اسلام کا  دفاع ہم سب کی ذمہ داری ہے

علمائے نجف کے نام امام خُمینی کا خط

ترجمہ: ابو زہرا علوی

2022-03-13


۴مئی ۱۹٦۳کو امام خُمینی نے ایت اللہ سید ابولقاسم خوئی اور نجف کے دیگر علما کو حکومت پہلوی کے حکام اسلام کے تغیر کے ارادے کے بارے میں آگاہ کیا اور ایک خط لکھا جس کا متن یہ تھا۔

 

بسم اللّه‌ الرحمن الرحیم

حضرت آیت اللہ خوئی  برکاتہ

افاضل انام و ثقات اسلام ،  نجف کےحوزے کے طلاب اعلیٰ مقام کی خدمت میں

وہ مصائب جو اسلام اور بلخصوص علما پر وارد ہوئے ان کے اظہار تاسف پر مبنی ٹیلگراف ارسال کرنے پرآپ حضرات کا شکریہ۔  خداوندعالم آپ تمام امام زمان کے سپاہیوں کو اسلام کے لئے محفوظ رکھے اور دین مقدس کی خدمت کرنے کی توفیق عطا کرے۔

درحال حاضرہمارا سامنا ایک ایسے سسٹم سے ہے جو ایک ایک کرکے دین اسلام کے احکام کو تبدیل کررہاہے۔  وہ اپنے بیان میں اسکا صراحت کے ساتھ اعلان کرچکا ہے مرد اور عورت کو مساوی حقوق دیئے جائیں اس عنوان سے انھوں نے اسلام کے بنیادی و ضروری احکام تک پائمال کردئیے ہیں۔  وزیرقانون نے قاضی کے لئے مرد کی قید ختم کرنے کی بات کی ہے۔  اس پردے کے پیچھے وحشتناک سازش ہے اور اس سے غفلت برتی گئی تو مذھب کی بنیاد خطرے میں پڑجائے گی۔

افاضل محترم و اشرف اس بات کو مدنظر رکھیں کہ آج ضرورت اس امرکی ہے کہ ہر طبقہ اپنی ذمہ داری کو دیکھے۔  مراضع اعظام و علمااسلام و فضلا محترم اور تمام طبقات اس بات کے مکلف ہیں کہ وہ اسلام کے دفاع میں اپنی سی کوشش کریں۔  لازم ہے کہ جوان طبقہ اور فضلا ئے محترم کہ جو معاشرے میں نفوذ رکھتے ہیں ان سے استدعا کرتے ہیں کہ وہ ظالمین کی کسی بھی بات میں ناآئیں۔ اور ایران کی موجودہ صورت حال پر بیشتر توجہ دیں۔

میں تمام تر پریشانیوں و مشکلات اور خطرات کے باوجود پُرعزم ہوں،  میں حصول نہائی تک پیچھے ہٹنے والا نہیں،  خدا کی جانب سے توفیق کی امید واثق رکھتاہوں۔  حضرات افاضل۔خدا انکا مددگار حامی ہے۔ کے نفوس قدسیہ سے تحت قبہ آئمہ  مطہرہ اوربلخصوص حرم امیرالمومنین علیہ اسلام میں مقاصد اسلامی کی پیشرفت کے لئے دعا کا طالب ہوں۔

والسلام علیکم ورحمتہ اللہ۔

پی‌‌نوشت‌ها:

1 ـ مرد بودن.

2 ـ بویژه.

* صحیفه امام، ج 1، ص 218.

 



 
صارفین کی تعداد: 531


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 

سردار سید رحیم صفوی صاحب کی ڈائری سے اقتباس

ہم جس پل سے بھی گزرے، اسے تباہ کردیا تا کہ واپسی کا کوئی رستہ باقی نہ بچے۔ یوں اس معرکے کے لئے وہی فرد آگے بڑھ سکتا تھا جو جان ہتھیلی پہ رکھ کر پیش قدمی کرنا جانتا ہو۔ البتہ ہمارے لیے اس وحشتناک منظر میں صرف اور صرف ایک ہی چیز سکون کا باعث تھی اور وہ تھی اہل بیت علیھم السلام سے توسل اور اللہ کی عنایت۔
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔