یادوں بھری رات کا ۲۹۵ واں پروگرام

کربلائے ۳ آپریشن میں امام حسین (ع) ڈویژن کی جنگ کے واقعات

مریم رجبی

مترجم: کنیز طیبہ

2018-12-20


ایرانی زبانی تاریخ کی سائٹ کی رپورٹ کے مطابق، دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۵ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۷ ستمبر  ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس تقریب میں حسین رضائی، سید احمد موسوی، غدیر علی سرامی، علی شاہ نظری اور محمود نجیمی نے کربلائے ۳ آپریشن سے مربوط اپنے واقعات کو بیان کیا۔

آٹھواں و الفجر، کربلائے ۳ سے مکمل ہوا

کربلائے ۳ آپریشن  میں آپریشن کے مرکزی انچارج حاج حسن رضائی پروگرام کے سب سے پہلے راوی تھے۔ انھوں نے کہا: "اس آپریشن کو امام حسین (ع) ڈویژن کے سپرد کرنے کی دلیل یہ تھی کہ اس ڈویژن کی ایک چھاؤنی کارون نہر کے قریب تھی  اور غوطہ خور سپاہی آٹھویں والفجر آپریشن کیلئے کارون میں ٹریننگ کر رہے تھے۔ جب آٹھواں و الفجر آپریشن شروع ہوا، سپاہیوں کے صرف ایک گروپ نے اس میں شرکت کی اور دوسرا اور  تیسرا گروپ،  کہیں اور آپریشن کرنے کیلئے تیار تھا۔ دوسری دلیل یہ تھی کہ ڈویژن کو یہ ذمہ داری ہیڈ کوارٹر کی طرف سے ملی تھی۔ امام حسین (ع) ڈویژن کے کمانڈر حاج حسین خرازی تھے  اور جب ڈویژن کو یہ مشن سونپا گیا، انھوں نے آپریشن کی سپورٹ کیلئے اپنے مورد نظر تمام اسٹاف کو دو کشتیوں میں بھر لیا۔ حاج حسین نے اُنہیں دو جیٹیوں (بندرگاہ پر جہاں جہاز اور کشتیاں آکر رکتی ہیں)کے ہدف سے متعلق  مشنز کی تمام  وضاحت دی اور واپس چلے گئے۔

حاج حسین خرازی کربلائے ۳ آپریشن کے زمانے میں مکہ (حج پر) میں تھے اُن کے جانشین، جو جناب محمد ابو شہاب تھے، انھوں نے  کام کی باگ ڈور سنبھال لی۔ یعنی کربلائے ۳ آپریشن میں امام حسین (ع) ڈویژن کی کمانڈری کا عہدہ حاج حسین خرازی کی غیر موجودگی میں جناب ابو شہاب  کو سونپ دیا گیا۔ جب آپریشن شروع ہونے والا تھا، سپاہی مشقیں انجام دیکر تیار تھے، لیکن خیال یہ تھا کہ آپریشن کیلئے رات کو تیار ہوں۔ ہیڈکوارٹر سے حکم آیا کہ آپ لوگوں کو جزیرہ خارک جانا چاہیے  اور وہاں دس سے پندرہ دنوں تک مشقیں کریں۔ اُس کے بعد واپس آکر آپریشن کیلئے تیار ہوجائیں۔ ہم جزیرہ خارک گئے اور مشقیں کی۔ وہاں پر ایک جیٹی تھی جس کا نام آذرپاد جیٹی تھا  جو تقریباً الاُمیہ (دو اہداف میں سے ایک )جیٹی کی طرح تھی  اور ہم نے اُس جیٹی پر مشقیں انجام دیں۔ جزیرہ خارک میں اُسی جیٹی پر مشقوں کے بعد ہماری ایک فوجی ٹریننگ تھی جو ہم نے انجام دی۔ ٹریننگ کے بعد، آپریشن سے ۱۰ سے ۱۲ دن پہلے افراد کو خسرو آباد کے بارڈر پر مستقر کردیا تاکہ وہاں غوطہ خوری کی مشقیں کریں  اُس کے بعد اُنہیں آپریشن کیلئے ٹریننگ دی گئی۔ ہم آپریشن شروع ہونے سے  ایک رات پہلے  گئے لیکن آپریشن نہیں ہوا۔ ہم واپس آگئے اور اگلی رات کو گئے اور آپریشن میں شریک ہوئے۔  غوطہ خور افراد گئے اور الامیہ جیٹی کا محاصرہ کرکے اُس پر قبضہ کرلیا۔ سردار احمد موسوی جو ڈویژن کے آپریشنل انفارمیشن آفیسر اور غوطہ خوروں کی بٹالین کے کمانڈر تھے۔ وہ راستہ جہاں غوطہ خوروں کو پانی کے اندر تیراکی کرنی تھی، وہ تقریباً تین کلومیٹر کا تھا۔ ہم نے اس آپریشن کیلئے ایک  پیدل بٹالین کو نظر میں رکھا  کہ جب غوطہ خوروں کا آپریشن ختم ہوجائے تو اُس کے بعد امام رضا (ع) بٹالین وہاں مستقر ہوجائے اور جیٹی پر دفاعی پوزیشن سنبھال لے۔ غوطہ خور ابھی جیٹی پر قبضہ کر رہے تھے کہ میں جناب محمد علی شفیعی  اور کشتی کے ایک پائلٹ کے ساتھ کشتی پر بیٹھ کر جیٹی کی طرف گیا۔ ہم نے اپنی صبح کی نماز اُسی کشتی پر پڑھی۔ ہماری کشتی جیٹی کی گولیوں کی حدود میں تھی۔ ہم تکبیر کہہ رہے تھے اور اُسی لمحے پائلٹ سے کہہ رہے تھے کہ دائیں طرف چلو۔ ہم اللہ اکبر کہتے اور پائلٹ سے کہتے کہ بائیں طرف چلو؛ ہم نے اپنی نمازوں کو اس طرح پڑھا۔ جب ہم جیٹی پر پہنچے اور جیٹی کی سیڑھیوں کو پکڑ کر اوپر گئے، ہم نے جناب احمد شاطر پور کو دیکھا جو غوطہ خور تھے اور کربلائے چار آپریشن میں شہید بھی ہوئے، وہ نماز پڑھنے میں مصروف تھی۔ ہم نے اپنی صبح کی نماز جناب شاطرپور کی امامت میں بھی پڑھی۔ جب غوطہ خوروں کا کام ختم ہوگیا اور انھوں نے جیٹی پر قبضہ کرلیا، ہم نے امام رضا (ع) بٹالین کو اپنے کام پر لگادیا، غوطہ خوروں کی بٹالین کو کشتی پر بٹھا کر انہیں پیچھے بھیج دیا۔ ہم نے دو پیدل بٹالین، بٹالین امام محمد باقر (ع) اور بٹالین امام موسی ابن جعفر (ع) بٹالین کو بھی تیار کرکے رکھا ہوا تھا  کہ اگر  جیٹی کو لینے میں کامیاب نہیں ہوئے تو وہ امام رضا (ع) بٹالین اور غوطہ خوروں کی بٹالین کا ساتھ دیں؛ الحمد للہ اُن کی ضرورت نہیں پڑی۔

جب ہم جیٹی پر پہنچے، ہم پر اتنی بمباری ہو رہی تھی اور جنگی کشتیوں سے اتنی فائرنگ کر رہے تھے کہ میں مسلسل جیٹی کے شروع سے لیکر آخر تک جاتااور پھر وہاں سے پیچھے واپس چلا جاتا۔ رات کے تقریباً دس بج رہے تھے کہ جناب ابو شہاب  نے ڈویژن کے کمانڈر کے عنوان سے، جناب محمد اسدی کو  ہماری مدد کرنے کیلئے بھیجا، جوفاؤ چھڑانے والے آپریشن میں شہید ہوئے۔ ہم نے اُس سے کہا کہ ہوشیار رہنا کہ خدا نہ کرے اس محاذ کو کوئی نقصان پہنچے۔ رات کے دس بجے ام القصر سے سیدھا ایک میزائل آیا اور جیٹی سے ٹکرایا۔ ہم نے اس جیٹی کو ۲۴ گھٹنے اپنے اختیار میں رکھا۔ ہمارا ہدف یہ نہیں تھا کہ ہم اُس جیٹی کو اپنے اختیار میں رکھیں، ہمیں اُسے منہدم کرنا ہی تھا اور اُس کے بعد پیچھے آنا تھا۔ اگلے دن جب ہم پیچھے واپس آنا چاہ رہے تھے، ہماری ہر ایک کشتی کے مقابلے میں ایک طیارہ بھیجا گیا اور ہم پر بمباری کی گئی۔ خدا کا شکر ہے کہ کشتیاں چھوٹی تھیں اور اُس بمباری کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ ہمارے پاس صرف ایک ایسی کشتی تھی جس پر ہم نے سطح بنائی ہوئی تھی اور ہم نے جیٹی کا دفاع کرنے کیلئے اُس کی سطح پر ٹینک رکھا ہوا تھا۔  وہ ٹینک تیز رفتار کشتیوں کی طرح حرکت نہیں کرسکتا تھا، وہ تھوڑا آرام سے چلتا  لیکن الحمد للہ کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا اور الامیہ جیٹی پر قبضہ اور اس کے بعد اس پر بمباری ہوئی۔ کچھ گھنٹے گزرنے کے بعد البکر جیٹی پر بھی خود ہماری طرف سے بمباری ہوئی۔ آٹھویں و الفجر آپریشن کو مکمل کرنے والا آپریشن، ان دو جیٹیوں پر قبضہ اور بمباری، یعنی کربلائے ۳ آپریشن تھا۔"

یونس بٹالین سے  دشمن کی جیٹی تک

پروگرام کے دوسرے راوی، سید احمد موسوی تھے۔ انھوں نے کہا: "امام حسین (ع) ڈویژن کی غوطہ خور بٹالین کا نام حضرت یونس بٹالین  تھا اور میں بھی ڈویژن کا آپریشنل انفارمیشن آفیسر تھا۔ شہید خرازی کی تدبیر سے حضرت یونس بٹالین کی تشکیل، ڈویژن کے آپریشنل انفارمیشن کے ذمہ لگائی گئی۔ اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ بدر آپریشن میں شناسائی کے دوران ہماری غوطہ خوری کا سب سے پہلا تجربہ تھا اور اُس کے انفارمیشن کے افراد نے پہلی دفعہ غوطہ خوری کی  ٹریننگ حاصل کی، شہید خرازی نے تدبیر اور سوچ بچار سے کام لیا اور آٹھویں والفجر آپریشن سے پہلے کمانڈروں سے، امام حسین (ع) ڈویژن کی خط شکن پیدل بٹالین کے فوجیوں کو مانگا؛ یعنی ہر بٹالین سے تقریباً بیس ایسے فوجی مانگے جو بقیہ فوجیوں سے زیادہ آمادہ تھے۔ شروع میں وہ اس عنوان سے آئے کہ ٹریننگ حاصل کرکے بٹالین میں واپس چلے جائیں گے، لیکن آخر میں جب آپریشن کے انفارمیشن سپاہیوں نے  اُنہیں  ٹریننگ  دی، اس بٹالین کی ذمہ داری مجھے سونپ دی گئی اور میں نے جناب حسن قربانی کو اپنے جانشین کے عنوان سے منتخب کرلیا۔ آخر میں انفارمیشن اسٹاف کے بیس افراد جو آمادہ افراد تھے،  اس بٹالین میں آگئے اور حضرت یونس بٹالین  ہر آپریشن کیلئے ایک آمادہ ترین بٹالین کے عنوان سے سامنے آئی۔ "

کمانڈر موسوی نے گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا: "شہید خرازی نے مجھے اور  موسی ابن جعفر (ع) بٹالین  کے کمانڈر جن کا نام حاج ناصر بابائی تھا کو اُن پہلے افراد کے عنوان سے  اپنے کمانڈر والے کمرے میں بلایا جنہیں وہ کربلائے تین آپریشن کی ذمہ داری سونپنا چاہتے تھے۔ حاج حسین خرازی ایسے کمانڈر تھے جنہوں نے مختلف آپریشنز انجام دیئے  ہوئے تھے اور ہم بھی چند آپریشنوں میں اُن کے ساتھ تھے ۔اُن کی عادتیں واقعاً بہت عجیب عادتیں تھیں اور اُنہیں اس چیز کا بہت اچھا تجربہ تھا، لیکن پانی میں ہونے والے آپریشن کے بارےمیں اُن کی کوئی خاص رائے نہیں تھی اور اُن کا دل چاہتا تھا کہ آپریشن خشکی پر ہو۔ وہ کہا کرتے کہ پانی میں ہمارا ایک اضافی دشمن بھی ہے۔ انھوں نے کہا ہمیں ایک مشن سونپا گیا ہے کہ ہم خلیج فارس سے بیس کلومیٹر کے فاصلے پر موجود الامیہ جیٹی پر امام حسین (ع) ڈویژن کے ساتھ قبضہ کریں۔ شہید خرازی نے آپریشنل انفارمیشن آفیسر اور یونس بٹالین کے کمانڈر کے عنوان سے میری طرف اورپھر سپورٹنگ بٹالین کے کمانڈر کے عنوان سے  حاج ناصر علی بابائی  کی طرف رخ کرکے کہا: آپ نے کیا پوچھنا ہے؟ میں نے اُن سے پوچھا کہ ہمیں اس مشن کو انجام دینا چاہیے؟ انھوں نے کہا ظاہراً تو ہمیں انجام دینا چاہیے ، میں نے کہا پس ہم انجام دیں گے، جس طرح ہم نے پہلے والے مشن کو بھی خود انجام دیا تھا۔ اس آپریشن میں بھی خدا مدد کریگا اور ہم انجام دیں گے۔ میں نے اُس دن حاج حسین کے لبوں پر مسکراہٹ دیکھی۔ وہ خوش ہوئے اس بات سے کہ آفیسرز اپنے ڈویژن کمانڈر سے جو پہلی بات کرتے ہیں وہ اطاعت کی بات کرتے ہیں۔

تمام انتظامات کر لئے گئے۔ جب ہم نے یونس بٹالین کے افراد کو ٹریننگ دینا شروع کی، کچھ افراد آٹھویں و الفجر آپریشن کے زمانے سے تیار تھے  اور  ہم میں کچھ نئے سپاہی بھی اضافہ ہو رہے تھے چونکہ ہمیں زیادہ غوطہ خوروں کی ضرورت تھی۔ جو نئے لوگ  شامل ہو رہے تھے، اُنہیں دشمن کی خطوط کو   توڑنے کیلئے تیار ہونا چاہیے تھا اور اُن کے اندر بلند ہمت و حوصلہ ہونا چاہیے تھا۔ دوسری طرف سے اُن کے اندر جسمانی لحاظ سے بھی آمادگی ہونی چاہیے تھی۔ بعض ایسے افراد جو بٹالین میں شامل ہو رہے تھے  اور وہ قوی اور طاقتور ہیکل کے مالک نہیں تھے، ہم اُنہیں شروع میں ہی کہہ دیتے کہ آپ اس بٹالین میں شامل  نہیں ہوسکتے۔ کبھی کبھار بعض افراد اشکبار آنکھوں کے ساتھ کہتے کہ آپ  ہم سے جو امتحان لینا چاہتے ہیں لے لیں۔ہم بھی تین ایسے غوطہ خور افراد سے جن کی عمر زیادہ نہیں تھی،  کہہ دیتےکہ اس طرف سے پیر مارتے ہوئے، غوطہ خوری والے لباس میں اُس طرف تک جائیں اور پانی کسی بھی صورت میں آپ کو راستے سے منحرف  نہیں کرے۔ بہت مشکل کام تھا اور وہ لوگ اس کام کو انجام دینے کیلئے کوشش کرتے ۔ مجموعی طور پر وہ افراد جو کربلائے ۳ آپریشن سے پہلے یونس بٹالین میں شامل ہوئے، اُن کی عمریں تقریباً ۱۷ سال تھیں، لیکن وہ لوگ مکمل طور پر آمادہ تھے۔ ہم نے تقریباً ایک مہینے تک کارون نہر میں افراد کو ٹریننگ دی۔ اُس کے بعد اُنہیں ایسے علاقے میں جانا تھا جہاں پہ خلیج فارس کا  پانی نزدیک تھا۔ خلیج فارس کے دھانے  پر ایک نہر تھی جس کام نام قاسمیہ نہر تھا۔ ہم لوگ گئے اور نہر اروند کے کنارے نخلستان میں ٹھہر گئے۔ ہم نے تقریباً ۱۹۸۶ء میں ۵ اگست سے  خلیج فارس کے دھانے پر ٹریننگ شروع کردیں اور آپریشن ہونے  یعنی  ۲ ستمبر تک جاری رکھیں۔ اُن چند دنوں میں جب ہم نخلستانوں میں تھے، درجہ حرارت تقریباً ۶۰ درجہ سینٹی گریڈ تھا۔ ہوا میں رطوبت اتنی زیادہ تھی کہ لباس خشک ہی نہیں ہوتے تھے، لیکن یہ افراد ایسے حالات اور گرمی میں برداشت کرتے تھے۔ میں اُس زمانے میں افراد کی حوصلہ افزائی کرنا اور اُنہیں جوش و ولولہ دلانا اپنی ذمہ داری سمجھتا تھااور میں یہ کہا کرتا کہ خدا مدد کریگا۔ ایسے حالات میں ہم کوشش کرتے  جس طرح بھی ہو لوگوں کو ٹھنڈا رکھیں، چونکہ وہ واقعاً گرمی سے پگھل رہے تھے۔ گرمی کے مارے اُن کے جسموں پر آبلے پڑ گئے  اور پسینوں سے جل گئے تھے اور جب وہ نمکین پانی میں جاتے، اُن کے بدن جلنے لگتے۔ جس وقت وہ سونا چاہتے  اور اپنی کمر کو زمین پر رکھتے، فضا میں اُن کی چیخ بلند ہوتی  اور اپنے بدن پر ہونے والی جلن کی وجہ سے نہیں سو پاتے تھے۔ مچھر بھی وہاں بہت تنگ کرتے تھے اور ہم نے کوشش کی کہ جنریٹر لیکر آئیں اور ہر مورچے میں پنکھے چلائے جائیں لیکن جب ہم جنریٹر کو لیکر آئے، اُس نے آدھے گھنٹے سے زیادہ کام نہیں کیا اور خراب ہوگیا۔ ہم ایک ہفتہ تک جزیرہ خارک میں بھی رہے ، ہماری ٹریننگز مکمل ہوگئیں۔ آذرپاد جیٹی پر فوجی مشقیں انجام دیں  تاکہ اپنے آپریشن کے منصوبے  کی مشق کرلیں۔ جب ہم اُس گرمی میں جزیرہ خارک میں داخل ہوئے، ہم سے کہا گیا کہ اس جزیرے پر ایک سینما اور ایک امام بارگاہ ہے جو تمام جگہوں سے زیادہ ٹھنڈے ہیں اور ان میں بہت زیادہ ایئرکنڈیشن لگے ہوئے ہیں۔ غوطہ خور افراد امام بارگاہ کی طرف اور امام رضا (ع) بٹالین کے افراد سینما کی طرف گئے۔ جب ہم پہنچے اور ہم نے نماز ظہر پڑھ لی، گرمی  اپنے عروج تھی کہ لائٹ چلی گئی۔ جزیرہ خارک کے مسئولین نے کہا کہ ہم نے تمام چیزوں کو کنٹرول کیا ہے  اور اس طرح پہلے کبھی نہیں ہوا۔ پہلے ہی دن جب ہم پہنچے ، افراد تھکے ہوئے تھے اور انہیں آرام کرنا چاہیے تھا، وہ پھر گرمی میں تھے۔ میں نے بٹالین کے افراد سے کہا کہ خدا آپ لوگوں کی مدد کرنا چاہتا  ہے۔ خدا کہتا ہے کہ تم میری مدد کرو تاکہ میں تمہاری مدد کروں۔ ایسا ہوا تھا کہ  افراد بہت زیادہ تھکاوٹ کی وجہ سے  دو گھنٹے  کیلئے نیند میں چلے گئے  تھے اور اُنہیں اتنا پسینہ آیا تھا کہ میں سوچ رہا تھا کہ اُن کے اطراف میں پانی کا نل کھول دیا گیا ہے۔ یہ منظر دیکھ کر مجھے رونا آگیا۔ میں اُن سے کہتا کہ آپ لوگ جتنا زیادہ سختی برداشت کریں گے، ہمیں کامیابی نصیب ہوگی۔ افراد نے اس کام کو صرف برداشت اور اپنی آمادگی سے انجام دیا۔ جب ہم نے آپریشن میں شریک ہونا چاہا ، ایسے حالات پیش آئے کہ ہم دیر سے وہاں پہنچے۔ جیٹی  تک تقریباً بیس کلومیٹر کا فاصلہ تھا اور ہم نے غوطہ خوروں کو الامیہ جیٹی سے تین کلومیٹر پہلے اتار دیا ۔ جب وہ لوگ اتر گئے اور آپریشن پر جانا چاہ رہے تھے، اُنھوں نے یہ بات کی کہ جناب موسوی! یا ہمیں اب نہیں دیکھیں گے یا پھر جیٹی پر دیکھیں گے! اس بات سے ہمارے سپاہیوں  کی آمادگی کے بارے میں پتہ چل رہا تھا۔

غوطہ خور جیٹی کی طرف گئے اور ہمارے تخمینے کے مطابق اُنہیں تقریباً ڈھائی گھنٹے سے تین گھنٹے بعد جیٹی پر پہنچ جانا چاہیے، لیکن ایک گھنٹہ گزرنے کے بعد وائر لیس  ریسیور میں خرابی ہوجانے کی وجہ سے  ہمارا غوطہ خوروں سے رابطہ منقطع ہوگیا۔ تقریباً کچھ دیر بعد اُجالا نکلنے والا تھا۔ سپاہ کے کمانڈر انچیف جو علاقے میں موجود تھے اور ہیڈ کوارٹر کے کمانڈر جو وہاں تھے، انھوں نے فیصلہ کیا کہ جو افواج پیچھے ہیں وہ واپس آجائیں، چونکہ اگر اُجالا نکل آیا تو  وہ کشتیاں اور فوجی جو وہاں تھے، وہ امان میں نہیں رہیں گے۔ وہ لمحہ، میرے لیے بہت ہی سخت لمحہ تھا۔ میں نے جناب ابو شہاب سے کہا کہ  میں نے ان غوطہ خوروں کے ساتھ دو مہینے تک کام کیا ہے اور اس وقت وہ لوگ پیچھے واپس آجائیں ؟! آپ مجھے ایک کشتی پر آگے جانے دیں تاکہ میں جاکر دیکھوں کہ حالات  کیسے ہیں۔ ہم ایک کشتی پر آگے گئے۔ ہم شاید تقریباً دو کلومیٹر گئے ۔ ہم نے اپنی آنکھوں سے جیٹی کو دیکھا لیکن جیٹی کے اوپر غوطہ خوروں کی کوئی نشانی دکھائی نہیں دے رہی تھی ۔ ہمارا ایک یونٹ تھا جس کا کمانڈر عربی بولنے والا ایک شخص تھا۔ اُس یونٹ نے عراقی وائرلیس کی آوازوں کو سن لیا اور کہا کہ عراقی کہہ رہے ہیں کہ ہم پر حملہ ہوگیا ہے۔ ہم بھی کشتی میں اس بات کی طرف متوجہ ہوئے کہ جیٹی پر فائرنگ ہو رہی ہے۔ یہ خبر پیچھے پہنچی اور ہم بھی اور وہ فوجی بھی جو پیچھے ہٹ رہے تھے، تیزی سے جیٹی کی طرف بڑھے۔ غوطہ خور افراد جب جیٹی کی طرف چلے گئے تھے اور اُن سے ہمارا رابطہ منقطع ہوگیا تھا، وہ جیٹی تک پہنچنے کیلئے اپنا کام کر رہے تھے ۔وہ مورد نظر موقع جو ہمارے ہاتھ سے چلا گیا تھا، پانی کا بہاؤ پیچھے کی طرف واپس پلٹ رہا تھا۔ ہماری پیشن گوئی اس طرح تھی کہ لہریں اور بہاؤ ختم ہونے تک افراد جیٹی تک پہنچ جائیں گے  لیکن جس وقت افراد جیٹی کے قریب  پہنچ چکے تھے، پانی کا بہاؤ بدل گیا تھا  اور بھنور آنا شروع ہوگیا تھا۔ پانی کا بہاؤ غوطہ خوروں کے سینے پر دباؤ ڈال رہا تھا، اس کے باوجود وہ لوگ جیٹی تک پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے ۔ ہم  نے اپنے گروپ کو تین حصوں میں تقسیم کرکے منصوبہ بنایا ہوا تھا کہ تین جگہوں سے جیٹی پر داخل ہوں۔ گروپ کے دو حصے پانی کے دباؤ  کی وجہ سے جیٹی سے خارج ہوگئے  اور نہیں پہنچ سکے، لیکن گروپ کا ایک حصہ کہ جس کے کمانڈر جناب مہدی مظاہری تھے، وہ زیادہ آمادہ تھے اور انھوں نے بہت کوششوں کےساتھ اپنے آپ کو جیٹی کے قریب پہنچا لیا تھا۔ جناب شاطرپور  بھی افراد کو جیٹی کی طرف ہدایات دے رہے تھے اور جب جیٹی پر پہنچے تو صبح ہونے والی تھی۔ وہ تین افراد بھی ایسے وقت جیٹی پر پہنچے جب دشمن کے نگہبان سوتی جاگتی حالت میں تھے۔ انھوں نے جیٹی کے پیڈ پر موجود چند لوگوں پر حملہ کیا، دشمن متوجہ ہوگیا، اُس کے بعد باقی دوسرے گروپس بھی اوپر آگئے اور آدھی جیٹی پر قبضہ کرلیا۔ جس موقع پر ہم لوگ پہنچے، ہم نے باقی آدھی جیٹی پر بھی دن کے وقت حملہ کردیا۔ ہم نے اُن کے تقریباً ۱۵۰ قیدی پکڑے کہ ان میں سے تقریباً ۳۰ سے ۴۰ افراد خود اپنے ہی میزائلوں  سے  مارے گئے اور بالآخر وہاں جو جنگی سامان تھا اُسے استعمال کیا گیا اور پھر جیٹی سمیت وہ سارا جنگی ساز و سامان منہدم ہوگیا۔"

ہم تین ا فراد تھے ۔۔۔

پروگرام کے تیسرے راوی غدیر علی سرامی تھے۔ انھوں نے کہا: "میں ۱۴ ویں امام حسین (ع) ڈویژن  کے انفارمیشن یونٹ میں تھا۔ یہ یونٹ، ایسا  یونٹ ہے جو عام طور  سے آپریشن سے پہلے آپریشن والے علاقے کے بارے میں معلومات حاصل کرتا ہے۔ معلومات حاصل کرنے کی بھی صورت یہ ہے کہ جب تک کوئی آدمی خود جاکر علاقے کو اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لے تب تک کمانڈر کو اطمینان نہیں ہوتا۔ الامیہ جیٹی کے آپریشن کیلئے بھی کسی شخص کا جانا ضروری تھا جو جاکر جیٹی کو ہاتھ لگاتا اور واپس آجاتا۔ خشکی میں بھی اسی طرح تھا  اور امام حسین (ع) ڈویژن کو جو محور دیا جاتا، آپریشن کی انفارمیشن فورسز کو جاکر اُس محور کی معلومات حاصل کرنی پڑتیں۔ یعنی وہ لوگ آپریشن والے علاقے کو  خود نزدیک سے دیکھتے تھے اور اس علاقے کے بارے میں انفارمیشن لیکر آتے تاکہ کمانڈر کو اطمینان حاصل ہوجائے۔ کربلائے ۳ آپریشن کیلئے بھی اسی طرح تھا۔ الامیہ جیٹی کی تصویریں موجود تھیں اور آپریشن کے انفارمیشن یونٹ میں ماڈلز اور نمونے بھی موجود تھے لیکن  کمانڈر نے اُسے قبول نہیں کیا۔ آپریشن کا انفارمیشن یونٹ جو معلومات لاتا تھا کماندر ان کی بنیاد پرفیصلہ کرتا کہ آپریشن کس طریقے سے انجام پائے گا اور یہ ہر یونٹ کا قانون تھا۔ اس تفصیل کے ساتھ ہمیں الامیہ جیٹی کا مشن سونپا گیا۔

ہم تین افراد تھے؛ جناب مہدی مظاہری، جناب احمد شاطرپور اور بندہ حقیر۔ ہم دوسرے غوطہ خوروں کی بہ نسبت  مضبوط اور ماہر تھے  اور ہماری کوئی اور علامت نہیں تھی۔ ہم نے تقریباً دس سے پندرہ دنوں تک نہر اروند کے کنارے دن رات مشقیں انجام دیں۔ ہمیں مشقیں کرنی چاہیے تھیں کیونکہ ہم نے تقریباً پانچ کلومیٹر تک غوطہ خوری کرنی تھی۔ شروع کے چند دن جب شہید خرازی ابھی مکہ نہیں گئے تھے، وہ آتے اور قریب سے ہماری مشقوں کو دیکھتے۔ ہمیں ہر صورت میں جاکر معلومات حاصل کرنی تھیں۔ ہماری مشقوں کی نظارت ہو رہی تھی اور آپریشن کے انفارمیشن  انچارج اور ڈویژن کے کمانڈر آتے اور قریب سے ہماری مشقوں کا مشاہدہ کرتے۔ ہماری مشقیں ختم ہوگئیں، لیکن ہمارا جزر و مد نام کا  ایک شعبہ ہے کہ جس کا انچارج عبد  الرسول شمندی تھا۔ جس رات ہمیں آپریشن کیلئے جانا ہوتا،  جزر و مد کا شعبہ اُس رات کو مشخص کرتا۔ اس طرح نہیں تھا کہ ہم  خود اپنی طرف سے آپریشن کیلئے ایک رات کا انتخاب کرلیتے۔ چونکہ ہمارا آپریشن پانی میں تھا، اس لیےجز ر کا وقت، پانی ٹھہرنے کا وقت اور مد کا وقت مشخص ہونا چاہیے تھا۔ اُن دوستوں نے علاقے کی معلومات حاصل کرنے کیلئے ہمارے  لیے بھی جانے  کا وقت مقرر کیا۔ ہم ۱۲ اگست ۱۹۸۶ء کو علاقے کی معلومات حاصل کرنے گئے۔ ہمیں تقریباً رات کے ساڑھے آٹھ بجے کشتی پر سوار کیا گیا اور تقریباً بیس کلومیٹر تک کا فاصلہ کشتی کے ذریعے طے کیا۔ خشکی سے الامیہ جیٹی کا فاصلہ تقریباً ۲۵ کلومیٹر تھا؛ یعنی جیٹی تقریباً خلیج فارس کے وسط میں تھی۔ جیٹی سے پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر کشتی کو روک لیا گیا اور تین افراد اتر گئے۔ سردار حسین رضائی اردستانی جو محور کے انچارج تھے، انھوں نے اور سردار موسوی نے ہم سے خدا حافظی کیا۔ ہم کشتی سے نیچے اترے اس حالت میں کہ ہم تین ایک دوسرے سے متصل تھے۔ غوطہ خور ہر آپریشن  میں ایک رسی کے ذریعے ایک دوسرے سے متصل ہوتے ہیں اور اگر ہر غوطہ خور خود سے آگے بڑھنا چاہے تو وہ الگ ہوجاتا ہے، چونکہ لہر غوطہ خور کے سینے پر دباؤ ڈالتی ہے اور اُس کے منحرف ہونے کا باعث بنتی ہے۔

جب ہم کشتی سے نیچے اترے، رات کے تقریباً ۹ بج رہے تھے، ہم دو کلومیٹر تک گئے۔ ہمارے پہلے فرد جو جناب شاطر پور تھے، اُنھوں نے غوطہ خوری کا اعلیٰ کورس کیا ہوا تھا۔ اُنہیں ہمارے ساتھ رہنا چاہیے تھا چونکہ خلیج فارس کے پانی میں قطب نما دیکھنا بہت مشکل کام ہے اور جو قطب نما کو پڑھنا چاہے تو اس کیلئے ضروری ہے کہ وہ اس باریک نلکی سے استفادہ کرے جو آکسیجن کے بالائی حصے پر لگی ہوتی ہے۔ احمد شاطر پور کو اپنا سر نیچے رکھنا چاہیے تھا کیونکہ غوطہ خوروں کا قطب نما ہاتھ میں باندھنے والی گھڑی کی طرح ہے  اور اُس کو دیکھنے کیلئے اس کے سر کو پانی کے اندر ہونا چاہیے۔ ہم احمد شاطر پور کے پیچھے گئے۔ ہم فین چلاتے ہوئے آگے گئے اور دو کلومیٹر کے بعد قطب نما کی بیٹری ختم ہوگئی۔ قطب نما کی بیٹری کو چارج کرنے کیلئے پانی کے اوپر آکر ٹارچ کی لائٹ سے  چارج کرنا پڑتا ہے۔ ہم لوگوں نے اوپر آکر حلقہ بنالیا  اور ہم تینوں افراد نے اپنی  اپنی ٹارچوں سے قطب نما پر لائٹ ڈالی تاکہ وہ چارج ہوجائے۔ جب ہم قطب نما کو چارج کرنے کیلئے پانی کے اوپر آئے، احمد شاطر پور نے کہا کہ میرا جسم ایک عجیب طرح سے لرز رہا ہے لیکن انفارمیشن انچارج جو جناب مہدی مظاہری تھے، انھوں نے کوئی دھیان نہیں دیا اور ہم اپنے راستے پر چل پڑے۔ ایک کلومیٹر کے بعد ہمیں جیٹی کا سایہ نظر آگیا اور اب ہمیں قطب نما کی ضرورت نہیں تھی۔ آگے بڑھتے ہوئے، ہمارے جسم نے بھی لرزنا شروع کردیا۔ ہر پانچ سے چھ منٹ بعد  اسی طرح  لرزتا  اور ہم جتنا جیٹی کے نزدیک ہو رہے تھے، اس لرزنے میں اضافہ ہوتا جاتا۔ پانی میں کیمیکل ملا ہوا تھا اور اُسی ابتدا سے جب ہم نے فین چلانا شروع کیا  ، پانی  کی حالت فاسفورس رنگ جیسی ہوگئی۔ ہم پانی کی اس حالت سے ڈر گئے اور سوچ رہے تھے کہ جیٹی کے نیچے آجائیں، پانی جو یہ فارسفورس رنگ والی حالت ایجاد کرتا ہے، دشمن جو جیٹی کے اوپر ہے، اُسے ہماری موجودگی کا پتہ چل جاتا ہے۔ ہم اس وجہ سے پریشان تھے لیکن آگے بڑھنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ جب ہم جیٹی کی طرف بڑھ رہے تھے، جزر تھا، یعنی پانی جیٹی کی طرف رواں تھا  اور پانی کی یہ حالت ہماری مدد کر رہی تھی۔ کبھی کبھار جو پانی کی لہر ہم سے ٹکراتی تو ہمیں پانی کے اوپر لے آتی اور جب ہم نیچے آجاتے تو ہم اپنے راستے سے دس میٹر ہٹ چکے ہوتے تھے  اور ہمیں دوبارہ سے اپنے راستے کو مشخص اور منظم کرنا پڑتا۔ آپریشن میں یہ حالت غوطہ خوروں کیلئے بھی ایجاد ہوتی ہے ۔

جب ہم نے سائے کو دیکھا تھا، ہم خود فین چلاتے ہوئے جیٹی کی طرف بڑھے تھے۔ ہم تھوڑا سا آگے گئے ہوں گے کہ ہمیں پتہ چلا عراقیوں نے دھماکہ خیز مواد تیار کیا ہوا ہے۔ یہ مواد پانی میں پانچ سے چھ میٹر گہرائی تک جاتے ہیں  اور پھٹ جاتے ہیں اور ہمارے ساتھ جو لرزنے کی حالت پیش آرہی تھی وہ اسی وجہ سے تھی۔ انھوں نے اصلاً اس بات کا تصور نہیں کیا تھا کہ غوطہ خور پانی کی بالائی سطح سے آئے گا۔  اُن کے ذہن میں  یہ تھا کہ اگر کوئی غوطہ خور جیٹی کی طرف آیا بھی تو پانی کے اندر سے آئے گا۔ اگر ہمارے غوطہ خور پانی کے اندر سے جاتے تو یہ مواد پھٹ جاتے  اور وہ غوطہ خور کو بغیر کسی حرکت کے اوپر لے آتے ۔ ہم نے آہستہ آہستہ حرکت کی اور جیٹی سے پانچ سو میٹر کے فاصلے پر پہنچ گئے۔ رات کے تقریباً ۱۱ بج رہے تھے اور ستارے  چمک رہے تھے۔ وہ پانچ سو میٹر کا راستہ ہم نے دعا پڑھتے ہوئے طے کیا۔ جب جیٹی سے سو میٹر کا فاصلہ رہ گیا تو ہم نے اُس کیمیائی حالت کی وجہ سے اب فین نہیں چلایا اور پانی کے بہاؤ کے ساتھ آگے بڑھے۔ جیٹی کی لمبائی تقریباً  ایک کلومیٹر تھی اور اُس کی چوڑائی ڈیڑھ میٹر  سے لیکر سو میٹر تک تھی۔ وہ حصے جہاں اُن کے رہنے کیلئے ہوٹل بنے ہوئے تو وہاں کی چوڑائی سو میٹر تھی اور وہ جگہیں جو راستہ یا شمالی حصے کو جنوبی حصے سے ملانے کی جگہ تھی اُن کی چوڑائی تقریباً ڈیڑھ میٹر تھی۔ جب ہم جیٹی کے نیچے پہنچے، ہم تینوں افراد نے ایک دوسرے سے اپنے ہاتھ چھڑالیے تاکہ جیٹی کے کسی ستون کو پکڑلیں۔ جیسے ہی ہمارے ہاتھ جیٹی کے ستون سے ٹکرائے، ہم تینوں کی ہتھیلیاں کٹ گئیں، چونکہ دریا کا پانی نمکین اور کڑوا تھا اس لیے دھات سے ٹکرانے کے بعد دھات میں کاٹنے کی تیزی آگئی تھی۔ علاقے کی حساسیت اور ہمارا کام اس بات کا باعث بنا کہ ہم اپنی کٹی ہوئی ہتھیلی کو بھول جائیں۔ جیٹی کی سامنے والی سیڑھیوں پر حلقوں والی خاردار تاریں ڈالی ہوئی تھیں اور کوئی بھی اوپر نہیں جاسکتا تھا۔ جیٹی کے پیچھے ایک سیڑھی تھی جسے عراقی سمندر کا پانی لانے کیلئے استعمال کرتے تھے۔ جناب مہدی اُسی سیڑھی کی طرف گئے اور میں اور جناب شاطر پور ستون کے پاس تھے۔ جب جناب مہدی سیڑھی کی طرف گئے، عراقیوں کو شک ہوگیا اور انھوں نے اپنے نگہبان کو پکارا  اور ایک دوسرے سے مذاکرات کرنے لگے، احمد شاطر پور یہاں پر مجھے مسلسل کہے جا رہا تھا کہ دعا مانگو، دعا مانگو اور میں اس وجہ سے پریشان تھا کہ کہیں ان لوگوں کو ہماری موجودگی کا پتہ نہ چل جائے اور آپریشن کا راز فاش ہوجائے۔ میں نے وہاں پر اُسے ایک ایسی بات کہی کہ میں ابھی تک شرمندہ ہوں۔ دفاع مقدس کے سارے سپاہی اس طرح کے نہیں تھے کہ ہمیشہ دعا اور ذکر میں مشغول رہتے ہوں۔ ہمارے کچھ سپاہی ایسے تھے جنہیں ہم "غلومی" کہتے تھے۔ میں بھی اُن ہی غلومیوں میں سے تھا۔ غلومی اپنے واجب اعمال انجام دیتے لیکن زیادہ مستحبات کے چکر  میں نہیں پڑتے تھے۔ جماعت سے نماز پڑھنے جاتے تھے لیکن نماز جماعت میں ہونے والی تعقیبات میں  نہیں ٹھہرتے تھے۔ ایسے  غلومیوں کی تعداد کم تھی، لیکن ان کے شہیدوں کی تعداد زیادہ تھی؛ جیسے شہید جعفر عابدینی، شہید رحیم افتخاری۔ جناب مہدی نے حکم دیا کہ ہم اپنی معلومات حاصل کرنے والا کام انجام دیں۔ پوری جیٹی کی معلومات حاصل کرنے میں  تقریباً ایک گھنٹہ لگ گیا اور تمام مشین گنیں اور جو دوسرے  وسائل موجود تھے ہم نے ان کی معلومات حاصل کیں۔ ہم سے کہا گیا تھا کہ اگر ہوسکے تو وہیں رک جائیں اور کل واپس آجائیں کہ جیٹی کی وضعیت کے پیش نظر ایسا ممکن نہیں تھا اور انفارمیشن گروپ کے انچارج نے بھی اس کام میں مصلحت نہیں سمجھی۔ مد شروع ہوگیا  اور جب ہمارا معلومات حاصل کرنے کا کام ختم ہوگیا تو ہم فین چلا کر پیچھے  کی طرف پلٹے۔ طے پایا تھا کہ جیٹی سے دو کلومیٹر کے فاصلے پر سردار رضائی ہمیں لینے کیلئے کشتی لیکر آئیں گے۔ ہم نے بہت ٹارچ کی لائٹ  ماری تاکہ وہ دیکھ کر آجائیں، لیکن نہیں آئے اور ہم پانچ کلومیٹر کا فاصلہ فین چلا کر واپس آنے پر مجبور ہوگئے۔ ہم نے اُن سے پوچھا کہ ہمیں لینے کیلئے کیوں نہیں آئے؟ انھوں نے کہا کہ ہم چاہتے تھے کہ جانا بھی ہو اور آنا بھی ہو؛ یعنی ہم یہ جاننا چاہتے تھے کہ آپ میں جانے اور آنے کی ہمت ہے یا نہیں؟ جب ہم کشتی پر سوار ہوئے، ہم میں سے ہر کسی نے تقریباً چار لیٹر پانی پیا۔ جب ہم واپس لوٹ رہے تھے اذان صبح کا وقت تھا، ہم نے نماز پڑھی۔ ہم ہیڈ کوارٹر گئے اور معلومات حاصل کرنے کی مکمل رپورٹ کمانڈر کو پیش کی۔

ہم نے قدم قدم پہ کوشش کی

پروگرام کے چوتھے راوی، کربلائے ۳ آپریشن کے زمانے میں امام حسین (ع) ڈویژن کی امام رضا (ع) بٹالین کے کمانڈر علی شاہ نظری تھے۔ انھوں نے کہا: "۲ ستمبر ۱۹۸۶ء والے دن صبح پانچ بجے، غوطہ خوروں کو الامیہ جیٹی سے پانچ کلومیٹر کے فاصلے سے گئے ہوئے چار گھنٹے گزر  چکے تھے اور ہمارے پورے وجود پر اضطراب طاری تھا۔ غوطہ خور نہ جیٹی پر قبضہ کرسکے تھے اور نہ ہی واپس آئے تھے۔ ۱۴۰ خوبصورت جوان گئے ہوئے تھے اور ہمیں ان کے بارے میں کوئی خبر نہیں تھی۔ اس پریشانی کے عالم میں ہم اس بات کی طرف متوجہ ہوے کہ جیٹی کا ایک حصہ جس کی لمبائی ایک کلومیٹر ہے اُن کے توسط سے قبضہ ہوچکا ہے۔ ہم خلیج فارس کے ساحل پر غوطہ خوروں کی سپورٹ کے عنوان سے آمادہ تھے کہ وہ جیسے ہی جیٹی پر حملہ کریں، ہم جاکر اُن کی مدد کریں۔ میری ذمہ داری یہ تھی کہ میں کشتیوں کے ساتھ انچارج کے عنوان سے جاؤں۔ جیسے ہی ہم تک خبر پہنچی، صبح کی اذان کا وقت تھا۔ میں نے لوگوں سے کہا کہ کشتی میں نماز پڑھ لیں۔ تمام افراد کشتی کے اندر کود پڑے۔ وہ کشتی جس میں مجھے بیٹھ کر جانا تھا، اُس میں دو موٹر لگی ہوئی تھی اور اُس کی رفتار بہت زیادہ تھی۔ مجھے یاد ہے کہ مد آیا ہوا تھا  اور پانی جیٹی کی سمت کے خلاف بہہ رہا تھا۔ ہم ان لہروں پر اتنی تیزی کے ساتھ حرکت کر رہے تھے کہ کبھی کشتی کی دو موٹروں کے پنکھے مکمل طور پر پانی سے باہر نکل جاتے۔ ہم نے دونوں ہاتھوں سے مضبوطی کے ساتھ کشتی کے کناروں کو پکڑا ہوا تھا  اور ہم نے اُسی حالت میں اپنی صبح کی نماز ادا کی۔ جیٹی سے دھواں اور آگ اٹھ رہی تھی کہ ہم نے حرکت کرتے وقت ہی اسے دیکھ لیا تھا۔ ہمارے جاتے وقت بعثی طیاروں نے ہماری کشتیوں پر حملہ کیا۔ افراد نے اُن میں سے ایک مَیگ طیارے کو مار گرایا۔ وہ مَیگ سر کے بل پانی کے اندر گیا اور ہم بہت خوش ہوئے۔ ایک بسیجی نے افراد کو خوش کرنے کیلئے، کہا: ڈرو نہیں، یہ دریائی مرغ ہیں!

ہمیں جیٹی کے پیڈ تک پہنچنے میں آدھا گھنٹہ لگ گیا۔ ہم وہاں پر پہنچے تو ہم نے دیکھا سردار محسن رضائی وہاں پر تھے۔ انھوں نے کہا کہ سپاہیوں کو اوپر لے جائیں۔ سیڑھیوں پر لگی خار دار  تاروں کو اکھاڑ لیا گیا تھا اور میں نے لوگوں سے کہا کہ اوپر جائیں۔ پیڈ سے گزرنے کے بعد ہماری سب سے پہلی حرکت، ایسی راہداری سے عبور کرنا تھا جو جیٹی کے ابتدا میں واقع تھی  اور بعثی اُس پر شدید فائرنگ کر رہے تھے۔ ہماری بٹالین کے دو نوجوان افراد کی شہادت سے  باقی افراد  اس خطرناک زاویہ سے عبور کرنے میں کامیاب ہوئے۔ جب ہم آگے کی طرف گئے، راہداری میں ایک فاصلہ تھا جو جیٹی کے اس حصے اور بعد والے حصے کو جدا کر رہا تھا۔ اصل جیٹی لکڑی کے پل کے اس طرف تھی۔ بعثیوں نے جیٹی کے اس ٹکڑے کو جو تقریباً ۵۰ میٹر کا تھا، دوسرے ٹکڑے سے اس لکڑی والے پل سے ملایا ہوا تھا  اور ہمیں اس لکڑی والے پل سے گزرنا تھا۔ واقعاً پریشان کرنے والا اور خطرناک تھا۔ عراقی اپنی نجات کا راستہ اس پل کو برباد کرنے میں دیکھ رہے تھے، اسی وجہ سے جب میں پل پر دوڑ رہا تھا، انھوں نے فائرنگ کردی  اور ایک گولی میری ران  پر لگی کہ جس سے بہت درد اٹھا۔ میں نے اپنے ہاتھ کو اپنی چوٹ پر رکھا اور جیٹی کی دوسری سمت دوڑا۔ بالآخر افراد اس پل کو عبور کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ خشکی کے برخلاف کہ جہاں گولی آتی اور زمین کے اندر چلی جاتی، یہاں اگر دور سے بھی گولی چلاتے ہیں تو وہ گولی تنصیبات کے لوہوں سے ٹکڑا کر واپس آتی ہے اور اگر ہم دشمن کی براہ راست گولی سے محفوظ ہوتے تو پلٹ کر آنے والی گولی سے محفوظ نہیں رہتے۔ مشین گن سے گولیاں برسا رہے تھے، اگر ہمیں نہیں لگتی تو دھات سے ٹکراتی، پلٹ کر واپس آتیں اور ہمیں لگنے کا احتمال ہوتا۔ بہت مشکل تھا۔ دن کا وقت تھا اور دشمن ہمیں دیکھ رہا تھا اور ہمارے پاس بھی چھپنے کی کوئی جگہ نہیں تھی۔ لوگوں نے یہاں پر ہمت سے کام لیا اور جان سے گزرنے  والی بات کو ثابت کیا۔

مجھے یاد پڑتا ہے شہید محمود اسدی پور جو میرا بہت قریبی دوست تھا جسے اسٹاف کی طرف سے بھیجا گیا تھا۔ میں نے اس سے کہا آؤ افراد کو آگے لیکر چلتے ہیں۔ اُس نے کہا تمہارے افراد مجھے نہیں پہچانتے ، میں نے جواب میں کہا تم آؤ تو سہی کم سے کم ہم ایک ساتھ سانس تو لیں گے۔ میں اُس کے ساتھ اور ایک مولانا جن کا نام جناب توسلی  اور شہید حاج رجب علی شاہ رجبیان کے ساتھ آگے گیا۔ ہم نے جیٹی پر قبضہ کرنے کیلئے قدم قدم پر کوشش کی۔ بالآخر ہم جیٹی کی انتہا سے دو سو میٹر کے فاصلے پر پہنچ گئے کہ جہاں دھات کی ایک تین منزلہ عمارت تھی۔ افراد اُسے ہوٹل کہتے تھے۔ اس کے چاروں طرف چار ۵۷ اینٹی ایئر کرافٹ توپیں لگی ہوئی تھیں۔ ہم اسی طرح لڑ تے ہوئے ان میں سے ایک توپ کے قریب پہنچے۔ اچانک مجھے پتہ چلا کہ ایک عراقی گولیوں کی ایک صندوق کے  نیچے چھپا ہوا ہے۔ اتنی زیادہ گرمی تھی کہ مجھے بھی پسینہ آرہا تھا اور اُسے بھی اور اُس کے ہاتھ کی کلائی میرے ہاتھ سے  پھسل رہی تھی۔ مجھے عر بی نہیں آتی تھی اور اُسے بھی فارسی نہیں آتی تھی۔ میرے سامان میں ایک ٹارچ تھی۔ میں نے اُسے باہر نکالا اور اُسے بڑی مشکل سے اشاروں سے سمجھایا کہ جس اینٹی ایئر کرافٹ سے اب تک تم ہم پر فائر کر رہے تھے، اس پر بیٹھ جاؤ  اور اب اپنی طرف فائر کرو۔ ہمارے پاس زیادہ گولہ بارود نہیں تھا اور ہم چاہتے تھے اس اینٹی ایئر کرافٹ کی آواز سے رعب اور وحشت پھیلائیں  تاکہ بقیہ جیٹی پر بھی قبضہ کرسکیں۔ اُس نے مجھے اس توپ کا نچلا سرا دکھایا، ہماری طرف اتنے زیادہ گولے برسائے تھے کہ نالی گرم ہوکر پھٹ گئی تھی۔ اُس نے مجھے سمجھایا کہ توپ خراب ہے اور وہ اُس سے فائر نہیں کرسکتا۔ میں نے اس سے کہا کہ جاکر دوسری توپ پر بیٹھ جاؤ اور فائر کرو، لیکن وہ توپ فائرنگ کی حدود میں تھی اور اس کی طرف مسلسل فائرنگ ہو رہی تھی۔ وہ اُس کے پیچھے جاکر فائر کرنے سے ڈر رہا تھا۔ بالآخر اس نے جاکر فائر کیا، ایک وحشت ناک آواز آئی اور اس کی وجہ سے وہ تمام بعثی جو دھات کی عمارت کے اندر فرار کر گئے تھے، وہ وہاں سے باہر نکل آئے لیکن ابھی کافی نہیں تھا، ابھی بھی فائرنگ کر رہے تھے۔ پیچھے سے ایک ترجمہ کرنے والا آگیا ، میں نے اس سے کہا کہ اس عراقی سے کہو کہ ہم اُسے راہداری سے آگے کی طرف بھیجتے ہیں تاکہ وہ جاکر اپنے دوستوں سے کہے کہ اگر تسلیم ہوجاتے ہیں تو ہم انہیں قیدی بنالیں گے اور قتل نہیں کریں گے۔ اُس عراقی نے قبول کرلیا اور جاکر اُن سے کہا۔ وہ لوگ مان گئے اور آگئے۔ وہاں آخر میں صرف اور صرف کیمپ کا ایک کمانڈر ایک خاتون کے ساتھ تھا  جو کشتی پر بیٹھ کر فرار کر گئے اور ہم نے جتنی بھی گولیاں چلائیں، اُنہیں نہیں لگی۔ قیدیوں کی شناخت کیلئے میں نے اُن سے کہا کہ وہ اپنی قمیضیں اتار دیں۔ واپس ہوتے وقت میں نے کہا: "الموت لصدام" اور تمام بعثیوں نے دہرایا۔ ہم انہیں پیڈ کے نیچے لے گئے تاکہ انہیں پیچھے کی طرف منتقل کریں کہ ہم نے دیکھا کہ ام القصر کی طرف سے کوئی لال رنگ کی چیز آرہی ہے۔ انھوں نے جیٹی کے ابتدائی پیڈ کو ہدف قرار دیا تھا۔ یہ میزائل پیڈ پر لگا اور پیڈ نیچے گر گیا۔ تقریباً ۳۰ سے ۴۰ قیدی مارے گئے اور ہمارے کچھ شہداء بھی پیڈ کے نیچے بکھر گئے۔ "

غوطہ خوروں کی تلاش میں

پروگرام کے پانچویں راوی محمود نجیمی تھے۔ انھوں نے کربلائے ۳ آپریشن کے دوسرے راویوں کے واقعات کے بعد  کہا: "سپاہ کے کمانڈر کی طرف سے ہمیں آپریشن ختم کرنے کا حکم ملا۔ جناب ابو شہاب نے تیراکوں سے کہا آہستہ آہستہ پیچھے کی طرف جائیں۔ میں آخری لمحے میں جناب ابوشہاب کے پاس گیا اور کہا میں جاؤں اور جناب مظاہری کو سوار کرکے  لے آؤں؟ پہلے تو وہ تھوڑا سوچ میں پڑ گئے  اور صبح کے قریب جب سب نے پیچھے آنا تھا، کہا: جاؤ۔ ہم چار لوگ ایک دو موٹر والی کشتی میں بیٹھ گئے۔ ہم جیٹی کے قریب پہنچے ، ہم نے دیکھے کہ وہاں پر چار کشتیاں ہیں اور دشمن اُن کشتیوں پر حملہ کر رہا ہے؛ جناب موسوی کی کشتی، جناب علی فدَوی کی کشتی، جناب اکبر رضائی کی کشتی کہ یہ لوگ  میرین یونٹ سے تھے اور اب ہماری کشتی کا بھی ان میں اضافہ ہوگیا تھا۔ ہم میں سے ہر کوئی جیٹی کی ایک طرف سے غوطہ خوروں کی تلاش میں تھا تاکہ اُنہیں سوار کرکے پیچھے لے جائے۔ میں تو صرف مہدی مظاہری کی تلاش میں تھا۔ ہم ہیلی کاپٹر کے پیڈ کی طرف گئے  اور ہم نے دیکھا کہ کچھ غوطہ خور نظر آرہے ہیں۔ میں نے کہا عراقی ہمیں مار رہے ہیں، چل کر کچھ لوگوں کو سوار کر کے واپس آتے ہیں۔  کسی نے کہا جیٹی کے اوپر جھڑپیں ہو رہی ہیں، میں نے خود سے کہا کہ وہ تو شکی ہوگیا ہے۔ ہم تیزی کے ساتھ جیٹی کی طرف گئے اور میں نے دوشکا گن چلانے والے سے کہا کہ جیٹی پر فائر کرو۔ میں نے بھی اسلحہ سے فائر کیا۔ جب میں قریب پہنچا تو میں نے دیکھا جیٹی پر غوطہ خور ہیں اور ہماری طرف ٹارچ  کی لائٹ مار رہے ہیں۔ جب ہم نے پہنچنے کر خبر پہنچائی، جناب ابو شہاب وائرلیس پر زیارت عاشورا پڑھ رہے تھے۔ آپریشن کے بعد جناب شاطر پور نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ ایک کشتی بہت تیزی سے ہماری طرف آئی، ہم ٹارچ کی لائٹ مار رہے تھے اور وہ ہم پر فائر کر رہی تھی! میں نے جیسے ہی یہ بات سنی میری جسم میں سنسنی دوڑ گئی۔ میں فوراً موٹرسائیکل پر بیٹھ کر جناب مظاہری کے پاس گیا۔ میں نے پوچھا جب آپ جیٹی پر تھے اور ایک کشتی مسلسل آپ پر فائرنگ کر رہی تھی، کسی کو گولی تو نہیں لگی؟ انھوں نے کہا کیوں؟ میں نے کہا ہم اُس کشتی میں تھے۔ انھوں نے کہا الحمد للہ کسی کو گولی نہیں لگی اور میں نے سکون کا سانس لیا ۔"

پروگرام کے آخر میں دفاع مقدس کے واقعات سے متعلق تین کتابوں کی تقریب رونمائی ہوئی جن کے عناوین یہ ہیں: "سیزدہ در ہفت"، "مگر شما ایرانی نیستید" اور سہم من از عاشقی"۔

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۵ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ ستمبر  ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۵ اکتوبر  کو منعقد ہوگا۔



 
صارفین کی تعداد: 2255


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
حسن مولائی کی یادیں

سو افراد، سینکڑوں افراد، ہزاروں

وہ لوگ جو چند گھنٹوں پہلے جمرات جا رہے تھے تاکہ رمی جمرات کا فریضہ ادا کرسکیں اب تولیہ اوڑھے سو رہے تھے۔ جب جنازے ختم ہوئے، تو مجھے سمجھ نہیں آئی کہ مجھے کہاں لوٹنا چاہئیے۔ اچانک میرے پیروں نے کام کرنا چھوڑ دیا اور میں نے پہلی مرتبہ وہاں گریہ کرنا شروع کردیا۔ واپس پلٹ کر ان سفید پیکروں کو دیکھنا شروع کیا۔ پوری سڑک جنازوں سے سفید ہوچکی تھی۔ ایک جوان مرد کی آواز پر چونکا جو میرے ساتھ کھڑا تھا اور میرے پیروں کے سامنے چپلیں رکھ رہا تھا۔
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔