عباس یمینی شریف اور روش نو اسکول

گفتگو و تنظیم: محمد مهدی موسی خان
مترجم: ابو زہرا علوی

2015-09-15


اشارہ: ۵۰ سے ۷۰ شمسی﴿ ١۹۷١تا١۹۹١﴾ کی دہائی کے اکثر طلاب "من یار مہربانم دانا و خوش بیانم" کے شعر سے کہ جو  اس زمانے میں پڑھایا جاتا تھا اور اس کے شاعر عباس یمینی سے اچھی طرح آشنا ہیں۔ ان کے اشعار درسی کتب و  بچوں  اور جوانوں کے رسالوں نشرمیں  ہوا کرتے تھے، ان کے اشعار کی تحلیل اور تجزیہ اور ان پر تنقید بھی اشعار کے ماہرین کے توسط سے ہوئی ہے لیکن روش نو اسکول میں ۲۵ سال تعلیمی و تربیتی سرگرمی کے باوجود عباس یمنینی کے بارے میں کچھ زیادہ اطلاعات نہیں مل سکیں، اسی وجہ سے ہم ان کے بیٹے ھومن یمینی شریف کے پاس پہنچے اور جناب یمینی شریف کے تعلیمی سابقے اور روش نو اسکول کے چلانے کے طریقہ کار کے بارے میں معلومات کے حصول کےلئے ان سے ایک نشست رکھی، انھوں نے اپنی مصروفیت کے باوجود خندہ پیشانی سے ہماری دعوت کو قبول کیا ور صبر و حوصلے سے ہمارے سوالات کے جواب دیئے اور مرحوم عباس یمینی کی کچھ تصاویر دیں کہ جو پہلی دفعہ منظر عام پر آرہی ہیں کہ جنھیں خاص طور پر تاریخ شفاہی کی ویب سائٹ پر ڈالا گیا ہے، ہم ان کے شکرگذار ہیں کہ انھوں نے ہماری دعوت کو اور ہم سے گفتگوکرنے کو قبول کیا۔      

 

موسیٰ خان: جناب ھومن یمینی شریف، گفتگو کی دعوت کو آپ نے قبول کیا ہم آپکے شکر گذار ہیں، سب سے پہلے یہ بتائیں کہ مرحوم عباس یمینی شریف نے کہاں کہاں تعلیم حاصل کی ؟

یمینی شریف: میرے والد نے وثوق اسکول کہ جو پامنار تہران کے اطراف میں ہے اپنی تحصیلات کا آغاز کیا، خاندان کی دربند منتقلی کے بعد اس گاؤں کے تنہا اسکول میں چار کلاسیں ،اسکے بعد تجریش کے سرکاری اسکول میں چلے گئے، اس وقت دربند میں صرف اوپن اسکولز ہی تھے ، والد صاحب جو گرمیوں کی چھٹیوں پر آتے تو اسی اسکو ل میں پڑھتے گھریلوں پریشانیوں کے سبب دو سال ان کی تعلیم میں وقفہ بھی آیا بلآخر ١۳١۴ یعنی ١۹۳۵میں سرکاری اسکول سے اپنی سیکنڈری تعلیم کو مکمل کیا، اپنی ثانوی تعلیم کو دارالفنون میں ١۳١۷ یعنی ١۹۳۸ میں مکمل کیا اس کے بعد نائٹ کالج ﴿کہ جس میں ٹیچر ٹرینگ کرائی جاتی ہے ﴾ میں پڑھنے کا انتظام  ہوا اور اس میں تعلیم کا خرچہ پورا کیا، والد صاحب کی مالی حالت اچھی نہیں تھی، اپنی تعلیم کو نائٹ کالج میں جاری رکھا وہاں سے وہ بچوں کے لئے اشعار لکھنے کی جانب مائل ہوئے اور یہ میلان ہائر کالج سے جامعہ تہران کے ادبیات کے شعبے تک جاری رہا پھر وہاں سے فارغ التحصیل ہو ئے، البتہ اس دور میں بچوں کی نظموں کا شعبہ ہائر کالج کے علاوہ ایران میں کہیں بھی نہ تھا اور بچوں کے لئے کام کرنا استادوں اور فارغ التحصیل افراد کی شان کے خلاف سمجھا جاتا تھا، والد صاحب کے اپنے ہی مجلے میں بچوں کے بارے میں لکھنے کا مشورہ قبول نہ ہوا اور ساتویں و آٹھویں صدی کے شاعروں کے موضوعات انھیں دیئے گئے، اسی بات نے انکے phd  کے مقالے کو لٹکا دیا، بہر حال کچھ عرصے بعد وزارت ثقافت میں نوکری مل گئی۔     

 

موسیٰ خان: کس زمانے میں وزارت ثقافت﴿تعلیم و تربیت﴾ میں داخل ہو ئے؟

یمینی شریف: ١۳۳۲ شمسی یعنی ١۹۴۴میں ہائر کالج سے فارغ التحصیل ہو ئے اور کچھ مدت کے بعد وزارت ثقافت میں نوکری ملی، اور تہران میں کام کرنے لگے، انھیں ایام میں مرحوم ابراہیم بن احمد کہ جونشر اشاعت میں خاص مقام رکھتےتھے انھوں نےوالد صاحب  اپنے ساتھ کام کرنے کا مشورہ دیا، بچوں کا  پہلا مجلہ کہ جو "بازی کو دکان" یعنی بچوں کے کھیل کے نام سے ١۳۲۳شمسی ١۹۴۴میں نشر ہوا اوربڑے یاد گار اشعار اس مجلے میں شائع ہوئے کہ جس نے بچوں کے ادب کی تاریخ میں ایک تبدیلی پیدا کی ۔ 

 

موسیٰ خان ۔ وہ کب تک نشر ہوتا رہا ؟

یمینی شریف ۔ تقریباً سات سال تک نشر ہوتا رہا اس وقت یہ ایک طویل مدت تھی، کیوں کہ بچوں کے سلسلے میں اور دوسرے مجلے نشر ہو ئے وہ چند ایک شمارے سے زیادہ نشر نہ ہو سکے، اس مجلے میں نئی نئی چیزوں کو لایا جاتا اور انہیں اسکول میں بانٹا جاتا بچوں نے پسند کیا۔ بعد میں والد صاحب اور بہت سے مجلوں کے مدیر ہو ئے جیساکہ "طالب علم" "جوانان شیر و خورشید سرخ" اور "کیہان بچہ ھا" شامل ہیں۔ اس کے بعد وزارت ثقافت میں کچھ مدت کے لئے  والد صاحب کی ذمہ داریوں میں اضافہ ہوگیا اور کچھ شہروں کی ریاست ان کے کاندھوں پر آگئی تھی۔



موسیٰ خآن: کون کون سے شہر تھے ؟
یمینی شریف: تین شہر تھے اراک، گرمسار اور شہر ری، اسکولزکے دورے اور ان پر نگاہ رکھنا  انکے وظائف کا جز تھی اس زمہ داری نے انھیں ان علاقوں کے  اسکولوں کے حالات سے آگاہ کیا، اس زمانے میں اسکولوں میں بہت مشکلات تھیں۔ طلاب کے درمیان بہت سی بیماریاں پھیل چکی تھی، تعلیم کے امکانات نہیں تھے اور سب سے بڑی مشکل تو یہ تھی کہ والدین اپنے بچوں کو کھیتی باڑی یا کسی اور کام پر بھیجنا چاہتے تھے، اساتذہ اور کارکنوں کا ایک اہم کام تو یہ تھا کہ وہ والدین کو اس بات پر راضی کریں کہ وہ اپنے بچوں کو اسکول بھیجیں کبھی انھیں دھمکانا بھی پڑتا کہ وہ اپنے بچوں کو اسکول بھیجیں، اس سلسلے میں میرے والد کو تجربہ اور آشنائی حاصل ہوئی، اسی نوکری کے زمانے میں کچھ مدت کے بعد وزارت ثقافت کی جانب سے اسکالر شپ ملی اور وہ کولمبیا یونیورسٹی امریکہ چلے گئے۔

موسیٰ خان: جناب مرحوم یمینی شریف صاحب اپنی نوکری کے شروع کے سالوں میں اسکولز میں پڑھایا کرتے تھے؟
یمینی شریف: جی گرامر اور عربی کے دورس پڑھایا کرتے تھے لیکن مجھے یاد نہیں کہ کس اسکول میں تھے۔

موسیٰ خان: امریکہ کب گئے ؟
یمینی شریف: ١۳۳۲ شمسی میں، ایک سال کی مدت میں ابتدائی تعلیم کے شعبے میں کولمبیا یونیورسٹی سے ماسٹرز کیا۔ امریکہ میں تدریس کے جدید طریقوں سے اور پیشرفتہ تعلیمی امکانات اور استاد اور شاگرد کے درمیان بہترین تعلقات بنانے کے فن سے آشنا ہو ئے، ان کا یہ تجربہ اور تعلیم کی وہ کیفیت کہ جو اس  وقت ایران میں تھی اس میں بہت فرق تھا، والد صاحب ١۳۳۳ شمسی میں ایران واپس پلٹے اور جہاں نوکری کیا کرتے تھے وہاں کے ماحول کو اپنے حاصل کردہ علم کے مطابق نہیں پایا۔  خوش قسمتی کے ساتھ  جب پرائیوٹ اسکولز بنانے کا پروگرام بنا، اور والد صاحب کو پتہ چلا تو وقت ضائع کئے بغیر روش نو اسکول کی بنیاد رکھ دی تاکہ بچوں کی  جدید طرز تعلیم اور تربیت کو اس جگہ پر پہچنوایا جا ئے۔      
 

موسیٰ خان: یہ کس سن میں ہوا؟

یمینی شریف: ١۳۳۴شمسی
 

موسیٰ خان: پہلے کس جگہ قائم ہوا ؟
یمینی شریف: شارع فیشر آباد پر تھا کہ جو اب شہید سپہد قرنی کے نام میں تبدیل ہوگئی ہے۔ اس میں ایک گلی تھی کہ جس کا نام پردیس تھا، ایک بڑا گھر تھاکہ اس میں روش نو لڑکوں کا اسکول قائم ہوا اور میں اور میرا بھائی اس کے پہلے شاگرد تھے، ہماری والدہ کہ جو وزارت ثقافت کی سرکاری استاد تھیں ﴿خانم توراندخت مقومی تہرانی ﴾ وہ روش نو کی پرنسپل ٹہریں، والد صاحب نے ہماری ماں کی مدد سے اپنے خوابوں کو پورا کرنا شروع کر دیا۔  
 

موسیٰ خان: اسکول کی جگہ بعد میں تبدیل ہوئی؟

یمینی شریف: جی، کچھ سال فیشر آباد میں تھے، بعد میں ایک بری جگہ پر وہیں پر چند گلیوں کے بعد یہ اسکول منتقل ہوا کہ اس کا ایک دروازہ شارع ثریا کہ جو اب سمیہ کے نام سے موسوم ہے کھلتا تھا، اس جگہ کے ساتھ ساتھ، شارع جلال بابا حالیہ ایرانشہر کے کونے پر تخت جمشید یعنی حالیہ طالقانی پر ایک اور  بڑی جگہ لی اور وہاں لڑکیوں کا اسکول قائم کیا اور روش نو اب لڑکوں اور لڑکیوں کے دو اسکول پر مشمل تھا۔ کچھ مدت کے بعد والد اور والدہ نے لڑکیوں کے اسکول کی جگہ پر بچوں کا کلب بنایا یعنی بچے اسکول کے بعد وہاں جاتے اور اپنا ہوم ورک کرنے کے بعد مختلف قسم کی تفریحات میں حصہ لیتے جیسے تھیٹر، میوزک، شعر، کتاب خوانی وغیرہ وغیرہ۔ بچوں کے والدین بھی بچوں کے لینے دیر سے آتے، بعض والدین کے لئے یہ پراگرام بہت جالب تھا کیوں کہ اسکول کا ماحول گھر کے ماحول سے بہت اچھا تھا۔

روش نو کے کیمپس ١۳۴۵ شمسی میں شارع آبان شمالی روش نو کی گلی کہ جس کا اب تک یہی نام ہے میں منتقل ہوا اور لڑکوں اور لڑکیوں کی  ابتدائی اور ثانوی سطح کی تعلیم یہاں پر جاری ہوئی۔     
 

موسیٰ خان: روش نو کا ہائی اسکول نہیں تھا؟
یمینی شریف: نہیں، والدین ١۳۵۸شمسی تک ان اسکولز کے پرنسپل رہے اور انھیں تاریخوں میں وہ ریٹائر ہو ئے۔
 

موسیٰ خان: مرحوم یمینی شریف روش نو کے اساتذہ کو کس طرح منتخب کیا کرتے تھے؟

یمینی شریف: والدصاحب اساتذہ کے طلاب سے رویے کے بارے میں بہت محتاط و حساس تھے اساتذہ کے درمیان کہ جن تائید ہو جاتی تھی وہ اس بات کی کوشش کیاکرتے تھے کہ ان میں پڑھانے کی توانائی کے علاوہ شاگردوں سے ان کا رویہ اچھا ہوپرائیوٹ اسکولز کے قوانین کے مطابق وہ اساتذہ کہ جو سرکاری کورس پڑھایا کرتے کہ جو وزارت ثقافت کے کارکن تھیں۔ وہ ان پرائیوٹ اسکولوں کو بطور ایک آفیسر کے دیئے جاتے اور انکی تنخواہ بھی وزارت ثقافت کے زمہ ہوتی، یہ ایک بہت بڑی مدد تھی کہ جو پرائیوٹ اسکولوں کو ہو رہی تھی اور پرائیوٹ اسکولز کے قیام کی ایک بڑے دلیل یہ بھی تھی کیوں کہ ان کے بنانے والے اکثر افراد دولتمند نہیں تھے جیساکہ والدصاحب کہ جو پہلے صرف ایک استاد تھے اس بنا پر اگر ان کی کو ئی مدد نہیں ہو تی تو ان اپنی تنخواہ بھی ہاتھ سے چلی جاتی۔ اور اس طرح کی درس گاہیں قائم نہیں ہو پاتی ، یہ پلان بہت اہم تھا کہ جس نے اساتذہ کو یہ موقع دیااور صلاحیتوں کو سرمایے سے اہم بنایا۔

 

موسیٰ خان: مرحوم شریفی اساتذہ کے انتخاب میں اپنے رائے دیا کرتے تھے ؟
یمینی شریف: اس وقت تہران ادارے اور نظارت کے اعتبار سے تقسیم تھا وہ اساتذہ کہ جو سرکاری مضامین پڑھایا کرتے تھے وہ اپنے محکمے کی جانب سےتائید ہو کرآتے تھے، درسگاہوں کے پرنسپلز اپنے خاص دلائل کی بنا پر اگر کسی دوسرے مدرس کی درخوست کرتے بلآخر اس شعبے کے اساتذہ کا گروہ انتخاب کیا کرتا صرف وہ اساتذہ کہ جو سرکاری مضامین نہیں پڑھاتے بلکہ کہ خصوصی تھے جیسے میوزک، لینگویچ، دست کاری، ٹھیٹر ،ورزش کے اساتذہ کو والد صاحب خود رکھا کرتے تھے اور ان کی تنخوایہں بھی خود ہی دیا کرتے تھے۔   
 

موسیٰ خان: روش نو میں تدریسی وسائل سے کس طرح مدد لی جاتی تھی، کیا اس سلسلے میں محکمہ تعلیم و تربیت کو ئی مدد کرتا تھا ؟

یمینی شریف: محکمہ وزارت ثقافت ١۳۳۰ شمسی کی دہائی میں جتنا میں نے آپ کو بتایا اس سے زیادہ کوئی مدد نہیں کرتا تھا ان درسگاہوں کے مالک خود سے ان وسائل کو لاتے وہ تجربہ کہ جو والد کو امریکہ میں ہوا تھا اس بنا پر وہ بہت زیادہ مائل تھے کہ تدریسی وسائل سے مدد لی جائے۔ روش نو اسکول میں لیبارٹریز، کارپینٹری کی ورکشاپ، لائبریری، نقشے، قدرتی  مناظر کی تصاویر، تصاویر جغرافیہ، موجود تھیں۔ کچھ کمرے ان کاموں کے لئے مخصوص تھے، باقاعدہ  تدریس ہوتی تھی، مثلا انسانی بدن کے کام کرنے کا طریقہ ڈایا گرام کے ذریعے سے طلاب کو پڑھایا جاتاتھا۔
 

موسیٰ خان: بعد میں ملک میں تدریسی مدد کے لئے جیسے سلائیڈ، اوپیک، فلم کی ریلیں وغیرہ لائی گئیں، کیا انھیں اسکول میں استعمال کیا جاتا تھا ؟

یمینی شریف: جی والد صاحب کا شمار ان افراد میں تھا کہ جنھوں نے سب سے پہلے تدریسی کے مدد گارجدید وسائل اپنے اسکول میں لائے مجھے یاد ہے کہ انھوں نے روش نو کی تاسیس  کے اوئل کے ایام میں۳۰ کی دہائی میں فلم کی ریل چلانے والی مشین لے لی اور اسکول میں رکھی کیوں کہ اس زمانے میں بچوں کے لئے تعلیم وتربیت کے محکمے کے پاس کو ئی مناسب فلم نہیں ہوا کرتی تھی، والد صاحب اور دوسرے اسکول کے مالکان دوسرے ممالک کے سفارتخانوں کے ثقافتی مراکز سے فلمیں لیا کرتے تھے۔ 
 

موسیٰ خان: کیا اساتذہ ان وسائل سے استفادہ کیا کرتےتھے یا آپ کے والد نے ان واسائل کے لئے کوئی خاص آدمی رکھا تھا ؟
یمنیی شریف: اساتذہ تھوڑے سے روایتی تھے لیکن ان وسائل سے استفادے کی جانب مائل تھے، جو وہاں کے استاد تھے اسکول ٹائم میں یا اس کے بعد اس کا کام کو انجام دیتے۔ 
 

موسیٰ خان: روش نو اسکول، کلاسوں، سازوسامان، ماحول و طلاب کی تعداد کے لحاظ سے کس طرح کا تھا ؟

یمینی شریف: والد صاحب معتقد تھے کہ ۲۵ سے ۳۰ افرادایک کلاس میں مناسب ہیں، کیونکہ اس سے زیادہ کی تعداد طالب علم پر استاد کی توجہ کم کردیتی ہے اوراس سے کم تعداد طالب علم کو سست کر دیتی ہے اس میں کام کرنے کی لگن نہیں رہتی جبکہ طلاب کو تقسیم پذیر ہو نا چاہیے تاکہ طالب علم کو گروہ میں تقسیم کیا جا سکے، لکھنے والی میز اسکول مہیا کرتا تھا بینچ کے ساتھ میز تھی کہ دو فرد اس پر بیٹھتے میز و کرسیوں پر ہرسال رنگ ہوا کرتا ہر کلاس روم میں بلیک بورڈ تھا کہ جس پر ہر سا ل رنگ ہوا کرتا تھا چاک بنانے والا اسکول کو چاک دیا کرتا تھا اور مجھے یا ہے کہ وہ خشک چاک کو چاقو سے کاٹا کرتا تھا اوردھوپ میں رکھا کرتا تھا اور جب تیار ہو جا تی تو اسے استعمال کیا جاتا۔


موسیٰ خان: آپ نے بتایا کہ روش نو اسکول نے پہلی بار بچوں کے کلب کا پلان کیا آج کل تو ہوتا ہے کہ طالب علم اسکول میں ہی رہتا ہے لیکن اس وقت یہ ایک نئی فکر تھی ،آپ کو کچھ یاد ہے کہ یہ کس سال ہوا تھا؟
 

یمینی شریف: ١۳۳٦شمسی میں اس کلب کو بنایا گیا اور جس طرح پہلے کہا کہ اس کلب کو لڑکیوں کے اسکول میں قائم کیا گیا، ایسے کلب امریکہ میں After school معروف ہیں یہ ایک ایسی جگہ ہوتی ہے کہ جہاں طالب علم کا ہونا الزامی نہیں اور ہوم ورک انجام دینے کے بعد ،طالب علم کھیل کود کے لئے یہاں آتا ہے اسی بات کو روش نو نے ملحوظ خاطر رکھا اور مزیدار بات یہ ہے کہ ریڈیو نے بھی ہم سے تعاون کیا اس وقت انھوں نے بچوں کے لئے پرگرامز بنائے تھے اور اسے وہ پیش کیا کرتے تھے اس پروگرام کا پہلا میزبان بیژن پرنیاکہ جو داود پرنیا کےبیٹھے تھے انھیں جناب بیژن کہا کرتے تھے مرحوم داود پرنیا بچوں کے پروگرام کو بہت زیادہ سرہاتے تھے والد صاحب بچوں کے پروگرام کے لئے گیت ، میوزک اور دیگر مطالب سے مدد کیا کرتے تھے اور وہ ہمارے بچوں کے کلب میں تعاون کیا کرتے تھے ریڈیو کے صداکاروں اور ہمارے کلب کے بچوں کے درمیان آمد وفت ہو چکی تھی سیمابینا ، آلیس و بلاالوندی جیسے افراد کہ جو اس وقت نوجوان تھے کلب میں آکر پروگرام کیا کرتے تھے والد صاحب اشعار کہا کرتے تھے کہ جو ریڈیو پر سنائے جا تے،یہ باہمی تعاون ١۳۳٦شمسی سے شروع ہواتو کئی سال تک چلتا رہا ۔   
موسیٰ خان: روش نو وہ پہلا اسکول ہے کہ جس میں گرمیوں کی چھٹیوں میں بھی کلاسس ہوتی تھی،کچھ آپ کو یاد ہے کہ کیاکچھ ہوتا تھا ان تعطیلات میں؟

یمینی شریف: بچوں کے کلب میں گرمیوں کی چھٹیوں کے بہت سے پروگرام ہوا کرتے تھے، بچے تیراکی، ورزش اور دیگر کھیل کھیلا کرتے تھے۔ کوچنگ سینٹر کا اہتمام تھا کہ جس میں کلاسیں ہوا کرتی تھیں۔
 

موسیٰ خآن: آپ کے والد کا بچوں سے برتاؤ کیسا تھا ؟
یمینی شریف ۔والد صاحب کے آفس میں دوبورڈ لگے تھے کہ جب میں اور دوسرے طلاب آفس جاتے تو یہ دونوں بورڈ ہماری نگاہوں کے سامنے ہو تے اور جو اس پر لکھا تھا وہ ہمارے زہینوں میں نقش ہوگیا ہے ، بعد میں میں نےدوسرے طلاب سے بھی اس بات کو سنا ،ان میں سے ایک بوڑد  پر لکھا تھا کہ "درس معلم از بود زمزمہ محبتی ، جمعہ بہ مکتب آورد طفل گریزپای را" یعنی استاد کا سبق طالب علم کے لئے محبت کا زمزمہ ہو ،کہ جمعے کے دن بھی وہ اسکول سے بیزار بچے کو اسکول کھینچ لا ئے، اور دوسرے بورڈ پر لکھا تھا کہ "طفل را با طفل مقایسہ نمی کنند، امروز ھر کس را بادیروز خود او می سنجند" یعنی بچے کو بچے کے ساتھ قیاس نہیں کرتے،ہر کوئی اپنے آج کو اپنے کل کے ساتھ پرکھے گا، یہ دونوں اشعار ولاد صاحب کے تھے ،انکی نگاہ یہ تھی کہ ایسا کام کرنا چاہیے کہ بچے خود بخود تعلیم کی جانب بھاگے ، نہ انھیں مار،پیٹ،ڈانٹ دپٹ کے زریعے سے پڑھایا جا ئے، اور دوسرے یہ کہ طالب علم کی تشویق یا اسے ابھارنے کے لئے ان دوسرے سے مقایسہ نہیں کرنا چاہیے ہر طالب علم کی پیشرفت کا معیار ، اس کی گذشتہ کی صورت حال ہے ۔ والد صاحب کی ایک خصوصیت تو یہ تھی کہ وہ طالب علم کی باتوں کو بڑے غور سے سنتے اور طالب علم کا احترام کیاکرتے تھے جو بھی ان کے شاگرد تھے وہ ان کےحقوق کے قائل تھے، بعد میں یہ مشہور ہو گیا کہ عباس یمینی شریف طلاب سے ایک انسان جیسا برتاؤ کرتے ہیں اور ان کی باتوں کو سنتے ہیں۔

اس زمانے میں بچوں کی کچھ کم ہی سنی جاتی تھی، جب بچے یاد نہ کرنے کی وجہ سے یا نظم و ضبط نہ رکھنے کی بنا پر آفس میں بھجوائے جاتے تو پہلے ان کی بات کو غور سے سنتے تاکہ اس کی مشکل اور اس کی علت کو طالب علم کی نگاہ سے دیکھا جا ئے ، اساتذہ کو تاکید تھی کہ بچوں کو ایک انسان کی مانند دیکھیں ، نہ کہ ایک چھوتے جانور کی مانند کہ جسے چھڑی سے ادب سیکھاجا ئے ، پچھلے زمانے میں مار پیٹ عام تھی،ان کو ڈرانا اور غصہ اس کام کے بنیادی اوزارتھے،میرا ایمان ہے کہ والد صاحب اپنی نصحیت پر اعتقاد رکھتے تھے ، وہ بچوں پر زبر دستی کا کوئی کام کرنا ہی نہیں چاہتے تھے ، وہ زیادہ کام اور وہ طریقہ کار کہ جس سے بچے دل سرد ہو جائیں، مخالف تھے۔ والد صاحب کی جانب سے کسی بھی قسم کی کو ئی مار پیٹ نہیں ہو اکرتی تھی ، کیوں کہ وہ اپنے پچپن میں اس کا رنج اٹھا چکے تھے ،اسی وجہ سے وہ اس روش سے ناراحت ہو جا تے تھے۔

 

موسیٰ خان: تو اسکول میں مار پیٹ نہیں ہوا کرتی تھی؟
یمینی شریف: ہو جاتی تھی، یہ تو ایک ایسی عادت تھی کہ جو اکثر اساتذہ میں تھی اور اس زمانے کی ثقافت کا حصہ تھی کو ئی ایسا قانون نہ تھا کہ جو اس کو ممنوع قرار دے، لیکن والد صاحب کی جانب سے مار پیٹ نہیں ہوا کرتی تھی اور اس عمل پر وہ اپناشدید عکس عمل دیکھاتے تھے ۔
 

موسی خان: ۴۰ کی دہائی میں بہت سے علما تعلیم و تربیت کے میدان میں وارد ہو ئے اور کورس کی کتابیں تالیف کہ باوجود یہ کہ مرحوم یمینی شریف کا درسی کتب تالیف کرنے کا ایک تجربہ تھا تو کای ان علماء سے تعاون کیا ؟

یمینی شریف ۔ والدصاحب نے ١۳۳٦ شمسی میں پہلی کلاس کی  کتاب ،،دارا و آذر،، کہ جو معروف ہے محترمہ مصاحب کے تعاون سے تالیف کی اس زمانے میں ساری کتابیں تالیف ہو تی تھی لیکن ان سالوں کے بعد بالخصوص کورس کی کتابوں کی تالیف ہر شعبے کی کتاب کی تالیف سے زیادہ ہو گئی علماء اکرام کہ جیسے باہنرصاحب ، بھشتی صاحب، نے فقہی مطالب اور دینی بڑی کلاسوں کے لئے لکھتے ، اسکول کے پہلے سال کی کتابوں کا جو کام والد صاحب نے جو کام کیا ، ان کا کام والد صاحب کے کام سے مختلف تھا اسی وجہ سے میں نہیں سمجھتااور نہ ہی میں سنا کہ علما کے درمیان اور والد صاحب کے درمیان اس سلسلے میں کوئی خاص تعاون ہوا ہو۔   
 

موسیٰ خان ۔ بلآخر روش نو کا اسکول کیا ہوا۔؟
یمینی شریف: انقلاب سے پہلے حکومت نے ایک بل پاس کیا کہ سارے پرائیوٹ اسکولز کو خریدا جا ئے اور محکمہ تعلیم و تربیت کے حوالے کر دیا جا ئے ۔
 

موسیٰ خان: محترمہ فرخ رو پارسا کا دور وزارت ؟
یمینی شریف: جی ، اس کی فکر اور اس کا انجام دینا ان کے ہی دور میں ہوا بعد کے وزراءنے اسے جاری رکھا ،بلآخر یہ کام ہو کر رہا پرائیوٹ اسکولز کو محمکہ تعلیم و تربیت کے وزرا سے خریدا ابھی یہ چل ہی رہا تھا کہ انقلاب آگیا ، انقلاب کے بعد بھی ٦۰ کی دہائی تک  ان کی خریداری جاری رہی اور ۷۰ کی دہائی کے اوئل میں غیر منفعتی اسکولز کا قانون پاس ہوا میرے والدین ١۳۵۸ شمسی میں ریٹائر ہو چکے تھے ۔ ابھی روش نو کا اسکول لڑکیوں کے  پرائمری اسکول اورسکینڈری اسکول میں تبدیل ہو چکا ہے ۔
 

موسیٰ خان: آپ نے حوصلے اور صبر سے سوالوں کے جواب دئیے ، آپ کا شکریہ ۔
 

 

 

 



 
صارفین کی تعداد: 3301


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
حسن مولائی کی یادیں

سو افراد، سینکڑوں افراد، ہزاروں

وہ لوگ جو چند گھنٹوں پہلے جمرات جا رہے تھے تاکہ رمی جمرات کا فریضہ ادا کرسکیں اب تولیہ اوڑھے سو رہے تھے۔ جب جنازے ختم ہوئے، تو مجھے سمجھ نہیں آئی کہ مجھے کہاں لوٹنا چاہئیے۔ اچانک میرے پیروں نے کام کرنا چھوڑ دیا اور میں نے پہلی مرتبہ وہاں گریہ کرنا شروع کردیا۔ واپس پلٹ کر ان سفید پیکروں کو دیکھنا شروع کیا۔ پوری سڑک جنازوں سے سفید ہوچکی تھی۔ ایک جوان مرد کی آواز پر چونکا جو میرے ساتھ کھڑا تھا اور میرے پیروں کے سامنے چپلیں رکھ رہا تھا۔
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔