ویتنام جنگ کے خلاف بون میں طلباء کا عظیم اور بے مثال مظاہرہ


2023-11-8


بنیادی طور پر، 60 کی دہائی کے آخری سال آئیڈیلزم کی لہر کے بڑھ جانے سے وابستہ سمجھے جاتے ہیں۔ اس لہر کے بڑھنے کی ایک بڑی وجہ، چین اور الجزائر کے انقلابوں کی کامیابی، کیوبا کی فتح، لاطینی امریکہ میں انقلابی تحریکوں کا پھیلاوَ، فلسطین کی آزادی کے لیے انقلابی تحریک کی ابتدا(جون ۱۹۶۷ کی چھ روزہ جنگ کے بعد) کے اندر پوشیدہ ہے، جس کے نتیجے میں یورپ کے مختلف ممالک جیسے اٹلی، فرانس اور جرمنی وغیرہ میں انقلابی اور کمیونسٹ تنظیمیں قائم ہو گئیں۔ ان تنظیموں کی پیدائش کا پہلا مظہر، امریکہ اور ویتنام کی جنگ کے خلاف ایک بڑے مظاہرہ تھا، جو یورپ بھر کے طلباء کی، جرمن طلباء کی دعوت پر، بون میں منعقد کیا گیا تھا۔ دنیا کے مختلف ممالک کی طلبہ تنظیموں کے نمائندے، بشمول ایرانی اسٹوڈنٹس کی کنفیڈریشن اور یونین آف اسلامک ایسوسی ایشنز، دیگر افریقی اور ایشیائی ممالک کے طلبہ اور یورپ کے شمال سے جنوب اور مشرق سے مغرب کی بیشتر یورپی یونیورسٹیوں کے طلاب کی اکثریت وہاں موجود تھی. بون یونیورسٹی کے کیمپس اور اطراف میں جمع ہونے والے طلاب کے جم غفیر نے پیدل مارچ شروع کر دیا۔ سڑک کئی کلومیٹر تک سٹوڈنٹس کی صفوں سے کچھا کچھ بھری ہوئی تھی۔ میں اور میری اہلیہ، جو چند ماہ پہلے جرمنی پہنچی تھیں، آخن نامی انجمن کے افراد کے ساتھ اس اجتماع میں آگے بڑھ رہے تھے کہ اچانک انتظامیہ کی طرف سے لاؤڈ اسپیکر پر اعلان ہوا: "توجہ فرمائیں۔ ایرانی طلباء کو انتباہ! کچھ دیر میں ہم ایرانی سفارت خانے کی عمارت کے سامنے سے گزریں گے۔ ساواک کے اہلکار کیمروں کی مدد سے مظاہرین کی تصاویر کھینچ رہے ہیں۔ اپنے اور اپنے دوستوں کی حفاظت کے لیے یا تو اپنا چہرہ ڈھانپ لیں یا اپنے آپ کو دوسرے طلباء کے ہجوم میں چھپا لیں، یا کم از کم اپنا چہرہ سڑک کی دوسری جانب موڑ لیں"۔ ہم چند ایرانی طلاب اس معاملے پر بات کر ہی رہے تھے کہ دوسرے طلباء متوجہ ہوئے کہ ہم ایرانی ہیں۔ انہوں نے ہمیں اپنے درمیان اس بہتریین انداز میں چھپایا کہ اس یکجہتی سے ہماری آنکھوں میں خوشی کے آنسو آ گئے۔ امریکہ اور کبھی کبھار سوویت یونین کی مذمت کے نعروں کے علاوہ، مارچ کا نمایاں نعرہ "بین الاقوامی یکجہتی و ہمدردی زندہ باد و پائندہ باد" تھا۔

 

منبع: طباطبایی، صادق، خاطرات سیاسی ـ اجتماعی دکتر صادق طباطبایی، ج 1، جنبش دانشجویی، تهران، مؤسسه چاپ و نشر عروج، 1387، ص 244 ـ 245

 

 



 
صارفین کی تعداد: 536


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
کتاب"در کمین گل سرخ" سے اقتباس

شہید علی صیاد شیرازی کی داستان

اُن لوگوں کی ان کے برتاؤ کے مطابق طبقہ بندی کی تھی۔ پہلے اور دوسرے کمانڈر کے احساسات ہم آہنگ نظر آئے جس سے محسوس ہورہا تھا کہ ان کے ساتھ کام کیا جاسکتا ہے۔ دوسرے دو افراد سے الگ الگ بات کرنی چاہئے تھی تاکہ نفسیاتی اعتبار سے کوئی تداخل پیدا نہ ہو۔
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔