز کی وارنٹ آفیسر کے عہدوں پر ترقی ہو گئی تھی۔ ریجمنٹ کمانڈر کے ساتھ اپنے تعلقات کی بنا پر میں نے خود بھی دو مرتبہ موبائل میڈیکل یونٹ کے ممبران کی ترقی کی درخواست کی تھی۔ اس حقیقت کو جاننے کے باوجود حکومت چاہتی تھی کہ وہ فوجیوں کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دلائے۔ ان ترقیوں کے دوران کچھ نان کمیشنڈ آفیسرز، افسری عہدوں پر بھی فائز ہوئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک بریگیڈ کمانڈر نے اپنے اسسٹنٹ کو افسری عہدے پر ترقی دے دی۔

ہر موقع پر ہم میں سگریٹ، ٹوتھ پیسٹ، گھڑیوں، کھانے کے ٹن اور دوسری مرغوب چیزوں کے تحائف تقسیم کیے جاتے تھے۔

بہادری کے میڈل کی بھی الگ کہانی ہے۔ یہ بات سب جانتے ہیں کہ بہادری کا میڈل ایسے لوگوں کو دیا جاتا ہے جنہوں نے بہادری والے اور غیر معمولی آپریشنز میں حصہ لیا ہو لیکن اس جنگ میں آپریشن ختم ہونے کے بعد یونٹوں میں کوٹہ تقسیم کیا جاتا تھا۔ بہادری کا میڈل جو عام طور پر ایک روحانی پہلو رکھتا ہے بعثیوں کے نظریات اور اعتقادات کی بنا پر اس نے مادی پہلو بھی حاصل کرلیا تھا۔ اس طرح سے کہ میڈل پانے والے کو متعدد مادی مراعات جیسے گاڑی اور چار ہزار دینار دیے جاتے تھے۔ اس کے علاوہ ٹیلی ویژن کیمرے کے سامنے اس کے سینے پر صدام ایک میڈل نصب کرتا تھا۔ ان مادی ترغیبوں نے محاذ پر فوج کو لڑائی پر ابھارنے اور حکومت کی پشت پناہی میں اہم کردار ادا کیا۔

چھٹی کی گاڑیوں کا پروسس:

ہمیں جن مشکلات کا سامنا تھا ان میں سے ایک عام چھٹیوں کے وقت گھروں کو جانے اور محاذ پر واپس آنے کے لئے گاڑیوں کی عدم دستیابی اور سفر کے اخراجات کا زیادہ ہونا تھا۔ اس طرح سے کہ میں مسافر بس کے ذریعے بصرہ سے نجف جانے کے لیے تقریباً 8 سے 10 دینار کرایہ ادا کرتا تھا۔ لیکن نجف سے بصرہ واپس آتے وقت میں 5 دینار دیتا تھا۔ کبھی کبھار بصرہ سے بغداد کا ٹکٹ 20 دینار یعنی عام کرائے کے آٹھ برابر تک پہنچ جاتا تھا۔ حکومت فوجیوں کے سفر کے لیے سہولیات فراہم کرتی تھی جن میں سے فوجیوں کے لیے مفت ٹرین سروس تھی، اس طرح سے کہ فرسٹ کلاس بوگیاں افسران کے لیے اور سیکنڈ کلاس بوگیاں سپاہیوں اور نان کمیشنڈ افسران کے لیے مختص ہوتی تھیں۔ لیکن فوجیوں کی تعداد زیادہ ہونے کے لحاظ سے ٹرینوں میں کافی جگہ نہیں ہوتی تھی۔

حکومت نے 1981ء میں بصرہ سے بغداد کے لیے گاڑیاں چلائیں جو "عمارہ" اور "ناصرہ" سے گزرتی تھیں۔  مجھے یقین ہے کہ یہ اقدامات حزب اور حکومت کے مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے تھے۔

میں نے دو سال بصرہ میں نوکری کے دوران تین مرتبہ ٹرین سے اور ایک مرتبہ سرکاری بس سے سفر کیا۔ یہاں پر میں اپنے بس سے بغداد جانے کا ایک واقعہ بیان کرنا چاہتا ہوں۔ دوپہر کے 2 بجے میں محاذ  سے بصرہ پہنچا۔ مجھے نجف کی گاڑی نہیں ملی۔ مجبوراً میں نے ملٹری بس کے ذریعے بغداد جانے کا فیصلہ کیا تاکہ وہاں سے نجف جانے کے لئے روانہ ہوسکوں۔ موسم ٹھنڈا تھا۔ میں نے اپنی جیکٹ اپنے کندھوں پر ڈالی ہوئی تھی جس پر ملٹری بیج لگا ہوا نہیں تھا۔ میرے برابر میں ایک سپاہی بیٹھا ہوا تھا۔ گاڑی چلنے کے آدھے گھنٹے بعد اس نے یہ سمجھ کر کہ میں بھی اسی کی طرح سپاہی ہوں مجھ سے گفتگو کرنا چاہی۔ میں نے چاہا کے بات چیت سے گریز کروں لیکن وہ اصرار کر رہا تھا کہ میں اس کے ساتھ بات چیت کروں اور وہ مجھ سے کچھ سوال کرنا چاہتا تھا۔ اس نے خود کو اہواز کے علاقے کا رزرو سپاہی بتایا۔ اور اسی طرح اس نے خود کو ایگریکلچر ٹیکنیکل کالج کے فارغ التحصیل کے عنوان سے متعارف کروایا جو کویت کے "بوبیان" جزیرے میں تعینات 57 ملی میٹر ایئرڈیفنس کے یونٹ میں خدمات انجام دے رہا تھا۔ میں نے حیرت سے پوچھا: " کیا عراقی فورسز وہاں پہنچ چکی ہیں؟"

اس نے کہا: " ہاں ایئر ڈیفینس یونٹ اور جنگی جہازوں کے یونٹ کی فورسز وہاں تعینات ہیں اور ان کا کام ایرانی حملہ آور ہوائی جہازوں کا مقابلہ کرنا ہے۔

میں نے پوچھا: "تم کس بٹالین سے ہو؟"

اس نے بتایا: " 96 ایئر ڈیفنس بٹالین ۔۔۔"

یہ پہلی بار تھا جب مجھے سمجھ میں  آرہا تھا کہ کویتی حکومت براہ راست عراقی حکومت سے تعاون کر رہی ہے۔ اگرچہ میں پہلے سے کویت کے  پروپیگنڈہ  کرنے اور معاشی تعاون کے بارے میں جانتا تھا۔

ہم بغداد کے علاقے "النہضہ" پہنچے۔ بس سے اترنے سے پہلے میں نے اپنی ملٹری جیکٹ کندھے سے اتاری اور میرا ملٹری درجہ معلوم ہوگیا۔ جب میرے ساتھ سفر کرنے والے کو میرے درجہ کا پتہ چلا تو اس نے ہڑبھڑاتے ہوئے

پوچھا: " آپ افسر ہیں؟"

میں نے کہا: " میرے کندھے پر رینک نہیں دیکھ رہے؟"

اس نے کہا: "کیوں نہیں۔۔۔ کیوں نہیں۔۔۔ لیکن۔۔۔"

میں نے کہا: " گھبراؤ نہیں! میں نان کمیشنڈ ڈاکٹر ہوں نہ کہ انٹیلی جنس افسر۔ میری صلاح یہ ہے کہ تم محاذ کی صورتحال کے متعلق کسی سے گفتگو نہ کرو، احتیاط کرو ورنہ تمہارا وہ انجام ہوگا جو بعثی خوب جانتے ہیں!"

ہم "کرخ" جانے والی ایک دوسری کرائے کی گاڑی میں بیٹھ گئے۔ ڈرائیور نے بڑی چالاکی سے جنگ اور حکومت پر تنقید کرکے ہمارے جذبات کو بھڑکانے کی کوشش کی۔ میں بہت جلد ہی سمجھ گیا کہ وہ ان انٹیلی جنس ایجنٹس میں سے ہے جو کیچڑ والے پانی سے مچھلی پکڑتے ہیں(حکومت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے سیکیورٹی فورسز کا انتخاب کرتی تھی،  یونیورسٹی کے پروفیسر سے لے کر میونسپل ورکر اور سڑک کے بھکاریوں تک انتخاب کیا جاتا تھا) میں نے سخت لہجے میں اسے جواب دیا اور اسے خود سے مسترد کر دیا۔ میں نے اپنے آپ سے کہا: " محاذ پر موت انسانوں کا پیچھا کرتی ہے اور چھٹی پر سکیورٹی فورسز۔

رات کے 10 بجے میں "کرخ" کے ٹرمینل پہنچا۔ میں ایک گاڑی میں بیٹھا جو ہر آدمی کا نجف جانے کا تین دینار کرایہ لے رہی تھی۔

جاری ہے۔۔۔



 
صارفین کی تعداد: 2177


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
حسن مولائی کی یادیں

سو افراد، سینکڑوں افراد، ہزاروں

وہ لوگ جو چند گھنٹوں پہلے جمرات جا رہے تھے تاکہ رمی جمرات کا فریضہ ادا کرسکیں اب تولیہ اوڑھے سو رہے تھے۔ جب جنازے ختم ہوئے، تو مجھے سمجھ نہیں آئی کہ مجھے کہاں لوٹنا چاہئیے۔ اچانک میرے پیروں نے کام کرنا چھوڑ دیا اور میں نے پہلی مرتبہ وہاں گریہ کرنا شروع کردیا۔ واپس پلٹ کر ان سفید پیکروں کو دیکھنا شروع کیا۔ پوری سڑک جنازوں سے سفید ہوچکی تھی۔ ایک جوان مرد کی آواز پر چونکا جو میرے ساتھ کھڑا تھا اور میرے پیروں کے سامنے چپلیں رکھ رہا تھا۔
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔