ایک ایسا شہید کہ جس کی تاریخ شہادت معلوم نہیں

شہید تندگویان کی بہن سے بات چیت

بشکریہ: سائٹ جماران
مترجم: ابو زہرا علوی

2015-08-31


جماران: ایک ایسا شہید کہ جس تاریخ شہادت نہیں معلوم، ایک ایسا وزیر کہ جس کی قبر کے کتبے پر شہادت کی تاریخ نہیں لکھی کہ وہ کس طرح سے شہید ہوئے ابھی تک یہ بات حکومتی سطح پر منتشر نہیں ہوئی، ١١ سال کی اسارت کے بعد ایک مومیائی پیکرعراق سےایران منتقل ہوا اور بہشت زہرا کے ۷۲ ویں ٹکڑے  میں سپرد خاک ہوا۔ ان کی بہن فاطمہ تند گویان اپنے بھائی محمد جواد کی جوانی کے بارے میں کہتی ہیں کہ انکا ظاہر و باطن ایک ہی تھا وہ کئی پہلو والے انسان نہ تھے اہل افراط و تفریط نہ تھے، اہل شعر و مشاعرہ تھے، بڑی اچھی تفاسیر ان کے پاس تھیں۔ سادہ زندگی کو اپنے خاندان سے لیا تھا اورعوام فریبی سے دور تھے ۔

فاطمہ تندگویان کہتی ہیں کہ شہدا کی فکر کو معاشرے میں عام کریں، اس چیز کا کیا فائدہ کہ شہر کی تمام گلیاں اور ہائی وے سب شہدا کے نام پر ہیں ان کی بڑی بڑی تصویریں دیواروں پر آویزاں ہیں لیکن ہماری گفتار و رفتار ان جیسی نہ ہو۔

 شہید آزادہ نام کے سبق کہ جس میں شہید تند گویان کی سوانح حیات تھی، تدریسی کتب سے اس سبق کے حذف کرنے پر بھی انھیں شکوہ تھا ،وہ آج کے جوان کے لئے شہدا کو نمونہ عمل قرار دینے کے بارے میں کہہ رہی تھیں کہ اسی طرح وہ شہید خاندانوں کی روحی حالت کو کہ جب اسیر آزاد ہو ئے تھے اور محمد جواد،  خسروی کے باڈر پر استقبال  کے بارے میں بتا رہیں تھی ان تمام تر گفتگو درجہ زیل کے انڑویو میں ملاحظہ فرمائیں ۔،،،

سوال: محمد جواد کس خاندان میں پیدا ہو ئے؟ اور ان کے والد کس حد تک سیاسی تھے ؟

ہمارے خاندان میں دو ہی بچے تھے محمد جواد اور میں۔ محمد جواد بڑے تھے، ہمارا گھرانہ گو کہ مذہبی تھا لیکن کسی بھی طور ایک روایتی  گھرانہ نا تھا، ہمارے بابا اہل مطالعہ تھے اور ان کی نگاہ روشن فکرانہ مذہبی تھی میرے والد شریعت، مذھب اسلام پر تحلیلی نگاہ رکھتے تھے اور اسی فکر پر جواد کی تربیت ہوئی تھی میرے بابا ان لوگوں میں سے تھے کہ جو سیاسی ماحول کی سیاست کو اچھی طرح سمجھتے تھے۔ آیت اللہ کاشانی اور ڈاکڑ مصدق کے معاملے میں وہ فعال تھے اور مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میرے بابا جس جگہ کام کیا کرتے تھے وہ بہارستان  کے علاقے میں  پارلیمنٹ کے سامنے تھا۔ تمام تر تبدیلیوں کو انھوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے، وہ جس طرح ان تمام تر سیاسی حوادث کی خبر دیا کرتے تھے کہا جاسکتا ہے کہ وہ خود بھی اس میں شریک تھے لیکن کیوں کہ ان کی عمر زیادہ تھی اور کسی بھی تحریک یا گروہ کے رکن نہیں تھے۔ ہمارے گھرانے میں کم افرد تھے اور میرے والد تربیت کے معاملے میں بہت ہی زمہ دار اور حساس تھے ان کے لئے یہ بات بہت اہم تھی کہ وہ خود تربیت کے حوالے سے وقت دیں اور انھوں نے ایسا ہی کیا۔ اسی طرح ہماری ماں کہ جو ایک بہارد اور جرتمند  وباشہامت اور خیر خواہ خاتون تھیں۔ جواد نے کچھ والدصاحب سے کچھ والدہ سے لیا۔  محمد جواد تندگویان کس جگہ امام خمینی ﴿رہ﴾ سے آگاہ ہوئے اور انقلاب اسلامی کی تحریک سے آشناہوئے ہمارا گھرانہ ابتدا ہی سے سیاسی آگاہی رکھتاتھا، ابتدائی سالوں میں ہی ہم امام سے آگاہ ہو گئے تھے میں نے خود اسکول میں امام کا نام سنا تھا اور امام کو جانتی تھی۔ اسی سال ۴١۔۴۲ میں، میں اپنے بابا اور جواد کے ساتھ بہت سے واقعات کی شاہد ہوں کےجو بازار میں رونما ہوئے، اور امام کا رسالہ عملیہ ہمارے گھر میں موجود تھا۔ جواد نے اس رسالے کو ایک جگہ چھپا کر رکھا تھا اور جب بھی ضرورت ہوتی ہم اس سے استفادہ کرتے،امام کی تصویر تھی اسی سال ۴۲ میں امام کے نام اور کام سے ہمارا گھرانہ آشنا تھا ۔

 

سوال: محمد جواد تند گویان کالج میں کیسے تھے ان کی سیاسی سرگرمیاں کیا تھیں یا اگر وہ روشن  فکر تھے تو کس گروہ کے ساتھ تھے؟

کالج کے زمانے میں جواد ایک جوشیلے جوان تھے اوراحساس زمہ داری بہت زیادہ تھا جب تک کالج نہیں گئے ایک تفسیری مطالعہ دوستوں کے ساتھ مل کر لیا اور جو کچھ محلے کے کام ہو تے اسے انجام دیتے۔ طالب علم کمیٹی میں بھی فعال تھے پڑوسیوں کی مدد کرتے تھے۔ وہ معاشرے کی فکر کرنے والے انسان تھے اور کالج جانے کے بعد تو اور بھی زیادہ زمہ داراور وظیفہ شناس ہو گئے۔

انھوں نے شیراز کے کالج اور تہران کے کالج کے درمیان ایک چینل بنالیا تھا کہ اور سیاسی میدان میں اور سرگرم ہو گئے تھے، شہید مطہری و ڈاکڑ شریعتی، استاد جعفری کہ جو سیاسی افکار میں موثر تھے یہ ان افرد کو اپنے کالج میں دعوت دیا کرتے تھے اور ان سے گفتگو کیا کرتے تھے کہ جو بعد میں کتابی صورت اختیار کرگیا۔ امام کے پیغامات اسی دور میں انھوں نے کالج میں پھیلائے یہ بات ان کے امکان میں تھی کہ وہ کسی بھی گروہ کے ساتھ ملحق ہو جاتے لیکن وہ کسی بھی گروہ کے ساتھ نہ تھے۔

 

سوال: شہید تند گویان انقلاب سے پہلے ایک مدت تک قید میں تھے وہ کن کن افرد کے ساتھ وہاں قید تھے آپ کے پاس کیا معلومات ہے؟

جناب بھزاد نبوی سے جواد کے تعلقات اسی قید کے بعد ہوئے۔ وہ انکا خاص معتقد تھا اسی وجہ سے جواد کی اسیری کے بعد جناب بھزاد ہر سال ہمارے گھر آتے اور میرے والد سے ملتے، میرے والد اوران کے درمیان ایک خاص محبت پیدا گئی تھی، جناب پورنجاتی بھی اسی قید کے دور کے آشنا تھے۔ جواد ان کی ایک داستان سناتا تھا کہ جس میں انھوں نے مل کر قید خانے میں روزہ رکھا تھا، اسی دوران ڈاکڑ شریعتی بھی قید خانے تھے اور جواد کے بیرک میں ہی تھے۔ اس زمانے میں بہت سے افرد جیل میں تھے جناب آیت اللہ ہاشمی بھی تھے جواد ان کی باتیں بھی کرتا تھا۔

 

سوال: شہید تند گویان کس طرح اورکس کے مشورے پر وزارت پیڑولیم کے امید وار ہو ئے؟

جواد پچیس سال کے تھے اور ۵۷ میں جنوب میں  نیشنل آئل، کے ،سی ای او لگ گئے۔ یہ ایک اہم پوسٹ تھی۔ اس دوران اس علاقے میں جواد کی آمد و رفت زیادہ تھی اس کے علاوہ وہ پیپلز کمیونٹی میں بھی بہت سرگرم تھے  یہ سب عوامل ہیں اس بات کہ جواد ایک خاص شخصیت بن گئے اور پیڑولیم کے میدان میں ایک خاص اہمیت کے حامل ہو گئے، سابقہ انقلابی، جیل، مذہبی افکار، روشن فکر، یہ اب ان کی خصوصیات شمار ہوتی تھیں، جواد کا تیل کی صنعت سے ہی جناب بوشہری اور جناب سادات سے دوستانہ تھا، شہید بہشتی نے ان سے انڑویو لیا تھا ان کا انتخاب جواد تھا، پھرشہید رجائی نے ان کا انٹرویو لیا اور وہ سب اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ جواد میں وہ خصوصیات ہیں کہ جو ۲۷ ویں سا ل میں تیل کی صنعت کا وزیربن سکے۔ شہید تند گویان کے بارے میں پڑھا ہے کہ وہ بہت سادہ زندگی کیا کرتے تھے یہاں تک کہ وزارت سے جو انھیں گاڑی ملی تھی وہ بھی وہ استعمال نہیں کیا کرتے تھے۔

 

سوال: یہ ان کی خصوصیات تھیں یا انقلابی فضا کی زد میں آگئے تھے؟

سادہ زندگی ہمارے گھرانے کا خاصہ تھی، ان کی زندگی میں عوام فریبی ، نیرنگ جیسا کچھ نہ تھا، یہ ایک گھرانے کا چلن تھا کہ کہ جس کی فضا میں رہ کر وہ پلے بڑھے تھے۔ ہمارا رابطہ عوام سے اس طرح تھا کہ معاشرے کا فقر ہم دیکھ رہے تھے کہ جس سے لا پرواہ نہیں رہ سکتے تھے۔ ایسا انسان جب ایک ایسے گھرانے میں پلا بڑھا ہو تو وہ گاڑی بنگلہ نوکر چاکر  دفتر کو نہیں دیکھتا، اسی وجہ سے اپنی وزارت کے دوران جب جلدی ہ تی تھی اور گاڑی نہ ہو تو اسکوٹر پر اپنے دفتر چلے جاتے، وہاں سیکورٹی والوں نے جب انہیں روکا اور اندر جانے کی اجازت نہیں دی تو انہوں نے بتایا کہ میں وزیر ہوں۔ سیکورٹی والوں کو یقین نہیں آیا، جب گھر والے انہیں فون کرکے کہتے کہ کھانے پر کب آئیں گے؟ تو کہتے، دہی لیاہے؟ روٹی میں لے لونگا۔ دہی روٹی کھائیں گے، رات کے ١ بجے جب وہ کام سے آتے تو رات کے کھانے میں روٹی اور پنیر اور انگور اور دہی روٹی کھاتے ، لیکن انہوں نے اپنی زندگی کا یہ طریقہ کار کبھی ظاہر نہیں کیا تھا، یعنی اپنے طرز زندگی کو اپنی شہرت کا زریعہ نہیں بنایا تھا، یہ انکی زندگی کا انتخاب تھا اور اس کی بنیاد خدمت تھی کہ جسے وہ انجام دے رہے تھے۔ ایک زمہ داری ایک بھاری زمہ داری ہے کہ جسے وہ چھوڑ گئے اس راہ میں پل بھر کو بھی کوتاہی نہیں ہونی چاہیے، جواد ایک سال کی مدت کے لئے تیل والے علاقے کے مینیجر بنے۔ اس سے پہلے پارس خزر کے مینیجر بنے، وازرت کے دوران ۷ مرتبہ گھر تبدیل کیا سامان ادھر سے ادھر کیا اور سارا سامان ایک ڈاٹسن سے زیادہ نہیں تھا، جب ان کا چناو اس وزارت کے لئے ہوا تو اسی سادہ سی شرٹ کہ جس کا اوپر کا بٹن کھلا ہوا جینز کی پیٹ کہ جو وہ عام طور پر پہنا کرتے تھے، وہی پہنی۔ کوئی بھی تبدیلی نہیں آئی ان کا ظاہر اور باطن ایک ہی تھا، کوئی فرق نہیں تھا، ہمارے تمام شہدا کی بنیادی خصوصیت ان کی صداقت تھی۔ چہ بسا ان کا باطن انکے ظاہر سے خوبصورت اور دلکش ہو۔

کسی نے بھی ان کی نماز کے دوران اشکباری نہیں دیکھی تھی، جواد کو دعائے کمیل یاد تھی، قرآن کی بہترین تفسیر ان کے پاس تھی اور یہ سب ان کی دینی لگاو کی دلیل تھی، قرآن سے مانوس تھے۔ اس کی گہرائی کو سمجھتے تھے۔ جواد کے ان جلووں کو کسی نے بھی نہیں دیکھا، حافظ کے بہت سے اشعار انہیں حفظ تھے۔ وہ ہمیشہ مشاعروں میں جیتا کرتے تھے ، پھولوں کی پرورش کیا کرتے تھے، خاندان والوں سے اور دوسرے لوگوں سے بہت ہی دل گرمی کے ساتھ ملا کرتے تھے۔ ایسا ہرگز نہ تھا کہ روشن فکری نے انہیں سماج سے دور کردیا ہو وہ سب کے ساتھ اچھے تھے، اسی وجہ سے جواد کے ساتھ جب یہ حادثہ ہوا تو ان سے سب متاثر ہوئے، جواد ایک ایسے فرد تھے کہ جو کئی پہلو رکھتے اور طبیعی تھے۔ ایسا نہیں تھا کہ ہر وقت مسجد میں رہیں اور دعائیں کرتے رہیں یا ہمیشہ حالت جنگ میں رہیں وہ ہر سمت کی جانب متوجہ تھے۔

تحفے لانا اور مزاح کرنا انکا خاصہ تھا، جس طرح کے لوگوں میں جاتے ان میں گھل مل جاتے اور وہ بھی ان کے ساتھ ایک ہوجاتے۔ خاندان کے بوڑھے انہیں بہت پسند کرتے تھے، کہتے تھے کہ جواد ہمارے خاندان کی باقیات الصالحات ہو گا۔

 

سوال: ان کی زوجہ کے بارے میں کچھ، اس بارے میں بہت کم معلومات ہیں انھوں نے کس طرح سے اپنا گھر بسایا ؟

ان کی زوجہ ایک بہت ہی سادہ خاندان سے منتخب ہوئیں، ان کی شادی ایک انقلابی شادی تھی،۵۰ میں شادی کے دفتر میں عقد کیا، دلہن کا مہرقرآن کریم تھا اور شادی کی تقریب بہت ہی سادہ تھی۔ سب ملا کر ۳۰ افرد تھے انہوں نے خود ہی اپنے لئے سامان خرید لیا تھا۔ کوشش یہ تھی کہ وہ تمام رسومات کہ جو خاندانوں پر بوجھ ڈالتی ہیں انھیں ختم کیا جا ئے، کیوں کہ وہ اس طرح کی روایت شکنی کرتے تھے تو مشکل سے دوچار ہوجایا کرتے تھے لیکن دونوں طرف کے راضی کرنے کی کوشش ضرور کرتے ان کی زوجہ ایک صابرہ اور سیاسی طور پر آگاہ خاتون تھیں انہوں نے جواد کا ساتھ دیا، ساواک کی جیل میں جب وہ قید تھے تو اس وقت انکی زوجہ حاملہ تھیں۔ بہت ہی بردباری کا مظاہرہ کیا، وہ ہمیشہ جواد کے ساتھ رہیں۔ انقلاب کے بعد وہ ہمیشہ جواد کے ساتھ سفر کرتیں، اور جب وہ عراقی قید میں تھے تو اپنے تین بچوں کے ساتھ اور حاملہ ہونے کے باوجود بھی انھوں نے بہت صبر کا مظاہرہ کیا۔ یہ جواد کا بہترین انتخاب تھا۔

 

سوال: وہ کیسے قید ہو ئے؟

آبادان کی آئل فیکڑی میں ہڑتال تھی اور جواد کو ایک ماہ میں ۵ مرتبہ وہاں جانا پڑا کسی بھی وزیر نے جنگ کے اختتام تک یہ کام نہیں کیا اور جواد اس لئے وہاں جاتا تاکہ فوجی ساز و سامان کے جو جنگ میں کام آرہا تھا اس کے لئے ایندھن فراہم کیا جا سکے، اور ریفائنریز معطل نہ ہوں، اس سفر میں انکا راستہ آبادان، ماہ شہر اور جنوب کے علاقے کہ جو وہ گاڑی سے طے کرتے، آبادان میں موجود زخمیوں سے ملاقات کی۔ فائر بریگیڈز کے بارے میں بحرانی شرائط کو مد نظر رکھتے ہوئے انہوں نے کچھ کام انجام دیئے جس کی وجہ سے آئل ریفائنری بچ گئی،اس بحران میں انکی سربراہی ایک نایاب سربراہی تھی کہ جو انکی ذہانت پر دلالت کرتی تھی۔  وہ اس وقت انڈسٹریل مینیجمینٹ کے ماسٹر تھے۔ ان کا آخری سفر بھی اچانک طے پایا تھا اس سفر سے پہلے انہوں نے مجھ سے فون پر بات کی آدھے گھنٹے کی بات ہوئی اور وہاں کی باتیں بتائیں، جنوب کے سفر سے ایک روز پہلے عید غدیر تھی، وہ والد صاحب کے پاس آئے اور کہا کہ مجھے ایک مشکل سفر درپیش ہے۔ وصیتیں کیں اور اپنا خمس اور دیگر قرض وغیرہ ان کو بتایا۔

جواد جانتے تھے کہ جس راہ کو انہوں نے چنا ہے وہ کیا ہے، آئل فیکڑی کے افرد نے ہڑتال کر رکھی تھی اور کہہ رہے تھے کہ خطرہ زیادہ ہے کام کرنے کی  شرائط  نہیں ہیں لہذا کام نہیں کریں گے۔ مگر یہ کہ پٹرولیم کے وزیرخود یہاں پر موجود ہوں، اس وجہ سے جواد نے یہ سفر کیا کہ وزیر کی جان وہاں پر کام کرنے والوں کی جان سے زیادہ قیمتی نہیں۔ لیکن جس  راستے پر انہوں نے جانا تھا تاکہ پائپ لائن تک پہنچ جا ئیں وہ راستہ بند تھا اور خبر یہ تھی کہ یہ روڈ اپنے ہی فوجیوں کے ہاتھ میں ہے وہاں وہ گرفتار ہوگئے۔ انھوں نے اس بنا پر اس راستے کو اختیار کیا تھا کہ انھیں اس بات کی اطلاع تھی کہ یہ رستہ دشمنوں کے ہاتھوں سے نکل چکا ہے، اس ٹیم میں، سابق وزیرپیٹرولیم ڈاکڑمعین فر، ڈاکڑمنافی اور جناب بوشہری صاحب بھی تھے کہ جو اس کے پیچھے والی گاڑی میں آرہے تھے، جناب بو شہری کہتے ہیں کہ جن فوجیوں نے ہمارا راستہ روکا تھا انھوں نے ایرانی فوجیوں کے لباس پہن رکھے تھے، پہلے تو میں سمجھا کہ اپنے ہیں لیکن بعد میں متوجہ ہوا کہ یہ ایرانی نہیں ہیں انھوں نے اس ٹیم پر فائر کھول دیا تھا کہ جو لگا نہیں۔ گاڑی میں بیٹھے ہوئے افرد میں سے ایک کو اتارا، گاڑی میں بیٹھے افرد بھاگنا چاہتے تھے کہ ان کا ایک آدمی زمین پر گرگیا، جناب بوشہری کہتے ہیں کہ جواد نے اس وقت کہا کہ یہ تو بزدلی ہو گی کہ اسے چھوڑ کر ہم نکل جائیں ہم ساتھ آئے تھے۔ اسی وقت انھوں نے اپنے کارڈ پھاڑ ڈالے تاکہ ان کی شناخت نہ ہو بعد میں ۳۰۰ ایرانی اسیر کہ جن پر ٹینک چلایا جانا تھا ان کی نجات کے لئے  انھوں نے اپنی پہچان کروائی کیوں کہ یہ بھی ان کے ساتھ قید تھے  اور عراقیوں کے ذہن میں یہ آیا کہ ہو سکتا ہے کہ ان میں کوئی اور اونچی پوسٹ کا فرد ہو اس وجہ سے انھوں نے ان ۳۰۰ افرد کو نہیں مارا۔

 

سوال: صدام انکی اسیری سے کیا کام لینا چاہتا تھا ، نہیں معلوم انہیں کیوں مارا ؟

صدام نے بہت چاہا کہ جواد کی آزادی کے بدلے کچھ لے، بہت مرتبہ بہت سی پیشکشیں ہوئیں، پہلے تو ان سب میں ایک جذبہ ایثار تھا کہ جس کی وجہ سے ان کے گھر والے راضی نہ تھے دوسری جانب ہم اس بات کو جانتے تھے کہ ان باتوں سے جواد بھی راضی نہیں ہے، ہمارا جواد کے ساتھ کوئی ایسا رابطہ نہیں تھا۔ وہی چند ایک خطوط تھے کہ جو انہوں نے اسیری کے شروع کے دنوں میں لکھے تھے اس بات کا احتمال ہے کہ انھوں نے اس سے یہ اجازت بھی لے لی ہو گی جو معلومات جواد سے درکار تھی وہ لے لی ہو گی اسی وجہ سے انہوں نے اپنے آخری خط میں لکھا تھا کہ میں جواد تند گویان، جنگ کا اسیر ہوں اور اپنے گھر والوں سے رابطے کی جانب مائل نہیں ہوں، یہ جملے  معنٰی سے پُر تھے یعنی انہوں نے کہا تھا کہ میں جنگ کا اسیر ہوں نہ اسیر جنگ ہوں۔

 

سوال: انھوں نے اپنی اسیری کے دوران اپنے گھر والوں کو  کتنے خط لکھے اور کن مسائل کو بیان کیا؟

سب ملا کر ۵ خط تھے ۳ ماں باپ کو اور ۲ اپنی زوجہ کو لکھے تھے اور خط دوجملوں سے زیادہ نہیں ہوتے، مثلا لکھا تھا کہ نئے آنے والے کے قدم مبارک ہوں اسے تحفہ کے طور پر رکھو ان شا اللہ وہ سب کی ہدایت کا عامل ہو گا، وہ اپنی اسیری کے دوران زیادہ تر انٹیلیجنس کے پاس ہوتے یا پھر کال کوٹھری میں۔ ہاں البتہ انہیں دوسرے اسیروں کے ساتھ اور کویتی اسیروں کے ساتھ ڈسپنسری میں دیکھا گیا تھا، شاید تشدد کے بعد انہیں وہاں لایا گیا تھا اور وہیں انہوں نے دوسرے اسیروں کو اپنی شناخت کروائی ہوگی۔ ایک ایرانی اسیر نے ان سے کہا تھا کہ  گھر والوں کوکو ئی پیغام دینا ہو تو دو تو انہوں نے کہا کہ صرف ایک پیغام کہ صبر و استقامت بس۔

 

سوال: آپ لوگ ان کی اسیری کے بارے میں کیسے آگاہ ہو ئے؟

 ڈاکڑ منافی کی بہن نے مجھے صبح ٦ بجے فون کیا اور کہا کہ ایسا ایسا ہو گیا ہے اور صبح ۸ بجے تمام اخبارات میں یہ خبر شائع ہو چکی تھی۔ ہماری والدہ بہت پریشان ہوئیں کیوں کہ انہیں جواد بہت عزیزتھا، میں ان کے پاس گئی اور میں نے انھیں آرام آرام سے یہ خبر سنائی اور کہا کہ بات چیت چل رہی ہے ہو سکتا ہے کہ دو ایک ہفتے میں آجائے۔ کیوں کہ مجھے معلوم تھا کہ اس غم کو وہ سہہ نہ پائیں گی۔ لہذا ایسا بیان کہ جیسے کوئی بات ہی نہیں ہوئی لیکن یہ مسئلہ اتنا سادہ نہیں تھا کہ جو یہاں تک پہنچا۔

جواد جنگ کے اختتام تک زندہ تھے اور انہوں نے تمام ترصعبتوں کو برداشت کیا تھا جواد اسیروں کی آزادی کے بعد شہید کئے گئے، آخری تصویر کہ جو ہمیں جواد کی ملی تھی اس سے معلوم ہوتا تھا کہ جواد پر کتنی سختیاں گذر گئیں وہ ایک ایسے ڈھانچے  میں تبدیل ہو چکے تھے کہ جس پرصرف کھال لپٹی ہو اور جب ہم نے ان کا بدن اپنی تحویل میں لیا اور وہ دوست کہ جو ان کی تشیع میں گئے تھے وہ بتارہے تھے انکی ہڈیاں ٹوٹی ہوئی تھیں کھونپڑی چکناچور تھی، شکنجے کی واجہ سے دانت ٹوٹ چکے تھے۔ ہمیں شہید تند گویان ،شہید کریم و شہید ہمت کہ جو مقاومت کے ہیرو ہیں ان کے کردار کو اپنے معاشرے میں رائج کرنا ہوگا ہمیں ان کو محفوظ کرنا ہو گا۔ ابھی بھی ہو سکتا ہے ایران کے گوشے گوشے میں  ایسے قربانی کے پیکر موجود ہیں۔ اس گفتگو کا ایک سبب تو یہ ہے کہ بعض بڑی شخصیات کی جانب بازگشت ہو کہ جنھیں اپنی حیات میں یہ فرصت نہیں ملی کہ انھیں پہچانا جائے۔

 



 
صارفین کی تعداد: 3277


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
حسن مولائی کی یادیں

سو افراد، سینکڑوں افراد، ہزاروں

وہ لوگ جو چند گھنٹوں پہلے جمرات جا رہے تھے تاکہ رمی جمرات کا فریضہ ادا کرسکیں اب تولیہ اوڑھے سو رہے تھے۔ جب جنازے ختم ہوئے، تو مجھے سمجھ نہیں آئی کہ مجھے کہاں لوٹنا چاہئیے۔ اچانک میرے پیروں نے کام کرنا چھوڑ دیا اور میں نے پہلی مرتبہ وہاں گریہ کرنا شروع کردیا۔ واپس پلٹ کر ان سفید پیکروں کو دیکھنا شروع کیا۔ پوری سڑک جنازوں سے سفید ہوچکی تھی۔ ایک جوان مرد کی آواز پر چونکا جو میرے ساتھ کھڑا تھا اور میرے پیروں کے سامنے چپلیں رکھ رہا تھا۔
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔