بحرین کی ایران سے علیحدگی کی کہانی، اور جنرل فریدون جیم کی یادیں


2015-11-05


ان دنوں، اپنے حقوق اور آزادی کے لۓ، بحرین کے لوگوں کی بغاوت نے، دنیا بھر کے لوگوں اور میڈیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کرالی ہے اس حقیقت  کے پیش نظر کہ بحرین میں شیعوں کی اکثریت ہے جو ایران کے ساتھ منسلک  ہونے میں دلچسپی رکھتے ہیں،اس سلسلے میں، سابقہ شہنشاہی حکومت کے  جوائنٹ چیف آف اسٹاف، جنرل فریدون جم کے ایک خط نے جو کہ ایران اور بحرین کی علیحدگی کے متعلق ہے میری توجہ کا مرکز بنا اور جہاں تک میرا  تجربہ اور معلومات ہیں ، بحرین کی ایران سے علیحدگی کو تسلیم کرنے کا یہ  کام، دراصل ایرانی بادشاہ اور برطانوی حکومت کی خفیہ سازش کا نتیجہ تھی  اور اس وعدے کے بدلے جزا‌ئر تب کا سودا کیا گیا اور شاہ ایران کا ابو موسی، راضی ہوگیا کہ بحرین سے صرف نظر کرلے یہ معاملا اس طرح طے پایا کہ اقوام متحدہ کا ایک وفد ، بحرین کے لوگوں کی رائے لیگا کہ وہ لوگ آزادی چاہتے ہیں یا ایران کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں؟ اس سروے کے لۓ نہ ریفرنڈم کی مدد لی جاۓ گی اور نہ راۓ عامہ کی بلکہ یہ وفد فیصلہ دیگا اور  نتیجہ بتاۓ گا اور نتیجہ یہی نکلا کہ، تحقیقات کے مطابق یہ ثابت ہوا ہے کہ  بحرین کی اکثریت آزادی اور اپنا ایک الگ ملک چاہتی ہے۔

جنرل فریدون جم نے خط میں جو کہ 21 اکتوبر 1995میں دستخط کیا گیا ہے اور امریکہ کے شمارہ 40 کے مجلے میں شایع ہوا ہے ایک جلسے کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ جو کہ تہران میں اقوام متحدہ کی جانب سے بحرین کی آزادی کے اعلان کے بعد منعقد ہوا تھا۔۔ لکھتا ہے کہ اس جلسے میں، باشاہ وزیروں اور قوم کے اشرافیہ کے ساتھ بیٹھے تھے اور اس جلسے میں میں نے بھی  جوائنٹ چیف آف اسٹاف کی حیثیت سے شرکت کی تھی، شاہ بہت خوش نظر  آرہا تھا کہ بحرین کا معاملہ حل ہوگیا اور یہی موضوع سخن تھا۔ حاضرین، شاہ کی بصیرت، دور اندیشی ،اور حقیقت پسندی کو سراہ رہے تھے۔  کہ شاہ نے کتنی اچھی طرح اس مشکل مسئلے کو حل کردیا۔ اور مبارکبادیں  دی جارہیں تھیں، میں ایک کونے میں خاموش کھڑا تھا کہ اچانک شاہ مجھ سے مخاطب ہوۓ اور بولے: اس مسئلے پر آپ افواج کیا کہنا چاہیں گے؟

مجھے اچھی طرح یاد تھا کہ مجھے باور کرادیا گیا ہے کہ ہم افواج ملک کی  سیاست اور سیاسی فیصلوں میں مداخلت کا حق نہیں رکھتے اور نہ اپنی طرف  سے کوئی تبصرہ کرنے کا حق رکھتے ہیں ،لہذا میرا وظیفہ بہت واضح تھا، کہ ہمیں ہو حال میں اپنے ملک کی سیاست کو مضبوط کرنا ہے، تو میں نے  ایسا ہی کیامگر میرے بیان کے بعد شاہ بولے: بہت خوب مگر ایسا کیسے ہو  سکتا ہے کہ آپ کی کوئی ذاتی را‌ے نہ ہو میں بحرین کے معاملے میں آپ کی ذاتی راۓ جاننا چاہتا ہوں کہ آپ کیسا سوچتے ہیں؟ اب جبکہ شاہ نے میری ذاتی راۓ معلوم کی تھی تو میں نے بولنا شروع کیا: میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ بحرین ایران کا حصہ تھا اور ہم خواہ مخواہ ہی اس معاملے میں پڑے۔

اگر تمام سابقہ ریکارڈ کو دیکھا جاۓ تو بحرین بھی ایران کے دیگر حصوں کی طرح ہی کا ایک حصہ ہے لہذا میں ذاتی طور پر صحیح نہیں سمجھتا کہ ایران  کے کسی بھی حصے کے لوگوں سے یہ سوال کیا جاۓ کہ آپ ایران کے ساتھ  رہنا چاہتے ہیں یا الگ نئی مملکت بنانا چاہتے ہیں اور جو لوگ ایسی سوچ رکھتے ہیں وہ باغی ہیں اور اسی سلوک کے حقدار ہیں جو باغیوں کے ساتھ روا رکھا جاتا ہے۔۔۔۔ اس کے علاوہ دوسرے ممالک یہ حق نہیں رکھتے کہ ہمارے داخلی معاملات میں مداخلت کریں۔۔۔۔۔

شاہ جو میرے اس بیان کے لۓ بالکل تیار ناہ تھا ۔ بلبلا گیا اور بولا: کیا اول فول بول رہے ہو۔۔۔۔ اس کے بعد اس بارے میں کوئی اور بات نہ کی گئی۔۔۔۔۔

فریدون جم کو ان کی اس گفتگو کے کچھ عرصے بعد ہی ، معزول کردیا گیا اور ایرانی سفارت نے اس کو اسپین میں سفیر کے عہدے پر فائز کر دیا گیا یہ ایک طرح کی مہذب جلا وطنی تھی، فریدون جم کو اس کے بعد شاہ پور بختیار کی جانب سے انقلاب کے زمانے میں، تہران کی وزارت دفاع کے  عہدے کی پیشکش کی گئی، مگر شاہ اختیارات کے حوالے سے ان کی شرائط پر راضی نہ ہوا اور ان کو نہ بلایا۔۔۔ فریدون جم چند سال قبل لندن میں انتقال کر گۓ۔۔۔۔۔۔۔۔

ماخذ: بخارا شماہ 18خرداد و



 
صارفین کی تعداد: 3325


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
حسن مولائی کی یادیں

سو افراد، سینکڑوں افراد، ہزاروں

وہ لوگ جو چند گھنٹوں پہلے جمرات جا رہے تھے تاکہ رمی جمرات کا فریضہ ادا کرسکیں اب تولیہ اوڑھے سو رہے تھے۔ جب جنازے ختم ہوئے، تو مجھے سمجھ نہیں آئی کہ مجھے کہاں لوٹنا چاہئیے۔ اچانک میرے پیروں نے کام کرنا چھوڑ دیا اور میں نے پہلی مرتبہ وہاں گریہ کرنا شروع کردیا۔ واپس پلٹ کر ان سفید پیکروں کو دیکھنا شروع کیا۔ پوری سڑک جنازوں سے سفید ہوچکی تھی۔ ایک جوان مرد کی آواز پر چونکا جو میرے ساتھ کھڑا تھا اور میرے پیروں کے سامنے چپلیں رکھ رہا تھا۔
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔