احمد یوسف زادہ کی تحریر کی ہوئی یادداشت

وہ 23 افراد

محمود فاضلی
مترجم: جون عابدی

2015-09-21


کتاب ’’آن  بیست  وسہ  نفر‘‘ وہ تئیس  افراد، احمد  یوسف زادہ کی  تحریر ہے  جسے   سورہ  مہر  پریس نے شائع کیا ہے۔

یہ کتاب’’پیش فصل‘‘ نامی مقدمہ کو  شامل ہے جسمیں  سات  مختصر  فصلیں ہیں۔ اس  فصل  کے دیگر  عناوین ’’چہار فصل بہار، تابستان، پائیز و زمستان‘‘ یعنی چار موسوموں بہار،گرمی ، خزاں اور سردی‘‘ کے نام پر رکھے گئے ہیں۔ درحقیقت یہ کتاب ان تئیس نوجوانوں کی یادداشت ہے جنہیں آپریشن بیت المقدس کے دوران عراقی فوجیوں نے گرفتار کرلیا تھا۔ وہ باتیں جنہیں   مصنف نے یادداشت کے پیرائے میں بیان کیا ہے  وہ قصہ گوئی اور تخیلات نہیں ہیں۔ بلکہ ان   واقعات کا  بیان ہے جو ان کے اور ان کے دوستوں کے ساتھ پیش آئے تھے۔ مصنف پہلی فصل میں بلا فاصلہ اپنے بچپن کی یادوں کو تحریر کرتے ہوئے اپنے اہل خانہ بالخصوص اپنی والدہ گرامی  کی ان سختیوں کو بیان کرتے ہیں جو انہوں  نے والد کے گذرجانے کے غم میں برداشت کی  تھیں۔ احمد یوسف زادہ، ان نوجوانوں میں سے ہیں  جنہوں  نے  آزادی کے بعد اپنی یادداشت کو تحریر کیا تھا۔

تئیس نوجوان سپاہیوں کو  ۱۳۶۱ ش میں بیت المقدس آپریشن کے دوران عراقی فوجیوں  کے  ذذریعے گرفتار کرلیا جاتاہے۔ یہی وہی آپریشن ہے جسکے سبب خرمشہر آزاد ہوا تھا۔ اس آپریشن صدام حسین کے غصہ کو بھڑکا دیا تھا۔ ان نوجوانوں کی اکثریت کرمان سے تعلق رکھتی ہے اور  وہ سب ثاراللہ بریگیڈ میں رضاکارانہ طور پر جنگ کے لئے آئے تھے۔ ان جوانوں میں سے اکثر کی  عمر  ۱۳سے ۱۶ سال کے بیچ تھی اور ان میں سب سے  زیادہ عمر  کا  جوان  ۱۹  سال کا تھا۔ ان قیدیوں کو  بھی  دیگر قیدیوں کی طرح چھاؤنی لایا جاتا ہے ۔

گرفتاری کے بعد انہیں  صدام کے محل لے جایا جاتا ہے اور وہ ان جوانوں سے ملاقات کرتا ہے ۔اس وقت کا عراقی صدر صدام انہیں دیکھنے کے بعد  بہت تعجب کرتا ہے اور کہتا ہےکہ انہیں  آزاد  کردیگا تاکہ جاکر تعلیم حاصل کریں اور ڈاکٹر انجینئر بنیں اور اس کے بعد  اسے خط لکھیں ۔ اس ملاقات میں صدام ان سے کہتا ہے جاؤ جاکر پڑھائی  لکھائی کرو نہ کے  محاذ پر آکر جنگ  کرو، اور دعویٰ کرتا ہے کہ دنیا بھر  کے  بچے میرے  بچے ہیں۔

یہ  ذہنی جنگ اس لئے تھی کہ آپریشن بیت المقدس میں چونکہ عراقیوں کو شدید شکست کاسامنا کرنا پڑا تھا لہذا  وہ  اس کی جھینپ مٹانا چاہتے تھے۔ صدام نے اس آپریشن  سےپہلے  کہاتھا کہ اگر ایران خرم شہر کو  آزاد کرالیتا ہے تو  میں بصرہ کی  کنجی ایران کے حوالے  کردوں گا۔ اس حالت میں صدام ان جوانوں کو اس بات پر مجبور  کررہا تھا کہ وہ یہ اعتراف کرلیں کہ  ایرانی حکومت نے انہیں زبردستی  جنگ  پر بھیجا  تھا۔ تاکہ دنیا والوں کے سامنے ایران   مخالف فضا مزید شدید کردے۔ یہ اعترافات بعثی حکومت کے سلسلے میں عمومی افکار کو تبدیل  کرسکتے  اور  انہیں  اس کا  موافق  بناسکتے تھے۔ جب سے  خرم شہر عراقیوں کے ہاتھ سے نکلا تھا انہوں نے یہی طرز عمل  اختیار کیا ہوا تھا اور عراق  کے جھوٹے اخبارات ان باتوں کو  شائع کررہے تھے۔

یہ نوجوان بھوک ہڑتال کردیتے ہیں اور پانچ دن تک بھوکے پیاسے رہنے کے بعد عراقی فوج  انہیں  رمادی کی چھاؤنی میں ایرانی قیدیوں کے پاس بھیجنے پر مجبور ہوجاتی ہے۔ اور وہاں سے بھی انہیں موصل اور بین القسفین کی چھاؤنی کی طرف منتقل  کیا جاتا ہے اور ایک  طویل عرصہ  تک  یہ نوجوان قید  کی زندگی گذارتے ہیں۔ اس کتاب میں ان تئیس نوجوانوں کی یادداشت کو   داستان کے  پیرائے میں بیان کیا گیا ہے ۔یہ کتاب ان نوجوان فوجیوں کی شجاعت اور یادداشت کو  بیان کرتی ہے جنہوں  نے ’’مزاحمت اور مقابلے ‘‘ کو ترجیح اور  ایک عظیم  معرکہ انجام دیا۔

یہ  ۴۰۸ صفحات ک پر مشتمل  کتاب  راوی  کے  تلخ  وشیریں  واقعات   سے  پر ہے۔ اوریہ یادیں    قارئین  کوایک  بار  پھر   مقدس دفاع   کی  یاد دلا  سکتی ہیں ۔راوی  کتاب  کے ایک حصہ میں ’’ اسیر ی میں  پہلا  طمانچہ ‘‘کے عنوان سے یوں  بیان  کرتے ہیں :’’ہم نے   مشکل  سے  اکبر کو   وہیں نفر  بر  پر   لٹایا  وہ  سورج   کی  دھوپ سے  تپتی  ہوئی  زمین  پر سویا  تھا،حسن   اس کے  سرہانے  بیٹھا  تھااور  میں  وہیں ایک  بلندی  پر  بیٹھ  گیا ۔ ایک  عراقی   فوجی  نفر بر سے  اوپر  آیا  اور  ایک   نگاہ  بے جان اکبر اور حسن  پر ڈالی اور بغیر    کچھ کہے ہوئے  ایک   زوردار  طمانچہ  حسن  کے گال  پر  مارا   پھر  میری   طرف  آیا اور  بغیر  سوال  جواب کئے  ہوئے  ایک   شدید  طمانچہ  مجھے  بھی مارا۔جیسے   میرے  رخسار  پر   اس عراقی  کا  مضبوط  پنجہ   پڑا  مین  نے   مکمل  طور   پر  قید  اور اسیری کو  محسوس کیا  تھا۔طمانچہ  اور اسیری ایک  ساتھ  تھے۔اگر  آپ  بیس  سال  کہیں   قید  رہیں   تو  آپ  کی اسیری   آغاز  وہی دن  جس  دن ا ٓپ کو طمانچہ پڑتا ہے ۔پہلا  طمانچہ  سے  ہی  غربت کا  احساس  ہوتاہے ۔یہ طمانچہ  آپ کو  رہائی  کی امید سے   دور  کردیتا ہے  لیکن  ساری   امیدیں  خدا  کی  طرف   ہوجاتی ہیں ۔آپ  اپنے  آپ کو  مکمل  طور  پر  خدائے زمین  و آسمان کے  حوالے  کردیتے ہیں۔آپ  مصائب  برداشت  کرتے  ہیں   آپ کی  تحقیر  کی جاتی ہے ۔اور یہ  تحقیر  مہلک ہوتی ہےئ۔میری   تحقیر کی   ابتدا  اسی  طمانچہ   سے ہوئی جس  کی کوئی حد  نہیں  ہے ۔میں   سیاہ  رنگ کے  عرب  کے ہاتھوں   طمانچہ   کھاتا  تھا جو  تے پہنے ہوئے میرے وطن ک  طرف جارہا تھا۔طمانچہ انسان  کے درد کو  مزید  بڑھا  دیتا ہے ۔اپنی   زمین  پر طمانچہ کھانا  اس  طرف کی  زمین   پر  طمانچہ  کھانے سے مختلف ہے ۔

مصنف   فصل ’’کودکی ہایم‘‘ میرا بچپنا میں ،اسیری کے  دوران  عراقی   سڑکوں  سے   عبور کرتے ہوئے   اپنے دیہات کی   زندگی  کی  یاد کو  بخوبی  بیان کرتے ہیں ۔:’’دیہاتی  مردوں اور  عوروتوں کو دیکھنے کے بعد  مجھے اپنے   گاؤن کی  یاد آگئی ۔غروب کے وقت  بلندی   کی  آبادی کے بھیڑ ہمارے   چھوٹے سے  گاؤں سے ہوکر گذرتے  تھے  ان کے   پیروں کے نیچے  اڑنے  والی   گرد وخاک رات  تک    ہواؤں میں  رہتی  تھی ۔ اس  وقت   فضا کے تاریک  ہوجانے سے  ہم  بہت  ناراض  ہوجایا  کرتے  تھے۔گاؤ  ں کی  راتیں   بہت  تاریک ہوا کرتی تھیں   ۔میری والدہ رات کو  فانوس   روشن کرتی  تھیں کمرے  میں رات  کے  کھانے کے وقت  عام طورسے اس  چراغ   پر  ایک  شیشہ  رکھدیا جاتا تھا ۔اور  میں  اور   محسن   اس کے اس  طرف  فانوس  کے   کی روشنی  کو  برابر  سے بانٹ لیتے  تھے ۔جب  یوسف   شہر  نہیں گیا  تھا  اس وقت   ہوم ورک  کرنے کے لئے  فانوس کی  روشنی کے نیچے کون  بیٹھے گا   طے  کرنا   ہمارے لئے  بہت  مشکل ہوجاتا  تھا۔کیوں کہ  یم سے تیسری   فرد کی کاپی  اسی  جگہ   پر  ہوتی  تھی  جہاں   فانوس  کا سایہ   پڑتا   تھا اور  اس وقت  ہمارے درمیان  اس  بات  پرخوب  لڑائی ہوتی   تھی  سائے   میں   بیٹھنے کی  کس کی  باری ہے۔‘‘

صدام سے ملاقات کے وقت   پہلی   بار  مجبورا بسیجی  لباس کو   اتار نا اور  دوسرا لباس پہننا   اس کیفیت کو  مصنف یوں بیان کرتے  ہیں :’’دوروز  کے   بعد ہمارےلئے  نئے  لباس  لائے گئے  اور  ہم  میں سے ہر ایک کو  ایک جوڑا  پینٹ اور شرٹ اورایک   جوڑا  اسپورٹ  شوز  کا دیا  گیااور کہا  گیا کہ جنگی لباس کو ا تار دیں اور  یہ  نیا لباس  پہن لیں ۔میرے   لئے بسیجی  لباس  اتارنا  بہت  سخت تھا۔میں   اس   خاک و خون سے  بھرے ہوئےلباس  کو   اپنے  وجود  کا حصہ   سمجھتا تھا۔اور اس  کے بدلہ میں   صدا کا دیا  ہوا  وہ نیا    اور  مڈرن لباس مجھے  بہت  برا لگ رہا تھا۔ اب ہمارے پاس   اس لباس کو  پہننے کے  علاوہ کوئی  چارہ  نہین   تھا پھر  بھی  میں نے ان لوگوں  سے خواہش  ظاہر  کی اس  لباس  کو ہمیں   دے دیں  جسمیں   شہدا   اور میرے دوست اکبر کا خون لگا ہوا تھا ،لیکن  کچھ   ہی دیر کے بعد  ہمارے لباس کو  ایک   بورے مین   بھر کر  جیل  سے  باہر  کردیا  گیا ۔‘‘

راوی   فصل ’’اہم  اطلاعات‘‘ مین   قیدیوں  کی چھاؤنی  میں  چند   ا سیر   دینی طلاب کی  درمیان  کی یاد کو یوں  بیان کرتے ہیں :’’ایک  تیسرا گروہ  جو  اس جوان  طالب کے  طرز عمل کا مخالف  تھا ۔وہ  نہ  اہل  حق  کرد  تھااور  نہ    فوج کا  کویہ  لاپرواہ گروہ اور نہ خود فروش  جاسوس ۔ بلکہ وہ    پڑھے  افراد  تھے جو  اس  قسم کی   سرداری  کو   اسیری کے  دوران قبول  نہین  کررہے تھے ۔ان کا خیال تھا کہ یہ جوان  طالب  علم   دیگر   قیدیوں  کی   معمولی  قیدی ہے اور  چونکہ موجودصورت حال میں   وقت  کے ولی فقیہ امام خمینی   سے  اس کا   کویہ  رابطہ   نہین  ہے  بلکہ  وہ  ان کی طرف سے   منصوب ہی نہیں ہوا  ہے لھٰذا  ان سیکڑو   اسیروں  کی قسمت   اس کے  حوالے  نہیں  کیجاسکتی ہے کیوں کی  اس  سے  بھی   غلطی  کے سرزد ہونے کا  ا مکان ہے ۔اس نوجوان کا  طرز   عمل  اور  اس کے ہم   فکر کا  عمل    نامحدود شدت  پسندی   پر مبنی تھا  اور  ان  کے اندر  اپنی   طرف لوگوں کو کھینچنے کے  بجائے   بھگانے کی   قوت زیادہ تھی ۔ایسے   بائیکاٹ  اور  پابندیایوں کا استعمال کرتے  تھے جو  کمزرو افراد کے لئیے مایوسی کا سبب   بنی تھی ۔ مثلا ہر قسم کے  بال کھیلنے  پر  پابندی  لگاتے  تھے ۔ کہتے تھے  دشمن  ہمارے کھیل  کود سے سوئے استفادہ   کررہا ہے ۔ یہی   تفریح  اور سرگرمی   پر  پابندی  کا  مسئلہ  کمزور افراد کا مخالفین  کے  گروہ  سے  ملحق ہوجانےکا سبب بنا ۔شرٹ کا بٹن  کھلا  ہونا  ان کی نگاہ میں   بری بات  تھی ۔اس  قسم  کی  شدت   پسندی  چھاؤنی مین   رہنے   والے اسیروں کے  اتحا د کو کمزور  کررہی تھیں ۔‘‘

احمد  یوسف  زادہ   نے  آزاد ہونے  کے بعد  صدا  م کو  ایک   خط لکھا  جس میں   حلبچہ   میں  بچوں  پر   سرسوں کا جلتا تیل  ڈلانے اور  پندرہ سال  کرمانی  نوجوان امیر شاہ پسندی  کو  شدید  اذیت اور تکلیف  دینے  کے لئے  اس  کی   مذمت   کی تھی ۔اور کہا تھا  تمہارا   فعل   ،تمہارے   قول   کہ ساری دنیا کے  بچے میرے بچے  ہیں  ،کےمخالف ہے ۔احمد  یوسف   زادہ  ۱۳۷۵ مین یہ  خط صدام کو لکھا  تھا ۔اور کتاب   کے  ملحقہ مین اس  خط کو ذکر  کیا گیاہے ۔

مصنف  نے  آزادی  سے  ایک سال  پہلے  اپنی  ان یادوں کو  تحریر  کیاتھا ۔سارے واقعات ایک  جوان  دوست کے ذریعہ  لکھے جاتے   تھے  جو  رفتہ رفتہ  ایک   چھوتی کتا ب  کی صورت میں  تبدیل  ہوگئی ۔کتاب کے واقعات  تیس  سال پہلے کے ہیں  اوراسے  مصنف کی تحریر اور مہدی جعفری  کے  ساتھ ان   تئیس  افراد کے  گھنٹوں  کے  انٹرویو کے ویڈیو کی  بنیاد پر لکھا  گیا ہے ۔اس   کتاب  مین  آٹھ  سال مین  سے صرف   آٹھ  مہینہ   اور تین مہینہ اور سترہ   روز کی یادیں     ہیں  اور  رمادی ،موصل اور بین القفسین  کی یادوں کو ابھی  تحریر  نہیں  کیا گیا ہے ۔کتاب کی تقسیم  بندی  ، سال  کے موسموں کی نمائیندگی  کرتی ہے اور  پوری کتاب  سال  ۱۳۶۱ ش سے مربوط ہے ۔ان   تئیس  افراد میں  سے   ۱۶  کرمان کے  رہنے والے  ہیں  ۔کتاب کے ملحقات میں  صدام کے نام مصنف کے خط اور  چند عراقی   اخباروں  اور  تئیس افراد کے گروہ  کی   کچھ تصویروں کو  پیش کیا  گیا ہے ۔



 
صارفین کی تعداد: 3275


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
حسن مولائی کی یادیں

سو افراد، سینکڑوں افراد، ہزاروں

وہ لوگ جو چند گھنٹوں پہلے جمرات جا رہے تھے تاکہ رمی جمرات کا فریضہ ادا کرسکیں اب تولیہ اوڑھے سو رہے تھے۔ جب جنازے ختم ہوئے، تو مجھے سمجھ نہیں آئی کہ مجھے کہاں لوٹنا چاہئیے۔ اچانک میرے پیروں نے کام کرنا چھوڑ دیا اور میں نے پہلی مرتبہ وہاں گریہ کرنا شروع کردیا۔ واپس پلٹ کر ان سفید پیکروں کو دیکھنا شروع کیا۔ پوری سڑک جنازوں سے سفید ہوچکی تھی۔ ایک جوان مرد کی آواز پر چونکا جو میرے ساتھ کھڑا تھا اور میرے پیروں کے سامنے چپلیں رکھ رہا تھا۔
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔