جب اسپتال، جلادوں اور قاتلوں کے پیروں تلے تھے

محمد نظر زادہ
مترجم: سیدہ افشین زہرا

2015-11-07


اگرچہ مشہد میں، علم طب اور میڈیکل کی تاریخ، بہت پرانی ہے لیکن موجودہ دور میں  سیاسی پیشرفت کے باعث ، مشہد کی طرف، جدید میڈیکل سائنس اور طب کا نیا باب کھلا ہے، اس سے پہلے میڈیکل کے شعبے میں زیادہ تر ڈاکٹر بیرون ملک سے تعلق رکھتے تھے مگر بعد میں ایرانی ڈاکٹروں کی ایک کثیر تعداد بیرون ملک سے تعلیم مکمل کر کے ایران واپس آئی اور بتدریج مشہد کا میڈیکل سینٹر وجود میں آگیا۔

مشہد میں سب سے پہلے سن 1319 میں ، چھوٹے پیمانے پر میڈیکل کی تعلیم کاآغاز ہوا بعد میں بڑے کلینکس اور میڈیکل کالجوں کا قیام عمل میں آیا جس کا سہرا ڈاکٹر سامی راد زعامت کے سر جاتا ہے اس سے پہلے مشہد میں، کلینکس اور امام رضا اسپتال میں بھی کافی حد تک جدید ٹیکنالوجی کا انتظام تھا اور ڈاکٹر شیخ حسن عاملی جیسے سرجن بھی موجود تھے مگر یہ انتظام ناقص تھا، مگر سن 1328 میں، مشہد میں میڈیکل یونیورسٹی کے قیام کے بعد اس شہر نے میڈیکل کی دنیا میی اپنی پہچان بنائی اگرچہ کافی سالوں سے پروفیسر بولون فرانسوی جیسے ڈاکٹروں نے مشہد کے بڑے اسپتالوں مثلا امام رضا اسپتال کی باگ دوڑ سنبھالی ہوئی تھی مگر آہستہ آہستہ ان کی جگہ مشہد کے ڈاکٹروں نے لے لی۔

انقلاب سے پہلے تک مشہد کے ڈاکٹروں کی کوئی خاص سرگرمیاں اور کارنامے نظر نہیں آتے اور ڈاکٹروں کی تعداد کم ہونے اور مریضوں کی زیادتی کی وجہ سے وہ صرف اپنے کاموں میں ہی مشغول نظر آتے اور اگر ڈاکٹروں میں سے کوئی کسی انقلابی تحریک میں شرکت یا کسی تحریک کے متعلق کوئی بات بھی زبان پر لا تا نظر آتا بھی تو یا تو وہ ڈاکٹر ریٹائرڈ تھا یا یہ اس کا ذاتی لگاؤ تھا یعنی آن جاب ڈاکٹروں کو ان سرگرمیوں سے کوئی سروکار نہ تھا، مگر کچھ اشخاص جیسے، عبدالحمید دیالمہ جیسے لوگوں کا مشہد کی میڈیکل یونیورسٹی میں آنا اس شعبے کو ایک خاص اہمیت اور حیثیت دے گیا اور یہ انہی کے تربیت یافتہ لوگ تھے جنہوں نے آگے بڑھ کر سڑکوں اور شہر کے مختلف حصوں میں ہونے والے ہنگاموں کے دوران زخمی ہونے والے افراد کی ذمہ داری کو اپنے کاندھوں پر اٹھایا اور مشکل ترین حالات میں بھی اپنی شرعی ذمہ داری کو نبھایا اور انقلاب کی اس جنگ میں حصہ دار بن گۓ۔

ہنگاموں کی بڑہتی ہوئی شرح بالخصوص سن 1357میں ان ہنگاموں کی ذیادتی کے باعث ڈاکٹر اور میڈیکل اسٹاف اپنی عوام کے شانہ بشانہ اس مشن میں شامل ہوگۓ ، اور 1357 کی خزاں میں جابرانہ حکومت کے ہاتھوں، بے گناہ شہریوں کے قتل عام کے بعد مشہد میں میڈیکل کے شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد سراپا احتجاج بن گۓ اور انہوں نے احتجاجا فوج کے کیسز اور مریضوں کو دیکھنے سے انکار کر دیا اور 10 آبان 1357 کو ،چھ بہمن اسپتال کے بورڈ کو نیچے اتار دیا گیا اور اسپتال کا نام تبدیل کرکے 17 شہریور اسپتال رکھ دیا اس موقع پر شہید ہاشمی نژاد نے پر جوش تقریر کی جس کے ساتھ ہی میڈیکل کے شعبے کا اس جدوجہد میں علی الاعلان شمولیت کا آغاز ہوگیا۔

 مگر حکومت سے یہ برداشت نہ ہوا اور حکومتی کارندوں نے 22 آذر کو اسپتال پر حملہ کردیا اور اسپتال کے گارڈذ، ڈاکٹروں اور عملے کو تشدد کا نشانہ بنایا اور 17 شہریور کے نام والے بورڈ کو نیچے اتار پھینکا۔ اس حملے اور بہیمانہ تشدد کا اثر پورے میڈیکل کے شعبے پر ہوا اور 23 آذر کو سارے ڈاکٹروں، انکے اسٹاف نے، امام رضا اسپتال جو پہلے رضا شاہ اسپتال کے نام سے مشہور تھا کے صحن میں 17 شہریور کے اسپتال پر حملے اور تشدد کی مذمت کی اور ہڑتال کی اور دھرنا دیا مگر ان کا یہ احتجاج حکومت کو ایک آنکھ نہ بھایا اور ناگوار گذرا، لہذا حکومتی کارندوں نے پولیس اور فورسز کے ساتھ مل کر حملہ کردیا جس کے نتیجے میں ایک چار ماہ کا بچہ بھی شہید ہوا۔

حکومت کے اس اقدام سے عوام میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی اور اس کے بعد اس اسپتال کا صحن، حکومت کے خلاف نعروں، تقریروں اور میٹنگ کی جگہ میں تبدیل ہوگیا اور کچھ گروہوں نے مل کے اسپتال کی حفاظت کا کام سنبھال لیا جس کے بعد یہ اسپتال حکومت کے خلاف جدوجہد کا مرکز اور گڑھ بن گیا ایک ایسا مرکز جہاں آیت اللہ خامنہ ای، شہید ہاشمی نژاد اور آیت اللہ واعظ طبسی تقریریں کر رہے تھے اور یہیں سے انقلاب اسلامی کی جدوجہد کی ایک ایسی لہر اٹھی کہ جسکا اختتام 22 بہمن 1357 کے انقلاب کی صورت میں نظر آیا۔

ماخذ: خراسان، مورخ شنبہ 14/11/1391،شمارہ 18331



 
صارفین کی تعداد: 3224


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
حسن مولائی کی یادیں

سو افراد، سینکڑوں افراد، ہزاروں

وہ لوگ جو چند گھنٹوں پہلے جمرات جا رہے تھے تاکہ رمی جمرات کا فریضہ ادا کرسکیں اب تولیہ اوڑھے سو رہے تھے۔ جب جنازے ختم ہوئے، تو مجھے سمجھ نہیں آئی کہ مجھے کہاں لوٹنا چاہئیے۔ اچانک میرے پیروں نے کام کرنا چھوڑ دیا اور میں نے پہلی مرتبہ وہاں گریہ کرنا شروع کردیا۔ واپس پلٹ کر ان سفید پیکروں کو دیکھنا شروع کیا۔ پوری سڑک جنازوں سے سفید ہوچکی تھی۔ ایک جوان مرد کی آواز پر چونکا جو میرے ساتھ کھڑا تھا اور میرے پیروں کے سامنے چپلیں رکھ رہا تھا۔
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔