یادوں کی تین سو تیسسویں شب ۔2

شہید چیت سازیان کا گریہ ان کی مشکلات کاحل

پیش کش: ایرانی زبانی تاریخ کی ویب سائٹ
ترجمہ: ابو زہرا

2021-07-25


مئی کی دوسری جمعرات ، 1400 کو  آرٹس سینٹر میں انسٹاگرام پر آن لائن منعقد کیا گیا۔  اس پروگرام کی انجام دہی کے لئے حسین بہزادی انچارج تھے ، جس میں کرنل "احمد حیدری" اور محترمہ "زهرا پناهی‌روا" نے اپنی یادوں کو شٸیر کیا۔

 اس یادوں بھری رات کے پروگرام کی دوسری مہمان محترمہ  زهرا پناهی‌روا تھیں ، وہ شہید علی چیت سازیان کی اہلیہ تھیں۔  انہوں نے کہا: شہید چیت سازیان  سات سال تک محاذ پر موجود ہے اور ان کے تمام ساتھیوں کو ان کی بہادری  یاد ہے۔  لیکن سکے کا دوسرا رخ بھی ہے ۔  یہ 1985 کے آخر کی بات ہے کہ جب میں پہلی مرتبہ انکا نام سنا جب انکا میرے لیے رشتہ آیا تھا ، جس کی وجہ سے موسم بہار ہمیشہ یاد رہتاہے۔  فروردین 1365 کی 7 تاریخ کو ، میری زندگی میں ایک اور  خوشگوار واقعہ پیش آیا اور یہ شہید  کے ساتھ میری شادی تھی۔  اپنی منگنی کے دن ، وہ اپنی والدہ کے ساتھ ہمارے گھر آئے تھے ، اور ان دنوں ، شادی بیاہ کی رسومات کی وجہ سے ، میں بہت شرم آرہی  تھی  میرا سر جھکا تھا اور میں نے ان کے جانب شاذ و نادر ہی دیکھا تھا۔  دوسری جانب ، اس وقت میرے ماموں ان کے ماتحت گروہ میں سے ایک تھے ، اور جب میں نے ان کا نام ذکر کیا تو وہ حیران ہوا اور مجھے اپنی فوٹو کا ایک البم دکھایا ، تب میں نے وہاں ان کا چہرہ  دیکھا۔


 ابتدائی تحقیقات کرنے کے بعد  میں نے اپنے ماموں سے جو تعریفیں سنی ، مجھے احساس ہوا کہ اگرچہ وہ 32 ویں انصار الحسین ڈویژن کا انٹیلی جنس کمانڈر تھے ( جو اس وقت ایک بریگیڈ تھا) ، وہ بہت خاکسار اور شائستہ ہیں۔  ان کے پاس وہ تمام خصوصیات تھیں جو ایک شوہر میں ہونی چاہیے ، خاص طور پر اخلاص ، ایمان اور عزم ، نیز محاذ  پر رہنا اور ایک جنگجو ہونا۔  کیونکہ مجھے یقین ہے کہ اس شخص کا ہدف مذہب اور نظام کے لئے الہی اور کارآمد ہونا ہے۔  بہرحال ، ہماری شادی کی تقریب ہمارے والد کے چھوٹے سے گھر ہمدان میں ہوئی۔  میرے لئے یہ تقریب نہایت سادگی کے اور بغیر کسی رسم و رواج کے رکھنا بہت ضروری ہے اور میں چاہوں گی کہ یہ شادی آج کے نوجوانوں کے لئے نمونہ بن جائے۔  شادی کی تقریب مستقل مزاجی اس کی خوبی اور گہرائی کا نام ہے ناکہ پرآساٸش زندگی اور دھوم دھڑکے کانام ہے۔ 

 محترمہ پناہی نے مزید کہا: "ہمارے محرم ہونے کے بعد ، ہم نے اپنے ماموں اور اس کی اہلیہ کے ساتھ قم کا دو روزہ سفر کیا ، اس دوران میں مجھے شہید چت سازیان کے بارے میں مزید معلومات حاصل ہوگئیں۔"  ان کا خلوص ، میل جول ، سادگی اور پاکیزگی ، اور لوگوں اور معاشرے سے ان کا واسطہ و رابطہ میرے لئے بہت اہم تھا۔  اس سفر کے بعد ، وہ 4 اپریل کو محاذ پر واپس گٸے اور وہاں تقریبا 40 دن قیام کیا۔  وہ دسمبر 1987 میں شہید ہوٸے تھے، اور ہماری شادی کے نتیجے کارابطہ تقریبا ایک سال اور آٹھ ماہ تک جاری رہا ، تھوڑے ہی عرصے  ہم ساتھ تھے ، یہ اس کا اعلی کردار تھا جس کی عکاسی خاندان میں ہوئی۔  ہم اپنی زندگی کے پانچ یا چھ مہینے دزفل میں تھے ، اور ان  سے میری قربت نے مجھے ان کے کردار کی توجہ کا احساس دلادیا۔  میں نے  شہید کو ایک اپنے اردوں میں بہت کوشش کرنے والا پایا۔  وہ کہا کرت تھے: ان سات سالوں کے دوران جب سے میں محاذ پرہوں، میرے سب سے اچھے دوست شہید ہوگئے اور مجھے چھوڑ گئے ، میں کیوں رہوں گا۔   انکا بھائی چار ماہ سے محاذ میں تھا ، 1987 میں ان سے پانچ ماہ قبل ہی وہ شہید ہوگیا  ، اور وہ ہمیشہ اس بات پر پریشان رہتے تھے کہ میں  اپنے بہت سے شہید دوستوں میں شامل کیوں نہیں ہوا۔

 شہید کی اہلیہ نےمزیدکہا: وہ کبھی مایوس نہیں ہوٸے زندگی کی امید تھی۔   ہمت ، صبر ، استقامت اور خلوص اور اپنے دوستوں اور ساتھیوں کے ساتھ دیانت داری نے اس عظیم شہید کی شخصیت اور طرز عمل کی تشکیل پر بہت اثر ڈالا ، یہ سب میرے لئے زندگی کا سبق تھا۔  وہ ہمیشہ اپنی خصوصی دعاؤں میں  اپنے قنوت میں خصوصی ذکر کہاکرتے تھے ، جس کی وجہ سے میں انکی اس نیاٸش پر توجہ کرتی ، اور اب ، اس عظیم شہید کی شہادت کے 34 سال بعد ، میں ان کے ازکار کو ادا کرنےکی کوشش کرتی ہوں جن میں انکا طریقہ تلاوت ہے ان کی دعاؤں کا قنوت۔  میرے کردار کی تشکیل پر اس کا اثر اتنا بڑھ گیا تھا کہ اب بھی جب میں اس کے بارے میں بات کرتی ہوں تو میں منقلب ہوجاتی ہوں۔

 انھوں نے اپنی تقریر میں کہا: کتاب "گلستان یازدھم" میں ، میں نے ایک سال اور آٹھ ماہ کی اپنی زندگی کی بہت سی یادیں شہید  کے ساتھ جمع کیں۔  اس کتاب میں مذکور ایک مقدمہ 1987 کے موسم بہار اور دزفل میں ہماری زندگی کے وقت سے متعلق ہے۔  چونکہ جنگی آپریشن کے دوران میرے کنبہ کے ساتھ میرا رابطہ بہت کم تھا ، مجھے پتاچلا کہ ہم سے ملنے


ہمارا گھرانہ ہمدان سے دزفل آرہا  ہے۔  راستے میں ، شہید  کے ساتھیوں نے انھیں اطلاع دی کہ میرا کنبہ ڈزفل آرہا ہے۔  جب وہ شہر کے قریب پہنچے تو اندھیرے اور سرخ سائرن کی آواز کی وجہ سے وہ اپنا راستہ کھو بیٹھے اور ایڈرس نہیں مل سکا۔  وہ وضاحت کرتے ہیں کہ ایک لمحے میں ہم نے ایک کار دیکھی جسکی لاٸٹس کھلی تھی ہماری طرف بڑھ رہی ہے اور ہم نے محسوس کیا کہ اس کار کا ڈرائیور شہید ہے۔ شہر کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے ، انھوں نے محسوس کیا کہ شاید میرا کنبہ گم ہو جائے گا ، لہذا وہ ذاتی طور پر ان کا استقبال کرنے اور انھیں راستہ دکھانے کے لئے گئے۔  علی آغا نے میرے  خاندان کی بہت دیکھ بھال کی ، اور اگرچہ اس علاقے سے جہاں ہم رہتے تھے وہاں سے بہت فاصلہ تھا ، لیکن میں اور میرے گھر والے دونوں اس راستے سے لطف اندوز ہوئے۔


وہ ایک ہی رات کے بعد واپس لوٹ گٸے ایک ہی رات میرے کنبے کے ساتھ رہے مگر بہت صمیمانہ اس سے انکی فکر اور نظریات سامنے آتے ہیں ان کے اس کردار کو آج کی نسل کے لیے رول ماڈل ہوناچاہیے 

 محترمہ زهرا پناهی‌روا نے کہا: ایک رات جب شہید علاقے سے واپس آئے تھے ، ان کی نماز میں رازو نیاز تضرع و زاری تھی بہت گڑگڑا رہے تھے۔  اگلی صبح ، انھوں نے مجھے سمجھایا کہ اس نے اپنے نائب ، شہید مسیب مجیدی کو خواب میں دیکھا ہے۔  شہید مجیدی کو ہماری شادی سے پہلے شلمچہ میں آپریشن والفجر 8 میں شہید کردیا گیا تھا اور ہماری شادی سے دو دن پہلے ہی سپرد خاک کردیا گیا تھا۔  اس عظیم شہید نے گریہ پر زور اور گریے کو ہر راہ کا حل بتایا ۔  آخر کار ، ان کی دعاوں میں یہ التجا اور انکا اضطراب اور خدا کے ساتھ ان کی مخلصانہ گفتگو اور آنسوؤں کے اسی انداز کی وجہ سے وہ اپنے متعدد شہید دوستوں میں شامل ہوگیے۔



 
صارفین کی تعداد: 1466


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
حسن مولائی کی یادیں

سو افراد، سینکڑوں افراد، ہزاروں

وہ لوگ جو چند گھنٹوں پہلے جمرات جا رہے تھے تاکہ رمی جمرات کا فریضہ ادا کرسکیں اب تولیہ اوڑھے سو رہے تھے۔ جب جنازے ختم ہوئے، تو مجھے سمجھ نہیں آئی کہ مجھے کہاں لوٹنا چاہئیے۔ اچانک میرے پیروں نے کام کرنا چھوڑ دیا اور میں نے پہلی مرتبہ وہاں گریہ کرنا شروع کردیا۔ واپس پلٹ کر ان سفید پیکروں کو دیکھنا شروع کیا۔ پوری سڑک جنازوں سے سفید ہوچکی تھی۔ ایک جوان مرد کی آواز پر چونکا جو میرے ساتھ کھڑا تھا اور میرے پیروں کے سامنے چپلیں رکھ رہا تھا۔
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔