خواتین کے دو الگ رُخ

انتخاب: فائزہ ساسانی خواہ
ترجمہ: یوشع ظفر حیاتی

2024-2-16


جیل میں ایک خاتون جو فدائیوں کے گوریلا گروپ سے تعلق رکھتی تھی، اسکی حرکتیں بہت عجیب سی تھیں۔ حالانکہ اسے دو مرتبہ معافی مل چکی تھی لیکن وہ پھر بھی باہر نکل کر ان سے مل جاتی تھی۔ جب تیسری مرتبہ گرفتار ہوئی تو قتل کے کیس کی وجہ سے وہ ایک ہائی پروفائل کیس بن چکی تھی اور اب سب کو یقین تھا کہ اس بار وہ جیل سے نکل ہی نہیں پائے گی۔ ایک دن جب اسکی طبیعت کافی خراب تھی اسے اسپتال منتقل کیا گیا اور السر کے علاج کے لئے اسکے پیٹ کا الٹراساؤنڈ کیا گیا۔ پتہ چلا کہ اسنے مختلف طرح کے کلپ، بال پن اور اسی طرح کی دوسری چیزیں خودکشی کرنے کی غرض سے کھا رکھی ہیں۔ قیدیوں کے لئے خاص طور پر اس طرح کے خطرناک قیدیوں کے لئے اس طرح کی چیزیں ساتھ رکھنا ممنوع ہوتا ہے حتیٰ بعض قیدیوں سے عینکیں بھی لے لی جاتی ہیں کہ کہیں اس کے شیشے سے ہی خودکشی نہ کرلیں۔

"عموئی" حزب تودہ کا ایک قیدی تھا لیکن بہت با اخلاق اور مودب انسان تھا۔ وہ "رزم آرا" کے زمانے میں افسر تھا اور اسکے قتل کے بعد گرفتار ہوگیا تھا۔ میں نے جب اسے دیکھا تو اسے جیل میں ۴۳ سال گذر چکے تھے اور اب وہ ساٹھ سال کا تھا۔ اس نے خود بتایا کہ میں شاہ کے دور کا قیدی ہوں لیکن افسوس کہ انقلاب کی کامیابی کے بعد جب قیدیوں کی رہائی کا معاملہ پیش آیا تو مجھے بھی کچھ دنوں کے لئے آزاد کیا گیا اور میں شادی کی اور میری ایک بیٹی ہوئی۔ میری بیٹی بہت چھوٹی ہے اور میں اس کے لئے اداس ہوجاتا ہوں۔

میں عموئی سے ملنا چاہتا تھا اور یہ جاننا چاہتا تھا کہ چونکہ اس کا تعلق حزب تودہ سے ہے تو وہ امام خمینی رح کے گورباچوف کو لکھے گئے خط اور جو گروہ روس گیا تھا اسکے متعلق کیا کہتا ہے۔ میں نے اس سے سوال کیا: " اس مسئلے کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟" اس نے اُس دن تقریبا بیس منٹ گریہ کیا اور وہ خود پر قابو نہیں کر پارہا تھا۔ اسے تسلی دی اور کہا: " گریہ کرو تاکہ تمہارا دل ہلکا ہو، اسکے لئے ایک کپ چائے لایا۔ پھر جب وہ تھوڑا ہلکا ہوا تو میں نے اس سے پوچھا: "رو کیوں رہے تھے؟" کہنے لگا:"تمہیں نہیں معلوم، ہم نے اپنی پوری زندگی اس لعنتی حزب کے لئے لگا دی لیکن ہمیں اس کا زرہ برابر بھی فائدہ نہیں ہوا"۔ میں نے پوچھا: "حضرت امام خمینی رح کی جانب سے گورباچوف کو لکھے گئے خط کے بارے میں کیا کہو گے؟" اس نے تھوڑا سکون کا سانس لے کر جواب دیا: "تم نہیں سمجھ سکتے امام خمینی رح کون ہیں، بہت سارے افراد نہیں سمجھ پائے کہ امام خمینی رح کتنی عظیم اور بزرگ شخصیت کے مالک ہیں"۔ میں نے پوچھا، کس طرح؟۔ کہنے لگا: " اول تو یہ کہ ایسا لگتا ہے جیسے امام خمینی آج بھی کرملین میں آمد و رفت کرتے ہیں اور وہاں رونما ہونے والے تمام تر واقعات کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ قطعا مستقبل قریب میں جیسا کہ حضرت آیت اللہ نے پیشنگوئی کی ہے یہ کمیونسٹ نظام تباہ ہوجائے گا۔ دوم یہ کہ میں ان خاتون کو کچھ خاص نہیں پہچانتا جناب ڈاکٹر لاریجانی اور آیت اللہ ضوادی آملی کو تو جانتا ہوں لیکن ان خاتون کو نہیں پہچانتا اور مجھے نہیں معلوم کیسی شخصیت کی مالک ہیں لیکن بس اتنا کہنا چاہوں گا کہ شرق و غرب نے کئی بیلین ڈالر ڈھائی سو سے تین سو سال تک خرچ کئے تاکہ مسلمان خواتین کو اپنا غلام بنا سکیں اور انکے انسانی حقوق پائمال کرسکیں۔۔۔ لیکن حضرت آیت اللہ خمینی رح نے اپنے ایک سادہ سے کام کے ذریعے لیکن ایک ماہر شطرنج کے کھلاڑی کی طرح اپنے ایک مہرے کو ہلایا اور شرق و غرب کی دنیا میں سیاسی بازی کو ہرا کر رکھ دیا اور دنیا کو یہ سمجھا دیا کہ اسلام شرق و غرب سے زیادہ خواتین کے انسانی حقوق کا پابند ہے"۔  پھر میں نے محترمہ دباغ صاحبہ کا تعارف کروایا اور کہا کہ محترمہ شاید تم سے زیادہ بڑی مجاہدہ ہیں۔ اس نے حیرت سے کہا: "کتنی دلچسپ بات ہے مجھے نہیں معلوم تھی مجھے واقعا غرور کا احساس ہورہا ہے۔۔۔"۔ میں نے کہا: "وہ انقلاب کے زمانے سے گوریلا سرگرمیوں کی ماہر ہیں۔ جب ہم نے پیرس میں بھوک ہڑتال کی تھی محترمہ وہاں بھی پہنچ گئی تھیں اور یہ بات ان کی خاص مجاہدانہ روح کی عکاس ہے"۔



 
صارفین کی تعداد: 425


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
اسد اللہ تجریشی کی یادداشتیں

بائیکاٹ

جیل کی اُس زمانے کی اصطلاح کے مطابق میرا بائیکاٹ کردیا گیا تھا۔ بائیکاٹ یعنی کسی کو بھی یہ اجازت نہیں تھی کہ وہ سلام کا جواب دے، ساتھ کھانا کھائے، گفتگو کرے، ورزش کرے، یا کوئی بھی اور کام انجام دے
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔