امیرانی اور ان کا میگزین "خواندنی ھا"

محمدابراهیم باستانی پاریزی

2015-08-29


۱۳۲۶ شمسی کی بات ہے،ابھی ۲ سے ۳ مہینے ہی ہوئے تھے کہ میرا ادبیات تہران کالج میں داخلہ ہوگیا لیکن مدرسہ شیخ عبد الحسین ترکوں کے مدرسے کے ہاسٹل میں دوسرے ۳ ،۴ لڑکوں کے ساتھ رہ رہا تھا۔ اسی سال ۲۰ بھمن جمعہ کے دن غروب آفتاب کے وقت محمد مسعود جب اکباتان میں واقع مظاہری پرنٹنگ پریس سے باہر نکل رہے تو قتل کردیئے گئے۔  اس ہی دن میں نے ایک نظم کہی جو زیادہ تر اخبارات کی زینت بنی۔ وہی نظم جو میں نے ایک محفل میں پڑھی اور پسند کی گئی۔ اس ہی محفل کہ اختتام پر ایک خوش شکل جوان مجھے ڈھونڈتا ہوا میرے پاس آیا اور بولا: ' میں امیر ہوشنگ عسکری ہوں اور اس میگزین "خواندنی ہا" کا مدیر ہوں۔ اپنی نظم کی ایک کاپی مجھے بھی عنایت کیجئے  اور اگر آپ کو فرصت ملے تو خواندنی ھا کہ دفتر تشریف لائیے تاکہ آپ سے کچھ گفتگو کرسکیں۔

ان دنوں مختلف رسالوں کے مدیروں سے ملنے کا مجھے کافی شوق تھا اور دو دن بعد ہی  خواندنی ہا کے دفتر جا پہنچا۔ عسکری مجھے مرحوم علی اصغر امیرانی کے دیدار کے لئے لے گئے جو بلند قد اور لاغر اندام تھے اور کردی لہجے میں گفت و گو کر رہے تھے۔ امیرانی نے کہا: ہم آپ کی کچھ نظمیں اور تحریریں اخباروں میں پڑھتے رہتے ہیں اور کچھ وہاں سے لیتے بھی رہتے ہیں۔ کیا آپ کا دل چاہتا ہے کہ خواندنی میں آئیں اور کام کریں؟ عسکری جو کہ یورپ کے لئے روانہ ہو رہے ہیں ان سے جاکر اس سلسلے میں بات چیت کیجئے اور جو نتیجہ نکلے مجھے آگاہ کیجئے۔

طے یہ ہوا تھا کہ عسکری خواندنی ھا کے خرچے پر یورپ جائے اور صحافت میں اعلی تعلیم حاصل کرے۔ اس نے نہ صرف صحافت کی تعلیم حاصل نہ کی بلکہ دانتوں کا ڈاکڑ بن کر واپس آگیا جو کہ امیرانی صاحب کی سخت ناراضگی کا سبب بنا اور اس کے بعد وہ اس سے ہرگز خندہ پیشانی سے نہیں ملے۔ اسی وجہ سے مسعود برزین اور کریم روشنیان کام کرنے آئے اور کچھ عرصے کے لئے علی اکبر کسمائی بھی آئے کہ جن کے لائق یہ کام نہیں تھا۔ ایک دن ایک جوان کاغذوں کے بنڈل کے ساتھ اور ایک تحریر شدہ پرچہ لایا کہ جس کا امیرانی نے کچھ اس طرح تعارف کروایا:

محمد طلوعی صاحب آج سے خواندنی ہا کے مدیر ہیں۔ ان کے ساتھ تعاون کیجئے۔ میں ان تمام واقعات کے دوران قدیم دور کے گھر کے سل بٹے کی مانند صحن کے ایک کونے میں بیٹھ کر لوگوں کی آمد و رفت دیکھ رہا تھا۔ ان سالوں میں افواہوں کا سیکشن جو کہ رسالے کا سب سے زیادہ پڑھے جانے والا حصہ تھا حبیب الہ شاملوئی جو تحریریہ کے ایک جز تھے ان کی مدد سے مرتب کرتا تھا۔ ھم مامور تھے کہ کئی ایک اخباروں کے صفحوں اور کالموں کو پورا پڑھیں اور ان خبروں کو ڈھونڈ کر ان پر دائرہ کھینچیں۔ اس کام کے بعد، حتمی انتخاب کے لئے امیرانی کے پاس پہنچتا اور ان کا انتخاب کیا جاتا۔ رسالہ چھپتے وقت جس اخبار سے خبر لی گئی ہوتی اسکا ریفرینس بھی اس خبر کے آخر میں دیا جاتا۔ ان سالوں میں 'تہران مصور' رسالہ اور اخبارات جیسے 'طلوع' ، 'ملت ما' (ھماری قوم) اور 'اقدام' کے ساتھ 'مرد امروز' (آج کا مرد)، 'آتش' اور 'باختر امروز' ( آج کا مغرب) اور کچھ دیگر اشاعت ان افاہوں کے منبع قرار پاتے اور افاہوں سے بھرے پڑےتھے۔

خواندنی ہا رسالہ کہ جس کی اشاعت تقریبا چالیس سال پر محیط تھی اس کا پہلا ایڈیشن رضا شاہ کہ آخری دور میں شایع ہوا اور آخری ایڈیشن انقلاب اسلامی کے آخری سالوں یعنی ۱۳۵۸ شمسی میں شایع ہوا۔ محمود طلوعی نے اپنی خواندنی ھا کی میدیرت کے زمانے میں اس کا ایک حصہ ایک سوئیس اکیڈمی کے ساتھ الحاق کروادیا تھا۔ کہ جسے اخبارات کے تراشے جو ایران کے متعلق ہوتے یا جدید ترین دریافت یا ایجادات کے بارے میں اسے بھجوائے جاتے تھے۔ اس سے بڑھ کر یہ کہ امیرانی خود اداریہ لکھتے تھے جس کا نام "بلا عنون" تھا اور اس میں وہ ایسی چیزیں بھی لکھ دیتے کہ جو اخبار و رسائل کی تنظیم کی طرف سے جوابدہی کا سبب بنتیں۔ وہ جدت کا خیال رکھتے اور تمام ممکنہ وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے مقالہ لکھتے۔ اس پر نظر ثانی کرتے اور دربار کو بھجوادیتے تاکہ شہنشاہ یا اس کے قریبی افراد اس کو پڑھیں۔

 اسی وجہ سے اسکا نام "بلا عنوان" رکھا گیا تھا۔ امیرانی، سپھدی زاھدی کہ قریبی ترین دوستوں میں سے ایک دوست تھے۔ اکثر راتوں کو 'آبعلی کلب' میں ایک میز کے اطراف بیٹھے پائے جاتے تھے اور اس بات کو، ہم خواندنی ھا کی تنخواہ لینے والے ملازمین مہینے کے آخر میں زیادہ سمجھ سکتے تھے۔ جس وقت مُنشی ہارونی میگزین کا ذکر کرتے کہتے : " فنڈز تمام ہوچکے"، دو تین دن انتظار کریں، رسالہ چھپ جائے اور مارکیٹ میں آجائے تو پیسے آجائیں گے۔ سب کو سب معلوم تھا۔ ایک اور چھوٹی سے یاد کا زکر کروں جو خواندنی ھا میں کام کرتے وقت کی یاد ہے کہ جب  مسعود برزین مدیر تھے۔ ہم دو تین ملازم سے زیادہ نہیں تھے اور بلاوجہ نہیں ہے کہ ایک بار توفیق نے ہمارا کاریکیچر قینچی کی شکل کا بنایا اور اس کے نیچے لکھا " خواندنی ھا کی تحریریں" یعنی ایک قینچی اخبار کے پڑھے جانے کے قابل مقالوں کو کاٹ الگ کر رہی تھی اور یہ خود ایک رسالہ بن جاتا۔ وہ ملازم بھی یہ تین لوگ تھے امیرانی، برزین مرحوم بطور مدیر اور میں اور حبیب شاملویی۔

 دو مستقل مصنف ذبیح اللہ منصوری صاحب یا حسینقلی مستعان صاحب یا کچھ دوسرے غیر مستقل مصنفین کہ جو باقاعدہ تنخواہ ہر کام نہیں کرتے تھے بلکہ جتنے صفحے لکھتے اس کے حساب سے پیسے لیتے۔ یہ لوگ بھی خواندنی ہا سے وابستہ تھے۔ مثال کے طور پر ہم جیسوں کو ایک صفحے کے ۲۰ تومان ملتے تھے، مستعان کو ۵۰ اور جواہر کلام کو بھی اتنے ہی ملتے تھے۔ یہ حسینقلی مستعان بھی عجیب مصنف تھا ہر ہفتے ۵، ۶ سلسلےوار کہانیاں مختلف رسالوں اور اخباروں میں لکھتا تھا۔ اس کو اچھی طرح یاد ہوتا کہ اس کی کہانی خواندنی ھا یا تہران منصور میں کہاں پہنچتی تھی اور اس کے بعد سے اگلے ہفتے پھر شروع کرتا۔ ایک دفعہ تنخواہ میں اضافے کے لئے ہم سب نے ہڑتال کردی، امیرانی نے ہم سب کی شکایتں سنیں۔ اس نے واضح کردیا کہ وہ اکیلے بھی خواندنی ھا کو شائع کرسکتا ہے اور ھمیں کہا کہ ہم جاسکتے ہیں۔ البتہ یہ تنبیہ زیادہ نہیں ہوئی۔ اسلئے کہ ہم کو دوبارہ بلا کر کہا کہ ہمارے بغیر بھی ایسے کام چلتا رہے گا البتہ میگزین اس سے زیادہ تعداد میں شایع ہونے لگا تو ہمیں اضافی تنخواہ بھی دے گا۔ ہم سب اس کے آفس سے باہر آئے اور دوبارہ اپنے کاموں میں منہمک ہوگئے



 
صارفین کی تعداد: 3136


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
حسن مولائی کی یادیں

سو افراد، سینکڑوں افراد، ہزاروں

وہ لوگ جو چند گھنٹوں پہلے جمرات جا رہے تھے تاکہ رمی جمرات کا فریضہ ادا کرسکیں اب تولیہ اوڑھے سو رہے تھے۔ جب جنازے ختم ہوئے، تو مجھے سمجھ نہیں آئی کہ مجھے کہاں لوٹنا چاہئیے۔ اچانک میرے پیروں نے کام کرنا چھوڑ دیا اور میں نے پہلی مرتبہ وہاں گریہ کرنا شروع کردیا۔ واپس پلٹ کر ان سفید پیکروں کو دیکھنا شروع کیا۔ پوری سڑک جنازوں سے سفید ہوچکی تھی۔ ایک جوان مرد کی آواز پر چونکا جو میرے ساتھ کھڑا تھا اور میرے پیروں کے سامنے چپلیں رکھ رہا تھا۔
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔