ہمارا نہ دیکھنا ہماری کم محنت کا نتیجہ ہے

ایران میں آرٹ کے باب میں ریسرچ اب بھی نئی بات ہے

مینو خانی
مترجم: ابو زہرا علوی

2015-09-02


مینو خان کہ جو سالوں کا روزنامہ نگاری کا تجربہ رکھتی ہیں، ایک طولانی سفر کے بعد تاریخ آرٹ میں تحصیل کے تسلسل کے لئے، ایک ناقابل فراموش ریسرچ کے ساتھ دست پُر اپنے وطن واپس پلٹی ہیں، ان کی ڈاکٹریٹ کے مقالے کا عنوان "١۹۸١ کی جنگ کے بعد ایرانی پینٹگ میں جنگ کے اثرات"  تھا۔ انہوں نے پیرس یونیورسٹی  کے مشرقی زبانوں اور تہذیبوں کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ میں اسکا دفاع کیا اور اچھے نمبر حآصل کئے۔ یہ مقالہ اس موضوع میں ایک منبع اور ایک ماخذ کی حیثیت رکھتا ہے ان کی یہ تحقیق فرانسس اور ایران میں کتاب کی صورت میں منتشر ہو چکی ہے ۔

اس تحقیق کے استاد ،ڈاکڑ کریستف بالایی اورانکے استاد مشاور جناب ڈاکڑ مصطفی گودرزی ہیں کہ جو تہران یونیورسٹی میں فائن آرٹس  کے استاد رہے ہیں،  ١۹۸١ کی جنگ کے بعد ایرانی پینٹگز، تین حصوں اور ۵۲۴ صفحآت پر مشتمل ہے اور اس میں ۲۰۰ ایرانی مصوروں کی ۲۰ تصاویر کہ جنکا محور دفاع مقدس تھا ،لائی گئیں ہیں ،تاریخی نکتہ نگاہ اورجامعہ شناسی کو انقلابی حیثیت سے اور مسلط کی گئی عراق ایران جنگ کی پینٹنگز، مقدس دفاع کی پینٹینگز اور ایک پایدار آرٹ کی ریسرچ ہے، وہ پینٹنگز کہ جو انتخاب کی گئی ہیں ان  کی جزئیات کی تحقیق، ان کی توصیف اور اسی طرح ان میں علامات کہ جن سے استفادہ کیا گیا ہے ان کو بیان کیا گیا ہے اور ان کا سماجی ارتباط بیان کیا گیا ہے ۔

مختلف کتابوں کے ترجمے کہ جن میں، استنلی کوبریک Stanley Kubrick ، سفر در سینما Odyssey Cinema کہ جو جان پییرو برونتا کی کتاب ہے ، آنا گاوالد کا ناول بنام "اس سے محبت ہے"، "روز نامہ نگاری پس از انتر نیت" یعنی  انٹر نیٹ سے پہلے روزنامہ نگاری کہ جو یانیک استین کی کتاب ہ ۔ وہ خطوط کہ جو جنگ عطیم دوم میں فرانسسی سپاہیوں نےلکھے تھے ان کا ترجمہ  کہ جو چھائی کے مرحلے میں ہے خانی کے کارناموں میں شمار ہوتا ہے ۔

 ١۹۸١ کے بعد ایرانی پینٹنگز میں جنگ کے اثرات کو نشر کرنے کی مناسبت سے کہ جو فرانس اور ایران میں چھپی ہے ،مینوخانی سے ایک گفتگو کے دوران فرانس میں ریسرچ کے عنوان سے بات ہو ئی، انھوں نے کہا کہ "میری نگاہ میں اس میدان میں فرانس بہت منظم عمل کرتا ہے کیوں کہ انھیں ریسرچ کا طریقہ اسکول سے سیکھایا جاتا ہے"۔

انھیں اس ریسرچ میں جو دشواریاں پیش آئی ہیں انکے بارے میں کہتی ہیں کہ افسوس ایران میں اس سلسلے میں جو مراکز ہیں انھوں نے دفاع مقدس کے آرٹ کو صحیح طرح محفوظ نہیں کیا اسی طرح اس سلسلے میں آراء کا اظہار نہیں کرتے اس بنا پر ١۳۸۸ کہ جس سال سے میں نے اپنی ریسرچ کا آغاز کیا ہے میں نے کوشش کی کہ انٹرویو ز کے زریعے سے اور ماہرین کی آراء اور اساتذہ کے تجزئیات کو کہ جو اس سلسلے میں انجام پائی ہیں انھیں کرسکوں ۔   

خانی نے بتایا کہ جن اسناد اور دستاویز سے میں نے اپنی ریسرچ انجام دی ہے کہا جاتا ہے کہ کسی ایک نے بھی عراق کی ایران کے خلاف جنگ کے ادب و آرٹ  پر جو  اثرات پڑے ہیں ان پر ہمارے ملک میں کوئی ریسرچ نہیں کی ہے۔

 انقلاب نے ایک ایسا اثر چھوڑا تھا شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ زیادہ تر آرٹسٹ انقلابی تھے اور دوسری وجہ یہ تھی کہ ہمارا انقلاب ایک فکری انقلاب تھا کہ جو دوسرے افکار رکھنے والوں سے ساتھ ایک حدود ایجاد کرتا ہے اس بنا پر وہ افراد کہ جو غیر انقلابی تھے یا جنھوں نے کام نہیں کیا تھا اپنے کام کی بنیاد اپنے سلیقے پر رکھی یا انقلاب کی فکر کے مخالف کام کیا ۔

انھوں نے اپنی گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے بتایا کہ میں نے ان پینٹنگز کو اور ان کے خلق کرنے والوں پر ایک اجتماع یا ایک سماجی گروہ کے عنوان سے ریسرچ کی ہے ، میرا ارادہ یہ تھا کہ میں اس بات کی تہہ تک پہنچوں کہ آیا ان مصوروں نے معاشرے پر کوئی اثر چھوڑا ہے یا نہیں یا معاشرے نے ان پر کو ئی اثر چھوڑا ہے یا نہیں، اس بنا پر میں نے انھیں نقاشان اجتماعی یعنی مصور اجتماعی کا ایک عمومی عنوان دیا ہے۔ جن مصوروں کے بارے میں، میں نے تحقیق کی ہے وہ سب کے سب یونیورسٹیز کے اساتدذہ تھے جو اکثر سماج یا معاشرے کو بیان کر تے ہیں، حتٰی اگر ان میں سے کسی کے شاگرد نے کوئی کام انجام دیا ہے اور اس نے اپنے استاد کے زیر اثر رہ کر کچھ سیکھا ہے۔ ابھی ہمارے ملک میں مصوری اپنی ابتدائی مراحل میں ہے کہ جو آج کے ایرانی انسان کو معاشرے کے محور کے عنوان سے پیش کرتی ہے، اس بنا پر میں نے ان طالب علموں کے نام کہ جنھوں نے اپنے کام کو بنیاد بنایا ہے، بیان کیا ہے اور ان کے نام اجتماعی مصوروں میں لائی ہوں، اسی طرح اس نتیجے پر پہنچی ہوں کہ جنگ کے بعد یا امام رح کی رحلت کے بعد، فلسطین اور مقاومت کے بارے میں کوئی کام انجام دیتے ہیں تو یہ بھی سماجی مصوری کے زمرے میں آتا ہے اور جنگ کے موضوعات پر مصوری ایک مسلسل کام ہے اسی طرح عاشور کا موضوع ایک مسلسل کام ہے۔ اس بنا پر ہر فرد کہ جس پر انقلاب اور دفاع مقدس اثرانداز ہوا ہو، ہر طرح کے پروپیگنڈے سے دور رہ کر اس ہنر کو اس دور میں انجام دے سکتا ہے۔

جنگ  کے بعد ایرانی پینٹنگز پر جنگ کے اثرات ، فرانسیسیوں کی نگاہ میں اس جنگ کے بعد پینٹیگز کے آثار کو وہ اس طرح یاد کرتی ہیں

"ہمارے ہرتعلیمی سال کے آخر میں ایک سیمینار ہوتا ہے کہ جس میں ہر طالب علم کو اس کے ایک سال کے کام کے بیان کے لئے گذارشات کا موقع دیا جاتا ہے۔ اس سیمینار میں اسے ۲۰ منٹ کو موقع ملتا ہے۔ میں نے اس فرصت سے استفادہ کیا اور  جنگ کی پینٹگز  کو دیکھایا، اس میں ان کی رائے شگفت انگیز تھی سب کا ذوق آرٹ والا نہیں ہوا کرتا لیکن ان تصاویر کو دیکھ کر سب محظوظ ہو رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ تم نے اچھا کام انجام دیا، اپنے مقالے کے دفاع میں  فیصلے کی جیوری کے ارکین کہ جو ١۸۷۰ سے ١۹١۴ کی فرانسیسی جنگ کی تصاویر پر تحقیق کر چکے تھے، جب میں نے انھیں اپنی پینٹینگز دیکھائیں تو انھوں نے فرانس میں ان کو نمائش میں رکھنے کا مشورہ دیا، انھوں نے کہا کہ یہ پینٹگز جذاب ہیں، دنیا انہیں دیکھی گی۔ یہ ہماری کمزوری ہے کہ مصور یا انجمنیں کہ جو ملک سے باہر ان پینٹیگز کو نمائش میں نہیں لے جا تے یا اگر لے جاتے ہیں تو ان تصویروں کو دیکھنے کے لئے ڈھنگ کے مخاطب نہیں ہوتے، اس بارےمیں دنیا کی آراء کا نہ ہونا ہمارے کم کام کی وجہ سے ہے ۔

 

 

 



 
صارفین کی تعداد: 3333


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
حسن مولائی کی یادیں

سو افراد، سینکڑوں افراد، ہزاروں

وہ لوگ جو چند گھنٹوں پہلے جمرات جا رہے تھے تاکہ رمی جمرات کا فریضہ ادا کرسکیں اب تولیہ اوڑھے سو رہے تھے۔ جب جنازے ختم ہوئے، تو مجھے سمجھ نہیں آئی کہ مجھے کہاں لوٹنا چاہئیے۔ اچانک میرے پیروں نے کام کرنا چھوڑ دیا اور میں نے پہلی مرتبہ وہاں گریہ کرنا شروع کردیا۔ واپس پلٹ کر ان سفید پیکروں کو دیکھنا شروع کیا۔ پوری سڑک جنازوں سے سفید ہوچکی تھی۔ ایک جوان مرد کی آواز پر چونکا جو میرے ساتھ کھڑا تھا اور میرے پیروں کے سامنے چپلیں رکھ رہا تھا۔
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔