شاہی کارندوں کے نیزے امام خمینی رح کے پوسٹرز کا مقابلہ نہیں کر سکتے تھے

گفت‌وگو و تنظیم: سیده پگاه رضازاده*
ترجمہ: یوشع ظفر حیاتی

2020-05-03


بلند قامت اور کشادہ سینے کے حامل۔ ۱۳۴۵ شمسی میں ایران کے شہر دزفول میں پیدا ہوئے۔ لیکن اسلامی انقلاب کی کامیابی کے وقت ۱۲ سال کی عمر ہونے کے باوجود آج بھی انکا سینہ انقلابی دور کی یادوں سے بھرا ہوا ہے۔ مقدس دفاع کے دوران ہاتھوں میں اسلحہ لئے محاذ جنگ پر دشمن کے مدمقابل ڈٹےرہے۔


عبدالرحیم سعیدی راد شاعر ہیں جو ہر سال پندرہ شعبان کو رہبر انقلاب اسلامی کے دیدار کے لئے جاتے ہیں اور انکے حضور اپنے تازہ اشعار پیش کرتے ہیں۔ اب تک آپ کی ۳۳ کتابیں چھپ چکی ہیں جنہیں اپنی متنوع موضوعات کی وجہ سے مکتلف ادبی ایوارڈز مل چکے ہیں۔

 

انقلاب کے وقت آپ کتنے سال کے تھے؟ اسوقت کہاں تھے اور کیا کام انجام دے رہے تھے؟
انقلاب کے ابتدائی ایام میں میری عمر بارہ سال تھی جو فطری طور پر ایک چھوٹی عمر ہے۔ انقلاب کے دوران میں نے بچپنے سے لڑکپن کا سفر طے کیا لیکن شاید آپ کو یقین نہ آئے یا بہتر ہوگا کہ اس طرح کہوں کہ شاید آپ کے لئے یقین کرنا مشکل ہو کہ میں انقلابی سرگرمیوں میں کافی سرگرم رہا۔ انقلاب سے چند سال پہلے ایک درزی کی دکان پر کام کرتا تھا۔ اس زمانے میں انقلابی جوانوں کو دیکھا جو دکان پر آنا جانا کرتے تھے۔ یہ افراد براہ راست اس اسلامی پر شکوہ انقلاب کے وقوع پذیر ہونے کے لئے سرگرم تھے۔ میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ اسلامی انقلاب کے سلسلے میں میں نے اپنی سرگرمیوں کا آغاز اسی چھوٹی سی دکان سے کیا۔

 

اس درزی کی دکان میں آپ کیا کرتے تھے؟ کیا کوئی استاد تھے آپ کے؟ وہ کیا کام کرتے تھے؟ انقلابی جوانوں کی سرگرمیوں کو بھی زرا بیان کریں؟

اس چھوٹی سی درزی کی دکان میں، طاغوتی حکومت کی جانب سے ممنوعہ مذہبی کتابوں کا بھی ذخیرہ موجود تھا، میں وہ کتابیں بانٹا کرتا تھا۔ اس چھوٹے سے سن میں بعض اوقات مجھے سمجھ ہی نہیں آتا تھا کہ وہ لوگ کس کام کو کس ہدف کے تحت انجام دے رہے ہیں۔ میرے جو استاد تھے انہوں نے اس زمانے میں مجھے ڈاکٹر علی شریعتی کی کتابیں پڑھائیں۔ میں ڈاکٹر شریعتی کی کتابیں اپنے کپڑوں میں چھپا کر لوگوں تک پہنچایا کرتا تھا اور مجھے تاکید کی گئی تھی کہ راستے میں کسی سے بات چیت نہ کروں۔

 

نوجوانی کے ایام میں اور کون کون سے سرگرمیاں انجام دی تھیں؟
ہم دزفول کی مسجد نجفیہ میں بچوں کے لئے قرآنی پروگرام منعقد کیا کرتے تھے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ایک مرتبہ ہم جوانوں نے مل کر پیسے جمع کئے اور ایک قرآن خریدا تاکہ مسجد میں کتم قرآن کا پروگام کیا جاسکے۔ تین سال ہم نے یہ پروگرام جاری رکھا اور اسکے بعد ہمیں ساواکیوں نے دودھ میں سےمکھی کی طرح مسجد سے باہر نکال دیا۔ 

 

دزفول مین امام خمینی رح کا نام سب سے پہلی بار کب سنا؟
میری پیدائش سے پہلی ۱۵ خرداد کا قیام انجام پاچکا تھا اور عوام کو کم و بیش امام خمینی رح کے نام اور انکے آثار سے آشنائی حاصل ہوچکی تھی۔ لیکن میں نے امام خیمنی رح کا نام پہلی مرتبہ انہیں قرآنی جلسوں میں سنا تھا۔ پہلے پہل امام خمینی رح کو امام نہیں کہتے تھے اور انہیں آیت اللہ خمینی رح کہا جاتا تھا۔ مسجد میں ہمارے سامنے انکی باتیں کی جاتی تھیں اور ہم آہستہ آہستہ امام خمینی رح کے مفاہیم سے آگاہی حاصل کرتے جارہے تھے۔

 

آپ نے بتایا تھا کہ کہ شاہ کے کارندے نیزے کی نوک سے اشتہارات پھاڑ دیا کرتے تھے اس کے بارے میں کچھ تفصیل بتائیں گے؟

مارشل لاء کے دوران شاہ کے کارندے گلی کوچوں میں نیزوں کے زریعے اشتہارات پھاڑ دیا کرتے تھے۔یہ میں نے اپنی انکھوں سے دیکھا ہے۔ حتیٰ امام خمینی رح کی تصویروں کے فریم توڑ ڈالتے۔ ان نیزوں کے ساتھ بہت ساری حکایتیں جڑی ہوئی ہیں۔ محمد علی مون نامی ایک انقلابی جوان کو بھی نیزوں کے زریعے شہید کیا تھا جو امام خمینی رح کے اعلانات تقسیم کرتے ہوئے شاہی کارندوں کے ہاتھوں گرفتار ہوگیا تھا۔ اسکی شہادت کے اگلے دن میں اسکے محلے میں گیا اور اسکی گلی کو اسکے وجود سے خالی محسوس کیا۔ ابھی تک اسکا خون زمین پر موجود تھا اور لوگ اسکے پیکر کی تصویریں کھینچ کھینچ کر دیواروں پر لگا رہے تھے۔ کچھ ہی دیر میں محمد علی مومن کی تصویر کے ہمراہ مظاہرے شروع ہوگئے۔ مجھے یاد ہے کہ مسجد میں بہت زیادہ رش ہوگیا تھا اور مغرب و عشاء کی نما زکے دوران اطلاعیہ تقسیم کیا گیا۔ رش کی وجہ سے کسی کی سمجھ ہی نہیں آیا کہ یہ کام کون انجام دے رہا ہے اور عوام ان اشتہارات اور اعلانات کے پوسٹرز کو اپنے کپڑوں میں چھپا کر مسجد ے باہر لے گئے۔ ان اشتہارات اور اعلانات میں امام خمینی رح کی تقریریں اور بعض سیاسی خبریں شامل تھیں جن سے عوام کا آگاہ ہونا ضروری تھا۔ 

 

اب جبکہ اسلامی انقلاب کو چار دہائیاں گذر چکی ہیں آپ کی نظر میں لوگوں کے درمیان امام خمینی رح کی محبوبیت کو آپ اپنی شاعرانہ اور محققانہ نگاہ میں کیسا پاتے ہیں؟

امام خمینی رح نے ۱۳۴۱ شمسی کو ایک بے باک اور تاریخی تقریر کے زریعے اپنے قیام کا آغاز کیا تھا۔ امام خمینی رح نے عوام کے ہر ہر فرد سے تقاضہ کیا تھا کہ وہ اسلام کی مدد کریں۔ امام خمینی رح نے اسلامی کی خاطر اور وہ الہی فرامین جو شاہی حکومت کی جانب سے پیروں تلے روندے جارہے تھے، انکی خاطر قیام کیا۔ ایران کی شیعہ اور مسلمان ملک تھا اور ہے اور عوام جان چکے تھے کہ امام خمینی رح کی باتیں سچ اور حقیقت پر مبنی ہیں۔ درحقیقت امام خمینی رح کی گفتگو عوام کے دلوں میں راسخ ہوچکی تھی۔ ایسے موقع پر امام خمینی رح کو کسی قسم کا نقصان پہنچانا اس بات کا سبب بنتا کہ شاہ کی حکومت کی بساط عوامی غصے کی وجہ سے اور تیزی سے لپیٹ دی جائے۔ اسی لئے شاہ نے اپنی عیاری اور مکاری کا سہارا لیتے ہوئے امام خمینی رح کو ملک بدر کردیا اور عوام سے دور کردیا۔

 

آپ کے انقلابی اشعار انقلابی کی شفاہی تاریخ کے مکتوب راوی ہیں۔ آپ کی نگاہ میں  آپ کے اور دیگر انقلابی شعرائے کرام کے شعروں میں کیا فرق ہے؟ 

البتہ اس بارے میں تو ناقدین کو نظر دینی چاہئے۔ لیکن میں نے جو لکھا ہے اپنے دلی اعتقادات کی روشنی میں لکھا ہے۔ آج بھی کوشش کرتا ہوں کہ اپنے اشعار میں ہی موجود رہوں۔ جس شخص نے زندگی کے اتنے اہم واقعے کو دیکھا ہو وہ بالکل اسی طرح ہے جیسے کسی مجاہد نے محاذ جنگ کو دیکھا ہو۔ میرا ماننا ہے کہ ایسا شخص اور زیادہ گہرائی کے ساتھ  مجنگ اور انقلاب کے بارے میں اشعار کہہ سکتا ہے۔ انقلاب میرے رگ و پے میں جاری ہے اور میں حے اس کے ہر ہر لمحے کو درک کیا ہے۔ انقلاب میرے لئے انہی قرآنی جلسوں سے ہی شروع ہوگیا تھا ۔ اور آج بھی اس کی کوئی دلیل اور حرف و سخن کم رنگ نہیں ہوا ہے۔ انقلابی ہونا ، کہ البتہ اگر میں اپنے آپ کو اس لقب سے پکار سکوں، چونکہ اپنے آپ کو اس نام سے کہیں چھوٹا محسوس کرتا ہوں۔



 
صارفین کی تعداد: 1855


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
حسن مولائی کی یادیں

سو افراد، سینکڑوں افراد، ہزاروں

وہ لوگ جو چند گھنٹوں پہلے جمرات جا رہے تھے تاکہ رمی جمرات کا فریضہ ادا کرسکیں اب تولیہ اوڑھے سو رہے تھے۔ جب جنازے ختم ہوئے، تو مجھے سمجھ نہیں آئی کہ مجھے کہاں لوٹنا چاہئیے۔ اچانک میرے پیروں نے کام کرنا چھوڑ دیا اور میں نے پہلی مرتبہ وہاں گریہ کرنا شروع کردیا۔ واپس پلٹ کر ان سفید پیکروں کو دیکھنا شروع کیا۔ پوری سڑک جنازوں سے سفید ہوچکی تھی۔ ایک جوان مرد کی آواز پر چونکا جو میرے ساتھ کھڑا تھا اور میرے پیروں کے سامنے چپلیں رکھ رہا تھا۔
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔