رہبر انقلاب کی موجودگی میں یادوں بھری رات کے چوتھے خصوصی پروگرام کا انعقاد

نادرست روایات کی روک تھام کیلئے دفاع مقدس کے واقعات کو اُجاگر کرنا ضروری ہے


2018-12-20


ایرانی اورل ہسٹری سائٹ کی رپورٹ کے مطابق،  رہبر انقلاب کی موجودگی میں یادوں بھری رات کا چوتھا خصوصی پروگرام ، بدھ کی شام ، ۲۶ستمبر ۲۰۱۸ء کو امام خمینی (رہ) امام بارگاہ میں منعقد ہوا ۔

آیت اللہ سید علی خامنہ  ای کے آثار کی نشر و اشاعت کرنے والے دفتر کی ویب سائٹ نے اس بارے میں خبر دی  ہے کہ ہفتہ دفاع مقدس اور آبادان کا محاصرہ توڑنے والے دن کے موقع پر  سپاہیوں، فداکاروں،   فنکاروں نے رہبر معظم انقلاب اسلامی سے ملاقات کی۔

اس پروگرام کے شروع میں، دفاع مقدس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے  کچھ افراد نے اُس زمانے میں "پائیداری اور مزاحمت"، "شجاعت اور ایمان"، "ایثار اور شہادت " کے  واقعات کو بیان کیا۔

اس کے بعد اس پروگرام کے اگلے مرحلے میں رہبر انقلاب اسلامی نے اپنی باتوں میں اُن لوگوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے جنہوں نے ذمہ داری  کے ساتھ دفاع مقدس کی اقدار اور واقعات کو زندہ کرنے  کے عمل کو جاری رکھا ہوا ہے، تاکید کی: ہم نے دفاع مقدس کے متعلقہ تحریر شدہ آثار کی تحریک چلا کر اور لکھے گے آثار اور جنگ سے متعلق سینما کی ثقافتی اور فلمی خدمات کو منظر عام پر لاکر دنیا والوں کو یہ پیغام دینا ہے کہ ایرانی قوم ایمان کے جذبے سے سرشار ہے جو  نہ محنت کرنے سے چوکتی ہے اور نہ شکست کو تسلیم کرتی ہے۔

آیت اللہ خامنہ ای نے دفاع مقدس کے سپاہیوں اور اُن کے گھر والوں کے واقعات کو  ایرانی قوم کا بے مثال خزانہ اور سرمایہ کہتے ہوئے مزید کہا: ان خزانوں کو زندہ کرتے ہوئے دفاع مقدس میں نادرست تاریخی روایات   جیسی فضول چیزوں کو روکنا چاہیے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

انھوں نے کہا کہ دفاع مقدس کا زمانہ ایک ایسے معیار کے طور پر سامنے آیا جس نے دنیا میں قائم ظالم و جابر حکومتوں کی قلعی کھول کر رکھ دی، انھوں نے مزید کہا: دفاع مقدس کے دوران سپاہیوں نے اپنے عمل کے ذریعے ایک ایسی سچی تصویر کھینچی  جس نے اُس دور کے عدل و انصاف سے دور  اور ظلم و وحشی گری پر استوار نظام سے پردہ اٹھایا  اور وہ تصویر دنیا کے سامنے بھی پیش ہونی چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے بعثی حکومت کے مقابلے میں ایرانی قوم کی مظلومیت اور جس کی طاقت کے حوالے سے ہم پلہ نہ ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: دفاع مقدس کے زمانے میں ایران میں کم سے کم سہولیات بھی دستیاب نہیں تھیں نہ صرف یہ بلکہ حتی خار دار تک لگانے کی اجازت نہیں تھی جب کہ ہمارے مد مقابل دشمن کو جدید اسلحہ سے لیس کرنے کے ساتھ ساتھ کیمیکل ہتھیار تک دیئے گئے۔

آیت اللہ خامنہ ای نے فرمایا: آج جو مغربی ممالک، ایران پر ایٹمی اسلحے کی تہمت لگا کر ہنگامہ کھڑا کرتے رہتے ہیں یہی لوگ دفاع مقدس کی مسلط کردہ جنگ کے دوران صدام حکومت کو ایٹمی اسلحہ دیتے رہے ہیں اور اس اسلحہ کو صرف جنگی  محاذوں تک محدود نہیں رکھا گیا بلکہ "سر دشت"  سمیت دیگر شہروں پر بھی استعمال کیا گیا۔

انھوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا : اُس وقت کا اسلامی جمہوریہ ایران صرف معاشی اور سیاسی پابندیوں کی زد میں نہیں تھا بلکہ میڈیا  جیسی سہولیات سے بھی محروم تھا۔ ایرانی قوم کی مظلومانہ صداکی کہیں شنوائی نہیں تھی جبکہ دوسری طرف سے دنیا بھر کا میڈیا اور تبلیغاتی ذرائع صہیونیوں کے ماتحت تھے اور انھوں نے ایران کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔

اُس وقت فرانس اور جرمنی نے صدام حکومت کی جو مدد کی اس طرف اشارہ کرتے ہوئے رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا: آج  فرانس اور جرمنی کے عوام کیوں اس بات سے بے خبر رہیں کہ ان کی حکومتوں نے اُن آٹھ سالوں میں ایرانی عوام پر کیا کیا ستم ڈھائے ہیں؟

رہبر معظم آیت اللہ خامنہ ای نے مزید فرمایا: ایرانی عوام کے اذہان میں ظالم اور استبدادی نظام کی جو مکروہ شکل آج بھی بالکل شفاف انداز میں موجود ہے اُسے آج کی دنیا نہیں دیکھ پا رہی  اور اس میں کوتاہی صرف ہماری رہی ہے کیونکہ ہم نے دفاع مقدس کے حوالے سے ادبیات، سینما، تھیٹر، ٹی وی، اخبارات اور سوشل میڈیا میں جو ٹھوس ا قدامات کرنے تھے وہ نہیں کیئے۔

انھوں نے مزید کہا: البتہ کچھ حوالوں سے بہت ٹھوس کام ہوا ہے کم ہی سہی لیکن موثر کام ہر رہے ہیں۔

آیت اللہ خامنہ ای نے دفاع مقدس کے زمانے سے مربوط مسائل کی گہرائی اور اہمیت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا: مغرب میں  فلمی میلے (film festival) میں کچھ ایرانی فلموں کو، جو کوالٹی میں دفاع مقدس کی فلموں سے کم تر ہیں، دکھایا جاتا ہے لیکن وہ لوگ دفاع مقدس کی فلمیں دکھانے سے ڈرتے ہیں صرف اس لیے کہ یہ فلمیں دنیا میں رائج استبددادی نظاموں کے چہرے سے پردہ اٹھانے میں موثر ثابت ہوئی ہیں۔

انھوں نے اس بات کی طرف بھی توجہ مبذول کروائی کہ دفاع مقدس سے متعلق ادبی اور ہنری آثار  ایک بہت بڑا اور کارآمد ہتھیار ہیں۔ ان آثار کو دنیا کی زندہ زبانوں میں ترجمہ ہونا چاہیے تاکہ دنیا والے یہ جان سکیں کہ آبادان اور خرم شہر جیسے شہروں اور دیگر دیہاتوں میں اس جنگی عرصے میں کیا بیتی اور یہ بھی جان سکیں کہ ایرانی عوام کس جذبے سے سرشار ہے۔

انھوں نے (خطرے سے آگاہ کرتے ہوئے) خبردار کیا: آج اگر دفاع مقدس کے زمانے سے متعلق یادگاروں اور اُس قیمتی سرمایے میں افزائش اور تحفظ کے لیے کچھ نہ کیا گیا تو یقیناً دشمن اپنی مرضی و منشا کے مطابق اس کا غلط استعمال کرے گا اور اپنے حق میں پیش کرے گا اور یہ ایسا خطرہ ہے جس کے حوالے سے سب کو احساس ذمہ داری کے ساتھ سنجیدہ ہونا پڑے گا۔

رہبر انقلاب اسلامی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: دفاع مقدس کو پیش کرنے کے لیے ہمیں ایمان، ایثار، شوق اور کوشش کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا اور ساتھ ساتھ یہ پیغام بھی دینا ہوگا کہ ایرانی قوم شکست کو تسلیم نہیں کرسکتی کیونکہ اس نے شوق اور عشق کے ساتھ میدان جنگ  کا سامنا کیا ہے۔

انھوں نے مزید فرمایا: آج بھی اگر ہم آٹھ سالہ جنگی دورانیے اور ان شہیدوں کا پیغام دل و جان  سے سنیں تو ڈر اور خوف کی حالت ہمارے دلوں میں پیدا نہیں ہوگی اور اس سے ہمیں تازگی، شجاعت اور جرائت حاصل ہوگی۔

انھوں نے اس سلسلے میں ذمہ دار افراد سے درخواست کی کہ وہ اس حوالے سے سنجیدہ کوششوں کے ساتھ ساتھ، دفاع مقدس کے ادبی اور ہنری آثار میں سو گنا اضافہ کریں اور اگر یہ سب بطریق احسن انجام پا جائے تو استکبار کے تمام کے تمام منصوبے خاک میں مل جائیں گے۔

رہبر معظم انقلاب نے آخر میں اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا: جس طرح انقلاب کے آغاز میں اور دفاع مقدس کے دوران استکبار کی انقلاب دشمن سازشیں ناکام ہوئیں اور دشمن عقب نشینی پر مجبور ہوگیا اسی طرح آج بھی خدا پر توکل کرتے ہوئے اور عالی ہمت کے ساتھ قدم آگے بڑھاتے ہوئے ان سازشوں کو ناکام بنایا جاسکتا ہے۔

اس پروگرام میں ادارہ تبلیغات اسلامی کے سربراہ حجت الاسلام قمی نے اہواز میں ہونے والے دہشت گردی کے حادثے کے سب سے کمسن شہید، چار سالہ محمد طاہا کی قمیض آیت اللہ  خامنہ ای کو پیش کی۔ یاد رہے کہ یہ قمیض اس کمسن شہید کے گھر والوں نے  رہبر معظم کی خدمت میں تحفہ کے طور پر پیش کی تھی۔

رہبر انقلاب نے بھی اس قیمتی تحفے کا احترام کرتے ہوئے ادارہ تبلیغات کے سربراہ سے یہ خواہش ظاہر کی کہ وہ ان کی جانب سے سلام اور تہہ دل سے شکریہ اور نیز نیک خواہشات، کمسن شہید کے گھر والوں اور اہواز کے عوام تک پہنچائیں۔

اس ملاقات میں جن معزز شخصیات نے دفاع مقدس کے حوالے سے اپنے واقعات اور نکات بیان کیے ان میں مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کے بانی جناب مرتضی سرہنگی،  دفاع مقدس کے بہادر سپاہی اور دریائے اروند پر انوکھا پل بنانے والے جناب مرتضی بابائی خراسانی، نیوی کے رئیر ایڈمرل جناب عبد اللہ معنوی، سبلان جنگی بحری بیڑے کے کمانڈر اور دفاع مقدس کے لکھاری جناب موسوی، دفاع مقدس کے جنگجو آرمی کمانڈر رہام بخش حبیبی،  دلاور اور وفادار (معذور) سپاہی سید مسعود شجاعی، جنگی مہارت رکھنے والے جنگجو کرنل پائلٹ امیر علی میلان، جنگجو کمانڈر حمید سرخیلی جو آبادان کے محاصرے کے وقت، آبادان چھاؤنی میں جانشین رہے ہیں۔ بحریہ کے بریگیڈیئر جنرل سعید پور داراب، ۲۱ ویں حمزہ آرمی بریگیڈ ڈویژن کے کمانڈر  نبی اللہ رودکی، ۱۹ ویں فجر فارس ڈویژن کے کمانڈر اور محترمہ فاطمہ جوشی  جو دفاع مقدس کی کاتبہ اور جنگی معذورین میں سے ہیں، شامل ہیں۔  اسی طرح اس کے علاوہ جنگجو سپاہیوں اور دفاع مقدس کے لکھاری حضرات کی ایک ٹیم نے اپنے تحریری آثار  رہبر معظم   انقلاب اسلامی کی خدمت میں پیش کیئے۔

اس پروگرام میں تمام مسلح افواج کے کمانڈر انچیف میجر جنرل باقری نے بھی ایک رپورٹ پیش کی جو دفاع مقدس کی اقدار اور ثقافت کی ترویج اور تحفظ کے سلسلے میں انجام دی گئی فعالیت اور کاوشوں پر مشتمل تھی۔

آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کے آثار کے ادارہ حفظ و نشر نے رہبر انقلاب کی موجودگی میں یادوں بھری رات کے چوتھے خصوصی پروگرام میں رہبر معظم کی اس تقریر کے حوالے سے جومیسجز چلائے وہ کچھ یوں ہیں:

رہبر انقلاب: ہمیں ادیبات، سینما، تھیٹرز، اخبارات اور سوشل  میڈیا پر بہت کام کرنا ہے۔ جناب حاتمی کیا کی یہی آخری  فلم جو ابھی منظر عام پر آئی اور ایران میں بہت پسند کی گئی یہی فلم کیوں نہ یورپ اور ایشیا میں بھی دکھائی جائے؟ مغرب میں فلم فیسٹیولز میں دفاع مقدس کی فلمیں نہیں دکھاتے کیونکہ وہ حقائق سے ڈرتے ہیں۔ ہمیں اپنے جنگی سپوتوں پر فلمیں بنانی ہوں گی، ہمت، باکری، اور  دفاع مقدس کے دیگر زندہ شخصیات، یہ سب جنگی ہیرو اور سپوت ہیں۔ ان کی عظمت کو ہم نے دنیا والوں پر واضح کرنا ہے۔

رہبر انقلاب: آج مغربی حکومتیں ایران پر کیمیکل ہتھیاروں کا الزام لگا کر کس قدر ہنگامہ کھڑا کرتی ہیں لیکن اس وقت صدام نے جن شہروں میں بھی کیمیکل ہتھیاروں کا آزادانہ استعمال کیا اور یہی جرمنی ، فرانس اور سوویت یونین تھے جو اُس وقت صدام کی مدد کر رہے تھے۔ ہم اُس وقت سیاسی و معاشی اور تبلیغاتی محاصرے میں  تھے۔ ہم اپنی آواز کہیں نہیں پہنچا سکتے تھے۔ اب آج کے فرانس اور جرمنی کے عوام کیوں اس بات سے بے خبر رہیں کہ  ان کی حکومتوں نے ان آٹھ سالوں میں ہم پر مظالم ڈھائے ہیں؟ آج ان ممالک کے عوام  ان حقائق سے بے خبر ہیں اور اس میں قصور ہمارا ہے۔

رہبر انقلاب دفاع مقدس کی یادوں بھری رات کے پروگرام: دفاع مقدس کو بیان کرتے وقت یہ بات سامنے رہنی چاہیے کہ ایرانی عوام نے شکست کوکبھی تسلیم نہیں کیا۔ جنگ یقیناً ایک تلخ حقیقت ہے لیکن قرآن کریم نے جنگ کو ہی سامنے رکھ کر عظمت و بزرگی کا یہ پیغام دیا ہے: ویستبشرون بالذین لم یلحقوا بهم من خلفهم الّا خوف علیهم ولا هم یحزنون؛  ہم آج بھی اگر شہدا کے پیغام کو دل و جان سے سنیں تو ہم خوف و ہراس میں مبتلا نہیں ہوں گے اور اس پیغام کا تحفہ ہمارے لیے طراوت، شجاعت اور جرائت کی صورت میں ملے گا۔



 
صارفین کی تعداد: 2163


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
حسن مولائی کی یادیں

سو افراد، سینکڑوں افراد، ہزاروں

وہ لوگ جو چند گھنٹوں پہلے جمرات جا رہے تھے تاکہ رمی جمرات کا فریضہ ادا کرسکیں اب تولیہ اوڑھے سو رہے تھے۔ جب جنازے ختم ہوئے، تو مجھے سمجھ نہیں آئی کہ مجھے کہاں لوٹنا چاہئیے۔ اچانک میرے پیروں نے کام کرنا چھوڑ دیا اور میں نے پہلی مرتبہ وہاں گریہ کرنا شروع کردیا۔ واپس پلٹ کر ان سفید پیکروں کو دیکھنا شروع کیا۔ پوری سڑک جنازوں سے سفید ہوچکی تھی۔ ایک جوان مرد کی آواز پر چونکا جو میرے ساتھ کھڑا تھا اور میرے پیروں کے سامنے چپلیں رکھ رہا تھا۔
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔