کمانڈر گل علی بابائی سے گفتگو

دفاع مقدس کی یادیں ہمارے لئے زندگی گذرانے کا نمونہ بن سکتی ہیں /آٹھ سال کی جنگ عوامی جنگ تھی ۔

مترجم: ابو زہرا علوی

2015-08-25


۳۱ شہریور سے ۵ مہر تک کے ایام ہر سال ہفتہ دفاع مقدس کے نام سے منائے جاتے ہیں۔ یہ وہ ہفتہ ہے کہ جس میں عراق کی بعث پارٹی نے ایران پر ۱۳۵۹ میں حملے کا آغاز کیا اور ۱۳۶۰ میں آبادان کی شکست کے بعد یہ جنگ ختم ہو ئی، یہ آٹھ سالہ ایران و عراق کی  مسلط کردہ جنگ تحلیل و تجزیے سے سرشار ہے۔ اس میں درد دل ہے ان لوگوں کا کہ جن لوگوں نے اس دوران زندگی گذاری ہے ان سے انکے درد دل کو سنا جا ئے، لیکن جنگ کی تاریخ کو کہ کس طرح ہوئی، کیسے واقعات رونما ہوئے ان سب کو اہل فن اور وہ لوگ کہ جنہوں نے سرحدوں پر جان کی بازی لگائی ہے وہ اس کو مشخص کر سکتے ہیں، کمانڈر گل علی بابایی کہ جو ابھی دفاع مقدس کے ادب و ہنر کے رئیس ہیں "غربت ھور" "از الوند تا قراویز" "حکایت مرادن مرد" "نبرد ھا ی جنوب اھواز" "حکایت مردان مہر" کہ جو کمانڈرز شہید غلام علی پیچک و مہدی خندان کی آپ بیتوں پر مبنی ہے اور انکے "نقطہ رہائی"، سمیت دیگر آثار نشر ہو چکے ہیں وہ مسلط کردہ جنگ کے ایک جنگجو ہیں اور آرٹ کی خبروں کی ضمن میں جنگ کے واقعات، ملک کی صورتحال، سرکاری اداروں کی تشکیل اور روداد نویسی کے بارے میں کام کرتے ہیں ۔

سوال: آپ نے بہت سی کتابیں کہ جو داستانوں اور جنگی آپریشنز اور ایرانی  جنگجوں کاحماسہ، مسلط کردہ جنگ کے بارے ہیں، لکھی ہیں۔ سوال کے طور پر ہم اپنی گفتگو کا آغاز  مسلط کردہ جنگ سے کرتے ہیں، کیا ہوا تھا کہ عراق و ایران کی جنگ ہوئی؟

گل علی بابائی: ایران کے خلاف صدام کی یہ جنگ ایک طولانی پروسس تھا کہ جو انقلاب اسلامی ایران سے شروع ہوا۔ انقلاب کے بعد دنیا کے  استکبار اس بات کی تلاش میں تھے کہ کسی طرح سے انقلاب کو روکا جا ئے اور شاہ اور اس کی فکر کو دوبارہ ایران میں حاکم کیا جا ئے اسی بنا پر انقلاب کے پہلے ہی دن سے سرحدی علاقوں جیسے کردستان، و سیستان و بلوچستان، میں خلق عرب نے جنوب میں  اور ترکمانیوں نے فسادات کرنا شروع کر دئیے۔ حتی کے بعض شہر سقوط کا باعث بنے جیسے سنندج، مہاباد،گبند، ان کے یہ اقدامات انقلاب کے مدمقابل آگئے۔ لیکن جب وہ ان حرکات سے نا امید ہو گئے تو دوسرے حربے آزمانے کی ٹھان لی۔ امریکہ نے پہلا حملا طبس  پر اپنے یرغمالیوں کو چھڑوانے کے بہانے کیا اور ملک کے بعض حساس علاقے جیسے جماران، مجلس اور وزیر اعظم تسخیر ہو ئے، جب اس سے بھی کچھ نہ بن پڑا توبغاوت پر اترآئے جو ایران میں نوژہ بغاوت Nojeh coup کے نام سے مشہور ہے کہ جس میں کچھ فوجی اور کچھ سیاستدان کہ جو غرب زدہ تھے مثلا بختیار ، اویسی اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فریب کھا گئے۔انھوں نے ایک پروگرام بنایا کہ جو بہت ہی پیچیدہ لگ رہا تھا۔ لیکن امام رح کی تدبیر سے وہ بھی ناکام ہوا، جب استکبار نے تمام راہیں دیکھ لیں اور وہ تھک گیا تو پھر صدام سے وہ کام لیا کہ جو اخلاقیات سے دور تھا۔ صدام میں تکبر کے ساتھ ساتھ شاہ کے بعد علاقے میں کھاتہ دار بننے کا شوق بھی تھااور اس کے پاس اس کا میدان بھی تھا۔ صدام نے پوری دنیا کی مدد سے ۳۱ شھریوار ۱۳۵۹ کو ہمارے پانچ صوبوں پر حملہ کیا اور ہمارے بعض شہر جیسے قصر شیرین، نفت شہر، مھران و۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انھیں دنوں میں اس کےقبضے میں گئے اور چند روز کے بعد خرمشھر پر بھی قبضہ کر لیا۔

سوال: ملک میں بد نظمی کا دور دورہ تھا لیکن ہمارے فوجی طاقت اس حد تک تھی کہ ہمارے شہر کم مدت میں دشمن کے تصرف میں نہیں آپارہے تھے۔ ہمارےشہروں پرتصرف کی دلیل کیا تھی؟

گل علی بابائی: ہماری فوج کی کمزوری وہی بغاوت تھی کہ اس بغاوت کا ایک ہدف تو یہی تھا کہ وہ اپنے مورد نظر مراکز کو حاصل کریں اور اسلامی جمہوری کے سقوط کا اعلان کریں، لیکن انکے لئے سخت ہو گیا، دوسرا ہدف یہ تھا کہ ایران کی فوج کو اندر سے ختم کیا جا ئے، فوج انقلاب کے بعد کئے گئے اقدامات سے کہ جو فوج کے بارے میں کئے تھے ان سے باہر نکل چکی تھی، امام انہیں عزت دینے کا ارادہ رکھتے تھے کہ ان کے پیکر پر ایک مہلک ضرب لگی۔ وہ عناصر کہ جو اس بغاوت کے خاص ارکان تھے کہ جو مومنین میں سے تھے ہر چند بعد میں انھوں نے کہا کہ ہمیں یہ کہہ کر دھوکہ دیا گیا تھا کہ ہم انقلاب کو نجات دینا چاہ رہے ہیں۔ باغیوں نے بہت سے فوج کے افراد کو اپنی جانب کھینچا، جب ان کا راز کھلا، تو معلوم ہو اکہ ایک بہت بڑا حصہ فوج کے اندر سے اوپر سے نیچے تک کا اس بغاوت میں شامل ہوگیا تھا اور انہوں نے اپنی نئی قسمت لکھ ڈالی ۔

سوال: یعنی ہماری فوج کا ایک بڑا حصہ اس بغاوت کی نظر ہوگیا تھا ؟

گل علی بابائی: جی، اس کی وجہ سے وہ قوت کہ جو ہونی چاہیے وہ نہیں تھی، بنی صدر فوج اور مسلح قوتوں کا سربراہ تھا، امام نے اسے تمام فوجی قوت پر اپنا جانشین بنا دیا تھا، وہ خطرات کہ جن سے سرحد نشین دلسوز افراد نے آگاہ کیا تھا۔ بنی صدر ان سے لاپروہ تھا، شہید صیاد شیرازی جیسا کمانڈر بیان کرتا ہے کہ ہم نے اس سے کہا کہ بعثی ٹینک قصر شیرین میں داخل ہو چکے ہیں تو وہ جواب میں کہتے کہ یہ نقلی ٹینک ہیں۔ عراق ہم پر کبھی حملہ نہیں کر سکتا، اسی وجہ سے ہم عراقی حملے سے غافل گیر تھے اور صدام کی فوج نے ۱۲ لشکروں کے ساتھ ہمارا گھیراو کیا، وہ ملک کہ جو اپنے دفاع کی آمادگی بھی نہیں رکھتا۔ یہ بات مسلم ہے پہلے حملے اس ملک پر بہت کاری وار ہو تے ہیں، لیکن اس بات کی جانب بھی اشارہ کیئے دیتا ہوں کہ عراقی فوج نے کچھ اس طرح سے حساب کتاب لگایا تھا کہ پہلے تین روز خوزستان کو فتح کریں گے اور اس کے بعد تہران تک پہنچیں گے۔ لیکن امام کے ایک جملے نے کہ ایک دیوانہ آیا ہے اور پتھر مار رہا ہے، اس ایک جملے پر ساری قوم جمع ہو گئی، اُسی یا دوم مہر کو سرحدی علاقے کے شہروں مثلا خرمشہر، آبادان، سر پل ذہاب، دشت آزادگان، وغیرہ کے لوگ جمع ہو ئے اور صدام کی پیشرفت کو روکا، دوسرا مرحلہ یہ تھا کہ فوج کی کمانڈ میں کچھ تبدیلی ہو ئی، اور بنی صدر ملکی سیاسی میدان سے غائب ہو گیا، تو ہم اس بات پر قادر ہو گئے کہ ہم اہم اقدام کر سکیں اور عراقی افواج کو اپنی سرزمین سے نکال باہر کریں۔

سوال: ہم رضاکارنہ سپاہیوں کے ساتھ مل کر انقلابی پاسداری کا لشکر بنا رہے ہیں، آرمی کا آپ کی نگاہ میں اس ماجرے میں کیا کردار ہے ؟

گل علی بابائی: آرمی سرحدوں پر آشوب کے زمانے میں لڑ رہی تھی اور یہ بات ہمیشہ کہی جاتی رہے کہ پاسدار ہونا چھ ماہ زندہ رہنے کے مساوی ہے، لیکن بیسج یعنی رضارسپاہی، آرمی کا بازو بنی اور اس نے تدریجا رشد کیا اور بڑھتی ہی چلی گئی، یعنی لوگ سرحدوں کی جانب آئے اور خود کو فوجی علاقے میں پہنچایا۔ اس زمانے میں ہر ایک کے لئے ممکن تھا کہ وہ اپنا گروہ بنائیں۔ جیسا کہ مرحوم آقائے خلخالی کا گروہ کہ جن کے ساتھ وہ جنگی علاقوں میں جاتے ایک گروہ جناب ہادی غفاری نے بنایا تھا۔ ایک گروہ سید مجتبیٰ نے فدائیان اسلام کے نام سے بنایا تھا۔ شہید چمران نے ایک گروہ جنگ نا منظم کے نام سے بنایا تھا۔ یعنی ایسا نہیں تھا کہ سب ایک روپ میں تھے ان کے نام عوامی تھے لیکن قالب مختلف تھے۔ مثلا غربی علاقے میں شہید اندرزگو گروپ تشکیل دیا گیا تھا، یہ سب کے سب بعد میں ایک ہو گئے اور جنگ کے دوسرے سال یعنی ثامن الآئمہ آپریشن میں میں ہم ایک جنگجو بٹالین جیسے کربلا بٹالین، امام حسین بٹالین کی صورت میں آرمی میں داخل ہو ئے، البتہ یہ بٹالینز بعد میں بریگیڈ بنیں اور اس کے بعدلشکر میں تبدیل ہو گئیں۔ جناب محسن رضائی کے مطابق کہ ایک طوفان تھا کہ جو ایک چھوٹی سے زرے سے شروع ہوا اور ایک پہاڑ کی صورت اختیار کر گیا، فوج کے افراد بھی ان میں شامل ہوگئے اور انھوں نے قدرت و طاقت حاصل کی۔ اس مسلط کردہ جنگ میں بہت سے واقعات رونما ہو ئے، جنگ کے دوسرے سال آبادان و خرم شہر کا حصار ٹوٹا اور ہم جنگ کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکے تھے،  ہمارے جنگجو سن ٦١ میں عراق میں داخل ہو چکے تھے، اب جنگ میں ایران کا ہاتھ مضبوط تھا ۔

سوال: جب تک قرارداد اور دوسرے ممالک کی مداخلت قبول نہیں کی گئی اس وقت تک جنگ کا طریقہ کیا تھا ؟

جنگی سربراہ کی تبدیلی کے ساتھ ہم کیفیت رشد بھی دیکھتے ہیں، آرمی کے جنگجووں کے یونٹس کی تشکیل نے بہت زیادہ سپاہیوں کو جذب کیا کہ جو سبب بناکہ اور بہت سے یونٹس بنائے جائیں اور بہت بڑے آپریشن کی تیاری کی جائے، ایران کی بنیادی لڑائی ثامن الآئمہ کے آپریشن سے شروع ہو ئی کہ جو آبادان کے حصار کے ٹوٹتے ہی ختم ہو گئی، اس آپریشن کے بعد طریق القدس کا آپریشن شروع ہوا کہ جس میں باغوں کی آزادی بھی شامل تھی، اس کے بعد فتح مبین کا آپریشن ہواکہ جس میں بہت سی مقبوضہ زمین کو چھڑوایا گیا، ان آپریشنز کا تسلسل بیت المقدس کا آپریشن تھا کہ جس میں خرمشہر کو آزاد کروایا گیا، اور جب خرمشہر آزاد ہوا تو عالم استکبار نے دیکھا کہ ایران ایک قدرت میں تبدیل ہوسکتا ہے اور وہ اس جنگ میں اپنی کامیابی دیکھ رہا ہے، اسکے بعد امریکہ نے نامحسوس انداز میں مداخلت کی، ہماری لکھی ہوئی کتاب کسوف کے مطابق امریکہ نے جب یہ احساس کیا تو بغداد کے ایک محلے المنصور میں اپنا ایک مرکز بنایا، اس مرکز کے علاوہ ایک مرکز سی آئی اے تھی کہ جو عراق کی فکری مدد کررہاتھا اور وہ وہاں سے ایران کی پیشرفت روک رہا تھا، ان مراکز نے عرب ممالک کو صدام کی مدد پر اکسایا، ہم ماہ رمضان میں اس سازش کے ربرو تھے کہ ایک ایسی رکاوٹ بنادی گئی تھی کہ جو غیر قابل عبور تھی یعنی ہم دشمن کی رکاوٹوں کو نہیں توڑ سکتے اور پیچھے ہٹ جا ئیں گے، یہاں تک کہ بیت المقدس کا آپریش شروع ہوا اور اپنی سر زمین کا بہت سا علاقہ ہم نے دشمن سے واپس لیا۔

سوال: بیت المقدس کے آپریشن کے بعد بھی ہمارا کچھ علاقہ عراق کے ہاتھ میں تھا ؟

گل علی بابائی: جی، نفت شہر، سرپل زہاب، قصر شیرین اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب تک عراق کے ہاتھوں میں تھے، اپنا حق حاصل کرنے کے لئے ہمیں دشمن کا تعقب کرنا تھا اور ان کی زمین میں داخل ہونا تھا، اور ایک ایسے مرکز تک پہنچنا تھا کہ ہم ان پر نظر رکھ سکیں، رمضان کے آپریشن کا مقصد یہ تھا کہ ہم ان دراندازوں کا پیچھا کر سکیں، اور بصرہ کی جانب بڑھیں، لیکن بصرہ میں ہم ایک بڑی روکاوٹ سے دو چار ہو ئے ، کتاب کسوف کے ایک فوجی تجزیہ نگار کے مطابق امریکہ ہمارے دشمن کو بہت زیادہ فوجی معلومات دے رہا تھا تاکہ وہ ہمارے مقابلے میں کھڑا رہے، وایٹ ہاوس کی سلامتی کونسل کا ایک ماہر کہ جو ١۹۸۰ سے ١۹۸۸ تک اس منصب پر رہا کہتا ہے کہ ،، ہم ١۹۸۲ میں سی آئی اے سے عراق و ایران کی خونی جنگ میں پوشیدہ رہ کر سعودیہ عرب و اردن  کے ذریعے سے  معلومات بھیجا کر تے تھے تاکہ وہ اپنی انٹیلیجنس کو ان معلومات پر چلا سکے، ہم نے عراق کو خفیہ معلومات اور ریڈار دیئے کہ جو ان کے لئے ایک گنجینہ تھے۔ امریکہ نے صدام حسین کے لئے وہ کام کئے کہ جواس نے اب تک کسی کے لئے نہیں کئے تھے۔ اس مسئلے پر ان حکومتوں کی سرزنش کرنی چاہیے کہ جنھوں نے صدام کو مضبوط کرنا چاہا ۔

سوال: آپ نے مقدس دفاع کی یادوں کے بارے میں بہت سی کتابیں لکھیں ان یادوں میں کون سی فکر کارفرماہے؟ اور کسطرح سے یہ اس معاشر کے لئے کمک رساں ہے ؟

یہ یادیں، ان لوگوں کی یادیں ہیں کہ جو مختلف معاشروں کے لوگ تھے اور جنگ میں موجود تھے ایران و عراق کی آٹھ سالہ جنگ  ایک عوامی جنگ کا مکمل نمونہ ہے، ہم اس بات کا دعویٰ کرتے ہیں کہ ہمارے جنگ کو عوام چلا رہے تھے، یہ عوام تھی کہ جو لڑی اور لڑنے والوں کی حمایت کی یہاں تک کہ جنگجوں کے کھانے پینے کا انتظام بھی عوام کیا کرتے تھے۔ یہی باتیں اس بات کی نشان گر ہیں کہ یہ جنگ ایک عوامی جنگ تھی، آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ایک بٹالین میں کالج کا طالبعلم بھی ہے ایک اسکول کا بچہ بھی ہے اور ایک کلرک و راج مستری و ان پڑھ اور دیگر افراد بھی شامل ہیں، یعنی معاشرے کے مختلف افراد اس جنگ میں شامل ہیں، اب انہوں نےاپنی داستانوں کو بیان کرنا شروع کر دیا ہے ، اور یہ بات بھی مشخص ہے کہ ان داستانوں میں ایک مخلتف ثقافت وجود میں آئے گی، ایک ایسی ثقافت کہ کس طرح سے ایک معنویت، شہامت سے سرشار فضا اور وہ حماسہ کہ جو انہوں نے دیکھا ہے اس میں کس طرح زندہ رہا جا ئے، اور اب یہ اس فضا کو منتقل کرنا چاہتے ہیں۔ یہ مسئلہ ایک معاشرے کی اصلاح میں اورسماجی برائیوں سے نمٹنے کے لئے اور زندگی کی ایک راہ کو روشن کر نے کے لئے ،وہ شرائط کہ جو سماج و اقتصاد کے لئے درکار ہیں یہ جنگ ان سب کے لئے ایک نمونہ ہے



 
صارفین کی تعداد: 3132


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
حسن مولائی کی یادیں

سو افراد، سینکڑوں افراد، ہزاروں

وہ لوگ جو چند گھنٹوں پہلے جمرات جا رہے تھے تاکہ رمی جمرات کا فریضہ ادا کرسکیں اب تولیہ اوڑھے سو رہے تھے۔ جب جنازے ختم ہوئے، تو مجھے سمجھ نہیں آئی کہ مجھے کہاں لوٹنا چاہئیے۔ اچانک میرے پیروں نے کام کرنا چھوڑ دیا اور میں نے پہلی مرتبہ وہاں گریہ کرنا شروع کردیا۔ واپس پلٹ کر ان سفید پیکروں کو دیکھنا شروع کیا۔ پوری سڑک جنازوں سے سفید ہوچکی تھی۔ ایک جوان مرد کی آواز پر چونکا جو میرے ساتھ کھڑا تھا اور میرے پیروں کے سامنے چپلیں رکھ رہا تھا۔
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔