مبارز و مدافع انقلاب ایران حجت الاسلام غلام رضا اسدی کی زندگی کےمختصرواقعات

نورالدین حسین سنابادی عزیز

2015-08-29


میں سب سے آخری فرد تھا۔۔۔۔

امام خمینی (رہ) کی جلاوطنی کے بعد کچھ شہروں میں پراکندہ سرگرمیاں شروع ہونے لگیں۔ مشہد میں موسم گرما کے دوران سن ۱۳۴۳ اور مسجد بالسر میں کچھ قم کے طلاب دعا توسل کے بہانے سے جمع ہو گئے اور امام کی یاد اور ذکر کرنے لگے۔ حکومت نے ان کو گرفتار کرلیا۔ کچھ راتوں بعد حرم کی صفائی کے بہانے انہوں نے پانی پھیلا دیا۔ امام کے اہداف اور ۲۴ خرداد کے واقعہ کو زندہ رکھنے کے لئے موقع کو غنیمت جانتے ہوئے جمع ہو جاتے اور پروگرام منعقد کرتے۔ لیکن اگر کوئی طالب علم حوزہ میں کوئی سرگرمی انجام دیتا یا کوئی بات کرتا تو اسے وہاں سے نکال دیا جاتا اور شہریہ بھی روک دیا جاتا اور اس کے ساتھ ساتھ اسے 'تارک نماز' اور 'کمیونسٹ' جیسے القابات سے نوازا جاتا، اس کو مارا جاتا اور کافر قرار دے دیا جاتا۔

ایک واقعہ پیش آیا کہ ایک طالب علم کو گرفتار کرلیا گیا، اس کے گھر والوں نے حوزہ کے رئیس اور مدرسہ نواب سے رجوع کیا اور مدد مانگی۔ انھیں جواب دیا گیا کے ہم سیاسی امور میں مداخلت نہیں کرتے۔ یہاں تک کہ اگر کسی عام آدمی کو اطلاع ملتی کہ یہ انقلابیوں سے رابطے میں ہے تو اس کے ساتھ میل جول ختم کردیتے۔ مجھے یاد ہے کہ اسی سال رشتہ ازدواج کے سلسلے میں کسی کہ ہاں گیا تو چونکہ میرے آیت اللہ خامنہ ای سے روابط تھے اس بنیاد پر رشتے سے انکار کردیا گیا۔ اس کے باوجود میرا ارادے میں کمی نہیں آِئی۔ اس کے بعد بھی ان کی، آیت اللہ واعظ طبسی اور مرحوم شهید هاشمی نژاد کے دروس میں شرکت کرتا رہا۔ پورے سال ہم طالب علموں کا بہانہ ان دروس اور مباحثوں میں شرکت تھا۔ سن ۱۳۵۰ کے ارد گرد قم میں تبلیغی سفر سے مشھد واپسی پر مجھے گرفتار کرلیا گیا۔ مجھے فوجی جیل لے گئے، یہاں موجود حجرے پہلے اصطبل تھے۔ تقریبا ایسے ہی ۲۰ حجرے تھے اور ساتھ ہی کچھ کمرے پوچھ گچ  کے لئے تھے۔ وہاں سب کے ساتھ وحشیانہ سلوک کیا جاتا اور قید کیا جاتا۔ مجھے یاد ہے کہ وہ زندان کہ جہاں تخت سے باندھا جاتا تھا اور لنگری/کیبل والے کوڑے مارے جاتے تھے ، اس زندان کا قیدی بالآخر اقرار کرنے پر مجبور ہو جاتا تھا۔ اس حالت میں بھِ جب کوئی چیز اگلوائی نہ جاسکی تو ۳ ماہ بعد مجھے آزاد کردیا۔ اور آزاد ہونے کے بعد تو میری سرگرمیوں میں اور اضافہ ہو گیا۔

اس بار حضرت امام خمینی کی کتاب 'ولایت فقیہ' کے موضوع نے مجھے اپنی طرف جلب کیا۔ اس کتاب کو لوگوں کے درمیان تقسیم کرنے کے سبب دوبارہ مجھے گرفتار کرلیا گیا۔ اس دفعہ قید اور زیادہ وحشیانہ تھی۔ کیبل سے پیروں پر اتنا مارا گیا کہ میرے ناخن اکھڑ گئے، پھر پٹی باندھی گئی اور دوبارہ اس پر کوڑے برسائے گئے۔ حالت اتنی خراب ہو گئی کہ ۳ ہفتے تک کھڑے ہو کر نماز نہیں پڑھ سکا۔ یہ اسی زمانے کی بات ہے کہ جب میری داڑھی مونڈوادی گئی تھی اور قہقہے لگا کر میرا مذاق اڑایا جاتا تاکہ کسی طرح مولویوں اور روحانیوں کی تحقیر کی جائے۔

مجھے یاد ہے کہ جب آیت اللہ خامنہ ای کو اسی جیل میں لایا گیا، ایک افسر جو سید اور شیخ میں فرق نہیں کرسکتا تھا، آقا کی داڑہی مونڈنے کہ بعد ان سے کہتا ہے " شیخ صاحب، کیسا ہے اب؟!"۔ انھوں نے آیینے میں دیکھا اور اس سے جواب دیتے ہوئے کہا:" بہت ہی خوبصورت اور حسین لگ ہو گیا ہوں، خیر اب تمہارا مقصد کیا ہے؟ یہ داڑہی تو دوبارہ نکل آئے گی" ۔ اس ہی طرح تحقیر کا مقابلہ کرتے رہے اور کسی بھی طرح کمزوری کے آثار ظاہر نہ ہو سکے۔

مجھے یاد ہے کہ جب سید عباس موسوی قاچانی کو مارا گیا کہ جان کنی کی حالت میں زندان کی زمین پر گر پڑے۔ یہاں تک کہ انہیں طہارت کی اجازت بھی نہ دی گئی۔ ان کا جرم یہ تھا کہ فردوس میں بالای منبر یہ کہہ دیا تھا کہ : " اے لوگوں، طاغوت کے بندے نہ بنو"۔ حاج آقا فرزانہ اور صادقی بھی وہیں قیدی تھے۔

عدالت میں جب لے جائے گئے تو تمام کاروائی میں ۱۵ منٹ سے زیادہ وقت نہیں لگا اور اس کے بعد مجھے ۴ سال کی قید کا فیصلہ سنایا گیا۔ آزاد ہونے کہ بعد اپنے کام دوبارہ شروع کردیئے اور اس دفعہ جب مجھے گرفتار کیا گیا تو پھر کوئی کسر نہ چھوڑی۔ دوپۃر اور رات کے کھانے کی جگہ گھونسے مارے جاتے۔ سر اور چہرے کے بالوں کو صاف کردیا گیا تاکہ اعتراف کرلوں کہ کیا کیا سرگرمیوں انجام دیتا آ رہا ہوں اور اعلانات اور کتابیں کس سے لارہا ہوں۔ انہیں دنوں کافی زیادہ تعداد میں مدرسہ میرزا جعفر کہ طلاب کو شھید ہاشمی نژاد اور آیت اللہ طبسی کے ساتھ گرفتار کرلیا گیا۔

بہرحال دوبارہ مجھے مشھد جیل بھیج دیا گیا۔ اس دفعہ قید میں مختلف سیاسی قیدی علیحدہ طور پر کافی سرگرم تھے کہ ان کے لئے 'کمون' (گروپ) کی اصطلاح استعمال کی جارہی تھی۔ شھید ھاشمی نژاد اور آیت اللہ طبسی اور طلاب کمون روحانیت کو تشکیل دیا گیا۔ آقای عسکر اولادی اور ان کے دوست جو کہ عموما متحدہ اسلامی محاز(حزب موتلفہ) سے تعلق رکھتے تھے، گروپ کا نام 'عسکراولادی' دیا گیا۔  منافقین نے کہ جو تازہ فعال ہوئے تھے انکا اپنا ایک گروپ تھا۔ اس کے علاوہ مائوسٹ گروہوں نے بھی اپنے الگ گروہ تشکیل دیئے ہوئے تھے۔ اس دوران ھم نے کوشش کی کے کسی طرح کی کوئی مشکل نہ کھڑی ہو۔ بحث اور درس برقرار رہے۔ ورزش بھی کرتے اور مجھے یاد ہے کہ شھید ھاشمی نژاد کی بھی فٹبال کی ٹیم تھی اور میں باسکٹ بال کھیلا کرتا تھا۔ اس دوران قید میں ہمارے درمیان مجاہدین (منافقین) تفصیلی مباحث کیا کرتے تھے کہ ہماری طرف سے شھید ھاشمی نژاد اس میں زیادہ حصہ لیتے۔ شاید یہی وجہ بنی کہ بعد میں وہ دہشت گردی کا نشانہ بنے اور انھیں شہید کردیا گیا۔ میں نے خود 'ابریشم چی' سے جو منافقین کے بڑوں میں سے تھا کافی بحثیں کیں مگر کوئی فائدہ نہ ہوا۔ ہوا یہ کہ ہمارے درمیان فاصلے آگئے۔ سن ۱۳۵۶ سے آہستہ آہستہ روحانی آزاد ہوتے گئے۔ شروع میں آیت اللہ واعظ طبسی اور بعد میں شھید ہاشمی نژاد اور سب سے آخر میں، میں آزاد ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ میں آزاد ہونے والا سب سے آخری سیاسی قیدی تھا جو مشہد جیل سے آزاد ہوا۔



 
صارفین کی تعداد: 3125


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
حسن مولائی کی یادیں

سو افراد، سینکڑوں افراد، ہزاروں

وہ لوگ جو چند گھنٹوں پہلے جمرات جا رہے تھے تاکہ رمی جمرات کا فریضہ ادا کرسکیں اب تولیہ اوڑھے سو رہے تھے۔ جب جنازے ختم ہوئے، تو مجھے سمجھ نہیں آئی کہ مجھے کہاں لوٹنا چاہئیے۔ اچانک میرے پیروں نے کام کرنا چھوڑ دیا اور میں نے پہلی مرتبہ وہاں گریہ کرنا شروع کردیا۔ واپس پلٹ کر ان سفید پیکروں کو دیکھنا شروع کیا۔ پوری سڑک جنازوں سے سفید ہوچکی تھی۔ ایک جوان مرد کی آواز پر چونکا جو میرے ساتھ کھڑا تھا اور میرے پیروں کے سامنے چپلیں رکھ رہا تھا۔
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔