۱۷ شہریور ۱۳۵۷ کی عینی شاہد سے گفتگو، رخشندہ اولادی

میدان ژالہ کیوں احتجاج کی جگہ کے عنوان سے منتخب ہوا؟

سارا رشادی زادہ
مترجم: سید محمد جون عابدی

2015-09-30


۱۷ شہریور،حکومت پھلوی کے مقابلے میں ایران کے لوگوں کے قیام کے لئے یاد کیا جاتا ہے۔ ۱۷ شہریور کے چشم دید گواہوں میں سے ایک ہیں رخشندہ اولادی جو کہ ۳۷ سال گذرنے کے بعد آج ہم ان سے اس دن کے بارے میں گفتگو کرینگے۔

ہم آپ کے شکر گذار ہیں کہ آپ نے ہمارے لئے وقت نکالا،  ہم چاہتے ہیں کہ آپ ابتدا میں اپنے اور اپنے گھر والوں کے بارے میں کچھ بتائیں۔

میرا نام رخشندہ اولادی ہے اور میں ایران کے قائم شہر میں ۱۳۲۹ میں پیدا ہوئی، اس زمانے میں قائم شہر کو شہرستان شاہی کے نام سے جانا جاتا تھا، میرے والد ٹکسٹائل کے کارخانے میں مزدور تھے۔ اور ہمارا گھرانہ اپنے زمانے میں مذہبی شمار ہوتا تھا۔ اسی شہر میں میں نے سیکل تک درس پڑھا پھر اس کے بعد میں نے شادی کی۔ ہم نے تقریبا  ۱۳۴۸ میں اپنے شوہر کے ساتھ شہر شاہی کو خیراباد کہ کر تہران کو آباد کیا۔

آپ نے تھران میں کس محلے کو آباد کیا؟

ہم نے ابتدا میں تہران کے متعدد محلوں میں زندگی بسر کی، لیکن انقلاب اسلامی کے نزدیک صفی علی شاہ روڈ اور اسکی ایک گلی کہ جو آج کل شہید تھرانی کے نام سے جانی جاتی ہے،وہاں تقریبا ۱۰ سال رہے۔

 

آپ کے مذہبی اور انقلابی تقریبات میں آنے کی کیا وجہ تھی؟

تھران میں ہمارا کوئی بھی رشتے دار نہیں تھا اور انقلاب کے کچھ سال پہلے تک ہماری زندگی بہت اچھی گزر رہی تھی  لیکن انقلاب کے نذدیک میں اور میرے شوہر مذہبی تقریبات میں شرکت کرنے لگے۔ اور اس کے علاوا میری دو بہنیں بھی تھیں کہ جن میں سے ایک اسی سال زرعی انجینئرنگ کرج یونیورسٹی سے، اور دوسری بہن نے تہران یونیورسٹی سے ڈاکٹری اور میرا ایک بھائی بھی سول انجینرنگ میں صنعتی یونیورسٹی میں قبول ہوا پھر وہ لوگ بھی تھران آئے اور ہمارے ہی ساتھ رہنے لگے۔ قطعی طور پر جو چیز باعث بنی کہ ہم بھی حالات حاضرہ سے رو برو ہوئے وہ یہی تینوں بھائی بہن تھے جو مسلسل یونیورسٹی سے نئی نئی خبریں لاتے تھے، خصوصا یہ تینوں زیادہ سرگرم اور حکومت شاہنشاہی کے مخالف تھے۔

 

مذہبی اور انقلابی تقاریر میں کن موضوعات پر بحث ہوتی تھی؟

ان تقاریر میں حکومت کو بدلنے اور شاہ کے خلاف زیادہ باتیں ہوتی تھیں۔

 

  آپ کے بھائیوں کی سرگرمی کس حد تک تھی؟

میرا بھایی ایک انقلابی اور امام راحل کے راستے پر تھا یہاں تک کہ شاہ کے مقابلے میں وہ دوسروں سے آگے رہتا تھا، وہ اکثر کہتا تھا کہ اگروہ لوگ  میرے گھر آئیں اور تلاشی لیں تو کیسٹس اور کتابیں ہی ملیں گی جس میں سے کچھ کیسٹس اور کتابیں اور کے رسالے میری بیوی گھر لائی تھی ۔ میرا بھایی احتیاطا اپنے دو دوستوں کے ساتھ دوسری جگہ جاتا اور وہیں اپنی سرگرمی انجام دیتا۔ اس کے جانے کے بعد میں نے اسے ۶ مہینے تک نہیں دیکھا۔ میرا ایک اور بھایی علی اصغر اولادی کہ جو عراق کے ساتھ جنگ میں شہید ہو گیا تھا،وہ بھی اسی سال قائم شہر میں سیاسی اور مذہبی سرگرمی میں مشغول تھا۔ یہ باتٰ میری ماں نے بھایی کی شہادت کے بعد بیان کی۔ میرا بھایی امام خمینی(رہ) کے پوسٹر کو اپنے دوستوں کے ساتھ قائم شہر میں  کاپی کراکے عمومی جگہوں پر بانٹتا تھا۔ مجھے ٹھیک سے تو نہیں یاد لیکن میرا بھایی علی اصغر انقلاب کی کامیابی کے سال ہی یا اس سے ایک سال پہلے سول انجینرنگ، سائنس اور ٹیکنالوجی یونیورسٹی سے قبول ہوا اور وہ بھی ہمارے ساتھ تھران آ گیا۔

 

کیا آپ کی بہنیں بھی اس دوران سیاست میں سرگرم تھیں؟

میری ایک بہن کہ جس نے ڈاکٹری پڑھی تھی، پڑھائی کے آخری سال اپنے دوستوں کے ساتھ صفی علی شاہ روڈ پر ہی گھر بنوایا تاکہ اگر کوئی مظاہرہ کرنے والا زخمی ہو جائے تو اسکا علاج کیا جا سکے،اور اس کو فورا گھر لایا جائے۔ اس زمانے میں شاہ رضا روڈ پر جو کہ آج کل انقلاب روڈ کے نام سے جانی جاتی ہے جھگڑا زیادہ ہوتا تھا۔

آپ نے جو یہ کہا کہ آپ کے بڑے بھایی اپنے دوستوں کے گھر ایک ٹیم بناکر رہتے تھے، تو کیا ان کے دوستوں میں سے کوئی تھا جو بہت مشہور ہوا ہو اور انقلاب میں کوئی خاص کردار نبھایا ہو؟

نہیں، بلکی ان میں سے ایک تھا جو بعد میں منافقین سے مل گیا تھا اس کا نام اکبر تھا، لیکن اس کا فیملی نام مجھے یاد نہیں ہے، اور وہ بعد میں پھانسی پر لٹکا دیا گیا، لیکن میرا بھایی امام کے راستے پر ہی تھا اور دشمنوں کی سازش ناکام کرنے میں بھی خاص نقش تھا۔ وہ آمریکائی قیدیوں کا محافظ بھی تھا اور تقریبا ایک سال وہاں رہا۔

 

آپ ۱۷ شہریور۱۳۵۷  کی ریلی میں حاضر تھیں، اس ریلی کی کہانی کہاں سے شروع ہوئی؟

۱۶ شہریور ۱۳۵۷ کو ایک ریلی کا انعقاد ہوا۔ اس زمانے میں میرا چوتھا بیٹا کہ جو سب سے چھوٹا تھااور تقریبا دیڑھ سال کا تھا، میں اپنے ساتھ ریلی میں لے گئی تھی۔ اس ریلی میں عموما ہم ایک راستہ بس سے چلتے ہیں اور واپسی میں لوگوں کے ساتھ پیدل واپس پلٹتے تھے۔ ۱۶ شہریور کو میں نے ہر سال کی طرح اپنے بیٹے کو آغوش میں لیکر ریلی میں قیطریہ کی طرف چلنا شروع کیا۔ اس ریلی میں ہم نے نعرہ لگایا (( اے لوگوں کیوں گھروں میں بیٹھے ہو، ایران فلسطین بنتا جا رہا ہے)) اور اس طریقے سے جو لوگ پیدل چل رہے تھے ان کو بھی ہم لوگ ریلی میں چلنے کی دعوت دینے لگے۔ اس راستے سے میدان آزادی تک پہوچنے میں لوگوں کی تعداد اس قدر زیادہ ھو گئی کہ لاکھوں لوگ نظر آنے لگے۔ یہ ریلی میدان آزادی تک پہونچی اور وہاں پر تقریر شروع ہو گئی۔

 

کیا آپ کو یاد ہے اس دن (۱۶ شہریور) کس نے تقریر کی تھی؟

میرے خیال سے اس دن مقرر شہید آیت اللہ مفتح تھے۔ اتفاق سے اس روز ہم نے روڈ پر نماز پڑھی تھی۔ پھر اس تقریر کے بعد ایک منشور صادر کیا گیا۔ 

 

۱۷ شہریور کی ریلی کس وقت معین ہوئی تھی؟

 جس وقت ہم ۱۶ شہریور کی ریلی تمام کر کے واپس لوٹ رہے تھے، ہمیں خبر ملی کہ کل (۱۷ شہریور) کو دوسری ریلی ہے۔ اور ہم پورے راستے یہ نعرہ لگاتے رہے((کل ۸ بجے صبح میدان ژالہ)) اور ہم نے اسی طریقے سے لوگوں تک اپنی باتوں کو پہونچایا۔

 

آپ خود بھی اس ریلی کی ایک سرگرم فرد تھیں تو کیسے اچانک اس بات کا فیصلہ کیا گیا کہ کل (۱۷ شہریور) بھی ایک ریلی کا انعقاد ہوگا؟

اس وقت لوگ حکومت کے کنٹرول سے باہر تھے اور یہ سوچ رہے تھے کہ اب وہ میدان آزادی تک باآسانی پہنچ سکتے ہیں لہذا دوسرے دن ایک عظیم ریلی کا انعقاد کیا۔

 

۱۷ شہریور کو کیا واقعہ پیش آیا؟

میں اپنے بیٹے اور اپنی بہن کے ساتھ جو سٹوڈنٹ بھی تھی اور میرے شوہر سب ایک ساتھ گھر سے نکلے تاکہ جلد از جلد میدان ژالہ پہونچ جائیں۔ ہم تقریبا ۷:۳۰ بجے صبح میدان پہونچ گئے اور دیکھا کہ پولیس نے میدان کو چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے۔ ہمیں وہیں صحیح صورت حال کا اندازہ ہوا کہ پولیس زانو کے بل بیٹھی ہوئی اسلحہ کو مظاہرین کی طرف اٹھائے تھی۔ اس ریلی میں مردوں اور عورتوں کی صفیں جدا جدا تھیں اس طرح سے کہ مرد پیچھے اور عورتیں آگے تھیں۔ ہم لوگ خورشید روڈ سے چلے اور دماوند روڈ پر پہونچے۔ میں اور میری بہن بھی عورتوں کی صف سے ملحق ہو گئے اور تقریبا ۲۰ منٹ تک سب کے ساتھ نعرہ لگایا، یہاں تک کہ مردوں کی صفیں بھی عورتوں کی صفوں سے ملحق ہو گئی اور ہمیں ماچس اور اخبار دے دیا گیا۔

 

اخبار اور ماچس کس لئے تھی؟

ابھی تک حکومت پھلوی کی پولیس نے آنسو گیس کا استعمال نہیں کیا تھا اور یہ اخبار بھی اسی لئے تھا کہ آنسو گیس کا استعمال ہو تو اخبار جلا کر آنسو روکا جا سکے۔ میں بھی اپنی جگہ پر آخر تک کھڑی رہی کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ انٓسو گیس کا استعمال ہو جائے۔

 

آپ لوگوں کے ۲۰ منٹ تک نعرہ لگانے کے بعد کیا ہوا؟

ہم لوگوں کے ساتھ ایک بزرگ خاتون بھی تھیں کہ جو مسلسل ہم سے کہہ رہی تھی:((اے عورتوں میدان کو خالی کر دو۔۔۔۔)) ابھی تھوڑی دیر نہیں گزری تھی کہ ہم سب نے سروں پر ہیلیکاپٹر محسوس کیا جو میدان کا چکر کاٹ رہا تھا۔ پھر ہم نے گولیوں کی آواز سنی جو غالبا پولیس کی طرف سے تھی۔ کیوںکہ پولیس والوں نے بلا فاصلہ گولی چلانا شروع کر دیا تھا۔ ٹھیک اسی وقت پیچھے سے نعرے بازی کی آواز آنے لگی تھی جبکہ آواز سامنے سے آنی چاہیے تھی۔ اس کے بعد ہمیں سمجھ میں آیا کہ پولیس والوں کی ایک صف مظاہرین کے پیچھے موجود تھی اور ایک ہی وقت میں دونوں طرف سے لوگوں کو گھیرے تھی اور گولیاں چلا رہی تھی۔ گولیاں چلتے ہی سب زمین پر لیٹ گئے، چونکہ میرے پاس بچہ تھا اس لئے میں زمین پر لیٹ نہیں پائی اور میں ایک چھوٹی سی نہر کے کنارے جو بجلی گھر کے بغل میں بہہ رہی تھی وہیں چلی گئی، میں نے بچہ کو وہیں لٹایا اور خود کو بچہ کے اوپر جھکا دیا تاکہ بچے کو گولی نہ لگ سکے۔

 

گولیاں چلنے کے بعد کیا ہوا؟  

۱۰ منٹ تک لگاتار گولیاں چلتی رہیں۔ اس کے بعد میں اس جگہ سے اٹھی کہ دیکھوں کہ اب کیسے حالات ہیں۔ تو کیا دیکھا کہ سب زمین پر لیٹے ہیں، کہ جس میں سے بعض زخمی اور بعض مر چکے ہیں۔ اور اس کے علاوہ  بجلی گھر کے سامنے تقریبا ۵۰ سے ۶۰ لوگ ایک دوسرے پر پڑے ہوے ہیں۔ ان میں کوئی زخمی کوئی شہید اور کچھ لوگ زندہ تھے۔ پھر انہیں میں سے کچھ صحیح سالم لوگ اٹھے اور اپنی جان بچانے کی فکر میں لگ گئے لیکن کچھ پولیس والے ان افراد کو بھی مارنے کے لئے آمادہ ہو گئے۔ میں جس وقت اپنے بچے کو اپنی گود میں لئے تھی، پولیس والوں کی طرف گئی اور کہا: (( خدا کے لئے انہیں نہ مارو یہ تمھارے بھایی ہیں))۔ اسی وقت ایک پولیس والا آگے آیا اور ایک گھونسا میرے سینے پر مارا اور مجھے گالیاں دیتے ہوئے کہا: (( چلو بھاگو نہیں تو تمھیں اور تمھارے بیٹے کو بھی گولی مار دینگے۔)) پھر اس کے بعد میں گھر واپس پلٹ آئی۔

 

اس بوڑھی عورت کا کیا ہوا؟ اس کی جان بچی؟ 

لوگوں کے ازدحام نے روڈ کو چاروں طرف سے گھیر رکھا تھا اس لئے میں اس عورت کو دوبارا دیکھ نہیں پائی۔

 

کیا آپ اپنے شوہر اور بہن کے لئے پریشان نہیں تھیں؟

اس وقت کوئی ایک دوسرے کی فکرمیں نہیں تھا۔ بلکہ سب اسی فکر میں تھے کہ کس طرح گولی باری کو روکا جائے۔ تھوڑی دیر میں میرے گھر پہونچنے کے بعد میرے شوہر بھی گھر پہونچ گئے، نہ تو ان کے پیروں میں چپل تھی اور نہ ہاتھ میں گھڑی بلکہ ہاتھ زخمی ہو گئے تھے اور ہجوم کے نیچے دب گئے تھے۔ میرے بھایی اور بہن ظہر تک بھی گھر نہیں پلٹے تھے، بہن نے گھر پلٹنے کے بعد بتایا کہ چند زخمی افراد کو اپنے گھر لے گئے جو وہیں نزدیک ایک گلی میں تھا پھر ہنگامہ ختم ہونے کے بعد انہیں ہسپتال لے جایا گیا تاکہ حکومت کے آدمیوں کے ہاتھ نہ لگیں۔

 

کیا تمام زخمیوں کو فوج والے اپنے ساتھ لے گئے تھے؟

ہم نے بعد میں سنا کہ فوج والے تمام زخمیوں کو اپنے ساتھ لے گئے اور قم کے نمک کے دریا میں پھینک دیا تاکہ شہدا کی تعداد معین نہ ہونے پائے۔

 

آخر کیا وجہ تھی کہ میدان ژالہ کے چھوٹا ہونے کے باوجود بھی ۱۷ شہریور کی ریلی کو وہاں منعقد کیا گیا؟ جبکہ میدان آزادی کا راستہ زیادہ بہتر تھا، آپ کو اس بارے میں تعجب نہیں ہوا؟

ہم لوگ ایک دن پہلے میدان آزادی کے راستے پر ریلی کر چکے تھے۔ اور اس کے علاوہ بھی مظاہرہ کرنے والوں میں اکثر کی تعداد میدان ژالہ کے اطراف کی تھی۔ شاید وجہ یہ رہی ہو کہ اس راستے کی تکرار نہ ہونے پائے اور مظاہرین کے لئے سب سے نزدیک جگہ بھی یہی تھی۔

 

کیا میدان ژالہ میں پہلی مرتبہ کوئی ریلی برپا ہوئی تھی؟

جی ہاں، یہ پہلی بار تھی۔ اس سے پہلے تو وہاں کوئی ریلی نہیں ہوئی تھی۔ ایک ریلی اس سے پہلے ہوئی تھی وہ بھی عید فطر کے دن کہ جس میں مَیں نہیں تھی اور پھر اس کے بعد ایک ریلی ۱۶ شہریور اور دوسری ۱۷ شہریور کو ہوئی۔

 

آپ تو ۱۶ اور ۱۷ شہریور کی ریلی میں موجود تھیں، تو کس ریلی میں مظاہرین کی تعداد زیادہ تھی؟

میدان ژالہ کے اطراف و نواحی میں شہباز شمالی، جنوبی اور مجاھدین اور فرح آباد شامل ہوتے ہیں۔ ہم شہباز شمالی کی طرف سے ہوتے ہوئے میدان امام حسین(ع) کی طرف سے میدان ژالہ پہونچے۔ خیابان شہباز بھی میدان خراسان تک جاتی تھی۔ ہم سب ۱۶ شہریور کو ایک روڈ پر جمع ہو گئے اور جمعیت کا اندازہ لینے لگے، لیکن ۱۷ شہریور کو  تمام لوگ چاروں طرف سے میدان ژالہ کی طرف آنے لگے۔ میں بھی میدان کے ایک طرف کھڑی تھی اور دوسری روڈ کو نہیں دیکھ پا رہی تھی اور اس دن کی جمعیت کا اندازہ لگانا بھی مشکل ثابت ہو رہا تھا۔

 

بعض شمار کی بنیاد پر ۱۷ شہریور کے شہدا کی تعداد ۵۰۰ نفر تھی اور بعض کی بنا پر تقریبا ۲۰۰ شہید، لیکن چونکہ آپ چشم دید گواہ ہیں، بتائے کہ شہیدوں کی کتنی تعداد رہی ہوگی؟

ہم ۱۷ شہریور کے واقعہ کے بعد ۳ دن تک بہشت زہرا گئے اور شہدا کی تشییع جنازہ میں شرکت کی۔ اس دن فوج والوں نے بعض جنازے کو ان کے گھر والوں کو دے دیا اور بعض کو اپنے ساتھ لے گئے۔ شاید اسی وجہ سے ہم صحیح تعداد نہیں بتا سکتے ہیں۔

 

۱۷ شہریور کی ریلی ہونے سے پہلے فوجیوں کو حکومت کی طرف سے حکم مل گیا تھا، آپ لوگوں کو کب اطلاع ہوئی؟

اس دن ہم نے اپنے گھر میں ریڈیو نہیں سنا تھا، لیکن ہمارے میدان میں پہونچنے کے بعد ہم نے لوگوں سے سنا کہ نظامی حکومت کا فرمان صادر ہو چکا ہے، لیکن ہم نے پھر بھی میدان میں قدم جما رکھا تھا۔

 

شیخ یحیی نوری نے ۱۷ شہریور کی ریلی کے زمان و مکان کا اعلان کر دیا تھا، کیا آپ انہیں نزدیک سے پہچانتی تھیں؟

جی ہاں، انہوں نے پہلے سے مشخص کر رکھا تھا، لیکن میں انہیں نہیں پہچانتی تھی۔ میں جانتی تھی کہ شیخ یحیی کے ساتھ بہت سے افراد تھے جیسے آیت اللہ مفتح، کہ جنہوں نے کچھ لوگوں کی ذمہ داری اپنے اوپر لے رکھی تھی اور میرے خیال سے اسی دن عید فطر بھی تھی اور جانتے تھے کہ لوگ آج پوری آمادگی کے ساتھ آئے ہیں اور فقط ایک چنگاری کے منتظر ہیں۔

 

کیا آپ کسی بھی سییاسی پارٹی میں سرگرم نہیں تھیں؟    

نہیں، چونکہ میرے چار فرزند تھے اس لئے اس لئے میرے پاس اس کام کے لئے کوئی فرصت نہیں تھی۔ لیکن میں اپنے شوہر کے ساتھ  جناب فخر الدین کی تقاریر میں جایا کرتی تھی۔

 

تقاریر میں آنے کی دعوت کھلے طور پر ہوتی تھی یا پوشیدہ؟

کھلے طور پر دعوت ہوتی تھی اور اتفاقا بہت زیادہ لوگ اس میں شرکت کرتے تھے۔

 

۱۷ شہریور کی ریلی کے بعد کیا ہوا؟ کیا پھر سے ریلیاں ہوئیں؟

اسی ۱۷ شہریور کی ریلی کے بعد حکومت نظامی کا اعلان ہوا، لیکن ہم اب ایک جگہ پر نہیں رک سکتے تھے۔ ہم لوگ تقریبا ہر روز ریلی میں جاتے تھے۔ جس وقت ہم میدان پہونچتے تھے تو کیا دیکھتے تھے کہ ٹینک، توپ اور دوسرے حکومتی اسلحے فوج والے وہاں لے آتے تھے تو ہم پراکندہ ہو جاتے اور پھر آپس میں جمع ہو جاتے تھے۔ یہاں تک کہ ۲۱ بھمن ۱۳۵۷ تک حکومت نظامی برقرار رہی، لیکن ہم نے مسلسل ریلیوں میں شرکت کی تاکہ انقلاب کامیاب ہو سکے۔

 

اس زمانے کے اخبار ۱۷ شہریور کے بارے میں کیا بیان کرتے تھے؟

اس زمانے کے مشہور اخبار کیھان اور اطلاعات ہی تھے، لیکن ہمیں اخباروں سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔

 

۱۷ شہریور کے بارے میں آج تک آپ سے بہت سارے انٹرویو ہوئے  ہونگے، ان تمام انٹرویو میں کوئی ایسا سوال ہے جو آپ کے ذہن میں رہ گیا ہو؟

ایک بار مجھ سے پوچھا گیا تھا کہ جب آپ ریلی میں شرکت کرنے جاتی ہیں تو کیا آپ نہیں سوچتی تھیں کہ آپ بھی شہید ہو جائینگی؟ میں نے کہا نہیں، میں صرف انقلاب کی مدد کے لیئے ہی ریلیوں میں شرکت کرتی تھی اور سوچتی تھی کہ اگر میں بھی شہید ہو گئی تو میرے ۴ بیٹے اور شوہر اس مشن کو آگے بڑھائنگے۔

 

اس وقت لوگوں نے ۱۷ شہریور کے علاوہ بہت سی ریلیوں میں شرکت کی تھی، تو اور کون سی ریلی تھی جس میں لوگ اس قدر مشکلات سے ہمکنار ہوئے تھے؟

۱۷ شہریورکے بعد پھر کوئی ریلی اس طرح کی مشکلات سے دوچار نہیں ہوئی،کیوں کہ اس کے کچھ مہینوں کے بعد ہی شاہ ایران سے بھاگ گیا تھا۔ البتہ انہیں دنوں یعنی ۹ محرم کو آیت اللہ طالقانی کی آزادی کے لئے ایک ریلی کا انعقاد ہوا تھا۔ اسی دن آیت اللہ طالقانی نے کہا تھا کہ میں اپنے ہی راستے سے جاونگا۔ میں نے دیکھا کہ شاہ کی گولیاں چلانے کی دھمکیوں کے باوجود لوگوں کا ہجوم ان کے ساتھ تھا۔ پوری انقلاب روڈ بھری ہوئی تھی یعنی میدان امام حسین(ع) سے لیکر میدان آزادی تک لوگ ہی لوگ نظر آ رہے تھے۔

 

تو کیا آپ بھی ریلی (۹ محرم ۱۳۵۷) میں شامل تھیں؟

ہم اسی گلی یعنی صفی علیشاہ اور آیت اللہ طالقانی کے قریب تھے۔ میری بہن نے کہا کہ اگر ہم یہاں سے میدان آزادی کی طرف جائیں تو کوئی فایدہ نہیں ہے، تو بہتر ہے کہ ہم میدان اعدام کی طرف چلیں، تاکہ ریلی میں اضافہ بھی ہو اور ثواب بھی ملے۔ لیکن بعض وقت ہم ریلی کا آغاز میدان خراسان سے ہی کرتے تھے۔

 

کیا اب آپ کو گولیباری کا خوف نہیں تھا؟

اسی سال ۹ محرم کو ایک خبر ملی کہ گارڈ کے رسٹورنٹ میں جو جردن روڈ پر تھا، میں کسی ایک فوجی نے ۱۲ بڑے افسر کو کہ جو ریلی میں حملے کا نقشہ بنا رہے تھے، ان پر گولی چلا دی اور خود بھی مر گیا، لوگ اس خبر کو سننے کے بعد بہت اطمینان سے روڈ پر آ گئے۔ پھر اس کے تھوڑی ہی دیر بعد شاہ بھاگ گیا اور ہم سب بھی نعرہ لگاتے ہوئے کہ "ہم تمہیں پھول دیتے ہیں اور تم ہمیں گولی" اور نظام حکومتی کے فرمان سے ڈرے بغیر روڈ پر نکل آئے اور فوجیوں کو پھول دینے لگے۔ اتفاق سے اسی ریلی میں امام خمینی کا پیام آیا کہ لوگ اپنے سروں کو منڈوا دیں تاکہ فوجی بھاگ جایئں۔ میرے شوہر کے بھی دو بھایی تھے اور وہ بھی فوجی چھاونی سے بھاگ گئے تھے۔ بہت سے لوگوں ان فوجیوں کو اپنے کاندھوں پہ اٹھاکر گھماتے۔

 

آپ کو اس ریلی میں ڈر نہیں لگ رہا تھا کہ آپ کے بچوں کے ساتھ کوئی حادثہ نہ ہو جائے؟

اس وقت ہم کو اس بات کی کوئی فکر نہیں تھی، لیکن بعد میں سوچتی تھی کہ ان بچوں نے کون سا گناہ کیا ہے۔ لہذا انہیں گھر میں چھوڑو اور اگر مجھے کچھ ہو بھی گیا تو میری بعد یہی لوگ کام آئینگے۔

 

ریلی کی اور کوئی خاص بات جو یاد ہو تو بتائے؟

ہم لوگ تقریبا ھر روز ریلی کے لئے ولی عصر چوراہے کے طرف جاتے تھے۔ کبھی کبھی حکومت نظامی کی گولی باری کی وجہ سے بہت تاخیر ہو جاتی تھی۔ اور اس پورے سفر میں نظامیوں کے ٹینک سے بھی رو برو ہونا پڑتا تھا، پھر کسی پیڑ کے نیچے یا کسی دوکان میں پناہ لینی پڑتی تھی۔ اور ہمیشہ ایک رات پہلے ہی کھانا بھی پکا لینا پڑتا تھا، بچوں کو اپنی بڑی بیٹی کے سپرد کر کے شوہر کے ساتھ ریلی میں نکل پڑتی تھی۔ میں اور میرے شوہر پورے راستے ایک دوسرے کو اسکے فیملی نام کے ساتھ ہی پکارا کرتے تھے تاکہ لوگوں کے ہجوم میں گم نہ ہونے پائیں، پھر اس کے بعد ہم نے الگ الگ راستہ چلنے کا ارادہ کیا تاکہ ایک دوسرے کے لئے پریشان نہ ہوں۔

 

آپ کے شوہر کیا کام کرتے تھے؟

وہ کپڑے کے کارخانے میں تھے۔

 

کیا آپ کے محلے میں سب مذھبی لوگ رہتے تھے؟

سبھی لوگ مذھبی تھے، لیکن بعض لوگ ڈرتے تھے۔ جس وقت یہ قرار ہوا کہ سب لوگ اپنی چھتوں پر اللہ اکبر کا نعرہ لگائینگے تو ابتدا میں بہت ہی کم لوگ تھے۔

 

آپ لوگ کس وقت سے چھتوں پر اللہ اکبر کا نعرہ لگا رہے ہیں؟

۱۷ شہریور ہی سے جب سے نظامی حکومت ہوئی، ہم لوگ رات میں چھتوں پر اللہ اکبر کہتے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ ھاری سے وزیر اعظم نے کہا کہ یہ کیسیٹ ہے۔ تو لوگوں نے بھی ریلی میں جواب دیا کہ (( اے  بیچارےھاری، نوار کے پیر نہیں ہوتا))۔ ٹھیک ۹ بجے رات میں بجلی گھر سے بجلی کاٹ دی گئی اور پورا شہر رات کے اندھیرے میں اپنی اہنی چھتوں سے اللہ اکبر کہنے لگا۔ البتہ اس وقت بھی بعض لوگ ہی مخالف تھے۔ ہمارا ایک پڑوسی بھی تھا جو ((شاہ زندہ باد)) کے نعرے لگاتا اور کہتا کہ شاہ ہوتا تو تمہیں گولی مار دیتا۔

 

آپ لوگ اس جنگ اور اس کے نتیجے سے کیوں ڈرتے نہیں تھے؟

ہم یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ ہمارے پا س دو راستہ ہے یا تو شہید ہونگے یا کامیاب۔۔۔

 

ویسے آپ لوگوں کے مطالبات کیا تھے؟ آپ لوگ شروع سے ہی انقلاب چاہتے تھے یا اصلاح چاہتے تھے؟

اس زمانے میں شہر کے اکثرلوگ مذھبی اور دیندار تھے، لیکن سڑکوں پر لوگوں کے حالات صحیح نہیں تھے۔ اور جب ہم ٹی وی اور سنیما میں بے پردہ عورتوں کو دیکھتے تھے تو بہت افسوس ہوتا تھا۔ ہم چاہتے تھے کہ ان حالات سے ہمیں نجات مل جائے۔ اور اس کے علاوہ جیسے ہی دکانیں بند ہو جاتی تھیں وہاں پر شراب کی دکانیں کھل جاتی تھیں۔ شراب خوار افراد کی وجہ سے مغرب کے بعد لالہ زار روڈ کی طرف جان خطرناک ہو جاتا تھا اور حالات ایسے ہو گئے تھے کہ ایران بداخلاقی میں یورپ سے بھی آگے نظر آ رہا تھا۔ اور ہم چاہتے تھے کہ ایران میں اسلام کا پرچم لہرائے۔ اس زمانے میں لوگ بھی متحد ہو گئے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ مرغ اور تیل کی قیمت ایک تہائی ہو گئی تھی کونکہ لوگ ابھی جنگ کے زمانے میں تھے۔

 

 آخر گفتگو میں آپ کیا کہنا چاہینگی؟

یہ انقلاب ہمارے ہاتھوں میں بہت آسانی سے نہیں آیا ہے، اس پھل کو حاصل کرنے میں بہت خون بہایا گیا ہے، اور اس کے بعد بھی ہمیں جنگ کرنی پڑی۔ جیسے میرے بھایی اور بہن بھی انقلاب اسلامی کے لئے کھڑے ہوئے،  اور میں لوگوں سے کہنا چاہتی ہوں کہ اگر انقلاب سے پہلے ایک عورت بھی بے پردہ اس دنیا سے گئی ہے تو وہ صرف خدا کو جواب دہ ہوگی، لیکن اب وہ شہداء کے گھر والوں اور شہداء کو جواب دے۔

 

 

 

 

 

 

 



 
صارفین کی تعداد: 3359


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
حسن مولائی کی یادیں

سو افراد، سینکڑوں افراد، ہزاروں

وہ لوگ جو چند گھنٹوں پہلے جمرات جا رہے تھے تاکہ رمی جمرات کا فریضہ ادا کرسکیں اب تولیہ اوڑھے سو رہے تھے۔ جب جنازے ختم ہوئے، تو مجھے سمجھ نہیں آئی کہ مجھے کہاں لوٹنا چاہئیے۔ اچانک میرے پیروں نے کام کرنا چھوڑ دیا اور میں نے پہلی مرتبہ وہاں گریہ کرنا شروع کردیا۔ واپس پلٹ کر ان سفید پیکروں کو دیکھنا شروع کیا۔ پوری سڑک جنازوں سے سفید ہوچکی تھی۔ ایک جوان مرد کی آواز پر چونکا جو میرے ساتھ کھڑا تھا اور میرے پیروں کے سامنے چپلیں رکھ رہا تھا۔
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔