خبر رساں ایجنسی ابنا کی زبانی تاریخ کے شعبے کے سیکرٹری سے گفتگو

کاظمی: زبانی تاریخ ملت کی پناہ گاہ ہے


2015-08-30


محسن کاظمی صاحب ،لکھاری اور  محقق ہیں کہ اس بات کہ معتقد ہیں کہ تاریخ شفاہی کا بیشتر حصہ طاقتوروں کا مورد نظر ہے۔ آج کل اس بات کی کوشش زیادہ ہے کہ مراکز بنائیں جائیں اور ان میں طاقتور افرد کی آپ بیتیاں شائع ہوں، زبانی تاریخ کے عنوان سے نہیں بلکہ میں اسے ایک گرین ہاوس کا نام دونگا ،وہ آپ بیتیاں کہ جو غیر طبیعی راستے سے بیان کی جا تی ہیں وہ آپ بیتی سازی ہے کہ جس کے زریعے سے  سیاسی ڈوپنگ کی جا تی ہے ۔ 

محسن کاظمی صاحب کا شمار آپ بیتی اور زبانی تاریخ کی جمع آوری میں ایک فعال شخصیت کے طور پر پہچانے جا تے ہیں، وہ روایت کہ جو انکی کتابوں میں آئیں ہیں اس میں ایک خاص توجہ پائی جاتی ہے۔ کاظمی صاحب اپنی تحریر میں ایک خاص نگاہ رکھتے ہیں ان کی تلاش و جستجو میں ان کی یہ نگاہ کتابوں کی سطور اور ان کے حاشیے میں بخوبی نظر آتی ہے ان کی  اسی کوشش نے ان ساتھ کام کرنے والوں اور زبانی تاریخ میں سرگرم کام کرنے والوں کی نگاہ میں ان کے کام کو  قابل اعتبار کیا ہے،

جواد منصوری کی آپ بیتی ،شہید صیاد کے سفر کی روداد ، احمد احمد کی آپ بیتی ، مرضیہ حدیدچی دباغ کی یاداشتیں ،شب ھائے بی مہتاب یعنی سیاہ راتیں ، عزت شاہی کی آپ بیتی ، نوشتم تا بماند یعنی لکھوں تاکہ باقی رہ جائے، یہ وہ عناوین ہیں کہ جو کاظمی صاحب نے انتخاب کئے ہیں کہ ان میں سے بیشتر وہ آثار ہیں کہ جو دفاع مقدس کے سلسلے میں لکھے گئے ہیں اور انھیں انقلاب کی ریسرچ میں مقام خاص ملا ہے، کاظمی صاحب کی تحریر کی خصوصیت سادہ و سلیس و محققانہ بیان ہے کہ جسے بڑی آسانی سے پڑھا جاسکتا ہے ان کی تحریریں زیادہ تو ایک روش کے عنوان سے دیکھی جاتی ہیں اور زیادہ تر انھیں دستاویزات کے عنوان سے لیا جاتا ہے، اسی وجہ سے ایام اللہ عشرہ فجر کے موقع پر خبر رساں ایجنسی نے ادب اور انقلاب اسلامی کے عنوان سےاپنے انٹرویو روم میں ان سے ملاقات کی تاکہ تاریخ انقلاب پر ریسرچ کے حوالے سے ان سے گفتگو کی جا ئے اور ان کی ماہرانہ رائے کو معلوم کیا جائے ۔


کاظمی صاحب آپ نے اس میدان میں کیوں قدم رکھا ؟
اس سوال کا بہترین جواب یہ ہے کہ مجھ میں اس موضوع پر لکھنے کا انگیزہ تھا کہ جو اس بات کا مقدمہ بنا، میرے ذہن میں انقلاب کے بارے میں بزرگووں سے پوچھے گئے سوال موجود تھے جو اس بات کا سبب بنے کہ میں یادداشت نویسی کی جانب آوں، میں نے اپنی نوجوانی اور جوانی انقلاب میں گذاری او ر جوان نسل کی مانند وہ ماحول کے جو اس وقت وجود میں آیا تھا میں نے اس میں رشد پایا اور انقلاب کی نسبت خود میں جاں نثاری پیدا کی ۔

انقلاب سے محبت کہ باوجود میرے لئے یہ مسئلہ سوالوں سے بھرا ہوا تھا ان سوالوں کے جوابات کی تلاش میں ،میں نے بہت کوشش کی تاکہ اپنے سوالوں کے جوابات حاصل کر لوں لیکن میں نے جتنے بھی مقالات اور کتابیں پڑھیں ان میں اپنے سوالوں کے جوابات نہیں پائے، اگرچہ میں نے اس سلسلے میں بہت مقالات و کتابیں پڑھی ہیں لیکن ایسا لگتا ہے کہ ان کی تحریر کا ہدف صحیح بات نہیں ہے، مجھے میرے سوالوں کے جوابات کافی کوشش کے باوجود نہیں ملے اور میں اس جستجو میں ان افراد تک پہنچادیا گیا کہ جنھوں نے انقلاب کو جنم دیا تھا اسی وجہ سے میں ایسی شخصیات کے پاس گیا کہ جو انقلاب کے اصل مجاہد تھے ان سے گفتگو ہو ئی اور پھر ان سے میں نے انقلاب کے بنیادی دلائل ،اہداف و ان کا طریقہ کار، ان کا شعار، اور سیاست کے بارے میں ان سے سوالات کئے ۔

ان افرد کی گفتگو سے بھی کوئی خاطر خواہ فائدہ نہ ہوسکا ،کیوں کہ میرا ان کے پاس جانا انھیں میرے بارے میں مشکوک کر رہا تھا۔ بہرحال جستجو اور تلاش کے باوجود مجھے اب تک بہت سے سوالوں کے جواب نہیں مل سکے اور ابھی تک میں اپنی تلاش میں جتا ہوا ہوں، یہی وجہ ہوئی کہ میں روداد نویسی سے تاریخ شفاہی یا زبانی تاریخ کی جانب آیا۔

روداد نویسی یا آپ بیتی میں فرد محور ہوتا ہے اور یہی فرد آگے آتا ہے اور وہ فرد اپنے کردار کو سیاسی واقعات میں، ثقافتی و اجتماعی حیثیت سے، بڑا کرنے کی کوشش کرتاہے اور کبھی کبھی یہ آپ بیتیاں ایک دوسرے سے یا پارٹی کے حوالے سے، بھڑاس نکالنے کے لئے بھی ہوتی ہیں۔ کبھی یہ آپ بیتیاں اپنے گذشتہ کے کردار سے برات کا اظہار ہوتا ہے تو کبھی یہ آپ بیتیاں گذشتہ گناہوں اور خطاوں پر پردہ ڈالنے کے لئے ہوتی ہیں اور کبھی اپنے کسی اچھے کام کی پاداش کے انتظارمیں یہ آپ بیتیاں بیان ہوتی ہیں، میں اس بات پر اعتقاد رکھتا ہوں کہ روداد نویسی کو جو چیز اس راہ سے ہٹا سکتی ہے وہ زبانی تاریخ ہی ہے۔ کیوں کہ زبانی تاریخ میں مختلف باتوں کو آمنے سامنے رکھا جاتا ہے اور اس طرح سے صحیح اور غلط کا ایک ترازو بن جاتا ہے ۔

زبانی تاریخ کے کیا فوائد ہیں ؟

زبانی تاریخ میں چند پہلووں کو ایک ساتھ دیکھا جاتا ہے۔ یہ Testableہے اور عمومی ضروریات کو پورا کرتی ہے، ایک بنیاد  اور سماج کے کم تر نظر آنے والوں کو پناہ دیتی ہے تاکہ وہ دکھائی اور سنائی دیں، زبانی تاریخ میں مختلف روایات کو ایک دوسرے کے سامنے رکھا جاتا ہے اور یہ تاریخ اس روایت کے معنٰی اور مفہوم کو امکانی حد تک ظاہر کر تی ہے۔ تاریخ شفاہی میں ریسرچ کااعلیٰ مقام ہے۔ داستانیں اور راویوں مشاہدات اور درست سوالوں کے زریعے سے انٹرویو، اور اس کے بعد ایک میدانی تحقیق اور دستاویزات کی چھان پھٹک تاریخ سے نزدیک کر دیتے ہیں جبکہ آپ بیتی ایسا نہیں کرتی ہاں البتہ یہ شعبہ بھی آسیب زدہ اور نشیب و فراز رکھتا ہے۔

آخر تاریخ انقلاب ہی کیوں ؟

اگرچہ میں نے جنگی آثار کو بھی منتشر کیا ہے لیکن میرا زیادہ تر کام تاریخ انقلاب پر ہے۔ اگر انقلاب اسلامی کے بعد ١۰۰ یونٹ مد نظر رکھوں توان میں سے ۸۰ یا ۹۰ یونٹ کہ جو منتشر ہو چکے ہیں ان کا تعلق دفاع مقدس سے ہے اور اس میں اب تک انقلاب کی تاریخ صرف ١۰ سے لیکر ۲۰ یونٹ تک ہے، آخر کیوں اس میدان میں مصنفین تمایل نہیں رکھتے؟ اس وجہ سے کہ اس موضوع میں حساسیت زیادہ ہے لیکن دفاع مقدس میں زمہ داری معلوم اور مشخص ہے کیوں کہ اس کا لاحقہ مقدس ہے اور اس پرلکھنا بھی آسان ہے۔ خصوصاًاس صورت میں کہ جب اس کی تحلیل بھی نہیں کرنی بس کچھ یاد داشتیں، قید خانے، چھاونیاں، آپریشنز، کتنی آسان ہے تحقیق لیکن انقلاب کے موضوع پر لکھنا ایک خطرہ ہے۔ کیوں کہ اس میں قلم  ایک باریک سی نظریاتی سرحد پر چلتا ہے اور اس کے زمانے میں بہت سے گروہ، تنظیمیں کام کر رہی تھیں اور آج ان کاصرف کتابوں کے علاوہ کہیں بھی کو ئی نشان نہیں، ان گروہوں کو بیان کرنا بہت حساس اور خطرناک مسئلہ ہے۔ اس میں ریسرچر کو نظریاتی سرحد پر چلنا ہو گا اور یہ بات پریشان کن ہے۔

میں نے جو عزم اس شعبے سے کر رکھا ہے اسی پر میں اپنی ریسرچ میں مشغول ہوں، اگر چہ دفاع مقدس پر میرے لئے لکھنا آسان ہے کیوں کے تمام تر دستاویزات ہماری دسترس میں ہیں اور انقلاب کے بعد کا زمانہ ہے جبکہ انقلاب کا فاصلہ زیادہ ہے جبکہ انقلاب ایک تاریخ میں تبدیل ہو چکا ہے ۔

آپ کی کتابیں صرف مسلمان گروہ کے بارے میں ہیں ،دوسرے گروہ کے جو انقلاب کے لئے کام کررہے تھے ان کے لئے آپ نے کچھ کیوں نہ لکھا؟

یہ کام ایسا نہیں کہ میں اپنی نظریاتی حدود کی بنا پر دوسرے افرد کے پاس نہ گیا ،میں بہت سے ایسے گروہ اور تنظیموں سے آشنا ہوں اور ان کی وجہ سے میں نے مسلم مبارزین کو بیان کیا ہے، مسلمانوں کے لئے یہ امکان ہے کہ وہ آج کے ماحول کے مطابق اپنی نظر دے سکیں، اپنی بات اور اپنے نظریات بیان کر سکیں، لیکن دوسرے گروہ اس ماحول میں اتنے آزاد نہیں ہیں البتہ ملک سے باہر ایسا کچھ ہو سکتا ہے لیکن ملک میں رہتے ہوئے انقلاب کے لئے تحلیل و ریسرچ، کیوں اور کیسے کہنا ہے زرا مشکل ہے۔ اس حال میں مسلم نظرئیے کے پرچارکے ساتھ غیر اسلامی تحریکوں جیسے بغاوت ،فدائیان خلق کی تنظیم اور قومیت کی بنا پر بنی تنظیموں کو بیان کرنا مشکل ہے اس کے باوجود میں نے اپنی کتابوں میں ان افراد کی سرنوشت، ان کے لیڈروں ان کے کارکنوں نیز ان کے اعتقادادت و اہداف حاشیوں میں بیان کیا ہے ۔

تمام گروہ اور تنظیموں کے بارے میں کہ جنھوں نے انقلاب کے لئے کام کیا ہے یا کوئی کردار اد ا کیا ہے میں نے تحقیق کی ہے اور ایک انقلاب اسلامی کے محقق اور ایک ریسرچر کے عنوان سے میں کسی بھی مطلب پر حق و باطل کی مہر نہیں لگاتا اور نہ ہی خود کو کسی قاضی کی مانند سمجھتاہوں کہ فیصلہ کر سکوں ہاں البتہ جس نے بیس سال اس موضوع پر ریسرچ کی ہو تو خود کو اتنا حق تو دیتا ہوں کی انقلاب کے تمایل کی بحث کرے۔ لیکن میں خود کو یہ اجازت نہیں دیتا کہ میرا تمایل میری کتاب میں جولان پائے، لیکن اتنا ضرور ہے کہ بہت سے راویوں کے دعووں پر سوالیہ نشان چھوڑ دوں، ان کی باتوں کا اعتبار کر کے ان کی چھان پھٹک کروں، انٹرویوز لینے والے خود کو معلومات سے مسلح کرتے ہیں میں دوران انٹر ویو افرد کو پھنسا تا ہوں اور یہ کام میں دوران انٹرویو بھی کرتا ہوں اور انٹرویو کے بعد دستاویزات اور دیگر اسناد و مدارک سے اور دوسروں سے حکایت کی روایت کو امانتاً ذکر کرکے یہ کام انجام دیتا ہوں تاکہ جو بات بیان ہو رہی ہے اس میں تواتر یا تکرار پیدا کروں۔

آیا آپ کے تمایل کی آپ کے کام میں مداخلت ہے؟

میں اس بات کا معتقد ہوں کہ مخاطب کے شعور کا احترام کیا جا ئے اگرچہ کبھی ایسا لگتا ہے کہ مخاطب غلطی سے ایک ایسے ماحول میں داخل ہو رہا ہے کہ جہاں اسے داخل نہیں ہونا چاہیے تھا اور دوسروں کاآلہ کار بن رہاہے۔ بس ہمارا قصور صرف اتناہے ،اگر ہم مخاطب کو صحیح معلومات دیں گے تو یہ بات بھی نہیں ہو گی۔ وہ کسی بھی غلطی میں نہیں پڑے گا ،اپنے کام میں میری یہ کوشش رہتی ہے کہ سیاسی و اجتماعی موضوع پر ایسی معلومات مخاطب کو دوں کہ وہ صحیح فیصلہ کر سکے اور روای کی بات صحیح ہے یا نادرست ہے اس کی تشخیص دے ۔،کبھی راوی میرے تمایل کے برخلاف ہوا لیکن میں مخاطب کو اس مطلب کے لئے دلیل دی اور اسے غلطی سے بچایا کیوں کہ میری ریسرچ میں ،میں اپنے مخاطب کو بات کو سمجھنے کے سارے اوزار دیئے دیتا ہوں۔ اگر میرے آثار میں کوئی خلا آیا بھی تو اس وجہ سے کہ میرے پاس اس بات کی اطلاعات نہ تھی ۔

تاریخ شفاہی میں جو کچھ شائع ہوا وہ ہماری کامیابی ہے لیکن ہماری ناکامی کا کوئی ذکر نہیں ،مثال کے طور پر ہم نے بہت سے افراد سے انٹرویو کرنے لئے ان سے بات کی لیکن ان کی ذہنی فکر کو توڑنے میں ہمیں کامیابی نہیں ہو ئی اور کبھی جو میری کتابوں میں حاشیہ آتا ہے کہ جو رنج اس سلسلے میں ہم نے اُٹھایا ہوتا ہے وہ اس پریشانی کا کچھ حصہ ہوتا ہےکہ جو بیان کیا جاتاہے  ۔

جو کچھ کتابوں میں لکھا جاتا ہے کیا اس میں کافی وقت لگتاہے ؟

کئی مرتبہ ایسا ہو اکہ شخصیت کا انٹرویو لینے میں مہینے لگے لیکن کتاب میں چندسطروں سے زیادہ نہ آسکا۔ لیکن پڑھنے والا اس طاقت فرسا کام کی جانب متوجہ نہیں ہوتا حتی کہ جس میں مہینے لگ جاتے ہیں۔ انہیں چند سطروں کے بارے میں بھی معلوم نہیں ہوتا، لہذا ضروری ہے کہ کتاب کے شروع میں ایک ایسی معلومات ہونی چاہیے کہ جس میں یہ تحریر ہو کہ اس کتاب کو کتنی مدت میں لکھا گیا ہے یا اس کتاب کی جمع آوری میں کتنی پریشان ہوئی ہے۔ مثال کے طور پر کتاب "سال ھای بی قرار" میں، میں ایک شخصیت کہ جن کا نام ھاشیمیان تھا تک پہنچتا ہوں۔ مجھے ان کا نام تک معلوم نہیں تھا وہ علوی اسکول کے استاد تھے پھر و ہ اس مدرسے سے چلے گئے۔ مرحوم ہاشیمیان نے ایران میں پچاس سال پہلے کتاب کو اسٹال لگا کر بیچنے کا کام شروع کیا۔ ہم اب تک اس کام کو غرب کی ایجاد کہتے ہیں ،وہ اپنی تنخواہ سے مختلف انتشارات سے کتابیں خریدتے ،میں نے اس شخصیت کو کئی مہینوں میں بہت کوشش کے بعد تلاش کیا ۔

کاظمی صاحب آپ کی کتابوں کو اتنا ٹائم کیوں لگتا ہے ایک کتاب کے بعد دوسری کتاب کے لکھنے میں کافی  وقفہ ہو جاتا ہے ؟

میری کتابیں طولانی مدت کی ہیں مجھے اپنی کتاب کے چھپنے کی کوئی جلدی نہیں۔ میں اس سلسلے میں کافی صبر والا ہوں اور یہ آرام میرے کام کا حصہ ہے اور یہ بات سبب بنتی ہے کہ میں بیشتر معلومات حاصل کرسکوں۔ ابھی میرے ہاتھوں میں ایک ایسا کام ہے کہ جس کا آغاز میں نے دس سال پہلے کیا تھا میری ریسرچ زیادہ ہے کیوں کہ میں اس بات کے انتظار میں ہوں کہ میرے بعض حوالے جات اور میری جستجو ثمر آور ہو جائے۔ دوسرے کام بھی انجام دے رہا ہوں آگے بڑھ رہا ہوں ۔

ہمارے ملک میں زبانی تاریخ کا دوسرے مملک کی بہ نسبت کیا مقام ہے؟

شروع شروع میں زبانی تاریخ کا کو ئی خاص مقام نہ تھا اور وہ صرف ایک تجربہ تھا، جب ہم ان انٹرویوز کو ملا کر دیکھ رہے تھے تو اس وقت ہم اس بات کی جانب متوجہ ہوئے کہ دنیا میں تاریخ شفاہی کا کام ہوتاہے، تاریخ شفاہی کا شعبہ ابتدا میں روداد کا دفتر اور آپ بیتی کے عنوان سے پہچانا جاتا تھا ہم تدریجاً زبانی تاریخ کی جانب بڑھے ہیں، ہم تھیوری میں بہت سے ممالک سے پیچھے تھے لیکن آج اس میدان میں کچھ کہنے کے قابل ہوگئے ہیں۔ لیکن ہمارا تجربہ اور ہماری باتیں علمی اور طریقہ نہ ہو نے وجہ سے دنیا میں بیان کے قابل نہیں ہیں۔ جبکہ ہمارے پاس دوسرے ممالک کی نسبت تجربہ زیادہ ہے۔  حال حاضر میں نظریاتی اور طریقہ کار کی مشکل تاریخ شفاہی کی بنیادی مشکل ہے  ۔

زبانی تاریخ شفاہی ملت کی پناہ گاہ ہے اورتاریخ نگاری جمہوری ترین نوع شمار ہو تی ہے،میں گمنام افرد کی تاریخ نگاری کا شوق رکھتا ہوں جبکہ ہمارے ملک میں تاریخ نگاری مشہور افرد کی شخصیات اور قبائل کے طور طریقے کو بیان کرنے کا نام ہے، میں نے مشہور افرد کے بارے میں لکھا ہے وہ اس وقت مشہور نہ تھے بلکہ میری کتاب کی وجہ سے وہ پہنچانے گئے ۔

آپ اپنی کتاب کے مقدمے میں گفتگو کی جزئیات بھی لکھتے ہیں؟

میں چاہتاہوں کہ وہ سوالات کہ جو قاری کے ذہن میں اس انٹرویو کی وجہ سے ابھرتے ہیں ان کے جوابات بھی دوں۔ بالخصوص وہ انٹرویوز کہ جن میں میرے لئے مشکل ہوئی تھی کبھی اس بات کی کوشش کرتاہوں کہ وہ پریشانیاں کہ جو ہم اس سلسلے میں اُٹھاتے ہیں ان کا ایک چھوٹا ساحصہ قاری تک منتقل کروں یا اپنا غم ان سے بانٹ لو۔

کاظمی صاحب کتاب کی تحریر میں آپ کا کوئی خاص انداز ہے کہ جس پر آپ نے عمل کیا ہے ؟

تاریخ شفاہی میں میرا اعتقاد یہ نہیں کہ میں شخصیات کے کلمات کو لفظ بہ لفظ بیان کروں، لیکن اس بات پر بھی ایمان ہے کہ کلام کی اصل اور معنٰی کو محفوظ کروں۔ میرے آگے بڑھنے کی روش میں ادب اور کلمات میں توجہ ہے اسی لئے بعض کہتے ہیں کہ میری کتابیں تاریخ کی نسبت ادب سے زیادہ نزدیک ہیں، احمد احمد کی آپ بیتی کی کتاب کی اشاعت نے ایک خاص رخ اختیار کیا ہے یہ آپ بیتی اپنے حاشیوں کے ساتھ شخصیات و عمارات و واقعات کے عنوان سے شائع ہو ئی۔ کیوں کہ مجھے اس کام کا تجربہ نہ تھا۔ جس کی وجہ سے مجھ پر بہت تنقید ہوئی کیوں کہ میں نے روداد نویسی کے قوانین کو توڑا تھا۔ لیکن انہیں افراد نے کہ جنھوں نے مجھ پر میری روش کی وجہ سے تنقید کی تھی بعد میں انھوں نے اس روش کو اختیار کرتے ہو ئے اپنی کتاب لکھی ۔

سال ھای بے قرار پر تجدید نظرکیوں ؟

میں نے کتاب کے چھپنے کے چودہ سالوں کے بعد اس کام کا ارادہ کیا کیوں کہ جواد منصوری کی روداد اس میں کم تھی۔ کیوں کہ میرے پاس تحقیق کا امکان کم تھا، میری کتاب کے مسودہ جات ہمیشہ کھلے ہیں اور میں برابر اس میں تبدیلیاں کرتا رہتا ہوں۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ میں کتاب کو دوبارہ شائع کرنا چاہتا ہوں۔ مثال کے طور پر مختلف ایجنسیاں نئی دستاویزات کو شائع کرتی ہیں اور دوسرے افراد کی آپ بیتیاں بیان کرتی ہیں کہ جو اضافی معلومات کا سبب بنتی ہے اور میں ان معلومات کو اپنی کتاب میں منتقل کر دیتا ہوں اس کے علاوہ لوگ اپنے افکار بھی تبدیل کر دیتے ہیں ،روداد عزت شاہی کی طبع دہم کی وجہ بھی یہی تھی ۔

آپ اپنی تحریروں میں کبھی کبھی اسم مستعار کیوں استعمال کرتے ہیں ؟

میں یہ کام اس لئے کرتا ہوں تاکہ بعض افرد کی آبرو بچ جا ئے۔ اس شخص کی غلطیوں کی وجہ سے اس کے خاندان پر کوئی آنچ نہ آئے۔ لیکن جب دوسری کتابوں میں ان کے نام اور کارنامے شائع ہو جاتے ہیں تو پھر میں بھی ان کے نام نہیں چھپاتا، ہمارے کام میں اخلاقیات موجود ہیں۔ تاریخی واقعات کو بیان کرتے ہوئے اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے، میری نگاہ مستقبل پر ہے لیکن آج کے اخلاق کو بھی مد نظر رکھنا ہے ۔


انڑیو ز کا عمل کس حد تک زبانی تاریخ میں موثر ہے ؟

زبانی تاریخ کا بنیادی رکن یہی انٹرویو ہے۔ یعنی اگر انٹر ویو دینے والا فرد سوالات کو خوب سمجھے، لوگوں کے اعتماد کو جذب کرے، اخلاقیات کا پابند رہے، یہ سارے موارد انٹرویو کی کیفیت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ انٹرویو کے درمیان اخلاقی اقدار کا پابند ہونا،تاریخ شفاہی میں تین نکات اہم ہیں،انڑویو کا طریقہ، آپ بیتی کہ جو بیان ہو رہی ہے، اور پھر تحقیق آج جو بھی بغیر تحقیق کے انڑویو کرتا ہے وہ زبانی تاریخ کا کام نہیں کر رہا۔

معلومات کا عام دسترس میں نہ ہونا تحقیق و ریسرچ کے کاموں کو سخت کر دیتاہے ؟
محقق اپنی راہ کا انتخاب خود ہی کرتا ہے یعنی اس کو علم ہو ا چاہیے کہ کیا کرنا ہے اور کیسے کرنا ہے۔ ابھی بعض ادارے ایسے ہیں کہ جنھوں نے دستاویزات اور معلومات کو سنسر کے ساتھ منتشر کیا ہے۔

آج جو کتابیں تاریخ شفاہی کے سلسلے میں چھپ رہیں ہیں ان کے بارے میں آپ کی رائے کیا ہے ؟

تاریخ شفاہی قدرت مندوں کےہاتھ میں ہے ،آج اس  بات کی زیادہ کوشش کی جا تی ہے کہ کو ئی سینٹر بنایا جائے کہ جہاں ان افراد کی آپ بیتیاں نشر کی جائیں، میں ان بیان شدہ آپ بیتیوں کو زبانی تاریخ کا نام نہیں دیتا بلکہ اسے نرسری کے عنوان سے یاد کرتاہوں ،وہ آپ بیتیاں کہ جو اپنے راستے سے ہٹ کر لکھی جا ئیں سیاسی ڈوپنگ کے کام آتی ہے۔ آپ بیتیاں بہت بیان ہوں گی ضرورت زبانی تاریخ کی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ان آپ بیتوں سے زبانی تاریخ کی جانب حرکت کریں ۔ اور یہ وہ کام ہے کہ جو دنیا میں انجام دیا جا رہا ہے۔ دوسرے ممالک میں تاریخ شفاہی یونیورسٹیز میں جڑ پکڑ رہی ہے۔ جبکہ ایران میں اداروں اور تنظیموں اور اسطرح کے سینڑز میں ہے۔ دنیا میں تاریخ شفاہی ملکی حالات سے باہر نکل کر پورے علاقے کا احاطہ کر رہی ہے یعنی اب وہ اپنے ملک کی زبانی تاریخ سے باہر نکل آئیں ہیں اور پورے خطے کو اس تاریخ میں شامل کر رہے ہیں اور یونیورسٹیز کے طالب علم اس سلسلے میں کوشاں ہیں ۔

مختلف ممالک کی یونیورسٹیز زبانی تاریخ کے میدان میں کس طرح کام کر رہے ہیں ؟

یونیورسیٹیز دنیامیں اس سلسلے میں تین طرح سے کام کرتی ہیں ﴿١﴾ جس طرح کولمبیا اور ھارورڈ یونیورسٹی کام کرتی ہیں اس طرح کام ہو رہا ہے، ﴿۲﴾ مرکزی لائبریریاں ہیں کہ جو یونیور سیٹیز میں قائم ہیں کہ جس میں تاریخ شفاہی کے سلسلے کا سارا کام ڈیجیٹل محفوظ ہے جیسا کہ کیلیفورنیا وغیرہ میں ایسا ہوتا ہے،﴿۳﴾  ایسے انسٹیٹوٹ Institutes  قائم ہو چکے ہیں کہ جو تاریخ شفاہی پڑھاتے ہیں جیسا کہ انڈیانا یونیورسٹی  میں ہوتاہے ۔

کاظمی صاحب آپ کی نگاہ میں تاریخ شفاہی کی کتابوں میں کس حد تک نظریہ پردازی ہو نی چاہیے ؟

انسانوں سے تحلیل کو جدا نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن کل کے واقعے پر آج کی نگاہ سے تحلیل سے زبانی تاریخ کو دور رکھنا چاہیے، انٹرویو لینے والے کے لئے ضروری ہے کہ وہ مہارت کے ساتھ فرد کو آج کی تحلیل سے جدا کرے اور جس وقت یہ حادثہ یا واقعہ پیش آیا ہے اس کو اس دور میں ہی رکھے۔ اس طرح سے سوالات کی نوعیت اور انٹرویو دینے والے کیفیت میں تبدیلی ایجاد ہو گی، میں نے اپنے بعض انٹرویوز ماہ مبارک رمضان میں کئے ہیں کیوں کہ ماہ مبارک رمضان میں لوگ دنیا سے کٹ جا تے ہیں اور اپنے آپ میں ہو تے ہیں۔ اب تک میں نے جو سب سے زیادہ کام کیا ہے وہ اسی ماہ مبارک میں ہے مثلا ً  احمد صاحب سے میں نے اپنی تمام انٹرویو اسی ماہ میں کئے ہیں افطار سے لیکر اذان فجر تک ۔

رودادیں محفوظ رہتی ہیں یا زمانے کی گذرنے کے ساتھ یہ بھی زمانے کی نظر ہو جاتی ہیں ؟

اس نقصان سے بچنا اجتناب ناپذیر ہے۔ لیکن ہم جو انٹرویوز کرتے ہیں وہ اس زمانے میں کرتے ہیں کہ جو واقعے سے نزدیک ہو تے ہیں، جنگ کی یاداشتیں اور بمباری کی رودادیں جب کہی گئیں اور لکھی گئیں تو وہ اپنے حادثے سے نزدیک تر تھیں یعنی جنگ کے دس سال کے بعد ،میں اس انٹرویو کو اولویت دیتاہوں کہ جو اپنے حادثے سے نزدیک ہو۔ اگر چہ اس انٹرویو کو میں نے خود بھی نہ لیا ہو وہ انٹر ویو کہ جو واقعہ کے کئی سالوں کے بعد ہوئے ہیں  ناخالص اور انٹرویو لینے والے کے وھم کا شکار ہو گئے ۔

انٹرویو کرنے والے کا انٹرویو لینے والے کو اس کی کسی ایسی کتاب کاحوالہ دینا کہ جس میں اس کی کوئی بات نقل ہو ئی ہے ،کیا آپ کی نگاہ میں درست ہے ؟

ہدف اس شخص کا درست کردار ہے اور یہ کام ہو سکتا ہے گفتگو کے نتیجے میں حاصل ہو جائے یا اس کی یادداشتوں کی تحریروں سے حاصل ہو جائے ان میں سب سے اہم معلومات کا درست ہونا ہے۔



 
صارفین کی تعداد: 3099


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
حسن مولائی کی یادیں

سو افراد، سینکڑوں افراد، ہزاروں

وہ لوگ جو چند گھنٹوں پہلے جمرات جا رہے تھے تاکہ رمی جمرات کا فریضہ ادا کرسکیں اب تولیہ اوڑھے سو رہے تھے۔ جب جنازے ختم ہوئے، تو مجھے سمجھ نہیں آئی کہ مجھے کہاں لوٹنا چاہئیے۔ اچانک میرے پیروں نے کام کرنا چھوڑ دیا اور میں نے پہلی مرتبہ وہاں گریہ کرنا شروع کردیا۔ واپس پلٹ کر ان سفید پیکروں کو دیکھنا شروع کیا۔ پوری سڑک جنازوں سے سفید ہوچکی تھی۔ ایک جوان مرد کی آواز پر چونکا جو میرے ساتھ کھڑا تھا اور میرے پیروں کے سامنے چپلیں رکھ رہا تھا۔
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔