موسیٰ حقانی سے ایک گفتگو، جدیدتعلیمی اداروں کا ایران میں ورود، دوسرا حصہ

مترجم: ابو زہرا علوی

2015-09-22


پہلی پہلوی سرکار  "یونیورسٹی" سے کیا چاہتی تھے؟ 


موسی حقانی: تہران یونیورسٹی کا قیام ایک مثبت قدم تھا اور ان کالجز یعنی تمام درس گاہوں کا ایک کر دینا انھیں پراکندگی سے روکنا تھا  اور  اس مسلئے کے حل کے لئے ایک مددگار امر تھا۔ ہماری مشکل عمارت کا بنانا نہیں تھا جس طرح سے بعد میں بنائی گئی کہ اب بھی حالت تعمیر میں ہے، آپ ایران کے دور دراز علاقوں میں دیکھئے کہ پرائیوٹ کالج اور پیام نور بنالئے گئے ہیں ،کیا ان سب نے ہماری مشکل حل کی؟

زہرا رستگار: جناب ڈاکڑ حقانی سے اپنے پہلے انٹرویو میں ہم نے قاچار اور پہلوی سرکار کے تعلیمی نظام کے بارے میں گفتگو کی تھی اور اس سلسلے میں گفتگو کی تھی کہ یہ تعلیمی ادارے ہمارے معاشرے کی ضرورتوں کو پورا کر پائے تھے یا نہیں، اسی طرح ایران میں کالجز کی تاسیس میں نقایص ہیں ان کی جانب اشارہ کیا تھا، پہلی پہلوی سرکار کے کالجز بنانے کے کیا مقاصد تھے؟ اس سلسلے کے دوسرے انٹرویو میں ہم بات کریں گے، ہر چنداس گفتگو کے اختتام پر علوم انسانی کی صورت حال اور ایران کےمعاشرے کی بھی بحث کی گئی ہے، اُس گفتگو کے تسلسل کا دوسرا حصہ قارئین کے پیش خدمت ہے۔

سوال: پہلی پہلوی سرکار کے دور میں تہران یونیورسٹی کا قیام ایک اہم اقدام تھا کہ جو ایران کی ثقافت میں تبدیلی پیدا کر رہا تھا، رضا شاہ کے اس یونیورسٹی سے کیا اہداف تھے آیا اس جامعہ کے قیام کا خیال خود رضا شاہ کا تھا ؟

وہی فکر کہ جس نے ایران میں دارالفنون کی داغ بیل ڈالی یہ فکر خود بخود تہران یونیورسٹی کی سمت جاسکتی تھی وہ اس بات سے عاجز نہیں تھے کہ تہران یونیورسٹی کو کسی دانشکدے یا کسی دانش سرا و پولیٹیکل سائنسز کے اسکول و پولی ٹیکنیک ،جیسے دارالفنون کو اس میں ملا دیتے اور ٹیکنیکل اسکول، آرٹ اسکول، علوم سیاسی، حقوق اور دیگر عنوان کے تحت لے آتے، یہ سارے شعبہ جات جامعہ تہران میں موجود تھے، بس سب کو اکٹھا کیا اور جامعہ کا نام دے دیا، یہ فکر پہلے سے موجود تھی کہ جو رضاشاہ کے دور میں جاری ہوئی اس فکر کے اجراء کو ایک مثبت گام کہا جاسکتا ہے ایک  قدم آگے کی جانب بڑھنا، اس شرط کے ساتھ کہ پہلے جیسے واقعات رونما نہیں ہوں۔

جامعہ تہران کی تاسیس کا ہدف معین ہے، کیوں کہ تمام کالجز اور تعلیمی اداروں کو ایک جگہ پر جمع کرنا تھا اور یہ کام بذات خود اچھا کام تھا، کیوں کہ اگر ملک میں ایک جامعہ ہو یا متفرق ادارے یا مختلف انسٹیٹوٹ، وہ سب ایک ہی جامعہ میں کہ جو بہت سے شعبہ جات پر مشتمل ایک ادارے میں تبدیل ہو جا ئے، یہ کام برا نہیں، یعنی ہم اپنی وہ قوت کہ جو ہمیں درکا رہے اس سے ہم اپنے ملک کے اسکولز میں خود سے تربیت دے سکتے ہیں، ان اداروں کا بننا کو ئی بُری بات نہیں، مشکل وہ مواد ہے کہ جو یہاں پڑھایا جارہا تھا یا جن علوم کے مبانی کو تعلیمی اداروں نے تدریس کے عنوان سے چنا تھا وہ مشکل تھا، ہم اس بات کے قائل ہیں کہ یہ بات پہلوی سرکار سے مربوط نہیں تھی۔

ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ پہلوی اس کا تسلسل ضرور تھا، اس بات کی بازگشت ملک میں موجود مغربی ثقافت کے دلدادہ افراد یا ان افراد کی جانب ہے کہ جو غرب زدہ تھے اور ایران میں تدریسی اداروں اور مغربی افکار کو وسعت دینے کی فکر میں تھے، مشکل یہیں پر نظر آتی ہے، ورنہ کالج کی عمارت اور پٹری بچھانے میں کوئی اعتراض نہیں، مثلا کہا جاتا ہے کہ رضا شاہ نے ریل کی پٹری بچھاکر غلط کام کیا، کسی بھی ایسے کام کا کرنا یا انجام دینا اس با ت کا سبب ہے کہ لوگ ان چیزوں سے بہرمند ہوں یہ اچھی بات ہے، لیکن اس بحث میں کہا جاتاہے کہ یہ ایک  Strategic کام ہے اقتصادی کام نہیں ہے۔ ہمیں ایک اقتصادی راہ کی ضرورت ہے ہمارے ملک کی اقتصاد مشکل میں ہے ہمارے منابع محدود ہیں، اس زمانے میں بھی کوئی ریل گاڑی کو برانہیں کہہ رہا تھا، بلکہ کہہ رہا تھا کہ یہ کیوں اس راستے پرآرہی ہے، بحث یہ تھی کہ یہ ریل گاڑی ایران کی بندرگاہوں سے ہو ی ہوئی تولیدی مراکز یا پیداواری مراکز سے ہوتی ہوئی شہروں سے  جا ملے، جب ریل کی پٹری بھچائی جا رہی تھی تو اس وقت ہم نے دیکھا کہ بہت فخر سے یہ کہا جاتا تھا کہ یہ پٹری کسی بھی بڑے شہر سے نہیں گذرتی کیوں کہ اس کے تاسیس میں اقتصاد کا تصورہی نہیں تھا، بلکہ یہ ایک فوجی ضرورت کے تحت بنائی گئی تھی، اوریہ بھی مشخص نہیں کہ یہ ہماری ملک کی فوجی ضرورت کو پورا کررہی تھی بھی یا نہیں اس میں ہمارے ملک و قوم کے منافع تھے بھی یا نہیں۔

اس جہت سے اس عنوان کو ہم زیر بحث لانا چاہتے ہیں اس کا سلسلہ قاچاریوں کے آوائل سے ہمارے ملک میں آیا اور ایران کی ترقی و خوشحالی کو مغربی ثقافت کے ساتھ رہنے میں سمجھنے لگے، یہی بات ہمارے تعلیمی اداروں میں رسوخ و نفوذ کر نے لگی اور ہم نے اپنے ماضی کو نفرت کے ساتھ چھوڑ دیا اور ایک جدید بنیاد رکھی کہ جس کی جڑیں اور شاخیں مغرب سے ملتی تھی اسی وجہ سے اگر آپ ایک بہترین انجینئر کی تربیت کریں، ہاں البتہ یہ بھی کہتا چلوں کہ وہ بھی اپنے کئے ہو ئے وعدوں کا پاس نہ رکھتے ہوں، ان لوگوں نے ایک ثقافتی نظام تعلیم میں رہ کر تعلیم حاصل کی ہے کہ وہ نظام ہمارے نظام سے مختلف و بیگانہ ہے، اور اسی طرح جب ہم علوم انسانی اور دیگر علوم میں وارد ہوں گے تو ہمیں وہاں کی صورت حال اس سے بدتر نظر آئے گی۔ افرد مکمل مغرب کے پیروکار ہو کر باہر آتے ہیں اور ملکی ثقافت کی تدوین و تعین کرتے ہیں یہی فکر ایرانی سینما میں نظر آتی ہے۔

ایرانی معاشرہ ایک اسلامی معاشرہ ہے کہ جو سنت و اسلام اور اچھی روایات کا پابند ہے،اور یہ بات خود بخود ایک سسٹم بن جاتی ہے ایک تربیتی ادارہ بن جاتا ہے کہ جو بچوں میں منتقل ہوتا رہا، یہاں تک کہ اس ثقافت کے تعلیمی درجات بچوں میں منتقل ہوتے رہے اور انکی شخصیات کو ڈھالتے رہے، ایران میں ریڈیو و ٹیلی وژن و ڈش انٹینا و دیگر چیزوں نے اتنی خاص صورت اختیار نہیں کی تھی، ابھی بچے اپنے خاندان کے کنٹرول میں تھے بلآخر وہ بچے کہ جو اصیل خاندان سے تھے وہ اپنی ثقافت سے بہت آشنا تھے اور اس پر عمل پیرا بھی تھی یہی بچے دراصل میں غربی ثقافت کے مقابل تھے اور مقاومت کر رہے تھے، یہ افراد مغرب بھی جاتے تھے اور وہاں کی تعلیم بھی حاصل کرتے تھے ان خاندانوں  کی کوشش یہ تھی کہ یہ لوگ وہاں سے پڑھ کرواپس آئیں بس، یعنی یہ افراد بذات خود دینی تعلیم پر مقید تھے، بعض افراد جاتے تھے، جدید علم حاصل کرتے تھے،  پھر اس کے بعد اس علم کے ساتھ قرآن کی سمت آتے تھے گو کہ یہ کوئی اچھا عمل نہیں ہے لیکن اس سے یہ ضرور پتہ چلتاہے کہ یہ شخص ایک فکر خاص رکھتا ہے اور اس کا پابند ہے وہ پلٹنا چاہتا ہے اور بہت سے سوالوں کے جواب دین سے چاہتاہے۔ انھیں اپنے علوم اور Thermodynamics کے طریقہ پر حاصل کرنا چاہتاہے، جیساکہ مہندس بازرگان اور اس وقت کی نسل نے کیا، کہ ایک فرد مغرب کی جامعات میں پڑھا بھی ہو اور ایک بنیاد بھی رکھتا ہو ، یہ بات اس بات سے وابستہ ہے کہ یہ فرد کن بنیادوں کے ساتھ مغرب گیا ہے، ایسا ہرگز نہیں کہا جا سکتا کہ جو بھی ایران سے مغرب گیا وہ اپنا تشخص کھو کر واپس پلٹا ہے۔

تعلیمی نظام اس طرح سے ترتیب دیا گیا تھا کہ خود بخود اس نے ایسے افراد معین کئے کہ یہ افراد کسی دستخط کرنے والی مشین کے مشابہ رہے یا پھر کسی ربوٹ کے کہ جس کی کوئی اپنی فکر ہی نہیں، بس جو کام انھیں تعلیمی اداروں میں سکھایا گیا تھا بس اسی کو انجام دیا اور اس کی سب سے واضح صورت ہمیں پہلوی سرکار میں نظر آتی ہے کہ یہ نظام اپنے نتائج آٹوموٹو صنعت میں دیکھائے یا یہ کہ راستوں کو بنانے میں اور ریل کی پٹریاں بچھا نے میں مغرب کی نقل کے طور پر نظر آئے یا انھوں نے ترجموں میں اپنا کمال دکھایا ہے ناکہ علوم انسانی میں کوئی کام کیا ہو تالیف کی صورت میں کوئی کام نہیں کیا بلکہ تالیف کی نقل سامنے آئی ہے یعنی ترجموں کا ایک مرکب یا ترجموں کی نقل کہ جو اس کی اپنی نگاہ ہو کہ جو ہوسکتا ہے ناقص ہی ہو اور ہوسکتا ہے کہ ان افکار کو وہ پروان چھڑھانے میں کامیاب بھی نہ ہوئے ہوں۔ اور ایک ترجمے کا مرکب اس کے علاوہ کچھ ان کے اپنے تجربات تھے جن کو انھوں نے ملک میں ایک علم کے طور پر روشناس کر ایا۔ نہایت افسوس کے ساتھ یہ جمود ہے۔

ہاں البتہ مغربی طریقہ تعلیم میں کہ جو وہاں رائج ہے علوم انسانی کے شعبے میں جب ہم ان کو اس میں دیکھتے ہیں تو وہ بہت سنجیدہ نظر آتے ہیں اور نوآوری اور جدیت کی بحث کرتے ہیں اور اس میں سنجیدہ ہیں وہ اپنے ہی بنائے ہوئے نطام تعلیم میں بہت ہی سنجیدہ نظر آتے ہیں ۔

آپکے سوال کے جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ جامعہ تہران ایک مثبت قدم تھا اور اسکولز کے پھیلاو کو سمیٹنے میں اور انھیں پراکندگی سے بچانے میں مدد ثابت ہو سکتا تھا، ہماری مشکل عمارت کی تعمیر نہیں تھی، جیسا کہ بعد میں بنائی گی اور اب بھی بنائی جاتی ہے آپ ایران کے دور افتادہ علاقوں میں دیکھئیں کہ وہاں پرائیوٹ کالجز اور پیام نور ہیں، کیا مشکل حل ہوئی؟  ہاں البتہ ہم کہ جو خود پر یقین کی راہ چلے تھے اور اپنی افرادی قوت پر اعتماد کی راہ پر جوچلے تھے اس میں ہم نے پیشرفت کی ہے۔ بشر کے تجربات سے استفادہ اور دنیا کے علوم میں غور و فکر ایک ضروری چیز ہے کہ اس سے استفادہ کیا جا ئے ۔

علوم انسانی کے بارے میں شہید مطہری کا ایک مقالہ ہے کہ جس میں وہ کہتے ہیں کہ اگر ہم مارکسسزم کو نقد کرنا چاہتے ہیں تو ضروری ہے کہ اس کے ایک استاد کو لائیں اور وہ استاد جس طرح مارکسسٹ ہے اس طرح سے بیان کرے اس کے بعد ہم ایک اسلامی فلسفی کو لائیں کہ جو مارکسزم کے مبانی کو کہ جس طرح سے وہ ہیں نہ اپنی زاتی رائے یا غلط اور ناقص کہ بعض نے ایسا ہی کیا ہے، نقد کریں۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ ہم کسی بھی علم کے مخالف نہیں ہیں۔ بحث اس میں ہے کہ ہم اپنے مبانی کے ساتھ دوسرے علوم کی جانب جائیں اور ان کے تجربات سے استفادہ کریں اور اپنے ماضی کو اتنا تاریک نا جانیں کہ جس طرح پہلوی سرکار نے کیا تھا کہ جو بھی ماضی کا حصہ ہے اسے سیاہ دکھایا تھا البتہ پہلوی سے پہلے ملکم خان اور تقی زادہ اور ان جیسے افراد نے یہ کام انجام دیا ہے۔

 

١۴صدی شمسی کے آغاز میں دو تعلیمی اتفاقات وجود میں آئے، ایک جامعہ تہران کی تاسیس دوسرے حوزہ علمیہ قم کی تجدید، کیا ان دونوں کے درمیان کو ئی ارتباط قائم کیا جا سکتا ہے ؟

میں یہ نہیں کہنا چاہ رہا کہ حوزہ علمیہ قم جامعہ تہران کے مقابل میں وجود میں آیا، بلکہ حوزے کا کام اپنا ہے اور یہ جامعہ تہران سے پہلے موجود تھا اگرچہ اسکا ایران میں کو ئی مرکز  نہیں تھا ہمارے ہاں بہت بہترین حوزے تھے جیسا کہ اصفہان کا حوزہ ، تہران کا حوزہ تھا کہ جو بڑی قوت کے ساتھ ملک میں سر گرم تھے ، ١۲۹۹ کی بغاوت کے بعد اور رضا خان کے آجانے کے بعد اور بین نہرین میں بہت سی تبدیلوں کے بعد کہ جس میں کچھ داخلی ہاتھ تھا اور کچھ بیرونی ہاتھ تھا کہ جو بین الاقوامی تبدیلی اور استعمار کے دباو کی وجہ سے یہ تبدیلیاں آئیں تھی تو علماء نے فیصلہ کیا کے ایک حوزہ قم میں ہونا چاہیے کہ جو پہلے سے موجود تھا ایسا نہیں کہ اس کی بنیاد پڑی ہو بلکہ اس کو زندہ کیا گیا تھا کہ جو پہلے سے موجود تھا ۔

اسی طرح بین النحرین کے تجاوز گروں اور برطانیہ کی دست اندازی کی وجہ سے کچھ اچھے حالات نہیں تھے ١۹١۸ میں نجف کا قیام اور ١۹۲۰ میں قیام کرنا کہ جو ثورہ العشرین کے نام سے معروف ہے وہاں کے علماء نے خود اور اپنے بچوں اور اپنے شاگردوں کو  برطانیوی استعمار کے سامنے لا کھڑا کیا۔ اور ان سے جنگ کی جس کے سبب بین النھرین نے نجات پائی ورنہ برطانیہ کا ارادہ تو یہ تھا کہ بین النھرین اور حالیہ عراق کو ہندوستان کے ساتھ ملایا جا ئے عراق کی تاسیس اسی جہاد کی وجہ سے ہو ئی کہ جو علماء نے کیا تھا۔

یہ بات درست ہے کہ برطانیہ اپنے اہداف حاصل نہ کر سکا لیکن وہاں فیصل کو لایا گیا کہ جس کا حرف، حرف آخر تھا، وہ بھی علماء سے انتقام کی صدد میں تھا کہ جنھوں نے ان کا مقابلہ کیا تھا آپ دیکھیں کہ مرحوم ایت اللہ کاشانی کو پھانسی کا حکم ہوا وہ ایران آجاتے ہیں بعد میں وہاں کے حالات اتنے خراب کردیئے جاتے ہیں کہ مرحوم سید حسن اصفہانی، مرحوم آیت اللہ نائینی، خالص زادہ اور دیگر افراد نے نجف کو ترک کیا یعنی عراق کے حوزہ علمیہ کو ترک کیا اور ایران آگئے اور قم کی جانب چلے گئے، یہ تمام واقعات اور وہ اختلاف کہ جو حوزہ علمیہ نجف میں مشروطہ کی وجہ سے وجود میں آئے تھے اور جو صف بندی اور گروہ بندی کہ جو حوزہ نجف میں ہوئی تھی، ایک ایسی فضا پیدا ہوئی کہ وہ افراد کہ جو اس فضا میں نہیں رہنا چاہتے تھے وہ اس بات پر آمدہ ہوئے کہ کسی اور فضا میں چلا جا ئے اور ان کے لئے آمادہ ترین اور سازگار ترین فضا حوزہ علمیہ قم تھی۔

١۳۰١ فروردین کے مہینے میں حوزہ کی تاسیس ہوئی، اس وقت رضا شاہ حاکم نہیں بنا تھا، اور اس لئے کہ وہ ایک قابل وزیر اعظم باقی رہے اس نے دوسرا قدم اٹھایا کہ جو مزدورانہ سیاست کا تھا کہ جو دین کے مقابل میں تھی ، رضا شاہ روحانیت کی قدرت اور علما کی طاقت کو جانتاتھا ، وہ لوگ کہ جو اس کو لائے تھے شروع شروع میں انھوں نے حوزہ اور دین کو نہ چھیڑا، لیکن بعد میں انھوں نے جو چال چلی اور جو راستہ اختیار کیا اس سے معلوم ہوا کہ ان کے اہداف کیا ہیں یہ کس راستے کے راہی ہیں اسی وجہ سے حوزہ کی بنیاد پڑی تھی، اصفہان کے حوزے اور نجف کے حوزے کے تجربات تھے کہ جو انھیں یہاں تک لائے تھے تاکہ وہ ان داخلی اور خارجی موارد سے نمٹ سکیں، لیکن پہلے ہی سال مشکل سے دوچار ہوا کیوں کہ رضا شاہ نے ١۳۰٦ کے بعد اپنی دین مخالف سیاست کا آغاز کیا کہ جس سے وہ بہت زیادہ آشکار ہوا، اس سے پہلے بھی کچھ نشانیاں نظر آئیں تھیں لیکن  ابھی معاشرہ اس بات کا قائل نہیں کہ رضاشاہ دین کی بنیادوں کو ڈھانے کے در پے ہے۔

حوزہ قم آیت اللہ العظمیٰ عبد الکریم حائری کی سربراہی میں ہنگامی شرائط کی بنیادوں پر کسی بھی پیش بینی کے بغیر تاسیس ہوا مرحوم بافقی پر حرم مطہر حضرت معصومہ میں تشدد کیا گیا اور انھیں برا بھلا کہا گیا، لیکن جب انکو مارا گیا اور دینی مدرسہ مورد ہجوم قرار پایا ، شاہ اپنے جوتوں سمت حرم حضر ت معصومہ میں ہوا تو اس دن وہ رات تک وہیں رہا تاکہ مدرسہ فیضیہ پر ایک رعب و دبدبا ایجاد کرسکے اور علماء کو مسل دیا جائے کہ ایک نیا دور کا آغاز ہورہا ہے، ان شرائط میں حوزہ بچانا مشکل تھا، پھر کچھ اور مسائل پیش آگئے، مثلا مرحوم حاج روح اللہ نجفی اصفہانی کا قیام کہجو قم میں تھے، یعنی اصفہان سے بہت سے دینی طلبہ قم ہجرت کر نے لگے اور قم میں رہنے لگے۔ ان کا ارادہ یہ تھا کہ وہ رضا خانی کی ڈکٹیڑ شپ کو ختم کریں اس بات نے بھی حوزے کو طوفانی ہواوں کے سپرد کردیا۔ حکومت سے لڑائی کہ جو قیام کا رکن اصلی تھا، دبار کے حیلوں سےیہ قیام نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوا۔ پھر اس کے بعد کشف حجاب کا مسئلہ یعنی بے پردگی اور مردوں کے لباس کی تبدیلی، عزاداری پر پابندی وغیرہ ایسے اوامر تھے کہ ان میں سے کو ئی بھی دسیوں حوزات کی بنیادوں کو ہلا سکتا تھا لیکن آقائے حائری کی تدبیر نے حوزے کو بچایا ہاں کمزور تو ہوا لیکن باقی رہا آپ دیکھیں کہ ١۳١۲ اور ١۳١۳ میں حوزے میں ۷ یا ۸ ہزار طالب علم ہیں کہ جو بہت زیادہ مشکلات کے باوجود اپنی تعلیم کو جار ی  رکھے ہو ئے ہیں ۔

١۳١۵ کے بعد ایک پرگروام بیایا جاتاہے کہ عمامہ پہنے والوں کی تعداد کو کم کرنا ہے کہا گیا کہ ہر کوئی لباس روحانیت نہیں پہن سکتا ، ایک ایسے شخص کو حوزے اور اس کے تعلیمی نظام کا زمہ دار بنا یا گیا کہ جو اس تعلیم کو جانتا ہے نا اور طور طریقوں کو پہچانتا ہے اس شخص کو معین کیا گیا کہ کون لباس پہن سکتا ہے اور کون نہیں پہن سکتا، رضا شاہ نےبعض حوزہ علمیہ کے مراکز پر قابو پالیا تھا اور ان کے کام کرنے کے طور طریقوں کو تبدیل کردیا تھا وہ اب حوزے نہیں رہے تھے۔ اتنے دباو کے باجود حوزے نے خود کو سنبھالا اور اس سے امام خمینی جیسی شخصیت ابھر کر آئی، اور پھر ایران میں تبدیلوں کے بعد ایران کے تعین کرنے والے ہوگئے، حوزے کا نظام تعلیم بالخصوص بغاوت کے بیس سال کے بعد سخت ترین شرائط میں خود کو مستقر اور ثبت کرتا ہے پھر اس کے بعد کچھ سوالوں کے جوابات دیئے جاتے ہیں ١۳۲۲ میں حضرت امام رح نے وہابیوں اور وھابی جیسوں کے سوالوں کے جواب میں ایک کتاب کشف الاسرار لکھی کہ جو مبانی دینی اور شعائر دینی و تشیع کے نفع میں تھی اس سخت دور کی جانب حضرت امام رح اشارہ فرماتے ہیں کہ "ہم قم کے اطراف کے حوزے میں اور روڈ پر جا کر مباحثہ کرتے اور جب پولیس والوں کے ہاتھوں پکڑے جاتے تو وہ پوچھتے کہ تم کہاں تھے کبھی کبھی ہاتھاپائی بھی ہوتی تب قم پلٹ کر آتے" اس صورت حال میں بھی حوزہ اپنے آپ کو قائم رکھے ہو ئے ہے اور مختلف طوفانوں سے لڑ رہا ہے جیسا کہ کشف حجاب، وغیرہ، اب تک اس نےاپنی علمی صلاحیت کو جانے نہیں دیا ہے  اور ایک قدرت کی تربیت کر رہا ہے ۔

جامعہ خود بھی کیوں کہ مغربی تفکر کا نظام تعلیم ہے اس لئے فطری طور پر حوزے کے مدمقابل آگیا۔ البتہ محمد رضاپہلوی اور اسکی ثقافتی ٹیم کہ جو اس وقت اس کے ساتھ کام کر رہی تھی حوزے کو رجعتی اور کہنہ پرست افراد کا آئین کہا کرتے تھے کہ جو روز مرہ کے مسائل سے بھی آگاہ نہیں ہیں۔ اس عنوان سے درست ہے یہاں یہ ایک دوسرے کے مد مقابل تھے اس بنا پر آپ دیکھتے ہیں کہ شہید بہشتی، شہید مطہری، و شہید مفتح اور شہید باہنر اس نظام کو ڈھانے کرنے کے لئے اس نظام تعلیم میں داخل ہو ئے۔

آپ دیکھیں کہ شہید بہشتی ،مطہری و باہنر کتب دینی کی تدوین میں مداخلت کیا کرتے تھے اس لئے کہ معقولات دینی ایک سیکنڈری ایرانی طالب علم کہ جو ایک مسلمان گھرانے سے تعلق رکھتا تھا اس کے لئے بھی تالیف ہو اور وہ اپنی جڑوں کو پہنچانے انھوں نے بہت کوشش کی کہ اس بیگانگی کو کہ جو نظام تعلیم اور سیاست نظام تعلیم کی وجہ سے پیدا ہوا تھا اسے بالکل ختم کر دیں انقلاب کے بعد حوزہ اور جامعہ کو ایک کرنے کی باتیں ہو ئیں یہ مقولہ دوسرا ہے۔

دوسری پہلوی سرکار اس نتیجے پر پہنچی کہ پہلوی جامعہ شیراز میں ہونی چاہیے۔ جیمز آلن بیل کے مطابق پہلوی جامعہ کی تاسیس اور اس کا پھلاو ایک جامعہ تہران کا متبادل تھا، اب اگر  یہ بات درست ہے تو آخر کیا ہوا کہ جامعہ تہران حکومت کے اہداف کے خلاف نکلی؟

شیراز کی جامعہ مکمل طور پر ایک مغربی اور امریکی نظام تھا، میں اس کام کا آپس میں کیا ربط ہے نہیں جانتا اس بات کو فرض کر لیں کہ پہلوی جامعہ اور جامعہ تہران آپس میں متضاد تھے، اس جہت سے میری نگاہ میں کچھ بھی نہ تھا، بس نظام تعلیم کو پھیلانا چاہتے تھے ایک سمت فرانسیسی طریقہ تعلیم تھا اور دوسری جانب امریکی نظام تعلیم تھا۔ جامعہ پہلوی اور جامعہ تہران اور ان کے تمام تعلیمی مراکز جیسا کہ آج کل شہید بہشتی ہے کہ یہ مراکز دینی و ایرانی ثقافت سے نالاں تھے اور اگر ایرانی ثقافت کی جانب بڑھتے بھی تو کسی ایسے کا انتخاب کرتے کہ جو بیکار ہو تا جیسا کہ ۲۵۰۰ سالہ جشن شنہشاہی میں ہوا کہ جس میں جامعہ سے بھی استفادہ کیا گیا۔

لیکن یہ سب دینی اور ایران میں رائج ثقافت کے خلاف ہوا۔ آپ دیکھیں کہ اکثر طالب علم ایرانی متدین گھرانے سے تعلق رکھتے تھے کہ جو اٹھ کر جا چکے تھے کہ جو پہلوی سیاست کے مد مقابل کھڑے تھے، شاید یہ کہنا درست ہو کہ ١۵ خرداد کی تحریک تھی کہ جس نے ایرانی طالب علموں کے یقین کو قوت دی۔ وہ شرائط کہ جس میں مغربی تمدن کو چاہے وہ جامعہ ہو یا اخبارات ہوں یا اسکول ہوں یا کالج، رائج اور رسمی کرنے کی سیاست تھی اور دین کو رجعتی اور دقیانوسی ثابت کرنے کاکا پروپیگنڈا تھا۔

یہ بات درست ہے کہ ١۵ خرداد میں قتل و غارتگری ہو ئی اور دین کچلا گیا اور اسد اللہ علم کو ١۵ خرداد سے ہر زمانے میں ایک ایسے فرد کے طور پر پہچنوایا گیا کہ جس نے قاطیعت کے ساتھ دین کو ختم کر دیا لیکن ایسا نہیں تھا۔ جامعہ اور دینی افراد میں ایک تعلق پیدا ہوا۔ خراد ١۳۴۲ میں چند مسائل پر مذہبی قوت اور جامعہ کے افراد نے ایک مشترکہ مظاہرہ کیا گیا۔ رفتہ رفتہ کبھی دینی افراد اور کبھی جامعہ کے افراد مل کر شہر میں محفلوں کا انعقاد کیا کرتے ، یونیورسٹی کے افراد کو دیکھا گیا کہ جو انقلابی باتیں کرتے تھے کہ جو آیت اللہ طالقانی نے مسجد ہدایت میں کہی تھیں انھیں کو بیان کر رہے تھے، یا آیت اللہ مہدی کنی سے جو مسجد جلیلی میں سنتے تھے، یا دیگر علماء سے جیسے مشہد میں مقام معظم رہبری سے مسجد کرامت میں سنتے تھے۔  پہلوی سرکار جو جدائی جامعہ میں اور حوزے میں ڈالنا چاہتی تھی وہ جدائی خودبخود ١۵ خرداد کے بعد ختم ہو گئی یہ بات درست ہے کہ شرائط  گھٹی گھٹی سی تھیں۔ لیکن ایک رابطہ ہے اگر مرحوم طالقانی کے ممبر کی بات ہو تو اس میں ایک  قابل توجہ گروہ جامعہ کے طلاب کا ہے جو نظر آتاہے شیراز کی بات ہے تو وہاں پر بھی علماء کے ساتھ ان کی محفل میں ایک گروہ جامعہ پہلوی کا نظرآتا ہے۔ میری نگاہ میں ١۵ خرداد ہے کہ جس نے اس امر کو توڑا جامعہ کے طلاب اور دینی طلاب کے درمیان رابطے کا مبدا بنا ، کیوں کہ جامعہ کے اکثر افراد دینی تھے اور بعد میں ان کے دینی مراکز سے روابط اور بھی زیادہ ہو گئے ، ہم اس رابطہ کا اوج انقلاب اسلامی کے دوران دیکھتے ہیں کہ حوزہ اور یوینورسٹی نے مل کر اس انقلاب کے لئے ایک موثر کردار ادا کیا ۔

آخری بات کہ جو میں کہنا چاہوں گا وہ یہ کہ ہمیں اپنی ثقافت کی صورت و شکل و مقولے پر بحث کرنے کے بجائے مبانی پر کام کرنا چاہیے اور وہ  مشکلات مبانی کہ جو ہم مختلف شعبوں میں پاتے ہیں ہمیں چاہیے کہ ہم تعامل اور غور و فکر کی جانب جا ئیں، نظام تعلیم کے بیان کے لئے اس کی تعریف کے لئے ایرانی اسلامی مبانی کی جانب جا ئیں البتہ یہ اس مورد سے ہم سلبی طور پر نتیجہ نہیں لے سکتے اگر کسی درس کا کو ئی استاد خود سے ریٹائر ہو جائے شاید ایک گروہ کے لئے ایسا کرنا ضروری ہو  مگریہ کہ آپ جامعہ تہران و ایران کو انقلاب کے بعد انھیں اساتذہ کے ساتھ چاہیں کہ جو انقلاب سے پہلے تھے اور وہ اسے چلا رہے تھے تو شاید یہ ممکن نہ ہو ایک تینشن وجود میں آئے گی لیکن ثقافتی انقلاب سے محدود کرنا اور بعض کو حزف کرنا ببغیر اس کے ہم اپنے مبانی کے بارے میں سنجیدہ ہوں ، وہ بھی کسی سرکلر کے بغیر تو یہ ہم نہیں کہہ سکتے کہ مبانی تبدیل ہو ئے ہیں ، بلکہ بحث اور گفتگو کو خاص کر نا ہوگا اور اس سلسلے میں علمی تولید کی جانب بڑھنا ہوگا اور یہ صرف بحث اوراپنے آپ میں ، اور دیگر دنیا کے معاملات فکری  میں  تعامل اور فکر کرنا ہوگا یہ ایک راستہ ہے ۔میں تعامل اور تعامل کی جانب میلان کو دینی طبقے میں دیکھتا ہوں قم کے بعض مدارس اور بعض دینی اداروں میں جدید ترین نظریات زیر بحث ہیں ،جبکہ اس جانب یعنی نطام تعلیم کی جانب تعامل کی جانب میل نظر نہیں آتا ہے اور یہ ایران میں رشد فکر پر ایک طماچہ ہے ۔

اگر اس عنوان سے کہ دوسروں کے تجربات سے استفادہ کریں اور اپنے ثقافتی میدان اور وہ ذخائر کہ جو ہمارے ملک میں موجود ہیں ،اس کی جانب توجہ کریں اور کوشش کریں کہ بشر کے جدید تجربات سے استفادہ کریں اور تجدید نظر کریں کیوں بعض مقامات پر ہم جمود کا شکار ہیں یعنی کسی بھی قسم کی نوآوری کا مشاہدہ نہیں کرتے اس کا لازمہ یہ ہے کہ ہم اپنی روش میں اور مبانی میں مبانی دینی اسلامی پر تکیہ کرتے ہوئے نوآوری کی جانب بڑھیں ۔



 
صارفین کی تعداد: 3545


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
حسن مولائی کی یادیں

سو افراد، سینکڑوں افراد، ہزاروں

وہ لوگ جو چند گھنٹوں پہلے جمرات جا رہے تھے تاکہ رمی جمرات کا فریضہ ادا کرسکیں اب تولیہ اوڑھے سو رہے تھے۔ جب جنازے ختم ہوئے، تو مجھے سمجھ نہیں آئی کہ مجھے کہاں لوٹنا چاہئیے۔ اچانک میرے پیروں نے کام کرنا چھوڑ دیا اور میں نے پہلی مرتبہ وہاں گریہ کرنا شروع کردیا۔ واپس پلٹ کر ان سفید پیکروں کو دیکھنا شروع کیا۔ پوری سڑک جنازوں سے سفید ہوچکی تھی۔ ایک جوان مرد کی آواز پر چونکا جو میرے ساتھ کھڑا تھا اور میرے پیروں کے سامنے چپلیں رکھ رہا تھا۔
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔