استاد علی رضا کمری

نصف صدی کی تاریخ ایک ثقافتی انقلاب لا سکتی ہے

میثم مهدیار
مترجم: ابو زہرا علوی

2015-08-29


یاد داشتوں کے مسائل میں ہمارا موجودہ مسئلہ یہ ہے ہم مستقبل سے ماضی میں چلے جاتے ہیں جبکہ ہم ماضی کی تاریخ کو حال میں بیان کر رہے ہوتے ہیں اور اس کا ایک نقصان یہ ہے آپکو حال سے ماضی میں اُ ٹھا کر پھینک دیا جاتا ہے اور آپ کے اندر ایک مایوسی کی کیفیت پیدا ہو جا تی ہے اور حسرت کو تقویت ملتی ہے۔ انٹرویوز اور جلسوں میں خوشی و مسحور کرنے والی کیفیت بھی ہوتی ہے لیکن تاریخ کا کام یہ ہے کہ وہ آپ کے اندر ایک فکر پیدا کرے تاریخ چاہتی ہے کہ ماضی کو حال میں لائے، تاریخ خرد کا محورہے جبکہ یاداشتوں کے بیان میں ایک مایوسی کی سی کیفیت ہے ﴿اس کی وجہ یہ ہے کہ جب ہم کسی کا کو ئی واقعہ یا کوئی ماضی کی بات سننتے ہیں تو اپنے حال کو برا کہتے ہیں کہ اب ایسا کیوں ہے، جبکہ ہمیں اپنے ماضی سے اپنے حال کو سنوارنا چاہیے۔ مترجم﴾

آج جب زبانی یا کتابی تاریخ کی بات ہو تی ہے تو ایک برجستہ شخصیت استاد علی رضا کمری کا نام آتا ہے ان کی کتابیں اور ان کا انداز تفکر ہمیشہ ان افراد کے لئے قابل توجہ ہوتاہے کہ جو اس میدان میں کام کررہے ہیں اور اس مسئلے میں سر فہرست رہے ہیں، ان کی توجہ اور انکی دقت کی وجہ سے کتابی تاریخ اور اس کے برے اثرات مختلف افراد کے توسط اور ادروں کے ذریعے سامنے آئےاور بغیر کسی توقف کے علمی تنوع میں اور مطالعے کے جدید طور طریقوں سے آشنائی میں مفید رہا ہے جہاں تک ہم نے سنا اور دیکھا ہے کہ آپ نشر و اشاعت اور جنگ و دفاع مقدس میں درد مندی سے پرہیز کرتے ہیں ۔وہ رپورٹ کہ جو علوم اجتماعی ایرانی اسلامی نے نشر کی تھی جس میں انھوں نے کتابی تاریخ کی صورتحال اور اسلامی انقلاب کے ساتھ اس تاریخ کی نسبت گفتگو کی تھی وہ رپورٹ آپ کے پیش خدمت ہے۔

س: آخری چند سالوں میں چاہے ایران میں ہوں یا بیرون ملک ایرانیوں میں جو ایران کی حال حاضر تاریخ کی شفافیت کے مسئلہ میں جناب عالی کو ایک خاص اسپشلیسٹ کی حیثت حاصل ہے اس بارے میں آپ اپنی تشخیص کو بیان فرمائیے؟

کمری۔ انقلاب کے بعد چند وجوہ کی بنا پر ایران میں زبانی تاریخ کا بیان کرنا قابل توجہ ہو چکا ہے، جنگ و انقلاب لوگوں میں عام ہو جانے اور لوگوں کی زبان پر جاری کرنے کے لئے یہ دو اصطلاح بہت اہم تھیں، لیکن اگر ہم چاہیں تو اس کا پہلا اور ابتدائی نمونہ وہ گفتگو ہے کہ جو شہید عراقی نے نوفل لوشاتو میں کی تھی اور ان کہی ﴿ناگفتہ ھا﴾کے عنوان سے شائع بھی چکی ہے، پھر اس کے بعد بی بی سی نے انقلاب اور انقلابی شخصیات کے انٹر ویو کئے اور انھیں کیسٹوں میں محفوظ کیا، اور ایران میں مختلف شکلوں میں انھیں منتشر کیا یہ بھی زبانی تاریخ کی پہلی شکل و صورت میں شامل ہو سکتی ہیں۔

س: انقلاب کے بعد ہمارے بہت اچھے تجربات مختلف دلائل کی بنا پر محفوظ نہ ہو سکے، اس کے دلائل کچھ بھی ہو سکتے ہیں صحیح پہچان نہ ہو نے کی صورت سے لیکر ہمارے سیاسی مسائل جو ہمارے اندر موجود ہیں، اب وقت آگیا ہے کہ آہستہ آہستہ زبانی تاریخ کی ضرورت کا احساس ہو رہا ہے اور اس بارے میں کچھ کام ہوا ہے بہرحال ہم اس مسئلے میں بہت سی مشکلات سے دوچار ہیں، ہم بہت سے تاریخی واقعات کو لوگوں کے درمیان بیان نہیں کر سکتے، اس صورت میں ہماری ترجیح کیا ہونی چاہیے؟

کمری، میری نظر میں نصف صدی گذر چکی ہے اوریہ ایک ایسا دور ہے کہ ان جیسے مسائل اور موضوعات کے لئے بہت سازگار ہے اور سوال و جواب کی صورت میں ایسے انٹر ویوز جو زبانی تاریخ پر مبنی ہوں لئے جائیں اور ان سے معلومات اکھٹی کی جا ئیں، مجھے اس بات میں کو ئی شک نہیں کہ اگر یہ پچاس سال امکانی صورت میں صحیح طور سے پہچان لئے جا ئیں اور معلومات جمع ہو جائیں تو ایک فنی انقلاب رونما ہو گا، یہ پچاس سال ایک دو رہے کہ جو بہت سی تبدیلیاں لے کر آئے گا اور بہت سی تبدیلیاں پیدا کرے گا، شاید یہ پچاس سال پچھلی تمام رکاوٹوں کو دور کردیں، ان پچاس سالوں میں ہمیں ایسے امور پیش آئے ہیں کہ میں اگر اسکا خلاصہ کروں تو انقلاب، جنگ، ترقی و۔۔۔۔۔۔۔،

ہم زبانی تاریخ سے بہت سی تعجب خیز اطلاعات اور تاریخی تجربہ حاصل کر سکتے ہیں کہ جو ہمارے مطلوب کا نمونہ بھی ہو سکتا ہے ان تمام پچاس سالوں میں جو ہمیں تجربہ ہو اہے اگر اس کو محفوظ کر لیا جا ئے اور بعد میں پڑھا جائے تو اس سے ہماری تمدنی حیثیت کا علم ہو جا ئے گا یہ کام ایک اچھے سسٹم کا محتاج ہے، بہت ہی دقیق تعلیمی ادارے، ایک ایسا گروہ کہ جس کے کام کی بنیاد دقت اور سنجیدگی ہو اور وہ ایک خاص روش کے تحت اس کام کو آگے لے جا ئے، جبکہ فی زمانہ اس مسئلے کے لئے جو ادارے ہیں وہ بکھرے ہو ئے ہیں اور پریشان ہیں، ثقافت انقلاب والےسبک سلاح، ، کے عنوان سے کچھ مواد شائع کرتے ہیں، مرکز اسناد والے ایک اور طریقے سے کام کر رہے ہیں ادب و ہنر والے کچھ اور طریقے سے کام کرتے ہیں، لیکن ان اداروں میں کسی بھی قسم کی ہم آہنگی نہیں یہ لوگ آپس میں رابطے میں نہیں یہ کو ئی اچھی بات نہیں ان باتوں کا یہ معنٰی نہیں کہ ان اداروں کو بند کر دیا جا ئے کیوں کہ ہر کام کی ضرورت ہے اور کسی بھی طور انکا انجام دیا جانا بہتر ہے نا انجام دینے سے۔

س: لوگوں کے مرنے سے اس بات کا امکان ہے کہ وہ یہ تاریخ اپنے ساتھ لے جائیں؟

کمری، جی اسی طرح ہے میں زبانی تاریخ کےمیں ایک تعبیر استعمال کیا کرتاہوں اور کہا کرتا ہوں کہ تاریخ ایمر جنسی یعنی میں اور آپ ابھی جو بیٹھ کر باتیں کر رہے ہیں منٹوں میں یہ ہوا ہو جائیں اس کے ورق ہوا لے اڑے اور قیمتی تجربے ختم ہو جائیں میں نے کئی سال پہلے ایک تعلیمی ادارے کو یہ لکھا تھا کہ ایک استاد تیس سال یہاں آکر پڑھاتا ہے پہلے روز سے آخر تک، ان تیس سالوں، تیس سال کا تجربہ ہے تعلیمی ادارے اتنے تو باہوش ہیں کہ اٹھائیسویں سال اس شخص کے لئے ایک تقریب کریں اور اس سے کہیں کہ آپ نے اٹھائیس سال پڑھایا ہے کیا پایا کیا کھویا کیا دیکھا بعد والوں کے لئے اپناتجربہ بیان کریں، ایک اختتامی لٹریچر کی صورت میں ایک مجلے کی صورت میں یعنی ہمارے تعلیمی اداروں میں ایک شعبہ ایسا ہونا چاہیے کہ جس میں ایک استاد کے تیس سال کا تجربہ تحریر ہو یہ تجربات جمع ہو تے رہیں ہو سکتا ہے ایک تربیتی انقلاب پیدا کرسکیں،

اسے بھی رہنے دیں ہم ابھی عجلت میں ان شرائط کو طے کر رہے ہیں، ہمیں نسل گذشتہ و آئندہ ایک دوسرے کو جوڑنا ہو گا اساتذہ کے تجربات کی بات تو ہے ہی ہمیں اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ دادا، دادی کے تجربات کو بھی محفوظ کریں دنیا کے بعض مدارس نے اس مسئلہ کو ہاتھوں ہاتھ لیا ہے اور طالب علم کے کورس میں یہ بات شامل ہے کہ وہ اپنے بزرگوں کے تجربات کو جمع کریں اس طرح طالب کے ذریعے سے ایک تاریخ محفوظ ہو جا تی ہے۔

ہمیں چاہیے کہ ہم ان کاموں کو انجام دیں تاکہ ٹوٹ پھوٹ کا شکا ر نہ ہو ں کیوں کہ اگر سب ہم ٹوٹ پھوٹ کا شکارہو ئے تو ہمیں دوبارہ سے ایک تجربہ حاصل کرنا ہو گا کثیر سرمایہ لگانا پڑے گا، میں نے کئی بار کہا کہ اگر ہمارے پاس ایران و روس کی جنگ کا تجربہ محفوظ ہوتا تو یقیناً ایران و عراق جنگ میں صورت حال کچھ اور ہو تی، یعنی ہم اس تاریخی تجربے سے یہ بات سمجھ جاتے کہ یہاں کس طرح وارد ہونا ہو ہے اور کس طرح خارج ہو نا ہے اگر یہ نہ ہو تو بس لاحاصل خرچ کرتے جائیں،

میری نظر اس عنوان میں اس مسئلے کی پہچان اور موضوعات کا حصول، خود ایک بہت وسیع موضوع ہے جو رسائل اور تحقیقی مواد اوروسیع مطالعات پر موقوف ہے میری نظر میں اس کی فہرست اور پچاس سالوں کے موضوعات اور اس کی فہرست بندی ضروری ہے تاکہ اس مسئلے کو سمجھا جا سکے اس کی ترتیب، کس کو پہلے بیان کرنا ہے کس کو بعدمیں لانا ہے وغیرہ وغیرہ ۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے تعلیمی ادارے اس مسئلے کو سمجھنے سے قاصر ہیں، جب انقلاب آیا ماہرین معاشرتی علوم اور جامعہ شناس ایک عرصے تک سر گرداں رہے میں اس وقت اسی مضمون کا ایک طالب تھا میں نے اس ماحول کو سمجھا یونیورسٹی کی تنزلی کا اب تک کوئی راہ حل نہ مل سکا، ہم ترجموں کی دنیا میں دکھیل دئے گئے ہیں یا زیادہ سے زیادہ وہی پرانی راہ وروش کے پیچھے ہیں، یہ وہ چیز یں ہیں کہ جن پر تعلیمی اداروں کو توجہ دینی ہے یعنی اگر ان باتوں کو تاریخ زبانی کے توسط سے دیکھا جا ئے اور ہمارے تاریخی تجربات واضح ہوجائیں تو یہ وہ راہ ہے جو ہمیں ترقی کی راہ پر گامزن کرے گی اگر یہ نہ ہوا اور یونیورسٹیز اپنی پرانی روش پر چلتی رہیں تو ہماری موجودہ صورت حال غیر طبیعی راہ پر چل نکلے گی ہم ایک حساس دور میں پہنچ چکے ہیں ۔

میری نظر میں اگر ہم اس مسئلے میں سنجیدہ ہو جائیں تو زبانی تاریخ اور اس موضوع کی شناخت انقلابی ثقافت کی سپریم کونسل اس کام کو انجام دے یعنی یہ ایک مشورہ ہے کہ انقلابی ثقافت کی سپریم کونسل اس بات کو دیکھے کہ پچھلے پچاس سالوں میں کیا ہوا ہمیں علمی اور فنّی میدان میں کن موضوعات کی ضرورت ہے اور کیا قابل تحقیق ہے اور ہم زبانی تاریخ پر بات چیت کے ذریعے سے اس ہدف تک پہنچ سکتے ہیں، ہمیں اس با ت کی جانب توجہ دینا ضروری ہے کہ وہ تمام باتیں کہ جو اس بات کا سبب بنی ہیں کہ ہم حجاب میں رہیں ہم ان حجابات کی جانب نہ دیکھیں ان حجابوں سے فاصلہ رکھیں تو پتہ چلے گا کہ کیا ہوا ہے ۔

مثال کے طور پر وہ علتیں کہ جن کی وجہ سے انقلاب ہوا، یہ سب زبانی تاریخ سے اور زیادہ روشن ہو جا ئے گا جیسا کہ امام خمینی جو ایک بے نظیر تاریخی شخصیت ہیں کس طرح وجود میں آئی؟ کس طرح آگے بڑھے؟ کس روش پر چلے اور کیا کیا ہوا؟ بعض افرد کہا کرتے ہیں کہ ہمارا انقلاب کی بنیاد صدرائی ہے، گو کہ ایک جملہ ہے کبھی کبھی میں ایک جملہ کہتاہوں ہو سکتا ہے بعض لوگ اس پر دقت نہ کریں اور ہنسی میں اُڑا دیں، یہی جملہ سبب بنتا ہے کہ ہم انقلاب کی دستاویز کو کھنگال ڈالیں اس سے انقلاب کی جنگ زندہ ہوتی ہے دوبارہ سے پڑھا جاتاہے کہ ہماری اس جنگ میں شیخ الاشراق بھی شامل ہیں، ابن سینا بھی شامل ہیں خواجہ نصیر الدین بھی شامل ہیں اگر ان جیسے مسائل پر توجہ کی جا ئے تو کتنے ہی جدید مسئلے سامنے آتے ہیں ۔

پھر آپ کے سامنے ایک مثال دو ں، کیا ہم معماروں کے بارے میں گفتگونہیں کرتے؟ کیا آپ تہران میں کو ئی معمار دیکھتے ہیں؟ آخر کیا ہوا؟ اس کی ایک دلیل تو یہ ہے کہ ماضی میں معماروں کے تجربات کو محفوظ نہیں کیا گیا، ابھی بہت سے سوالات پیش آتے ہیں کہ مثلا مسجد شیخ لطف اللہ کیسے تعمیر کی گی ہے کہ آج تک اس کے ٹائلز اپنی جگہ پر ہیں لیکن آج مصلی تہران تیس سال ہو ئے ہیں اس کی نقاشی اور ٹائلز کو چپکاتے ہو ئے وہ پھر اتر جاتے ہیں سیکڑوں سوالات ہیں جو ہماری مساجد کی فن تعمیرکے سلسلے میں ہیں، جا ئیں یزد کو جا کر دیکھئے آپ ان سوالوں کے جوابات نہیں دے سکتے اگر ان کا تجربہ محفوظ ہو جاتا تو ہم سمجھ جا تے کہ کیا کرنا ہے، میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اگر یہ سب محفوظ ہو جاتا تو ہمیں کسی فلیٹ میں رہنے کی ضرورت پیش نہیں آتی ۔

س: ہوسکتا ہے کہ ہم ثقافت کی تعریف اس طرح کریں کہ ثقافت ایک ایسا ڈھانچا ہے کہ جو معاشرے کو اپنے گھیرے میں لئے ہو ئے ہے اور سماج کو ہدایت کررہا ہے یہ ڈھانچہ درحقیقت اسلاف کے تجربات ہیں کہ جو ہمیں ایک راہ دیکھاتے ہیں کہ ہم اس طرح کا لباس پہنے کیا کھائیں کیسے کھائیں، انداز گفتگو کیا ہو ایک ثقافت کو اجاگر کرنے کے لئے ایک مدت درکار ہے، تکرار درکارہے تاکہ وہ اپنی جگہ بنا لے اور ایک بنیاد میں تبدیل ہو اس عنوان سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ زبانی تاریخ کا کام ایک طرح سے تجربات کی شفافیت ہے جو تجربات کے دوام اور ثقافت کی تبدیلی کا باعث ہوگی۔

کمری، ہمارے پاس دو طرح کی ثقافت ہیں ایک جامد اور ایک مداخلتی ثقافت دوسرے لفظوں میں ایک ثقافت تقسیم شدہ ہے اور ایک جاری و ساری ہے، یہ جو آپ نے جاری ساری ﴿تداوم ﴾ کی جانب اشارہ کیا ہے یہ بہت اہم ہے یعنی یہ جو آپ جدید دنیا کو دیکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ کہاں سے کہاں پہنچ گئے یہ بہت اہم ہے یہی دلیل ہے کہ ایک موڈرن معاشرہ جیساکہ برٹش معاشرہ دیکھئے فن آوری میں آخری حد پر ہیں، یہ لوگ اپنے طور طریقوں کے پابند ہیں مثلاً میں نے سنا ہے کہ لندن میں مرکزی شہر کے اعلیٰ درجے کے افراد کو اس بات کی اجازت نہیں کہ وہ اپنے گھروں کے نقشہ کو تبدیل کر یں جبکہ ہم اپنی ثقافت کو روند رہیں ہیں فن تعمیر بہت اہم ہے یعنی جیسے ہی کسی شہر میں قدم رکھیں دیکھتے ہی پتہ چل جاتاہے کہ یہاں کے لوگ کس طرح کے ہیں کیسی سوچ رکھتے ہیں ان کے ارادے کیا ہیں ۔

س: اگر ہم اس مسئلے کی شناخت کے سلسلے میں نظر ڈالیں تو یہ لازمی ہے کہ ہم ان تجربات کو شفاف کریں، ڈاکٹر کچویان کے مطابق انقلاب اسلامی تاریخی دھماکہ تھا یعنی اس وقت کی دنیا سے الگ تھلگ تھا یہ نگاہ جدید خود انسان کے اندر تحریک کی نشاندہی ہے یعنی ایک نظام چلا گیا ہے اور ایک نیا نظام، جو ابھی تشکیل نہیں پایا ہے یہ چیز تحرکات کی اپنی مثال آپ ہے یعنی کسی کے بھی تسلط میں نہیں، یہاں جو کچھ ہے وہ خود ہیں یہاں ایک ایسا وجود ہے جو تمام تر توانائی کے ساتھ اپنے آپ کو سامنے لارہا ہے، ابھی کچھ بھی نہیں ہوا ہے پس یہ وہ مقام ہے کہ جہاں ہم اس کا مشاہدہ کرنا چاہتے ہیں، یہاں آکر یہ دیکھنا لازمی ہے کہ یہ وجود کس چیز سے بنا ہے اور کیسے عمل کرے گا، یہی وجہ ہے کہ انقلاب کے پہلے عشرے کی زبانی روداد اس کی تعمیر کے لئے ایک نمونہ ہے اور جڑ ہے۔

کمری، اس مسئلہ کی بنیاد و اساس جس پر میں کام کر رہا ہوں، اس مسئلہ کی شناخت ہے۔

س: ہمارے کچھ تجربات ہیں، انقلاب ہوا، اس نے اپنی تاثیر عقول عملی میں پیدا کی، ایک عقل عملی ہے اور ایک عقل نظر ی ہے عقل نظری یہ ہے کہ جیسا کہ کتابوں میں ملتاہے کہ انقلاب اسلامی ملاصدرا کی نظر کے مطابق ہے، جبکہ اس پر قیل و قال بھی ہے، لیکن عقل عملی کی جانب بھی توجہ کی جا سکتی ہے جو اب کم ہو گئی ہے ابھی انقلاب اپنے تکنیکی مراحل طے کر رہا تھا کہ ایک اور عقل وجود میں آئی اور وہ تھی عقل جدید، اس عقل جدید کو کسی بھی طرح سے قانع نہیں کیا جاسکتا، یہ عقل جدیددراصل وہ ہی عقل عملی ہی تھی کہ جو روز مرہ کی زندگی میں جیسے جہاد و جنگ و فن و ادب میں عمل و رد عمل کے نتیجے میں حاصل ہو ئی زبانی روداد عقل عملی کو باہر لانے میں ہماری مدد کر سکتی ہے یہ وہی کام ہو گا کہ جو فوکو نے تاریخ جنون کے ساتھ کیا، ہم عقل جدید کے بارے میں وضاحت کرسکتے ہیں کہ آخر یہ کس طرح وجود میں آئی، جنون تمہاری سرحدوں پر اور تمہاری عقلوں پر کام کرتاہے اور اس وجہ سے جددت جنون کی حد تک پہنچ جا تی ہے وہ اس بات کی کوشش کرتا ہے کہ عقل جدید کو اپنے جنونی مفہوم کے ساتھ ملا کر ایک شکل ایجاد کر لے، روداد ِ زبانی کی مدد سے ہم اس نتیجے پر پہنچ سکتے ہیں کہ انقلاب کے بعد ہم نے خود کو دنیا میں نمایاں کیا ہے، اب ہمارا مقام اس دنیا میں کیا ہے؟ اس مقصد کی تلاش فن و ادب و سیاست و ثقافت اوراجتماعی امور میں کرنا ہو گی، اور وہیں سے یہ مقصد حاصل ہو گا۔

کمری، جی ایسا ہی ہے روداد زبانی یا تاریخ زبانی در اصل ایک بنیاد کی تلاش میں ہے کہ وہ بنیاد میراآگاہ ہونا ہے اور میری ریسرچ و احساس پر موقوف ہے یہ جو میں، میں، کہہ رہا ہوں یہ میں نفسانی میں نہیں بلکہ یہ میں اس کی میں ہے کہ سمجھدار ہے، میں عارف نہ کہ عارف باللہ بلکہ میں کہ جو جانتا ہوں، شناخت رکھتا ہوں یعنی آگاہی رکھتاہوں، موثر ہوں، زمہ دارہوں اپنی زمہ داری کو وفا کر نا ہے، انقلاب ہو چکا ایک اہم بات ہے جو میں کہہ رہا ہوں، وو سبب ہیں آپ یقین کے ساتھ عمل کریں کیونکہ عمل واقعات کو تبدیل کرتے ہیں انعکاس کی صلاحیت رکھتے ہیں مثلاً انہیں محفوظ شدہ تجربات کی بنیاد پر زندگی میں جد و جہد کو یقین آور بنایا جا سکتاہے اور میدان عمل میں اسی بنیاد پر اپنے پیروں پر کھڑے ہو جائیں ۔

ایک اور مثال دیتا ہوں ہم جانتے ہیں کہ مکتب اسلام کی نشر یات کتنی تھیں تقریباً ۲۰ ہزار سے ۲۵ ہزار تک جبکہ ایران کی آبادی آج کے لحاظ سے ایک چہارم تھی پڑھے لکھے کم اورکم پڑھے لکھے زیادہ، یہ ایک بہت بڑی علامت ہے کہ یہ صورت آہستہ آہستہ بڑھی ہے، میرے والد ایک سادہ سے کاروباری آدمی تھے مکتب اسلام کی نشر و اشاعت میں ۴۰ ۔۵۰ کی دہائی میں شریک تھے، کس طرح سے ایک ثقافت شکست کھاتی ہے اور رضاخانی دورہ زندہ ہوتا ہے دھیرے دھیرے انقلابی روح بیدار ہوتی ہے اور ایک وسیع مفہوم میں تبدیل ہو جا تی ہے تجربہ کار افرد خود ایک سرمایہ ہیں جو صرف زبانی روداد سے ہی حیات پاتے ہیں اس تجربہ کو زندہ رکھا جاسکتا ہے، صرف مکتب اسلام ہی نہیں تھا بلکہ انتشارات نسل جوان اور سیمان کے مجلات، شریعتی کی کتابیں فلسفی کی تقاریر کافی کے وعظ اور دوسرے بہت سے ۔۔۔۔ یہ سب کے سب اہم اور موثر تھے لیکن اب تک کسی کو نہیں دیکھا گیا کہ اس نے مکتب اسلامی کی تمام نشریات کا مطالعہ کیا ہو اور ان کے آثار پر بحث کی ہو کو ئی تحقیق کی ہو کس کے پاس جا ئیں کسی ایسے کے پاس جا ئیں کہ جو پچاس سے ستر سال یا اسی سال کا ہو جیسا کہ محمود کریمی اور ان کے بھائی۔۔۔۔۔۔۔۔ انجمنیں، جلسہ گاہ اس جیسی دوسری چیزیں کہ جو محلوں میں رونما ہوئیں جنکا تعلق محلوں سے ہے یہ باتیں بہت اہم ہیں یہ چھاپہ خانے بہت اہم ہیں ۔

س: آپ مختلف مقامات پر جائیں تو یہ بات ضرور سنیں گے کہ ان کی یادشت کو محفوظ کرو اس بارے جو اہم ترین بات ہے وہ یہ کہ انقلاب کے بارے میں اور سب سے اہم انقلاب کے بعد کی کہانی، مثلاً جہاد سازندگی اور ثقافتی و اجتماعی کام، اسی طرح انقلاب کے بعد ثقافتی کام کے جو مسجد میں ہوئے اسٹیج پر ہو ئے تواشح اور ادب اور تعزیہ داری، مسجد کی لایبرئیریوں نے جو کام کئے ہیں اسی طرح جنگی فضا اور سرحد پر جو کچھ ہوا وہ سب ۔۔۔۔

کمری، یہ سب اہم ہیں، میں نے تو پہلے ہی کہا، اور کہتا رہوں گا وہ اتفاقات کہ جو آپ نے انقلاب میں دیکھے ہیں، یہ ایک تمام امور ایک تحریک کے ثمرات ہیں یعنی اگر یہ نہ ہوتے تو یہ صورت سامنے نہیں آتی کیوں کہ یہ ایک استمرار ہے اسی کا حصہ ہے اور ہم انھیں نہیں دیکھ رہے، یعنی یہ کہ جہادی ایک دم جمع ہو ئے اس میں ان کا ایثار و اخوت اور دینی فکر کار فرما تھی، یہاں تک کہ میں یہ کہو ں گا کہ ہمارے آج کے معاشرے کو اسی طرح کے کام کی ضرورت ہے، بالخصوص پہلے عشرے کے تجربات ۔۔۔۔یہ بہت اہم ہیں ۔

س: عشرہ اولیٰ کس نگاہ سے اہم ہے؟

کمری، کیوں کہ پہلا عشرہ جوش اور انقلاب کی پیدائش کا دور ہے، ہم آہستہ آہستہ اس صورت حال سے دور ہو گئے، ایک دوسری فضا میں داخل ہو گئے جو ٹیکنیکی اصول و نظریات کی فضا تھی یہی ہم پر حاکم ہو گئی قضا اور نزاع کی صورت حال پیدا ہو گئی یہاں سے گزر کر اب جہاں ہم کھڑے ہیں، یہاں وہ انقلابی ماحول اور لوگوں کا وہ جوش و ولولہ نہیں دیکھتے یہ سب اب ایک اوزار میں تبدیل ہوگیا ہے پہلے کام بھی روکا ہوتا تھا تو سب مل کر اسے انجام دیا کرتے تھے، اب کہتے ہیں یہ کام اس ادرارے کا ہے وہ یہ کام انجام دے، یہ تبدیلی بہت اہم ہے ۔

س: اگر ہم ہنگامی بنیادوں پر عمل پیرا ہو کر کام کرتے ہیں تو مسئلے کی شناخت کا طریقہ کار کیا ہونا چاہیے، جبکہ امکانات اور وسائل بہت ہی محدود ہے، ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ اب کہاں سے کام کا آغاز کریں؟۔

کمری، کچھ کام مطالعے کے ہیں، گروہ بنا کر بھی کام کیا جا سکتاہے، ان لوگوں کو شامل کرنا ہوگا جو ثقافتی مطالعے میں دقیق ہیں اور وہ ان لوگوں کو شامل کرنا ہوگا کہ جو اس دور کا تجربہ رکھتے ہیں اورمختلف شہروں اور مختلف ادراوں کو انھوں نے خود دیکھا ہے، ایک مسئلہ جو بہت اہم ہے وہ یہ کہ ایک جیسا کام نہ ہو، یعنی کام کی تکرار نہ ہو، لہذا پہلا کام تو یہ کرنا ہوگا کہ دوسرے ادراروں سے ہم آہنگی کرنی پڑے گی کہ انھوں نے اس میدان میں کیا کام انجام دیاہے دوسرے اداروں کے کام کی سطح اور ان کی نظر کو دیکھنا ہوگا، کیوں کہ ان کی مطمع نظر بھی جدا ہے اور موضوعات بھی جدا ہیں اس بات کا امکان ہے کہ وہ جو چاہتے ہیں آپ کی نظر اس سے جد اہو ۔

س: آپ نے جو کام اب تک کئے ہیں ان میں آپ کی تشخیص کیا ہے؟

کمری، میری نگاہ میں ایران میں زبانی روداد اور زبانی تاریخ ایک دوسرے سے مل گئے ہیں، اس وسیع تاریخ زبانی کو ہم دو حصوں میں تقسیم کرسکتے ہیں ﴿١﴾ موضوع کا محور ہو نا ﴿۲﴾ شخصیت کا محور ہونا، زبانی تاریخ میں سب سے اہم چیز اس کا موضوع پر عطف ہونا ہے اور اگر شخصیت محور تاریخ کو ضبط کریں تو یہ دیکھنا ہو گا کہ یہ شخص اس موضوع سے تعلق رکھتا ہے یا نہیں اور یہ اس صورت میں ہوگا کہ ہم تاریخ کے میدان میں شخصیت کی جانب جا ئیں اور اس سے ان واقعات کے بارے میں سوال کریں، وہ چیز جو ایران میں تاریخ زبانی کے عنوان کے تحت غالب ہے وہ یہ ہے کہ ہمارا محور شخص ہے جو درحقیقت روداد زبانی ہے نہ تاریخ زبانی یا تاریخ شفاہی، تاریخ شفاہی یا تاریخ زبانی اور روداد زبانی میں بہت مشابہت ہے یہ ایک دوسرے کی طرح ہو تی ہیں لیکن ان میں فرق بھی ہے اگر دونوں میں بنیادی عنصر «یاد» یا حافظہ ہے اور داستان کی بازگشت وہ کہنے والا ہے دونوں زبانی اظہارات کا نتیجہ ہیں لیکن ان میں ایک پہلو فرق کے اعتبار سےبہت اہم ہے اور وہ یہ کہ تاریخ زبانی میں مسئلہ تاریخ کا ہے اور جو زبانی بیان کررہا ہے وہ اس طریقہ کی جانب متوجہ ہے، یعنی وہ اپنی ذات کو بیان نہیں کررہا بلکہ وہ ایک روداد کو بیان کر رہا ہے کہ جو اس نے دیکھی ہے اور جو اس تاریخ کا حصہ تھی یا ہے، تاریخ زبانی میں ہمارا سر وکار صرف تاریخ سے ہوتا ہے اس میں ہم اس بات کی اسناد اور اس کے کتابی و غیر کتابی ثبوتوں کی جانب جا تے ہیں، یا اس شخص کو دیکھتے ہیں کہ جس نے اس واقعہ کو جنم دیا ہے یعنی اس واقعہ کے محرک اصلی کی جانب جا تے ہیں یا کسی شاہد واقعہ یا سامع کی جانب رجوع کرتے ہیں اس کی بھی اپنی شرائط ہیں کہ آیا اس نے دیکھا ہے یا صرف سنا ہے بلاواسطہ سنا ہے یا بالواسطہ سنا ہے؟ یہ بات خود ایک گفتگو کی محتاج ہے جس پر ابھی کو ئی بات نہیں ہو ئی۔

اس بنا پر جب ہم تاریخ کے بارے میں بات کرتے ہیں تو اسکا بنیادی مسئلہ زبانی تاریخ کے مورخ کی تحریر ہے کہ جسے وہ خود تحریرکرتا ہے خود ہی اس سے نتائج لیتا ہے، یہ مسئلہ تاریخی ہے، مورخ اس تاریخ کی اسنادِ کتبی و کاغذی و تصویری وغیرہ وغیرہ کی جانب جا ئے اور اس کا اساسی متن ان لوگوں کی گفتگو ہونا چاہیے جو ابھی زندہ ہیں یعنی وہ خود اس تاریخ کو کو بیان کرنے والے ہوں یا اس کے شاہد ہوں گویا یہ متن ایسا ہونا چاہیے جو لوگ نہیں ہیں ان کی باتیں اس طرح بیان ہو ں کہ یہ متن ان کی نیابت کرے ۔پس ہم یہ کہہ سکتے ہیں اسناد کی جانب رجوع کرنے سے زیادہ اہم تاریخ شفاہی یا تاریخ زبانی میں واقعہ کی شناخت اور پہچان ہے، اگر چہ ایسانہیں ہو سکتا کے مورخ تاریخ شفاہی یا تاریخ زبانی میں اسناد اور تصاویر اور ان جیسی چیزوں کی جانب نہ جائے یا ان سے استفادہ نہ کرے بلکہ اس کے اساسی متن کا تعلق اس کی اس گفتگو پر ہے کہ جنھوں نے بلاواسطہ یا بالواسطہ ان چیزوں کو دیکھا ہے یا سنا ہے۔

میں اس بارے میں کچھ نکات پیش کرنا چاہتا ہوں، پہلا یہ کہ ہر گفتگو اور انٹرویو تاریخ زبانی کا مکالمہ نہیں، جو تاریخ نویس تاریخ شفاہی یا تاریخ زبانی کے منبع کی جانب رجوع کرے اسے خود تاریخ شناس ہونا چاہیے کیوں کہ اس کا مسئلہ تاریخی ہے جیساکہ کہا جا تاہے تاریخ جانتا ہو۔

بہت سے ہیں کہ جنہوں نے رکارڈ توڑا ہے اور گفتگو کرتے ہیں تاریخ جانتے ہیں؟ ان میں سے اکثر ایسے ہیں کہ جنھوں نے تاریخ پڑھی بھی نہیں اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ان کے کام کو نظر انداز کر رہے ہیں یا بے اہمیت جان رہے ہیں انھوں نے جو کام کیا وہ اپنی جگہ پر قابل قبول ہے لیکن یہ تاریخ شفاہی یا تاریخ زبانی نہیں ہے ۔کیوں؟ کیوں کہ مورخ نے گفتگو میں شخصیت کے مسئلے کو توجہ دی ہے اسے بعنوان راوی نہیں لیا ہم روداد میں بولنے والے کی جانب متوجہ ہو تے ہین جبکہ تاریخ شفاہی یا تاریخ زبانی میں گفتگو کی جانب متوجہ ہو تے ہیں کہ یہ کیا بول رہا ہے یہ ایک اہم فرق ہے۔

تاریخ شفاہی میں انٹرویو کرنے والا اپنے سوالوں کو تیار رکھتا ہے وہ راوی کو پھنسا بھی سکتاہے اور اسکی رہنمائی بھی کر سکتاہے کیوں کہ انٹر ویو لینا والا موضوع کی تلاش میں ہے نا کہ کسی شخص کی تلاش میں، باالفاظ دیگر تاریخ شفاہی کا مورخ تاریخ کے لئے کام کرتا ہے جبکہ روداد نویسی میں ہم ایک شخص کی یاد اشت پر کام کر رہے ہوتے ہیں جبکہ تاریخ شفاہی میں کیوں اور کیسے تجزیہ و تحلیل اور استنباط سے ہمارا واسطہ ہو تا ہے۔

ہاں البتہ جو کام اب تک ہو ئے ہیں وہ صرف روداد نویسی بھی نہیں ان دونوں کے درمیان ایک رسہ کشی ضرورہے، روداد نویسی میں ہم صرف محفوظ کرتے ہیں ہاں البتہ احساس اور محبت سے بھی پالا پڑتا ہے اور ایک ادبی اور روایی کام بھی ہو جاتا ہے ۔روداد نویسی میں ایک مسئلہ یہ پیش آتا ہے کہ ہم زمان حال سے ماضی میں چلے جاتے ہیں اور ماضی کو حال میں لے آتے ہیں روداد نویسی کا ایک برا اثر تو یہی ہے کہ آپ کو حال سے نکال کر ماضی میں پھینک دیتی ہے اور آپ کے اندر ایک سرد مہری کی کیفیت پیدا ہو جا تی ہے جبکہ تاریخ ایک ماجرا ہے کہ جو آپ کو سوچنے پر مجبور کردے ۔ گذشتہ کو حال میں لانا چاہتے ہوں تو!، تاریخ شفاہی کارآمد ہے کیونکہ اس کا محور عقل ہے جبکہ روداد نویسی کی بازگشت مایوسی کی جانب ہے، ہو سکتا ہے اس کا تعلق کسی ایسے معاشرے یا چند ایک ایسے افراد سے ہو کہ جو حال حاضر کو اچھی نگاہ سے نہیں دیکھتے ہوں یا تنازعات سے بچنے کی کوشش کرتے ہوں یعنی یہ روداد ان کی پناہ گاہ ہو جبکہ تاریخ شفاہی کا مسئلہ ابھی کا مسئلہ ہے یعنی حاضر کے مسائل کا حل ماضی کی بنیاد پر، یہ وہ باتیں ہیں کہ جو تاریخ نگاری کے میدان میں جدید ہیں.

س: تاریخ شفاہی کی ضرورت کو اس کی شناخت کو کیسا جانتے ہیں؟﴿یعنی اس کی شناخت کسیے ہو﴾ اس پر توجہ کی کیا اہمیت ہے؟ یعنی ہم تاریخ اسنادی پر زیادہ توجہ دیں یا تاریخ شفاہی پر؟ تاریخ شفاہی یا تاریخ اسنادی یا روداد نویسی کے میدانوں میں کہاں فرق ہے؟ ان سب پر توجہ دینے کے باوجود مشکلات موجود ہیں ۔

کمری ۔دیکھئے، ہم آخر کیوں تاریخ شفاہی کی جانب بڑھتے ہیں؟ کیوں کہ یہ طریقہ ہمیں مطلوبہ معلومات اور اس کے نتائج تک پہنچاتا ہے کہ جو تاریخ کتبی یا اسنادی میں ممکن نہیں اس بنا پر اگر ہم کسی ایسے کے پاس جا ئیں گے جس سے سوال کریں تو ہم نے ایک ایسے تک رسائی حاصل کر لی ہے جو ہمیں شناخت کروائے گا، یعنی اگر آپ کے پاس تمام تحریریں موجود ہیں تمام چیز آپ نے جمع کر لی ہیں اس کی تصاویر اس کی دستاویز لیکن اس بات کا احسا س ہے کہ ابھی کچھ باتیں ایسی ہیں جو باقی ہیں اور پوچھے بغیر ممکن نہیں کہ معلوم ہو سکیں اب یہاں آکر تاریخ شفاہی کی ضرورت کا احسا س ہو تاہے، تاریخ شفاہی مفصل مطالعات چاہتی ہے کہ جو ایک گفتگو کے لئے راہ ہموار کرتے ہیں کہ وہ انٹر ویو اور وسعت پیدا کرے جبکہ روداد نویسی میں اتنے مطالعہ کی ضرورت نہیں۔

اس بنا پر ہم تاریخ شفاہی سے ایک نیا راستہ جو قابل قبول بھی ہوں حاصل کرتے ہیں، البتہ تاریخ شفاہی آسان کام نہیں اس کے مقدمات بہت مشکل ہیں اور جس طرح ہم نے کہا کہ تاریخ شفاہی کو اور روداد نویسی کو خلط ملط کر دیا ہے ملا دیا ہے، علم عقل اور آزادی تاریخ شفاہی کے لوازم میں سے ہیں کیوں کہ یہاں موضوع کو مختلف زاویوں سے پرکھنا ہوتاہے۔

تاریخ شفاہی کے ماخذ میں سے ایک یہ ہے کہ وہ آوازیں جو دب گئیں ہیں، یعنی وہ صدائیں کہ جو تاریخ میں کہیں کھو گئیں انھیں روایت کیا جا ئے، جبکہ روداد نویسی میں ایسے افراد کی جانب جایا جاتا ہے کہ جو معمولا مشہور ہوا کرتے ہیں جبکہ تاریخ شفاہی میں وہ صدائیں جو کسی کو سنائی نہیں دیتی وہ بھی شامل کی جا تی ہیں کیو ں کہ اس طائفہ کے لئے یہ امکان بہت کم ہو تا ہے کہ یہ اپنی زندگی کو بیان کر سکیں یہ لوگ دھتکارے ہو ئے لوگ ہو تے ہیں ان کے پاس یہ امکانات نہیں کہ یہ خود کو مستند کر سکیں تاریخ شفاہی ان کی مدد کرتی ہے مثلاً آپ یز د میں بنائے گئے مٹی کے گھروں کے کاریگر افرد کے پاس جائیں اور دیکھیں کہ وہ کس طرح گارا بناتے ہیں اسے سانچے میں ڈال کر اس کی اینٹیں بناتے ہیں ۔

س: کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ روداد نویسی یا یاداشت نویسی تاریخ شفاہی سے پہلے ہے، ہم کہتے ہیں کہ روداد نویسی کا تعلق ان چیزوں سے ہے جوایسی چیز وں پر محمول نہیں ہو تی کہ دلائل اور سندوں کی محتاج ہو بلکہ اس کا تعلق انسان کے ذہن سے ہے ہم روداد کو حاصل کرتے ہیں اس کے بعد تاریخ شفاہی کی جانب متوجہ ہو تے ہیں وہ بھی اس صورت میں جب کو ئی سوال پیش آجائے؟

کمری، روداد یعنی میں، وہ، اور بولنے والا، آپ چاہتے ہیں کہ میں، وہ،  کو پہچانو، یعنی روداد میں یہی ہو تا ہےکہ جس کی داستان ہو تی ہے اسکو پہچانا جا تاہے، جبکہ تاریخ شفاہی میں ہم، میں، وہ، کو باہر سے دیکھتے ہیں ہم تاریخ شفاہی میں شخص کو ایک وجود ایک پیکر ایک بدن کے عنوان سے دیکھتے ہیں جبکہ روداد میں شخصیت مد نظر ہو تی ہے، اسی وجہ سے انقلاب کی روداد اور جنگ کی روداد صرف ایک فکر کو بیان کر رہی ہے جو اس بیان کرنے والے شخص کے اپنے احساسات پر مبنی ہے یعنی ان باتوں کو ہم نہیں کہہ سکتے کہ جنگ میں کیا ہوا یہ باتیں ہمیں صرف یہ بتاتی ہیں کہ دوران جنگ ایک انسان کیسا سوچتا ہے ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ ان دونوں کے درمیانایک پل بنایا جائے یعنی یہ ایسا مواد ہیں جو حالت جنگ میں انسان افکار کو بیان کرتی ہیں تاکہ تاریخ جنگ کو سمجھنے میں مدد ملے، ثقافتی لحاظ سے بھی یہ مطالعے کا اچھا مواد ہے اگر تحریف نہ ہو ا ہوتو، یہ بھی ایک المیہ ہے کہ کہا جاتا ہے کہ عام طور پر مقالے، تقاریر، تحریف کا شکار ہیں اور یہ قول ان مقالات اور دیگر تحریروں کے اعتبار کو ساقط کر دیتا ہے۔

 

 



 
صارفین کی تعداد: 3403


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
حسن مولائی کی یادیں

سو افراد، سینکڑوں افراد، ہزاروں

وہ لوگ جو چند گھنٹوں پہلے جمرات جا رہے تھے تاکہ رمی جمرات کا فریضہ ادا کرسکیں اب تولیہ اوڑھے سو رہے تھے۔ جب جنازے ختم ہوئے، تو مجھے سمجھ نہیں آئی کہ مجھے کہاں لوٹنا چاہئیے۔ اچانک میرے پیروں نے کام کرنا چھوڑ دیا اور میں نے پہلی مرتبہ وہاں گریہ کرنا شروع کردیا۔ واپس پلٹ کر ان سفید پیکروں کو دیکھنا شروع کیا۔ پوری سڑک جنازوں سے سفید ہوچکی تھی۔ ایک جوان مرد کی آواز پر چونکا جو میرے ساتھ کھڑا تھا اور میرے پیروں کے سامنے چپلیں رکھ رہا تھا۔
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔