دو آدھے دن

تحریر: مرتضی سرہنگی
مترجم سید محمد جون عابدی

2015-11-24


پہلا آدھا دن

گرمی کا موسم ختم ہورہا تھا۔ صبح وقت میں دفتر جارہا تھا اورمیدان توپخانہ’’توپخانہ چوراہا‘‘پر لگے ہوئے اژدحام کو فردوسی روڈ کی طرف سے پیچھے چھوڑتا ہوا آگے نکل آیا تھا۔ صبح کی خنکی یہ بتارہی تھی کہ اب گرمی کا موسم پت جھڑ کی آغوش میں جارہا ہے۔وہ دن  بھی عام دنوں کی طرح تھا اورمیں بھی عام آدمیوں کی ہی طرح تھا۔ لیکن میرا دل چاہ رہا تھا کہ اخبار کے دفتر پہونچکرموسم خزاں کے پہلے دن کے بارے میں  کچھ لکھوں۔ بارش اور پتوں کے بارے میں کچھ کہوں۔ہواؤں اور چھوٹے ہوتے ہوئے دنوں کے سلسلہ میں کچھ کہوں،ان لمبی راتوں کے بارے میں کچھ لکھوں جن سے لوگ تنگ آجاتے ہیں۔ مدرسہ کی گھنٹیوں کے بارے میں کچھ لکھوں،جنہیں سنے ہوئے سالوں ہوگئے تھے۔ میں نے کہا شاید آج ہی یہ چھوٹا سا قلم ان  باتوں کو لکھ دے۔

ظہر کے بعد تک خزاں کے سلسلہ میں لکھنے میں اس قدر ذہن کھپایا کہ میرے سر میں درد ہونےلگا۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ جو اتفاقات اس خزاں کے بارے میں تحریر کرنے کے دوران پیش آئے۔ان کا حجم ایک دن میں اتنا زیادہ ہوجایئگا کہ پوری مملکت کا احاطہ کرلیگا۔جس وقت عراقی جہازوں نے تہران ائرپورٹ پرحملہ کیا تودھماکوں کی صداؤں نے لکھنے کے دوران تحریریہ میں میرے قدموں کو  لرزا دیا اورمیرے ساتھ صرف یہی اتفاق ہوا کہ اس حملہ نےاخبار کی پہلی ہیڈنگ کو اپنے نام کرلیا؛میری عقل اس وقت اتنا ہی کام کرسکی اوربس۔

تمام ٹلیکس اور دوبجے کی ریڈیو کی خبروں نے کم وبیش اس خبر کو بیان کیا۔اورمعلوم ہوا کہ ہمارے لئے بہت بڑی مشکل کھڑی ہوگئی ہے۔اس آدھے دن میں تحریریہ کا پورا اسٹاف اس چھوٹے سے ریڈیو کے گرد حلقہ بناکر بیٹھا ہواتھا تاکہ جنگ کے آغاز کی رسمی خبر کو سن سکیں۔

ان دنوں میں یہ سوچتا بھی نہیں تھا کہ جنگ کےختم ہونے کےبعد  بھی،میرے لئےاس جنگ کا تمام ہونا ممکن ہوگا۔اب صحیح ہویاغلط،بہرحال خزاں نامہ لکنھے والا یہ چھوٹا سا قلم اب میرے لئے جنگ کی داستان لکھ رہا ہے۔اگرچہ جنگ کے بارے میں اسے کچھ سمجھ میں نہیں آتا ہے لیکن اسے اس بارے میں جاننااور لکھنا اچھا لگتا ہے۔

جب رات ہوئی تو تحریریہ(صحافیوں کا آفس) کا ھال کسی امام زادہ کی قبر کی طرح ہوگیا تھا۔ہرگوشہ میں شمع روشن تھی۔اور انہیں شمعوں کی روشنی میں ایک کے بعد ایک خبریں ترتیب پارہی تھیں۔اورسٹننگ کے لئے انہیں ’’کیہان‘‘ اخبار کے دفتر بھیجا جاتا تھا۔ان دنوں جمہوری اسلامی اخبارکا تحریریہ فردوسی روڈ پرتھا یعنی توپخانہ چوراہے اورکیہان اخبار کے دفتر کے بیچ میں۔ جیسے ہی رات ہوتی تھی چاروں طرف خاموشی چھاجاتی تھی۔فردوسی روڈ جہاں صبح کےوقت اتنی چہل پہل رہتی تھی رات میں وہاں سناٹا پسرا رہتا تھا،رات میں ایسا لگتا تھا کہ یہ سڑک دن کے مقابلہ میں سو سال پیچے چلی گئی ہے۔ نہ کوئی روشنائی تھی اورنہ کوئی گذرنے والا۔ کبھی کبھی ہوائی جہازوں کو مارنے والی گولیوں کی صدایئں اوران کی روشنی وہاں آجاتی تھی۔

لیکن تاریکی اورروشنی دونوں ہی صورتوں میں تحریریہ میں بہت جوش وجذبہ تھا۔اس زمانہ میں شاید اس اخبار کا اسٹاف دنیا کےسب سے جوان اورجوش وجذبہ سے بھرپور اسٹاف میں سےتھا۔ان راتوں میں سب فکر کیا کرتے تھے اورکاغذ اورقلم انکے ہاتھوں میں دوڑا کرتے تھے۔تاکہ ان حادثات کےآب و گل کےدرمیان سے حقائق کو باہر لاسکیں۔اس وقت پورا تحریریہ خبر کی چند میزوں کے ارد گرد سمٹ کر آگیا تھا۔ ان دنوں سب ایک طرح سےاپنے آپ کو اس خدمت کا ایک جزو سمجھ کر کام کرتے تھے۔اور بغیر اس کے مستقبل پرنگاہ کئے ہوئے وہ کام میں مصروف تھے۔ اسی شب یوسف علی میرشکاک شاعری کی بلندی  پر پہونچ گئے تھے۔انہوں اخبار کے پہلے صفحہ کے لئے اشعار لکھے۔ان کی جنگی اورانقلابی اشعار مدتوں چھپتے رہے اوربہت ہی مؤثر ثابت ہوئے۔ تحریریہ کی تاریکی اورروشنی میں غلام حسین افشردی(حسن باقری)غائب ہوگئے۔اوربغیر خبر دئے ہوئے جنوبی علاقہ کی طرف چلے گئے۔اور بعد میں ایک بہترین اوربابصیرت کمانڈر کی صورت میں سامنے آئے۔میں جب بھی انہیں یاد کرتا ہوں اپنے اندر ایک غرور کا احساس کرتا ہوں۔ لیکن افسوس کہ وہ بہت جلدی ہم کو چھوڑگئے۔اگرچہ بعض لوگوں کا خیال ہےکہ اگر افشردی ہوتے توجنگ کا خاتمہ کسی اورہی انداز میں ہوتا۔تحریریہ کے اسی تاریک وروشن دورمیں ہم نے فن وادب کو جنگ کی طرف موڑدیا اورجتنا آتا تھا لکھ ڈالا۔ہمارا اخبار،جنگی اخبار ہوگیا۔ تحریریہ کے یہ وہی تاریک وروشن ایام تھے جن میں اس قلم کے کمزور پیروں کو قوت ملی۔جو میدان جنگ کے کام آیا۔ بہرحال اس قلم نےابھی آدھا دن لکھاہے اوراس کے بعد دوسرا نصف روز ابھی بچا ہے۔

دوسرا آدھا دن

ماہ تیر کے آخری دنوں کی گرمی تھی۔ مٹمیلی سہ پہر تھی۔ خنکی کے سائے میں ان تمام جھپکیوں اورسستیوں کو ہاں میں جواب دینے کا دل چاہ رہاتھا ۔لیکن یہ اخبار کا کام بہت بے رحم ہے۔انہیں کام کے اوقات میں اخبار کا ایک اسٹاف گروہ صبح میں اپنے آپ کو ایک اہم کام کے لئے تیار کررہا ہے۔ یہاں تک کہ انہوں اپنی بعض قابل طباعت سرخیوں اورخبروں کو کنارے رکھ دیا ہے۔اور اس انتظارمیں ہیں کہ ممکن ہےکہ جیسے ہی اخبارات کے صفحات چھپائی مشین سے لگائے جائیں اس وقت کوئی اہم خبر آجائے۔لھٰذا اس وقت تک کسی خبر اورسرخی کی طباعت کی کوئی گارنٹی نہیں تھی۔

دو پہر بھی دوسری دو پہروں کی طرح تھی کہ تحریریہ کی نگاہ خود اپنی طرف تھی۔یعنی پورا اسٹاف دو بجے کی خبر سننے کے لئے جمع ہوگیا تھا اوریہ عمل تحریریہ کی ایسی سنت بن چکا تھا جسےبعض لوگ کھانے کے بعد میٹھا کھانے کی سنت سے تعبیر کرتے تھے۔

چھوٹا سا ریڈیو میز پر پڑے ہوئے کاغذوں کےدرمیان گم ہوگیا تھا لیکن اس کی آواز آرہی تھی۔اسی آواز نے اس مٹمیلی دوپہر میں قراداد کے قبول ہوجانےکا اعلان  کیا تھا۔

مجھے لگا کہ میرے پیر کے نیچے تحریریہ کی زمین لرزنے لگی ہے۔ لیکن دھماکہ کی کوئی آواز نہیں آئی تھی۔ شاید آئی ہو ہم سن نہ سکیں ہوں۔ اس وقت اگر کوئی تحریریہ آتا تواسے لگتا کہ وہ بشریات کے میوزم کے ھال میں آگیا ہے۔یعنی ایسا لگتا کہ مختلف رنگوں کے لباس پہنے ہوئے آدمیوں کا کلیکشن ہے جو پتھر بن چکے ہیں۔

ایسا لگتا تھا کہ نیوز ریڈر کی آواز کئی گنا بڑھ گئی ہے۔اوروہ خالی دہلیز پرکھڑا ہوا چیخ رہا ہے۔

اخبار کے ’’محاذ وجنگ ‘‘سے مخصوص صفحہ پر چھپنے کے لئے میز پر جو خبریں اور کالی و سفید تصویریں رکھی ہوئی تھیں مجھے لگا کے ایک دم سے بد رنگ ہوگئی ہیں۔بہت  پرانی اورقدیمی نظر آنے لگی تھیں۔ ایسا لگ رہا تھا کہ ۸۰ سال پہلے کوئی انہیں میز پر رکھ کر چل گیا تھا اوراس کے بعد انہیں سمیٹنے والا بھی کوئی نہ تھا۔ یا ایسا معلوم پڑ رہا تھا کہ سالوں سے کسی نے اس کمرے میں قدم نہیں رکھا تھا۔پس اب وہ جوان جو’’محاذ وجنگ ‘‘کے مخصوص کے صفحہ کےلئے کام کررہےتھےاورآج صبح ہی انکے ہنسنے کے صدائیں دوسروں کے کاموں میں خلل ڈال رہی تھیں، وہ کہاں چلے گئے؟شاید تشیع جنازہ کے لئےفردوسی روڈ گئے ہیں۔     

سعید علامیان، سعید صادقى، هدایت الله بهبودى حتى کہ حسین میرپور جو ابھی نئے آئے تھے یہ سب جوان تھےکہاں چلے گئے؟خود میں  جس نے اس دن کے پہلے نصف میں جنگ کے آغاز کی خبر سنی تھی اوردوسرے نصف میں جنگ کے خاتمہ کی خبر سن رہا ہوں۔ نہیں معلوم شاید تاریخ کے صفحات کو کچھ حادثات اورکچھ لوگوں کے لئے کھولاجاتاہے تاکہ وہ آئیں اور تاریخ میں اپنا قدم رکھ کر چلے جایئں۔ لیکن یہ قدموں کےنشان جنہیں  ہم نے دیکھا وہ تاریخ کے صفحات سے کہیں بڑے ہیں۔ بہرحال تاریخ کے صفحات کے چھوٹے ہونےکے بارے مین  ضرور سوچنا چاہئے۔

اس پہلے آدھے دن سے اب تک بیس سال گذر چکے ہیں۔مجھے نہیں معلوم دوپہر دوبجے کی خبر اب بھی تحریریہ کے اسٹاف کے لئے دوپہر کے کھانےکے بعد کی شیرینی ہے یا نہیں؟لیکن اس دوسرے آدھے دن سے اب تک بارہ سال گذرے ہیں لیکن میں نے تب سے دوپہردوبجے کی خبر نہیں سنی ۔مجھے معاف کیجئے گا۔

 

 



 
صارفین کی تعداد: 3049


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
حسن مولائی کی یادیں

سو افراد، سینکڑوں افراد، ہزاروں

وہ لوگ جو چند گھنٹوں پہلے جمرات جا رہے تھے تاکہ رمی جمرات کا فریضہ ادا کرسکیں اب تولیہ اوڑھے سو رہے تھے۔ جب جنازے ختم ہوئے، تو مجھے سمجھ نہیں آئی کہ مجھے کہاں لوٹنا چاہئیے۔ اچانک میرے پیروں نے کام کرنا چھوڑ دیا اور میں نے پہلی مرتبہ وہاں گریہ کرنا شروع کردیا۔ واپس پلٹ کر ان سفید پیکروں کو دیکھنا شروع کیا۔ پوری سڑک جنازوں سے سفید ہوچکی تھی۔ ایک جوان مرد کی آواز پر چونکا جو میرے ساتھ کھڑا تھا اور میرے پیروں کے سامنے چپلیں رکھ رہا تھا۔
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔