شدید گرمی میں جنگ

سارا رشادی زادہ
مترجم: سید مبارک حسین زیدی
۲۶/ جون ۲۰۱۶

2016-07-20


ایران کی زبانی تاریخ کی ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق،   ۲۳/ جون ۲۰۱۶، جمعرات کی شام میں تہران کی آرٹ گیلری میں  یاد داشت بیان کرنے کی ۲۶۹ ویں شب  کے نام سے پروگرام منعقد ہوا۔

اس پروگرام میں سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے کمانڈر انچیف کے مشیر اعلیٰ سردار خسرو عروج، موسی صدقی، سردار مہدی رمضانی ، اصغر نقی زادہ اور آٹھ سالہ جنگ کی مایہ ناز شخصیات سمیت مختلف طبقہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے مہمانوں نے شرکت کی  اور اپنی یادوں کے دریچوں وا کئے۔

 

آپریشن کربلا ۱

موسی صدقی جو آپریشن کربلائے ۱ میں شرکت کرنے والوں میں سے ہیں،  اُنہوں نے پہلے مقرر کے طور پر اس آپریشن کے سلسلے میں اپنی یاداشتوں کو بیان کرتے ہوئے کہا: "معمولاً جب بھی کاروائیوں کی بات کی جاتی ہے تو لوگوں میں یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ کاروائی کی ضرورت ہی کیوں پیش آئی؟ اس کے جواب میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ جس وقت عراق نے ایران پر جنگ مسلط کی، تو ہم نے فیصلہ کیا کہ عراق میں موجود فاو شہر پر قبضہ کرنا چاہیے  اور عراق پر دباؤ ڈالیں۔ فاو فتح کرنے والا آپریشن کامیابی سے ہمکنار ہوا،  وہ بھی ایسے حالات میں کہ نہر اروند  ایسی  نہر ہے کہ جسے عبور کرنا ممکن نہ تھا؛ اس طرح سے کہ حتی عراقی افواج آبادان پر قبضہ کے لئے اروند سے  عبور نہ کرسکیں۔ اس حال میں بھی ایرانی افواج نے ایسی شرائط میں کہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا، نہر سے عبور کیا اور آپریشن کو کامیابی تک پہنچایا۔ عراق نے بھی اس آپریشن کے جواب اور خود کو دباؤ سے باہر نکالنے کیلئے  کچھ کاروائیاں انجام دی اور مہران شہر کو اپنے قبضے میں لے لیا اور پھر اعلان کیا کہ ایران کی طرف سے فاو واپس ملنے کی صورت میں مہران کو واپس دیا جائے گا۔ اسی وقت امام خمینی (رہ) نے اعلان کیا کہ مہران شہر کو آزاد ہونا چاہیے اور اسی وجہ سے مہران شہر کی آزادی کے لئے ایرانی افواج کی طرف سے کربلا ۱  آپریشن کا  آغاز ہوا۔"

اُنہوں نے اپنی گفتگو کے دوران اس آپریشن کی شرائط کی طرف اشارہ کیا اور کہا: " یہ آپریشن جون، جولائی میں شروع ہوا کہ ایسے میں صوبہ ایلام میں گرمیاں اپنے عروج پر تھیں۔ البتہ یہ بھی ہے کہ ہم نے پہلے سے ٹریننگ حاصل کی ہوئی تھی اور کرخہ جیسے ٹریننگ سنٹر میں ۱۲  سے ۱۳ گھنٹے پیدل چل چل کےمہران کے ماحول کے لئے تیار ہوگئے تھے کہ جہاں کہیں بلندی اور کہیں صحرا ہے۔ آپریشن کی غرض سے جون جولائی کی گرمیوں میں علاقے میں داخل ہوئے اور ہمارے لشکر کا نام ، محمد رسول اللہ (ص) کا ۲۷ واں لشکر تھا جسے یہ افتخار حاصل تھا کہ یہ آپریشن کے شروع سے آخر تک  اس علاقے میں موجود رہا۔ معمولاً ایسا ہوتا تھا کہ کاروائیوں میں کسی بھی نقصان یا  فوجی حکمت عملی کی بناء پر کوئی بٹالین  آپریشن سے نکل جاتی، لیکن ہماری بٹالین آپریشن کے شروع سے آخر تک موجود رہی۔"

صدقی نے مزید کہا: "موسمی نہروں کے علاقے میں ایک گاوی نامی  نہر تھی  جو آگے چل کر عراق میں داخل ہوجاتی  اور آج کل بھی کربلا کے بارڈر کے لئے وہاں سے گزرا جاتا ہے۔ طے پایا کہ آپریش شروع ہونے سے پہلے اس نہر میں پڑاؤ ڈالا جائے کیونکہ سال کے اس موقع پر اُس میں پانی کم ہوتا ہے۔ ہماری بائیں طرف قلاویزان کی اونچائی اور ہماری دائیں طرف کلہ قندی کی اونچائی تھی کہ جہاں پر و الفجر ۳ کا آپریشن ہوا تھا۔ وہاں بہورزان اور مھمین نامی دو گاؤں تھے جو  نہر کے ذریعے ملتے تھے، آپریشن والی رات ہماری افواج نے حرکت کرنے اور عراقیوں سے دو بدو ہونے  سے پہلے، ان دیہاتوں کے پیچھے پڑاؤ ڈالا  اور عراقی وسائل سے استفادہ کرتے ہوئے ایک  انفرادی سرنگ کھوڈ ڈالی۔"

اُنھوں نے آپریشن میں موجود سعید شاہ حسینی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: "اُس رات میں نے شہید شاہ حسینی سے کہا کہ عراقیوں کی طرف سے ہوشیار رہنا پھر ایک گھنٹے بعد مجھے احساس ہوا کہ نہر کے پیچھے سے ۱۰ عراقی ہماری  طرف آ رہے ہیں۔ آواز لگانا چاہتا ہی تھا کہ دیکھا شہید شاہ حسینی اُن کے پیچھے  پیچھے ہماری طرف آ رہا ہے  اور اُس نے کہا ان کو قیدی بنانا خدا کا کام تھا کہ میں نے خالی ہاتھ، صرف چیخ چلا کے اُنہیں ڈرایا اور اُن کا اسلحہ اُٹھا کر انہیں قیدی بنالیا۔ فوجیوں کے عقائدنے اُن کی کامیابی  میں اُن کی بہت مدد کی۔"

صدقی نے کربلا ۱ آپریشن کے  مرحلہ وار ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: " ہم آگے بڑھنے کیلئے گاڑی میں سوار ہوئے،  ایک بمب آکر گاڑی پہ لگا جس کی وجہ سے کچھ لوگوں جیسے محمود کریمی، محسن جزائری اور رمضانی نے وہی پر جام شہادت نوش کیا۔ اس کے بعد ہم صحرائے مہران پہنچے۔ ہمارے پہنچے لڑائی کا آغاز ہوا اور  دشمن بالکل ہمارے سامنے تھا اور ہم ٹینکوں کو دیکھ رہے تھے،  صحرائی جگہ ہونے کے لحاط سے نہ ہمارے پاس کوئی مورچہ تھا اور نہ ہی کوئی چھپنے کی جگہ۔ یہ بھی کہتا چلوں کہ اگر ٹینک  کا گولہ ڈائریکٹ سر کے آدھے میٹر اوپر سے گزرے  تو اُس کی سپیڈ  کی وجہ سے دماغ پھٹ جائے۔  اس حالت میں ٹینک بالکل ہمارے سامنے تھے  اور ہم سے جس کو بھی کوئی محفوظ جگہ نظر آتی  اُس کے پیچھے چھپ جاتے یا زمین پر لیٹے  رہتے۔  لیکن ایسے میں ہمیں بہت نقصان ہو رہا تھا۔ ایسی صورتحال میں دو لوڈرز کے ساتھ کچھ افراد صحرا میں داخل ہوئے اُن کے آتے ہی ٹینکوں نے گولہ باری شروع کردی، لیکن  مٹی جمع ہونے کے ساتھ ساتھ افراد مورچوں کے پیچھے آگئے۔ ایسے میں ایک لوڈر  کے بیلچے پر ٹینک کا گولہ لگنے سے وہ خراب ہوگیا۔"

" دوسرا لوڈر سامنے آیا اور  کام شروع کردیا،  ایک جنگجو جو لوڈر کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا  وہ گولے کا ٹکڑا لگنے سے لوڈر کے پیچھے ہی درجہ شہادت پر فائز ہوگیا۔  ایسے میں ہم نے دیکھا کہ ایک ۱۶ سالہ لڑکا دور سے بھاگتا ہوا آیا اور جنازے کو نیچے اُتار کر لوڈر چلانا شروع کردیا۔ اُسی دن ظہر کے بعد،  اس آپریشن  کے ڈپٹی ڈویژن کمانڈر رضا دستوارہ جو اس آپریشن میں شریک تھے،  اُس گرمی میں کھڑے ہوکر نماز پڑھ رہے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ جو بوریاں ہم نے نیچے بچھائی ہوئی تھیں اُسی پر  نماز پڑھ رہا تھے اور اُس کے اگلے ہی دن شہادت کو گلے سے لگالیا۔ ہم آپریشن کے دوران چند مرتبہ گاوی نہر کی طرف گئے اور پھر فرنٹ لائن پہ آجاتے کہ اطلاع ملی قلاویزان کی  ۲۳۳ میٹر بلندی پر جھڑپیں مشکل سے دوچار ہیں۔ صبح کا وقت تھا کہ شہید منصور حاج امینی نے کہا: "جس کے پاس جو بھی اسلحہ ہے لے آئے تاکہ بلندی کی طرف جایا جائے۔" اوپر بلندی پر عراقیوں سے تقریباً ۲۵ سے ۳۰ میٹر کے فاصلے پر تھے اور عراقیوں کی شکلوں کو دیکھ رہے تھے۔  میں نے وہاں مورچے پر گن رکھی اور فائرنگ شروع کردی ایسے میں ایک گولہ میرے پاؤں کے قریب گرا اور اُس کا ایک ٹکڑا میرے پاؤں پر لگا،  میں نے سوچا دوسرا گولہ میرے سر  پر آکر لگے لگا لیکن  اِدھر اُدھر ہونے کی فرصت نہیں تھی ایسے میں شہید حاج امینی مورچے پرگئے اور کہا: "کھڑے ہو اور اُن کا پیچھا کرو" افراد کھڑے ہوئے اور ان کے ساتھ گئے۔ میں بھی کھڑا ہوا کہ ایسے میں ایک ٹکڑا میری کمر پر لگا اور میرے جسم میں داخل ہوکر میری رگوں کو کاٹ گیا،ایسے میں  میڈیکل اسسٹنٹ شیخ رضایی نے مجھے سہارا دیا  اور مجھے فرسٹ ایڈ فراہم کی تاکہ میری جان بچاسکے۔"

اُنھوں نے اپنی گفتگو کے آخر میں مزید کہا: میری ایسی حالت تھی کہ میں کبھی ہوش میں آتا اور کبھی بے ہوش ہوجاتا اور میں اپنے اطراف میں جنازوں کو دیکھ رہا تھا۔ ایسے میں مجھے کچھ عراقی نظر آئے  اور مجھے لگ رہا تھا کہ میرے تابوت میں آخری کیل ٹھکنے والی ہے کہ پتہ چلا کہ وہ تو قیدی ہیں اور ہمارے فوجی اُن کے پیچھے کھڑے ہیں ، میں جتنی طاقت جمع کرسکتا تھا ، جمع کرکے میں نے اپنا ہاتھ ہلایا  اور انھیں بتایا  کہ میں زندہ ہوں۔  مجھے کسی قیدی کے کندھے پر ڈالا ہوا تھا  اور جب تک ہم پیچھے ہٹتے ۷ سے ۸ عراقی عراقی فوجیوں کی گولیوں کا نشانہ بنے۔"

 

شلمچے کی طرف

اس پروگرام  میں اپنی یادوں کے پھول نچھاور کرنے والے دوسرے مقرر  کمانڈر رمضانی نے کہا: "ہمیں آپریشن کربلا ۱ کے شہداء کا ذکر کرنا چاہیے ، یہ آپریشن شدید گرمی میں انجام پایا اور یہ بات جان لیں کہ ہمارے جنگجو و بہادر کس قدر ولایت کے حامی تھے طے پایا گیا کہ اہواز، خرم شہر کے ہائے وی سے گزر کے شلمچے کی طرف جائیں اور ایک آپریشن انجام دیں، سپاہی مسلح ہوئے لیکن اسلحہ کم تھا اسلحہ تقسیم کرتے وقت ہماری بٹالین کے کچھ افراد کو اسلحہ نہیں ملا۔ ہمارے کمانڈر جو کہ شہید قہرمانی تھے اورابھی شہید جاوید الاثر ہیں جن کا جسم آپریشن رمضان والے علاقے میں رہ گیا تھا، اُنھوں نے کہا: "جن کے پاس اسلحہ نہیں ہے وہ اسلحہ آنے تک آپریشن میں شریک نہ ہوں اور آپریشن کے دوسرے مرحلے یا جوابی کاروائی میں حصہ لیں۔" یہاں پر شہید اسماعیلی نامی ایک دوست تھا جب اُس نے دیکھا کہ ہم جانے والے ہیں تو وہ میرے قریب آکر کہنے لگا: "میرے پاس اسلحہ نہیں ہے لیکن مجھے اپنے ساتھ لے چلو" اور کسی صورت بھی رُکنے پر تیار نہیں تھا۔ بہرحال وہ ہمارے ساتھ آگیا اور آپریشن میں ہمارے ساتھ لڑا۔ اُس علاقے اور اس آپریشن میں ہمیں ایسی صورتحال کا سامنا تھا کہ ہم زمین پر لیٹے رہے اور صرف گولیوں کی روشنی کو دیکھ  پا رہے تھے اور وہ بھی اتنی نیچے تھیں کہ ہم کھڑے نہیں ہوسکتے تھے۔ ۲۰ سے ۲۵ منٹ بغیر کچھ دکھائی دیئے ہم فائرنگ کرتے رہے یہاں تک کہ  ماحول کچھ بہتر ہوا۔"

کمانڈر رمضانی جنہوں نے اپنے یادوں کو کتاب کی صورت میں بھی شایع کیا ہے، نے اظہار کیا: "یہ آپریشن پوری رات جاری رہا پھر کسی نے آواز لگائی کہ نماز صبح کا ٹائم ہے اُسی حالت میں نماز پڑھی اور اُسی طرح فائرنگ کا تسلسل جاری رہا۔ چند گھنٹوں بعد اور صبح کے ہلکے اُجالے میں  دیکھا کہ اب فائرنگ نہیں ہورہی۔ اللہ اکبر کہہ کر آگے بڑھے۔ جب مورچے کے پاس پہنچے تو دیکھا کہ دشمن کی لاشے پڑی ہوئی ہیں اور ہم قرآن میں خدا کے دیئے گئے وعدہ کی یاد میں غرق ہوگئے۔"

مرصاد آپریشن کے شہید

تیسرے مقرر، کمانڈر عروج  نے بھی جنگی سختیوں اور ایرانی بہادروں کی شجاعت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: "جنگ کے شروع میں ہر ۱۲، ۱۳  آدمی کے پاس ایک اسلحہ ہوتا اور وہ اسلحہ ایک سے دوسرے کے پاس جاتا۔ عراقی قیدی کے بقول: ہم ایسی فرنٹ لائن پہ تھے جہاں ہم مختلف گروپس سے نبرد آزما تھے اور یہ ہمارا ہی جنگی طریقہ تھا۔ شہید حاج حمید تقوی فر بتاتے تھے کہ  ہم آپریشن کی نشاندہی کے وقت گڑھے میں گرے ہوئے تھے اور عراقی ہمارے سر پر تھے، چوہوں بھی ہمارے  جوتوں کو کتر کر ہمارے پیروں تک پہنچ گئے تھے، لیکن ہم ہل بھی نہیں سکتے تھے، اس طرح کی باتیں کرنا آسان ہے لیکن ایسے حالات میں رہنا بہت دشوار ہے۔"

اُنھوں نے اپنی گفتگو کے دوران اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ آٹھ سالہ جنگ میں بہت ہی عظیم شہداء اور افراد شریک تھے، اور مزید کہا: "میری یادوں میں سے ایک کا تعلق جنگ کے ابتدائی ایام سے ہے۔ آبادان کے دیہاتوں میں ایک سدہ نامی جگہ ہے  جو نہر کے کنارے ہے، وہاں ایک دیندار کسان تھا اُس کے پاس ایک بوٹ تھی جس کے ذریعے وہ جناب دریا قلی کے پاس آیا اور اُنہیں جنگ شروع ہونے کی خبر دی۔ لیکن ہم نے نہیں دیکھا کہ اب تک  کہیں اُس کا نام آیا ہو،  کیونکہ وہ ایک متواضع شخص تھا اور نہیں چاہتا تھا کہ اُس کا نام لیا جائے۔ یا ایک اور مثال، مرصاد آپریشن میں ہمیں ایسے شخص کی ضرورت تھی جو ہمیں مورچوں کے دوسری طرف کی خبروں سے آگاہ کرے۔ کیونکہ ہماری مدد کرنے والا ہیلی کاپٹر تباہ ہوچکا تھا اور یہ ذمہ داری شہید حاج عباس کے کندھوں پر لاگو ہوئی ، اُس نے آپریشن سے پہلے مورچوں کے اوپر جاکر علاقے کی شناخت کی اور پھر اوپر سے نیچے لڑھک گیا جہاں تک دکھائی دے رہا  ہے  فوجی اور جنگی سازو سامان  ہی نظر آ رہا ہے، اس کی دی گئی انفارمیشن کی بنا پر ہمیں معلوم ہوا کہ  مورچوں کے اُس طرف کیا ہو رہا ہے۔"

انھوں نے آخر میں آپریشن کے جزئیات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: "اس زمانے میں ہم  فاو پر دوبارہ قبضہ کی کاروائی کے لئے تیار ہو رہے تھے اور ہم نے شلمچہ میں پڑاؤ ڈالا ہوا تھا۔ ہمارے ہوائی جہاز بھی فاو پر دوبارہ قبضہ کیلئے تیار تھے اورشلمچے میں آپریشن کیلئے ایک سال سے زیادہ عرصہ تک ٹریننگ حاصل کرچکے تھے لیکن اچانک ایسے حالات سامنے آگئے کہ بتایا گیا کہ مہران کی طرف حرکت کریں اور ہمیں چہار زبر کے مورچوں کی طرف لوٹ جانا چاہیے۔ چہار زبر کی طرف جاتے ہوئے، اندیشمک سے پہلےاور  واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کے بالکل نزدیک،  چہارزبر مورچوں کے پہلے شہید حاج عباس نے مجھ سے کہا: "حاجی لوگوں سے کہیں کہ غسل شہادت کرلیں۔" مرصاد آپریشن کی صبح ہم نے دیکھا کہ منافقین کے سپاہی خود کو مورچوں سے ٹکرا رہے تھے، لیکن ہم چند گھنٹوں بعد حسن آباد اور اسلام آباد میں اُن سے روبرو ہوئے۔ اُنہیں قیدی بنانے کے بعد، اُن میں سے ایک نے مجھے ایک گولی دکھائی اور کہا یہ گولی ہمیں طاقت دیتی ہے اور اسی وجہ سے ہم خود کو مورچوں سے ٹکرا رہے تھے، میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اُن کے پاس ہمارے سپاہیوں کی طرح شجاعت یا عقیدہ نہیں تھا  اور وہ صرف ا س طرح کی گولیوں وغیرہ  کی مدد سے طاقتور ہوگئے تھے اور حملہ کرنے آگئے تھے۔"



 
صارفین کی تعداد: 3460


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
حسن مولائی کی یادیں

سو افراد، سینکڑوں افراد، ہزاروں

وہ لوگ جو چند گھنٹوں پہلے جمرات جا رہے تھے تاکہ رمی جمرات کا فریضہ ادا کرسکیں اب تولیہ اوڑھے سو رہے تھے۔ جب جنازے ختم ہوئے، تو مجھے سمجھ نہیں آئی کہ مجھے کہاں لوٹنا چاہئیے۔ اچانک میرے پیروں نے کام کرنا چھوڑ دیا اور میں نے پہلی مرتبہ وہاں گریہ کرنا شروع کردیا۔ واپس پلٹ کر ان سفید پیکروں کو دیکھنا شروع کیا۔ پوری سڑک جنازوں سے سفید ہوچکی تھی۔ ایک جوان مرد کی آواز پر چونکا جو میرے ساتھ کھڑا تھا اور میرے پیروں کے سامنے چپلیں رکھ رہا تھا۔
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔