خاطرات کی تین سو بتیسویں رات ۔۱

ہر ایرانی فوجی افسر کے خاطرات ایک مستقل کتاب میں تبدیل ہوسکتے ہیں

ترجمہ: یوشع ظفر حیاتی

2021-06-04


خاطرات کی تین سو بتیسویں رات، کے پروگرام کو کورونا کے پیش نظر آنلائن منعقد کیا گیا۔ اس پروگرام میں کرنل ریٹائرڈ احمد حیدری اور محترمہ زہرا پناہی نے اپنے خاطرات سنائے جبکہ پوگرام کی نظامت کے فرائض حسین احمدی نے انجام دیئے۔

کرنل ریٹائرڈ احمدی نے اپنی گفتگو میں کہا کہ ہر ایرانی فوجی افسر کے خاطرات ایک مستقل کتاب میں تبدیل ہوسکتے ہیں، ان ہی افسران میں سے ایک امیر آذرفر ہیں کہ جنہوں نے بہت سارے فوجی کمانڈوز کی تربیت کی ہے۔ عراق میں ایک چوٹیاں ہیں جنہیں ۲۵۱۹ کی چوٹیاں کہا جاتا ہے۔ سن ۱۹۸۳ میں یہ چوٹیاں ایرانی فوجوں کے کنٹرول میں آگئی تھیں لیکن سن ۱۹۸۶ میں عراق نے وٹیاں ہم سے واپس چھین لیں۔ ۱۹۸۲ میں سخت گرمیوں کے دنوں میں ایرانی فوجیوں نے یہ چوٹیاں عراقیوں سے واپس چھیننے کی کوشش کی لیکن کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ جب امیر آذر فر ارومیہ کی انفنٹری کے چیف بنے، تو انہوں نے خسرو آدم نژاد کی سربراہی میں ایک بٹالین بنائی جس میں بہت بہادر اور دلیر سپاہیوں کو شامل کیا گیا۔ یہ بٹالین ایک عرصے تک راتوں کو مشقیں کیا کرتی تھی او ۲۵۱۹ سے ملتی جلتی چوٹیوں پر آزمائشی حملے کرتی تاکہ اصلہ حلے کے لئے بھرپور تیار ہوسکے۔

کرنل حیدری نے مزید کہا کہ بالآخر یہ بٹالین اسی سال سردیوں کے موسم میں عراقی فرنٹ لائن تباہ کرنے میں کامیاب ہوگئی اور قدم بہ قدم آگے بڑھ رہی تھی تاکہ اپنے اصلہ ہدف یعنی چوٹیوں کی بلندیوں پر موجود چھ اصلی چھاونیوں پر قبضہ کرسکے۔ جب پانچ چھاونیاں قبضے میں آگئیں تو حاج احمد خمینی رح نے فرنٹ لائن پر فون کیا اور آذرفر صاحب سے بات چیت کرنے کے بعد کہا کہ امام خمینی رح آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں۔ آذفر کی خصوصیت یہ تھی کہ وہ نہایت سچے انسان تھے۔ جب امام خمینی رح نے ان سے گفتگو کی اور انکے لئے دعا کی اور فرمایا کہ چونکہ اس آپریشن کا کوڈ امیرالمومنین علیہ السلام ہیں ان شاء اللہ وہی آپ کے حافظ اور مددگار ہوں گے۔ آذفر نے امام خمینی رح سے کہا اس آپریشن کا کوڈ امیرالمومنین علیہ السلام نہیں ہے بلکہ مولائے متقیان علیہ السلام ہے۔ یہ بات آذرفر کی صداقت کی نشاندہی کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ امیر آذرفر کی یہ صداقت جنگ کے آخری ایام میں بھی انکے کام آئی۔ جب جنگ بندی کا معاہدہ ہوا اور فوجوں کو عقب نشینی کا حکم ملا تو سردار آذرفر نے اسے قبل نہیں کیا اور کہا کہ مجھے آرڈر مل گیا ہے میں اسے قبول کرتا ہوں لیکن اس پر کب عملدرآمد کرنا ہے یہ اسٹریٹجی میری ہوگی چونکہ میں اپنے سپاہیوں کو اس وقت ہی واپس بلاوں گا جب انکی جان کو خطرہ نہ ہو۔ دشمن نے جنگ بندی کے معاہدے کے بعد اس وقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے محاذ جنگ کے اکثر مقامات پر حملے کئے اور بہت سارے ایرانی فوجیوں کو اسیر بنا لیا یا شہید کردیا۔ بعض افراد نے کوشش کی کہ آذر فر کے اس جملے سے سوء استفادہ کریں اور انکے مسئلے کو عدالت میں گھسیٹیں لیکن اعلی افسروں کو چونکہ آذرفر کی سچائی معلوم تھی اس لئے انہوں نے ایسا کرنے نہیں دیا۔

کرنل حیدری نے مزید کہا کہ جب فوجیں واپس لوٹیں تو انہوں نے دشمن کے ساٹھ فوجیوں کو کہ جنہوں نے حملہ کردیا تھا،مار ڈالا۔ پھر انہوں نے ان ساٹھ عراقی فوجیوں کو نہایت ادب و احترام سے دفن کیا اور جب ریڈ کراس والوں نے یہ منظر دیکھا تو کہا کہ انکی یہ کامیابیاں انکے زاویہ نگاہ کی وجہ سے ہے کہ یہ اپنے دشمن کا بھی احترام کرتے ہیں۔ جب عراقی فوج کے کمانڈر نے جنگ بندی کے بعد دیکھا کہ انکے فوجیوں کے جنازے کتنے ادب و احترام کے ساتھ کفنائے گئے ہیں تو اس نے سردار آذرفر سے کہا کہ مجھے فخر ہے کہ میری فوج کو تمہاری فوج سے شکست حاصل ہوئی ہے۔

انہوں نے لیفٹیننٹ عبدالحمید انشائی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ شیاکوہ کی بلندی ایک حساس علاقہ تھی چونکہ اس بلندی کے تین مقامات سے قصر شیریں پر مکمل تسلط رکھا جا سکتا تھا، اور اگر یہ دشمن کے کنٹرول میں آجاتا تو ممکن تھا کہ گیلان غرب  تک کے علاقے دشمن کے حملوں کے لپیٹ میں آجاتے۔ بعثی فوجیں اس علاقے کو اپنے کنٹرول میں لینا چاہ رہی تھیں اور ایسی صورتحال میں اس علاقے میں راکٹ لانچنگ پیڈ کے انچارج عبدالحمید انشائی تھے۔ دشمن حملہ کررہا تھا اور اسکے راکٹ آکر گر رہے تھے۔ عبدالحمید انشائی وائرلیس پر دشمن کی پوزیشن بتا رہے تھے کہ اتنے میں ایک راکٹ آکر انکے برابر میں گرا۔ کچھ منٹ بعد ہوش میں آئے تو دوبارہ اپنی ذمہ داری انجام دینا کا خیال آیا لیکن وہ زخموں سے چور چور تھے انکی توانائی ختم ہورہی تھی۔ آخر کار انہوں نے وائرلیس پر اپنا آخری جملہ کہا:

"میری والدہ اور امام خمینی کو کہہ دیں شیاکوہ لرز گیا لیکن انشائی کے پیروں میں لرزش نہیں آئی"

کرنل حیدری نے ایک اور مجاہد کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ سید مہدی صابری کہ جو آستانہ اشرفیہ کے ایک گاوں سیاہ کوچہ سے تعلق رکھتے تھے۔ عراقی فوج نے فرنٹ لائن پر ایک مورچے پر قبضہ کرلیا اور فجر کے وقت سے لے کر صبح دس بجے تک مقابلہ کرنے کے باوجود اس مورچے کو دشمن سے آزاد نہیں کروا پائے۔ سید مہدی اپنے افسر امیر حسین یاسینی کے پاس گئے اور ان سے کہا کہ میں اس مورچے کو آزاد کرواسکتا ہوں۔ افسر نے انہیں اجازت دی اور پوچھا کہ کیا کرو گے۔ انہوں نے کہا کہ صرف ایک بندوق کے زریعے۔ امیر حسین یاسینی نے ان سے کہا کہ سید جب خندق کے اندر جائو تو اس بات کا خیال رکھنا کہ کہیں دشمن کمین کئے نہ بیٹھا ہو۔ سید مہدی نے کہا کہ میں تو اندر سے جاوں گا ہی نہیں اوپر سے جاوں گا۔ امیر حسین نے تعجب سے پوچھا کیوں؟ سید مہدی نے کہا کہ اس خندق میں عراقیوں کے جنازوں کے ساتھ ساتھ ہمارے اپنے شہیدوں کے بھی جنازے ہیں اور میں اپنے شہیدوں کے جنازوں پر پاوں نہیں رکھنا چاہتا۔ سید مہدی نے اپنی رائفل اٹھائی اور دلیرانہ انداز میں دشمن کی جانب فائرنگ کرتے ہوئے دوڑنے لگے۔ ان کو دیکھ کر بقیہ مجاہدین بھی نعرہ تکبیر لگاتے ہوئے دشمن کی جانب فائرنگ کرتے ہوئے دوڑنے لگے جس پر گھبرا کر دشمن عقب نشینی پر مجبور ہوگیا۔ جیسے ہی مورچے کے نزدیک پہنچے تین میٹر کے فاصلے پر دشمن کے ایک سپاہی نے سید مہدی پر برسٹ چلا دیا جس سے وہ موقع پرہی شہید ہوگئے۔

انہوں نے اپنی اسیری کے زمانے کے واقعات سناتے ہوئے کہا کہ جب مں اسیر ہوگیا تو ہمیں نجف اور کربلا زیارت کے لئے لے گئے۔ ہم اس قیدخانے سے کربلا اور نجف کی زیاات پر جانے والا دوسرا گروپ تھے۔ میں نے صبح غسل کرنا چاہا، لیکن غسلخانے میں دو ستونوں کے درمیان لگے تار کو دیکھے بغیر اس سے ٹکڑا گیا جسکی وجہ سے میرا چہرہ زخمی ہوگیا اور مجھے ٹانکے لگوانے پڑے۔ جب ہم بس میں سوار ہوئے تو بس میں تیز میوزیک والے گانے چل رہے تھے۔ ہمارے بس میں سوار ہونے سے پہلے شاید ڈرائیور کے شاگرد نے ہمارے ساتھیوں سے پوچھا تھا کہ اس بس میں کوئی پڑھنے والا موجود ہے تو سب نے کہا "احمد حیدری" ہے جو پڑھتا ہے۔ جب میں بس میں سوار ہوا تو اس نے مجھ سے کچھ پڑھنے کو کہا میں نے منع کردیا کہ قرآن کے علاوہ کچھ نہیں پڑھتا۔ اسنے گانے بند کرکے استاد منشاوی کی تلاوت قآ کی کیسٹ لگادی۔

جب ہم نجف میں داخل ہوئے تو ہلکی ہلکی بارش ہورہی تھی اور مجھے یہ محسوس ہوا کہ امام علی علیہ السلام کی مظلومیت اب بھی محسوس کی جاسکتی ہے۔ کربلا اور نجف کی زیارت کے بعد ہم بہت تھک چکے تھے اور میں بس کی پچھلی سیٹ سے اٹھ کر ڈرائیور کے پاس جاکر بیٹھا اور اس سے مائیک لے کر سب سے پہلے قرآن کی تلاوت کی اور پھر امام علی علیہ السلام کی مدح میں اشعار پڑھے۔

جب میں قرآن کی تلاوت کررہا تھا تو عراقی مجھے "احسنت منشاوی" کہہ کر داد دیتے اور جب شعر پڑھتا تو "احسنت آہنگران" کہتے۔ ان میں سے ایک عراقی نے مجھے ایک پرچہ دیا جس میں قرآن میں ربنا سے شروع ہونے والی آیتیں لکھی ہوئی تھیں اور مجھ سے تقاضہ کیا کہ میں اسے پڑھوں لیکن میں نے قبول نہیں کیا اور اسے کہا کہ وہ خود پڑھے۔ اس نے پڑھنا شروع کیا تو سارے جوان اسکی ہر دعا کے اختتام پر آمین کہتے۔ صورتحال ایسی ہوچکی تھی کہ ہم جیسے ہی کسی ناکہ پر پہنچتے وہ لوگ مائیک نیچے کرلیتے اور جب گذر جاتے تو دوبارہ پڑھنا شروع کردیتے۔

 

 

 



 
صارفین کی تعداد: 313


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
11 ویں امیر المومنین ڈویژن کے شہدا کے کمانڈر کی یاداشت

ہیلٹی -3

جب انہوں نے ہمیں دیکھا تو وہ اتنے حیران ہوئے کہ گویا ان پر بجلی گرگٸی ہو۔ وہ سات کے سات ایکدم زمین پر گر پڑے ان پر ہم نے بندوقیں تان لیں۔

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔