سید فرید قاسمی سے گفتگو

زبانی تاریخ، نظریہ پردازی کا مقدمہ ہے


2015-08-29


سید فرید قاسمی کہ جو ١۳۴۳  میں پیدا ہو ئے ١۰۰ سے زائد کتب  اور ١۰۰۰ مقالات کے مصنف ہیں۔ اس بات کے معتقد ہیں کہ  زبانی تاریخ  مقولہ نہیں کہ جب دل چاہا اس کے پیچھے ہو لئے کیوں کہ ممکن ہے کہ جس سے انٹرویو لیا جا رہا ہو وہ ہمارے درمیان نہ رہے ، ہم خود سے سوال کریں کہ ١۳۲۰ سے ١۳۵۷  تک کتنے صحافی زندہ ہیں ؟ کیا ان کی یاد داشتیں ثبت ہوئیں؟ دور جانے کی ضرورت نہیں ، آخری ۳٦ سال کے وہ نامہ نگار کہ جو یاد گار ہیں ان کی سوانح حیات کتنی ضبط ہو ئی ہے ؟ ہمارے یہ سوالات ہماری اس نکتے کی جانب رہنمائی کرتے ہیں کہ کو ئی اچھا کام نہیں ہوا ہے کیوں کہ انفرادی کوشش اس سلسلے میں جواب نہیں دیتی ۔

 ماہنامہ  مدیریت ارتباطات کے مدیر جناب امیر عباس تقی پور کا سید فرید قاسمی سے لیا گیا  انٹرویو قارئین کے پیش خدمت ہے ۔

 

سوال: اگر آپ اس بات کے موافق ہیں تو زبانی تاریخ  کی کلیات اور اس کی اہمیت کے بارے میں کچھ  گفتگو ہو جائے ؟

 

تاریخ کو اگر ہم علم نہ کہیں توکم از کم یہ ضرور ہے کہ یہ  ایک فلیڈ ہے کہ جو مختلف مضامین کے ضمن میں ہے ۔ زبانی تاریخ تحلیلی تحقیق اور جستجو کی جانب ایک قدم ہے کہ جو دیگر منابع کے ساتھ ملکر معنٰی دیتی ہے اور کبھی یہ بذات خود ایک منبع اور مرجع ہے  بالخصوص ایسی صورت میں کہ ایران میں رونما ہونے والے بعض موضوعات اور واقعات کے ایسے منابع نہیں ہیں کہ جن سے اسناد کیا جا ئے ۔

کبھی ہم اسناد و خطوط کو ایک واقعہ کے بارے میں یا ایک خاص دور کے بارے میں دیکھتے ہیں ۔  کبھی ہاتھوں سے لکھے ہو ئے خطوط  ہمارے ہاتھ لگتے ہیں ،اور کبھی ہمارے پاس بعض افراد کی یاداشتیں ہوا کرتی ہیں کہ جن کو ہم اپنی گفتگو کی تکمیل کی خاطر استعمال کرتے ہیں ، کبھی کسی واقعے کے بارے میں ایک خبر ہمیں اس کے عامل کی جانب کھینچ لیتی ہے اور کبھی ہمارے پاس کچھ بھی نہیں ہوتا ، بہرحال چاہے کچھ ہو یا نہ ہو ہمارے لئے ضروری ہے کہ  ہم اس واقعے کے انجام دینے والے کی جانب جا ئیں  اسے دیکھنے والے کی جانب جا ئیں تاکہ اس واقعے کو محفوظ کیا جا ئے ۔

بنیادی طور پر  زبانی تاریخ  جہاں تک میری معلومات ہے ، دنیا میں کم پڑھے لکھے افرد اور ان پڑھ افراد کی معلومات کو اکٹھا کرنے کے لئے وجود میں آئی ہے ، وہ افرد کہ جو کسی اہم واقعے سے واقف تھے اور اپنی معلومات کو خود سے نہیں لکھ سکتے تھے بعد میں وہ افرد کہ جو پڑھے لکھے تھے انھیں لکھنے کی فرصت نہیں ملی وہ  افراد  انٹرویو دینے والوں میں شامل ہو گئے ایک وقت تھا کہ جب سینہ با سینہ بات چلی پھر ایک دور آیا کہ سینے سے کاغذ پر یہ معلومات منتقل ہو ئی۔

پھر ایک زمانہ وہ آیا کہ جب پڑھے لکھے افراد بھی انٹرویو دینے والوں میں شامل ہو گئے اور یہاں تک کہ وہ افراد کہ جو صاحب قلم ہیں اور اہل علم  ہیں ان سے بھی انٹرویو لیا جانے لگا اور ان کی باتیں اخبارات و مجلات میں نشر ہوئیں ۔

 

انٹرویولینے والے میں کیا کیا خصوصیات ہو نے چاہیے ؟

وہ شخص کہ جو انٹرویو لے رہا ہے اسے اپنی گفتگو پر مسلط ہونے کے ساتھ ساتھ آداب گفتگو پراورتاریخی حوالوں پرتسلط ہونا چاہیے ، اس بنا پر انٹرویو لینے والے کو جس بارے میں انٹرویو لینا ہے اس کے موضوع کو جاننا چاہیے یا اسے ایک نفسیات شناس ہونا چاہیے تاکہ وہ گفتگو کر سکے ، انٹر ویو لینے والے کو اس  دور اور جس سے وہ انٹرویو لے رہا ہے اس سے درست طرح سے آشنا ہو نا چاہیے اور عزت و وقار اور انصاف کے ساتھ اس میدان میں داخل ہونا چاہیے۔ انٹرویو کے اہتمام کر نے والے کے لئے ضروری ہے کہ وہ ریلشن شپ کے فن سے آگاہ ہو  ۔

کسی واقعے کے پوشیدہ امورکو آشکار کرنے کا ہنر اسے آنا چاہیےاور واقعے کے عیاں پہلو اور پوشیدہ پہلووں کو  وہ جانتا ہو، انٹرویو لینے کا زمان و مکان ، سوالوں کے تقدم و تاخر کو جانے یعنی کون سا سوال پہلے کرنا ہے اور کون سا بعد میں کرنا ہے اور دیگر مسائل کی رعایت کرے ۔ ہاں البتہ یہ بات بھی بتاتا چلو ں کہ  زبانی تاریخ کے تمام پوشیدہ اور پنہان پہلووں کو جاننے کے باوجود ہو سکتا ہے انٹرویو لینے والا ایک نسبی کامبابی حاصل نہ کر سکے کیوں کہ جس سے انٹریو لیا جا رہا ہے وہ بہت سے پہلووں کا تعین کرتا ہے یا اس بات سے خوف زدہ ہے کہ تمام امور کے بارے میں انٹرویو ہو ۔

 

یعنی جب  انٹرویو سے وہ نتائج حاصل نہیں ہو رہے  جو ہونے چاہیے تو انٹرویو لینے والا کیا کرے ؟

تجر بہ تو یہ بتاتا ہے کہ چھوٹی سی چھوٹی کامیابی کو بھی کسی بھی چیز سے تبدیل نہیں کرنا چاہیے ، بعض ایسے افرد ہیں کہ جو اپنا ہی راگ آلاپتے ہیں اور مکاملے کو تحریر نہیں کرتے وہ ہمیشہ یک طرفہ گفتگو کو ترجیح دیتے ہیں اور اس بات کی کوشش کرتے ہیں کہ انٹرویو ریکارڈ ہو ، زبانی تاریخ   میں اسکا سد باب ہونا چاہیے ۔ تجربہ بتا تا ہے کہ ایسے افرد بالآخر پانی ہو جاتے ہیں اور انٹرویو لینے والے کی خاموشی رنگ لاتی ہے اور چند نشستوں کے بعد وہ انٹرویو لینے والے کے جوابات دینے پر تیار ہو جاتاہے اور اس مرحلے تک پہنچ جاتا ہے کہ وہ دست پُر آگے بڑھے کیوں کہ اس کے سوالوں کے جوابات کے ساتھ ساتھ اسے انٹرویو دینے والے کے کلام میں کچھ اور باتیں بھی مل جا تی ہیں  اس صورت حال میں وہ اپنے سوالوں کو آہستہ آہستہ شروع کرے تاکہ انٹرویو دینے والے کا کلام قطع نہ ہو۔

 

اس طرح کے انٹرویو سے کیا نتیجہ حاصل ہو گا ؟

 

 ہمارے ملک میں کہ جہاں شفاہی کلام کتبی پر غلبہ رکھتا ہے  زبانی تاریخ بعض مقامات پر مکمل طور پر اور بعض جگہ صرف روشنگری ہے ۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔روشنگری؟

 

جی، تجربے کا محفوظ ہونا،  روشنگری یعنی کسی بات کا واضح ہونا اور نظریہ پردازی کے لئے ایک مقدمہ ہے ، بعض کے مطابق زبانی تاریخ روشن کرنے والی اور نظریہ پردازی کے لئے ایک میدان ہے اور اس کے رشد ایک راہ ہموار ہے ، زبانی تاریخ  انتقال تجربہ ، آپ بیتی کا تحفظ ، معتبر معلومات کا ڈھیر ، فرصت سازی  ، جانب داری کی ممانعت ،  رونما ہونے والے واقعے کے بارے میں فہم  اور اہل سکوت سے بلوانے کا وسیلہ ہے  ، ہمیں اس بارے میں مدد کرنے چاہیے تاکہ اس کو وسعت مل سکے ۔

 

شاید انٹرویو دینے والے کی بھی یہی اہمیت ہے ؟

 

انٹرویو دینے والے کی پہچان کی بازگشت بھی ہماری ہی جانب ہے اسی طرح کسی کی انفردی جہان شناسی اور اس جیسی دوسری چیزوں کی بازگشت ہماری جانب ہے ، یعنی جس کا انٹرویو ہو رہا ہے اس کی مکمل طور پر پہچان۔ اگر مکمل شناخت نہ ہو گی تو اس کی توجہ حاصل نہیں ہو گی ،   زبانی تاریخ میں یہ ضروری ہے کہ  اس کے اصلی افراد اور تماشاگر اور محقق میں فرق کے قائل ہوں تاکہ دیکھنے والے ، سننے والے اور لکھنے والے میں تمیز دی جا سکے ۔

انٹرویو کرنے والا جب تک انٹرویو دینے والے کے مقام سے  اور اس کی داستان کے مفقود و پنہان شدہ  اور ناگفتہ چیزوں ، ناقص روایات و تاریخ کے گمشدہ اسرار سے واقف نہ ہو تو وہ اپنے کام کو صحیح طور پر انجام نہیں دے سکتا اور مطالب کو روشن نہیں کر سکتا ، کشف اصل گفتگو سے پہلے انجام پاتا ہے اور شایدکچھ کشف، گفتگو کے دوران اگر ان نکات کا خیال رکھا جا ئے تو انٹرویو کرنے والا خود انٹرویودینے والے کو ہدایت کرتا ہے۔ آرزو کو خبر سےتخیل کو حقیقت سے تمیز دینے والا بن جاتا ہے ،تعلقات کو پیوستگیوں میں تبدیل کرتاہے  اور اس بات کی اجازت نہیں دیتا ہے کہ واقعے کی خوبصورتی کو بناوٹ کا روپ دیا جا ئے اس کے لئے ضروری ہے کہ انٹرویو دینے والے کو پہچانے تاکہ اس کے دام میں گرفتار نہ ہوجا ئے۔ یہ نکتہ بھی قابل غور ہے کہ جس کا انٹر ویو لیا جا رہا ہے وہ ایک راوی ہے اور اپنے نتیجے کو ایک روداد سے لے رہا ہے ۔

 

ان دونوں کے درمیان ہو نے والی بات چیت ، انٹرویو دینے والے کی روایت قابل استناد ہے ؟

کبھی بھی ایک روایت کو محفوظ کر کے یہ نہ سمجھو کہ کام ختم ہو گیا ، دوسری روایات کہ جو مختلف زاویے رکھتی ہے انھیں بھی محفوظ کرنے کی ٹھان لینی چاہیے تا کہ ریسرچر  تحقیق   تطبیقی  کر سکے اور اپنی ایک نگاہ دے سکے اور اقوال کو اسناد کے ساتھ  مطابقت دے سکے ، اس طرح کی تحقیق مشکل کا آغاز ہے ایک جانب روایا ت کا تناقص دوسری جانب مختلف اقسام کی اسناد، یہ سب ایک نئے محقق کو پریشان کر دیتی ہیں ، اسناد کی ابحاث میں ہمارے پاس تین نکات ہیں  یا تو سند اصلی ہو تی ہے یا سند جعلی یا نقلی ہو تی ہے کبھی گنگ اسنا د سے پالا پڑتا ہے  ،  زبانی تاریخ میں جب یہ تینوں حالتیں درست شرائط سے انجام پا جا تی ہیں تو  تمام روایات محفوظ ہو جا تی ہیں اس وقت ناپیدی کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے  زبانی تاریخ صرف ہونے کو نہیں دیکھتی بلکہ نہ ہونے کی جانب بھی متوجہ ہے اور اس ناہونے کی علل و شرائط کو پاتی ہے ۔ اس بنا پر  زبانی تاریخ اپنی اہمیت کے علاوہ پیچید گیاں بھی رکھتی ہے۔

کو ئی بھی صورت ہو  زبانی تاریخ  کا اپنا ایک مبنٰی اور ایک طریقہ کار ہے ،اقسام ہیں ، کلیات کی جانب متوجہ ہے ، انفرادیت کو  زمان و مکان کی جہت سے دیکھتی ہے ایسا لگتا ہے کہ دستان گوئی اور  زبانی تاریخ  کے درمیان ایک براہ راست نسبت ہے کیوں کہ بہت سے واقعات آپ بیتیوں کے بعد ہی سامنے آتے ہیں اگر زبانی تاریخ انٹرویو کرنے والے کے لئے  داستان میں پھیلاو رکھتی ہے تو انٹرویو دینے والے کے لئے ایک علاج کا کام دیتی ہے یہ انٹرویو کرنے والے کا ہنر ہے کہ وہ اس بات کو جانے کہ داستان گوئی  زبانی تاریخ کا ایک جز ہے لیکن تمام زبانی تاریخ  مکمل طور پرداستان گوئی نہ ہو جائے انٹرویو کرنے والے کو اس دوران سمجھنا اور جاننا ضروری ہے ۔ مجھے یا دہے کہ بہت سالوں پہلے عزیزی نے زبانی تاریخ  میں انٹرویو لینے کے کام کو، دایا کے کام سے تشبیہ دی تھی اور ان کے کلام میں ایک نکتے کا اضافہ ضروری سمجھتاہوں کہ دایا کو پتہ ہو نا چاہیے کہ بچہ نارمل ہو گا یا ۔۔۔۔ جیسا کہ آج کل کہا جاتا ہے کہ آپریشن سے ہوگا پس اگر انٹرویو لینے والا درست عمل نہ کرے تو ممکن ہے کہ  زبانی تاریخ  اس دنیا میں مردہ حالت میں آئے ۔

 

آپکی گفتگو میں زمان و مکان کے عنصر کو جاننے کی تاکید اس بات کی دلیل نہیں کہ انٹرویو کرنے والے کے لئے تاریخ کا جاننا ضروری ہے ۔؟

انٹرویو کرنے والا اگر تاریخ کو نہیں جانتاہو تو صرف وہ انھیں داستانوں کی جانب جا ئے گا کہ جو روایات  میں بیان ہو ئیں ہیں اور ثبت ہو چکی ہیں۔ لیکن اگر اپنی فکراور تاریخی پہچان رکھتا ہوگا تو ان منابع کو بھی درک کرے گا کہ جو خاموش ہیں اور وہ اس واقعے کے فرد اصلی کی جانب جا ئے گا،  اسے دیکھنے والوں کی جانب جا ئے گا کہ جو کسی بھی منابع میں قابل مشاہدہ نہیں۔ اس بناپر زبانی تاریخ میں زمان و مکان بہت اہمیت کے حامل ہیں ۔ تاریخی معلومات اس بات کا سبب بنتی ہے کہ انٹرویو دینے والا توجہ کے ساتھ گفتگو کرے اگر انٹر ویو لینے والا تاریخ پر تسلط نہیں رکھتا ہوگا تو انٹرویو صرف ریکارڈ ہوگا یا پھر اسکی ویڈیو بنے گی اور بس۔  اور نتیجتا  ایک طرفہ روایت سامنے آئے گی کہ جو راہوں کو کم کھولے گی، یہ بات ضرور ہے کہ انٹرویو لینے والا تامل کو اپنا سلیقہ بنائے نہ احساس تقابل کو ، بعض افراد زیادہ بولتے ہیں لیکن اچھا نہیں بولتے انٹرویو دینے والے کے بھی اپنے حقوق ہیں ان حقوق کی رعایت ہو نی چاہیے  ۔

 

انٹر ویو دینے والے کا حق اس سے آپکی کیا مراد ہے؟

جی ہاں ، اس بات کو یاد رکھنا چاہیے کہ انٹرویو لینے والا ایک طرح سے انٹر ویو دینے والے کا امانتدار ہے اور دوسری جانب سے سماج کے افکار کا نمائندہ ہے ۔

 

انٹرویو دینے والے کا کیا حق ہے ؟

اپنی گفتار کی تبدیلی کے  بعد اگر انٹرویو دینے والا اپنے متن کو دیکھنا چاہے تو یہ اسکا حق ہے۔ اس سلسلے میں انٹرویو لینے والے کو شکیبائی سے کام لینا چاہیے ۔

 

جو خصوصیات آپ نے بیان کی ہیں اس بنا پر انٹرویو لینے والا اپنے کام کا آغاز کس طرح کرے ؟

زبانی تاریخ میں کوشش اور اس میدان میں تحقیق ،بغیر کسی پروگرام کے  خبر دینا اور مطالب کو تدوین کرنے سے کسی بھی مقام پر نہیں پہنچا جا سکتا ۔ ضروری ہے کہ روداد کی سیاہ باتوں کو لکھا جائے اور انھیں یاد اشت کے سپرد کیا جائے۔ پھر تاریخ کی  گلیوں میں  جایا جا ئے اور جو کچھ بھی حاصل ہوا ہے اسے سنبھال کر رکھا جا ئے ، ذہن کو انٹر ویو کے لئے تیار کیا جا ئے ، لیکن ہمارے ملک میں جس کا انٹرویو کیا جاتا ہے وہ انٹرویو کرنے والے کے لئے رکاوٹ بن جا تا ہے ، بعض افرد اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ کسی ایسے سے بات چیت ہو کہ جو کسی چیز سے واقف نہیں ، بعض اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ وہ کسی اپنے جاننے والے سے گفتگوکر یں اور کسی ایسے سے بات کریں کہ وہ ان کے تسلط پر اعتقاد رکھتا ہو ۔  بعض داستانوں کے گہرائی میں جانا ایسا ہے جیسے بھوسے میں سوئی تلاش کرنا ، داستانوں میں حب و بغض کا انتخاب ، تبلیغ و تبعیض و تمجید و برات بہت زیادہ ہو ا کرتی ہے ۔انٹرویو لینے والے کے لئےضروری ہے کہ وہ اس طرح سے بات کرے کہ انٹرویو دینے والا غیر جانبدار رہے۔ انھیں اس بات کی یادآوری کرانی چاہیے کہ یہ داستان نہیں تاریخ ہے اور زبانی  تاریخ ،تاریخی ادب کی انواع میں سے ایک نوع ہے نا کہ کو ئی لوک داستان۔

 

اس بات کا امکان ہے کہ انٹرویو دینے والا خود  اپنی گفتگو کے کچھ حصے سینسر کر دے ؟

وہ سینسر کی طرف نہ جا ئے اسی لئے اس یہ موقع دینا ہوگا کہ وہ اپنی بات سے شروع کرے ، آپ اس سے اپنی یادداشت کےمطابق اس سے بات پو چھے ، اس بات کو بھی جان لینا ضروری ہے کہ ایسے واقعات کہ جو پرانے ہو چکے ہیں انھیں دیر میں پو چھا جا ئے تو یہ اس کی خود اپنی آفات ہیں اور اس کی کمترین آفت دیکھے ہو ئے کو سننے سے ملانا ہے ۔  انٹرویو لینے کے رموز و فنون و مہارت کہ جو  زبانی تاریخ کے لئے لازم شرط ہے یہ شرائط کا فی نہیں، زبانی تاریخ  کا طریقہ کار روزنامہ نگاری کے طریقہ کار پر نہ ہو لیکن بہت سی تیکنیک اس کام میں آتی ہے ، انٹرویو لینے والے کے لئے ضروری ہے کہ وہ پرو گرام بنائے اور ریسرچ سے کام لے اور اپنی فکر سے آگاہی اور شناسائی تک پہنچ جا ئے اپنے سوالوں کو لکھ لے ، انٹرویو لینے کی جگہ اور زمانے کو اچھی طرح سے انتخاب کرے اس کے انتخاب میں دقت کرے ،ان تمام ملزومات کو اچھی طرح سے پرکھے تاکہ کوئی کسر باقی نہ رہے اس بات کی کوشش کرے کہ اپنے وقت پر حاضر ہو اور انٹرویو دینے والے کہ باڈی لینگویچ کو سمجھے ، اور جس جگہ بیٹھے وہاں کی تمام چیزوں پر توجہ رکھے یہاں تک کہ وہاں لگے بٹنوں پر بھی ، روبرو ہونے اور آمنے سامنے بیٹھ کر رابطہ قائم کرے ٹائم کو کنڑول میں رکھے ،سوالات کو واضح اور روشن بیان کر ے ،کون سے سوال کو کب کرنا ہے اس پر توجہ رکھے ، انٹر ویو دینے والے پر پریشان نہ کرے ،تناقص گوئی کو کشف کرے لیکن سخت طریقہ اختیار نہ کرے اور اپنی تریدوں کو بار بار بیان نہ کر ے ،جوابات پر غور کرے تاکہ نئے سوالات ایجاد ہوں گے ، انٹرویو دینے والے کو اس کی اچھی باتوں پر تشویق اور اس سے ہمدلی کا اظہار تاکہ وہ اپنی تائید اور تکذیب پر توجہ کرے تو اس طرح وہ اپنے ہدف کے نزدیک ہو  جائے گا۔ بنیادی و ہدف دار سوالوں کے وقت کا تعین ، چھوٹے  بڑے سوالوں  ، سادہ اور پیچیدہ سوالات  کو جانتا ہو،سوالات کو بیان کرنے کی جسارت ایسے ہو کہ انٹرویو دینے والا یہ نہ سمجھے کہ اس سے کو ئی تفتیش کر رہا ہے ،آرام و شوخ لہجے میں سوالات کو بیان کرے ،اسیر و مسحور نہ ہو، انٹرویو دینے والے کی تھکاوٹ اور اسے آرام  پہچانے کی کوشش کرے،جب بھی وہ بات کو کاٹے کسی دوسری تمہیدی گفتگو کی جانب جا ئے ۔

 

 

زبانی تاریخ اخبارات سے فرق رکھتی ہے کیوں کہ انٹرویو دینے والا آپ کے تما م دو پیچ جانتا ہے گویا کہ کشتی گیر ہے اور ہر داو کا توڑ سمجھتا ہے اور آپ کی غفلت کو جانتا ہے اور انٹر ویو لینے والے سے زیادہ تجربہ رکھتا ہے ، اس بات کا امکان ہے کہ کو ئی اپنی معلومات کو اپنی یقینیات کو یا عدم معلومات و عدم یقین کا ریکشن ہی نہ دے ،کچھ ایسے بھی ہیں کہ جن کے ذہنوں میں یہ بات ہو تی ہے کہ وہ اس انٹرویو کے میدان سے ناکام پلٹیں گے یا وہ نتائج کے جو ان کے ذہنوں میں ہیں اس تک نہ پہنچ سکے اس طرح کے افراد ظاہری طور پر چہرے پر مسکراہٹ لا تے ہیں تاکہ آپ کو منفعل کر کے اپنی جانب مائل کر سکیں ، کیوں کہ وہ انٹرویو لینے والے پر غلبے کی راہ کو جانتے ہیں۔ یہ آپ ہیں کہ مسکرائیں اور مناسب جواب دیں اور انٹرویو کو اپنے ہاتھ سے جانے نہ دے ۔  

آپ ہر کسی سے انٹرویو نہیں کرتے ہیں ، آپ جذابیت اور ان کہے حروف کی  تلاش میں ہیں اور ایک موثر انٹر ویو کی فکر میں ہیں ، ایک آئیڈیل ایک ہدف کو پاتے ہیں ، آپکا ذہن ایک پرورش گاہ بن جاتا ہے یہاں تک کہ مکالمہ ایجاد ہو تے ہیں حتیٰ انٹرویو کو تبدیل نہیں ہو نے دیتے اور ایک گفتگو انجام پاتی ہے اور کبھی یہ گفتگو ایک بحث اور مجادلہ میں تبدیل ہو جا تی ہے۔ لیکن یہ باتیں زبانی تاریخ میں ندرت رکھتی ہیں زبانی تاریخ میں زیادہ تو انٹرویو ز ہوتے ہیں کہ جو گفتگو میں تبدیل ہو جا تے ہیں اور اگر گفتگو کی صورت اختیار کر جا ئے  تو وہ گفتگو  اگر نقدنہ ہو تو بہت ہی عالی ہے اگر ایسا ہو جا ئے تو الگی مرتبہ کو ئی نہیں آتا ، ان چیزوں کو محفوظ کرنا ہے بعض راوی منفرد ہیں ان کے پاس نہ لکھا ہوتا ہے اور نا ہی کو ئی ان کہی ان کے پاس ہے۔ پس اس صورت میں کسی بھی روداد کا ثبت کرنے کا امکان نہیں کوشش کیجے کہ کم حرفوں میں اسے بولنے پر مجبور کریں اور زیادہ حروف سے اس بکھرے ہو ئے انٹرویو دینے والے کو مرتب کریں ، اگر کو ہو ائی جہاز پر سوار ہو تا ہے تو اسے پیرا شوٹ کی جگہ معلوم ہو نی چاہیے۔ ایک طولانی بات چیت کو ایک نشت یا دو نشت میں انجام دو ۔

 

بہت سی آپ بیتیاں منتشر ہو چکی ہیں اور ہو رہی ہیں یہ آپ بیتیاں زبانی تاریخ کا حصہ ہیں ؟

آپ بیتیاں کہ جو خود نوشت سے خود گفتنی میں تبدیل ہو چکی ہیں زبانی تاریخ میں شمار نہیں ہو سکتیں ، اس بات کو جان لینا چاہیے کہ بعض  افراد نے خود کو داستانوں کا محور  بنا رکھا ہے اگر چہ وہ اس داستان کے ایجاد کرنے  والے ہی کیوں نہ ہوں وہ افراد اس واقعے کے تماشہ کرنے والوں کی باتوں کا انکار کرتے ہیں ،بعض افر اد  اپنی بڑائی کی تلاش میں ہیں۔  خود کو تماشہ گر سے نکال کر حادثے کے اصل کردار میں ڈھالنے کے چکر میں ہیں ۔  اس نکتے کو بھی یاد رکھنا چاہیے کہ فروتنی اور خوف اور کام کا لحاظ کچھ لوگوں کو کچھ کہنے سے روکے رکھتا ہے ، روداد کے تماشہ گر کا ابہام اس داستان کے اصلی کردار کے دھندلکے کے ساتھ ساتھ  ہے۔ لہذا  ان ترکیبوں  کی جانب متوجہ رہنا چاہیے ،زبانی تاریخ کبھی تواضع کے ساتھ شروع ہو تی ہے ، انٹر ویو کے درمیان انٹرویو دینے والا اس کی موجودگی میں کہتا ہے اور آخر میں انٹرویو کا محور تبدیل ہو جاتا ہے ، آپ بیتیاں اپنی تعریف سے خود تصور میں تبدیل ہو جا تی ہے ہمیں اس بات کو جاننا چاہیے کہ انٹرویو کرنے والے ایک قینچی پا سکتا ہے اور یہ اب اس کا ہنر ہے کہ بہتر قینچی کو تلا ش کرے ، زبانی تاریخ میں بعض افراد  ماضی کے مطالعے سے اسے حاصل کر تے ہیں اور کچھ افراد زندگی کے مطالعے سے اس کو حاصل کرتے ہیں۔ ضروری ہے کہ ہدف ، موضوع کا انتخاب ، لازم وسائل ، کام کا فلسفہ ، کام سے قبل تحقیق ، واقعہ کے پہچان ، یعنی اس کی حقیقت ، نقلی و اصلی و تحریف و توہم و جھوٹ ، پو شیدگی ، پنہاں کرنا اور ضایع کرنا ،  ان سب پر پہلے سے کام کرنا ، کس طرح سے اس میں داخل ہونا ، جغرافیا و تاریخ ، کا م کا طریقہ کا ر ، انٹرو یو کرنے والے کا فہم و شعور ، ضبط و تلخیص ، بھول چوک ، و اصلاح کو اپنا شیوہ قرار دینا اور احساس کو عقل پر حاوی نہ ہونے دینا ۔

 

زبانی تاریخ کے مکاتب میں سے کس مکتب کو ایرانی زبانی تاریخ کے لئے آپ مناسب سمجھتے ہیں ؟

میں کسی گروہ اور طبقہ کے بارے میں نہیں کہنا چاہتا یہ آداب کے خلاف ہے ، کچھ اوپر ہیں کچھ نچلے طبقے میں ہیں اور کچھ متوسط ہیں۔ کچھ روایتی اور ان جیسے افرد ہیں۔ لیکن میں ان افراد سے کہ جو ہمارے لئے مختلف قسم کے مکاتب تجویز کرتے ہیں کہنا چاہتا ہوں کہ ہماری راہ علاقائی ہے ، یورپ کا اپنا شیوہ ہے جرمن کا اپنا طریقہ کا رہے فرانسسی مکتب اور جرمنی مکتب میں فرق ہے مثلا بعض کہا کرتے ہیں ہماری تاریخ  آنال کے اصول پر مرتب ہو نی چاہیے اور اپنی فکر میں اور روش میں ہمیں ان کو دیکھنا چاہیے ، جبکہ مکتب آنال ، سالنامہ تاریخ اقتصادی و اجتماعی آنال کے متن سے پیدا ہوا ہے کہ جو تقریباً ١۹۲۹ میں وجود میں آیا ہے ، اس میں اس نے روایتی تاریخ نگاری پر تنقید کی ہے اور ایک طریقہ کو پیش کیا ہے ،لیکن روایتی تاریخ نگاری کی نفی نہیں کی ہے بلکہ روایتی طریقے کی بنیاد کو درست کیا ہے اس کی داستانوں کو محفوظ کیا ہے تحلیل و چھان پھٹک اور ان کی علتوں کو کشف کیا ہے اس کے بعد کہا کہ اب آیئے تاریخ میں سب لوگوں کو شامل کریں اور مختلف پہلو نکالیں ، ہمیں بھی اپنے نسخے خود ہی لکھنے چاہئیں۔ ہمیں اپنی ثقافت  کی جانب توجہ دینی چاہیے۔ ہماری داستانوں کو ہمارے اپنی زبان میں بنیادی خطرہ لاحق ہے ،بعض نے اعترافی ادب سے زندگی نامہ لکھا ہے ۔ حقیقت نمائی کو حقیقت گوئی بنا دیا دکھاوے کو ظاہر بنا دیا۔ اس طرح دکھاوا اور شبیہ سازی شروع ہو جا تی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم یاد گاروں ، حوادث و تجارب کو بغیر کسی تصرف سیاسی و اقتصادی و احساساتی کہ محفوظ کریں اور ایک ایسا مجموعہ سامنے لائیں کہ جو دلپذیر اور مستند ہو ۔

 

تجدیدتکنیک زبانی تاریخ پر کس طرح اثر انداز ہو تی ہے کیا تبدلیاں لائی ہے ؟

وہ فن اور آلات کہ جو زبانی تاریخ کی مدد کو آئے ہیں پہلے نہ تھے۔ ہم پہلے ایک ٹیپ ریکاڈر اور چند کیسٹوں کے ساتھ انٹرو یو لینے جایا کرتے تھے۔ اب تو آواز کے ساتھ ساتھ تصویر اور ویڈیو بھی ہمارے دسترس میں ہے کہ جس سے زبانی تاریخ کو بہر مند ہونا چاہئے۔ اس بات کی اجازت دیں کہ ہم اخبارات  کی زبانی تاریخ کو بیان کریں ۔ اب روزنامہ نگاروں کے کام اور ان کی زندگی کہ جو انھوں نے اخبارات کے سلسلے میں گذاری ہے اس کو بھی محفوظ کرنا شروع کر دیا ہے ،  ماسلف کے کارنامے اور ان کی آپ بیتیاں ان کی یاداشتیں کہ جو ہم تک پہنچی ہیں وہ ہونے والے واقعات سے بہت کم ہیں ،اگر ہم اخبارات میں لابہ لائے کلام میں جو  گفتگو ہوئیں ہیں وہ بھکری  ہو ئیں ہیں اور ان کی تدوین اور تنظیم نہیں ہو ئی ہے ۔

مجھےاس سلسلے میں دو تجربے ہیں اور ہو سکتا ہے کہ جب میں اس مقولہ کی تلاش میں جا وں۔ اس کی بنیادی دلیل یہ ہے کہ جو کام رہ گیا ہے اس کو انجام دیا جا ئے اور میری تلاش یہی ہے کہ انھیں تاریخ مطبوعات کے سایے میں رکھا جا ئے ،اس سلسلے میں میرا  پہلا تجر بہ یہ ہے کہ وہ روزنامہ نگار کہ جو تاریخ ساز ہیں وہ اپنی فیلڈ میں اہم ہیں او ر دوسرا یہ کہ اخبارات کی خبر یں کہ جوفورم میں اور آوٹ آف فورم ہیں اوروہ مجلات کہ جو پڑھے جا تے ہیں یہ سب باتوں کو روشن کرنے والے ہیں ۔

مطبوعات کی تاریخ کے زوایا کو جاننے اور ان کی  اول درجے کی روایات کو جمع کرنے کے لئے   سرگرم اخبارات کی جانب جانا ہو گا اور اس بات کی کوشش کرنا ہو گی کہ وہ چیزیں کہ جو سینے میں پو شیدہ ہیں انھیں وہ کہیں اور دوسرے کے فائدے کے لئے کاغذ کے سینے پر منتقل کریں اور ان اخبارات کے مدیر اور ایڈیٹرز افراد کے پاس جایا جا ئے ۔ زبانی تاریخ صرف تاریخ ہی ہے اس سے زیادہ نہیں یعنی اخبارات کے میدان میں عمومی طور پر مالکوں ، مدیر وں اور ایڈیٹروں کو نہیں دیکھا ہے ، تاریخ کے ذریعے سے درمیانی طبقہ اور نچلے طبقے کو ضرور اہمیت دیں تاریخ کے گوشوں میں سے ممکن ہے کہ کچھ داستانیں اخبار کے دفتر کے چائے پیلانے والے اور پانی پلانے والے کے سینے میں ہوں اخبار فروشوں کو بھی فراموش نہیں کرنا چاہیے زبانی تاریخ میں صرف اوپر درجے کے افرد کو کی فکر نہیں کرنی چاہیے درمیانے درجے کے افراد کی روایات کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے ۔

اس کے باوجود زبانی تاریخ میں آپ کی جستجو  چند جلد کتابوں پر مشتمل انفرادی دلچسپی پر مشتمل ہو۔ اس طرح نظر آتا ہے کہ اس میدان میں کوئی شائستہ کام انجام نہیں پایا ہے ، آخر کیوں ؟

 

آپ کے قلم سے کچھ چھوٹا ہے تو بتائیں ؟

دو نمونے ہیں کہ جو میں بیان کروں ایک نمونہ کہ جو ایک اخبار فروش کا ہے کہ جس کا نام محمد ابراہیم رنجبر کہ جو ۸۰ سال کا ہے اس کی داستان  استاد جلال رفیعی کے مقدمے کے ساتھ نشر ہو ئی اور یہ نمونہ ایسا کہ جو تلوار کی دھار پر چلنے کے برابر ہے وہ بات چیت کہ جو محمد باقر نے البرٹ کوچویی کے بارے میں ایک یاد داشت باعنوان تیغ پر چلنا کے ذیل میں  لکھی ہے۔  لیکن جناب کو چویی اور رضائی کی عزت کی خاطر میں نے اسے چھاپا نہیں ۔

 

اس سلسلے میں کو ئی سر گرم   تنظیم ہے ؟

دس سال پہلے میں تاسیس انجمن زبانی تاریخ ایران کی خبر کو پڑھا تھا کہ جو  انجمنوں کا مرکب تھا اس کے بعد میں نے کو ئی خبر نہیں سنی لیکن دوسرے ممالک میں اس طرح کی تنظیمں ہیں کہ جو ماضی کے شیووں پر کام کر رہی ہیں انھیں انجمنوں نے تاریخ شاہی کے گروہ بھی تشکیل دیئے ہیں ۔

حرف آخر؟

دنیا نے ہمیں سب کچھ دیا لیکن ہم نے جو چیز اس سے نہیں لی وہ عبرت تھی ۔



 
صارفین کی تعداد: 3222


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
حسن مولائی کی یادیں

سو افراد، سینکڑوں افراد، ہزاروں

وہ لوگ جو چند گھنٹوں پہلے جمرات جا رہے تھے تاکہ رمی جمرات کا فریضہ ادا کرسکیں اب تولیہ اوڑھے سو رہے تھے۔ جب جنازے ختم ہوئے، تو مجھے سمجھ نہیں آئی کہ مجھے کہاں لوٹنا چاہئیے۔ اچانک میرے پیروں نے کام کرنا چھوڑ دیا اور میں نے پہلی مرتبہ وہاں گریہ کرنا شروع کردیا۔ واپس پلٹ کر ان سفید پیکروں کو دیکھنا شروع کیا۔ پوری سڑک جنازوں سے سفید ہوچکی تھی۔ ایک جوان مرد کی آواز پر چونکا جو میرے ساتھ کھڑا تھا اور میرے پیروں کے سامنے چپلیں رکھ رہا تھا۔
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔