محمد سپانلو سے گفتگو

میرے لئے شعر یادوں اور تاریخ کو کشف کرنے کا نام ہے


2015-08-25


زمستان بلا تکلیف ما محمد سپانلو کی شعری کتاب کا ایک تازہ ترین عنوان ہے، کہ جس میں٦۰ کی دہائی کے آوخر کے بارے میں اشعار ہیں البتہ اس میں دو ایک ١۳۹۰ کے ابتدائی ایام کے بارے میں بھی دیکھنے کو ملتے ہیں، جناب سپانلو نےاگر چہ ان اشعار کو حالیہ دور میں لکھا ہے لیکن ان اشعار کا خاصہ یہ ہے کہ یہ ایک طرح کی اندرونی کیفیت ہے۔ ، ان اشعار میں وہی باتیں ہیں کہ جو شاعر نے آخری سالوں میں درک کی ہیں ،شاعر کو سماج نے اپنے اندر سمولیا ہے لیکن ایسا بھی نہیں ہے کہ شاعر اس میں قیدہو کر رہ گیا ہو، اس کتاب میں جناب سپانلو کے پچھلے پچاس سالوں کا نچوڑ شعری صورت میں موجود ہے۔ جس طرح اس گفتگو میں آیا ہے کہ پچاس سالوں کے باجود وہ ابھی فکر جدید کے تجربے میں ہیں۔ وہ اشعار کہ جو روایتی شعرا نے کہے ہیں اس روش سے لیکر مشروطہ کے بارے میں اشعار، ترانوں سے لیکر زبانی اشعار اور پھر جدید طرز کے اشعار کہ جن میں آپکی آمد ورفت رہی ہے، اسی وجہ سے ہم نے اس گفتگو میں سپانلو کے تازہ مجموعے کے علاوہ روایتی شاعری پر بھی بات کی ہے اس کے علاوہ تھیٹرمیں استعمال ہونے والے اشعار، اسی طرح اشعار کے اوزان اور موسیقی اور شعری روایت پر بھی گفتگو کی ہے ۔

سوال: "زمستان بلا تکلیف ما"  آپکا نیا مجموعہ ہے کہ جو نشر چشمہ نے منتشر کیا ہے اور یہ گفتگو ہماری اسی نئی کتاب کے بارے میں انجام پائی ہے۔

سپانلو نے اس گفتگو کے آخر میں ایک تحقیق کے بارے میں بتایا کہ جو ناتمام ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک تحقیقی کام بہمن نامہ کے عنوان سے انجام دیا ہے کہ جو ابھی ناتمام ہے ، وہ کہتے ہیں کہ زبان فارسی میں حماسی مجموعہ شاہنامہ خورشیدی ہے کہ جس میں کو ئی کلام نہیں اس کے بعد گرشاسب نامہ کے باتیں کرتے ہیں لیکن میں کہتا ہوں کہ بہمن نامہ گرشاسب سے زیادہ ہنر مندانہ ہے، اس میں فوق العادہ تخیل اور خوبصورت منظر کشی ، روشن نفسیات آشنائی موجود ہے۔ میں نے اس تحقیق کا کچھ حصہ حاشیے کی شکل میں مجلہ گوہران میں لکھا ہے کہ جو پورے کام کا دسواں حصہ ہے۔اے کاش توانائی ہوتی تو اس کام کو پورا کرتا ، کاش ایسا ہوتا کہ میں ٹیبل کرسی پر بیٹھ کر اس کام کو کر سکتا البتہ میں عام طور پر املا کرتاہوں۔ کافی عرصہ ہوامیں سوائے شعر کے باقی کام ڈیکٹیشن کرتا ہوں لیکن بعض اوقات میرے پیر مجھے یاد دلاتے ہیں کہ میں اب یہ کام نہیں کر سکتا۔

سوال: آپ کے پہلے مجموعہ شعری کہ جو "بنام آہ ۔۔۔ بیابان" کے نام سے سن ۱۳۴۲ میں شائع ہوا تھا سے لیکر آج تک "زمستان بلاتکلیف ما" کہ جو نیا مجموعہ شعری ہے ، پچاس سال سے زیادہ کا عرصہ ہو چکا، آج آپ اشعار سے کیا درک کرتے ہیں ان پچاس سالوں میں شعری حوالے سے آپ میں کیا تبدیلی واقع ہو ئی ہے ؟

سپانلو: میری نگاہ میں شعر کی خلقت ایک شخصی امر ہے او ر شعر سے میرا درک سب کا درک نہیں ہو سکتا۔ ہر شاعراس شرط کے ساتھ کہ اسے یہ سعادت ہو کہ وہ شعر میں اپنی خاصیت کو اپنے کلام میں بیان کرے، شعر ایک پیچیدہ ہنر ہے لہذا اس کے لئے پہلے سے کوئی پروگرام مرتب نہیں کیا جاسکتا ، اس عنوان سے کہ میں خود ایک منظوم شاعر ہوں اس بات کا امکان ہے کہ میرا منظوم کلام مختلف جگہ پڑھا جا ئے اور مجھ پر اس کلام سے کچھ اور کشف ہو جائے یعنی جو پہلے کشف ہوا جو پہلے کا ادراک تھا وہ ختم ہو جائے اور نیا درک اور کشف ہو جائے ۔

جس طرح کہ آپ جانتے ہیں کہ بہت ساری  کہکشائیں ہیں اتنی کہ ان کی اصل تعداد معلوم نہیں اور جو کچھ بھی ہے وہ ایک تخمینہ ہے۔ ہوسکتا ہے دسیوں اور شاید سینکڑوں کی تعداد میں زمین کی مانند کوئی شبہات رکھنے والی ایسی جگہیں ہوں کہ جس میں زندگی کے آثار ہوں شعر بھی ایسا ہی ہواکرتا ہے۔ شعر ایک کہکشاں کی مانند ہوتا ہے ،  ایک خیالی کہکشاں۔ شعر ایک تفکر ہے کہ جو ہر اس انسان میں پایا جاتا ہے کہ جس کو شعر کہنے کی بیماری ہے۔ لہذا شعر میں یہ امکان ہے کہ جو ایک شعر میں پہلے دیکھاگیا ہو وہ بعد میں نظر نہ آئے اور اس میں اضافے کا امکان ہے۔ شعر ایک بیان کا مقتضی ہو۔ لہذا ایک موضوع کو دو طرح سے بیان کرنے کا امکان ایک شعر میں ہوتا ہے اسی طرح دو شعر بھی کہے جا سکتے ہیں۔ یعنی ایک ہی بیان کے لئے دو شعروں کا امکان بھی ہے، پس ایک بے نہایت کا امکان شعر کے خلق میں ہے اور ہر کوئی ایک جدا طریقے سے اس شعر سے قریب ہو سکتا ہے، میرے لئے شعر ایک طرح کی یادداشت اور تاریخ میں کشف ہے ۔


سوال: زمستان بلاتکلیف ما میں اندورنی کیفیت زیادہ ہے جبکہ اس سے پہلے کے آپ کے اشعار میں محبت و لطافت زیادہ نظر آتی تھی بالفاظ دیگر آپ کے اکثر اشعار شاعر یا روائی اشعار سے فاصلے پر ہیں۔ لیکن ان جدید اشعار میں شعر سے زیادہ راوی کی صدا گونج رہی ہے اور ایک طرح کا غم و اندوہ کہ جو ماضی کی پیداوار ہے آپ کے ان اشعار میں دیکھائی دیتے ہیں ،آپ ہماری باتوں سے کس حد تک موافق ہیں ؟

سپانلو: جو مصائب میری زندگی میں گذرے بالخصوص ان چند سالوں میں جو کچھ ہوا ان کے باوجود میں کبھی بھی غم و اندوہ کا شکار نہیں ہوا، حتیٰ بہت ہی پیچیدہ لمحات میں بھی میں پریشان نہیں ہوا، حتیٰ کہ طنز کے دریچے کہ جس میں پیچدہ مسئلے کو بھی سنجیدہ نہیں لیا جاتا اورمن مانی کی جاتی ہے، میرا طریقہ کار یہی رہا ہے۔ حتیٰ جب میں خوش نہیں رہتا تب بھی میں کہتا کہ خوش ہوں کوئی دلیل نہیں کہ انسان اپنا غم کسی اور سے بانٹے کیوں غم کا تعلق خود اسی انسان کے ساتھ ہے کہ جس کا یہ دور ہے۔ بالخصوص اس صورت میں کہ جب آپ ایک احساس یا محبت یا خوشحالی میں سرگرم ہوں گے تو ایک ہنری کام آپ سے نہیں ہو سکتا اس میں نقص پیدا ہوگا کیوں کہ وہ حس آپ پر غالب آچکی ہے وہ مطلب اور محبت ایک مقدمہ ہے  کہ انسان ایک دوسرے کو کشف کرنے کی جانب جائے۔

اگر آپ نے توجہ کی ہے تو آپ دیکھیں گے کہ میرے اشعار ایک دوسرے سے شباہت نہیں رکھتے۔ ان میں سے ہر ایک انجانی سلطنت کا حاکم ہے اور ایک الگ جستجو کا ماحاصل ہے ایک الگ سلطنت کا کشف ہے، میں اپنے کسی بھی شعر میں وہ چیزیں کہ جو بعض شعراء کی دوکان ہیں کبھی بھی میں نے ان چیزوں کے آگے سر نہیں جھکایا البتہ میں نے بعض اشعارتہہ دل سے کہے ہیں۔ لیکن اشعار میں مایوسی اور ناامیدی اور گریہ کا مسئلہ ایک قدرت میں تبدیل ہوا ہے میں نے ایسے شعر کبھی نہیں کہے۔ شاید مثلاً جوانی میں کہ جب میں نے مرگ و حبس کے بارے میں زیادہ کچھ کہا ہو کیوں کہ وہ عمر پختہ نہیں ہوتی اور یہ موضوعات ان لوگوں کے ہیں کہ جن کے پاس ایک ہی موضوع ہوتا ہے ۔

لیکن ہم اس طرف دیکھیں تو میری نگاہ میں ہمارے مدمقابل ایک بہت بڑی زندگی ہے اور ہماری یہ حیات بہت چھوٹی ہے اس سے زیادہ حقیر ہے کہ میں اس پر شعر کہوں، حتیٰ ہم ادبی تاریخ کو دیکھتے ہیں کہ تو پتہ چلتا ہے کہ عشق اس  سے زیا دہ  بڑا اور اور اس سے زیادہ حقیقی ہے۔ جیساکہ بابا فغانی یا وحشی بافقی نے بیان کیا ہے۔ ان کے اشعار حافظ و سعدی کے پائے کے نہیں ہیں۔ میری نگاہ میں بابا فغانی یا وحشی و محتشم کاشی و وحشی بافقی اور ان جیسے شاعر عشق میں ڈوبے ہو ئے ہیں ،مثلا وحشی بافقی کہتے ہیں کہ "دوستان شرح پریشانی من گوش کنید " یعنی میرے دوستوں میری پریشانی کا بیان سنو، ایسا لگتا ہے کہ جیسے کوئی انسان ہمیں اپنا درد دل بیان کرنا چاہ رہا ہے یہ شعر مکمل نہیں میری نظر میں ایک ہنری شعر ہے کہ جو میں آپ جانتے ہیں اس سے زیادہ کچھ بتانا چاہ رہا ہے ۔

البتہ آپ کے جواب میں میں کہوں گا کہ میری کتاب "زمستان بلا تکلیف ما" میں بالخصوص دوسرے حصے  "بلا تکلیف" میں حقیقت میں ایک احساس ہے کیوں کہ میں نے ایک سال میں اپنے اندر چار بیماریوں کو کشف کیا ہے۔

جبکہ میں ۲۰ سال سے طبیب کے پاس تک نہ گیا اور ایک ہی بار میں چار بیماریاں اور ان میں سے ہر ایک ایسی کہ جو انسان کو ختم کر دے لیکن میں نے انھیں خوشی خوشی قبول کیا کبھی میرے احباب مجھ سے کہا کرتے ہیں کہ یہ حوصلہ کہاں سے لائے ہو؟ میں کہتا ہوں شاید ناامیدی سے، میرے پاس دینے کو کچھ نہیں لہذا میں کسی سے بھی نہیں ڈرتا ، اور یہ بہت اہم ہے کہ انسان امید کو ناامید ی سے لے اور وہ بھی اس بند گلی میں، ایک لمبی راہ یہاں تک کہ ایک شاہراہ تک پہنچ جا ئیں۔ میں یادوں کی کتاب کہ جو ملک سے باہر نشر ہو ئی ہے اور جس میری تمام یادداشتیں ہیں وہ کافی بہتر ہے کیوں کہ اس میں، میں نے ادب کی تاریخ بیان کی ہے اور اس کے ضمن میں اپنی زندگی کو رکھا ہے دوسروں کی زندگی بھی بیان کی ہے۔ ایران میں اسے تاریخ شفاہی کے نام سے شائع ہونا تھا لیکن جس نام کو میں نے ترجیح دی تھی وہ "بن بست و شاہراہ" یعنی بند گلیاں اور شاہراہ اور ناشر نے بھی یہی کہا کہ کچھ اور نام رکھ لیں، آپ اپنی زندگی میں بندگلیوں میں ہوتے ہیں اور بلآخر ایک کھلی شاہراہ تک پہنچ جا تے ہیں اس وقت آپ ناشناختہ ہوتے ہیں اور اس ناشناختہ کی لذت حتیٰ اپنی جان کے عوض بھی ہو تو کو ئی بات نہیں۔

سوال: آپ کی کتاب کہ جس میں آپ کی آپ بیتی ہے کہاں چھپی ؟

 یہ کتاب سوئزرلینڈ میں چھپی البتہ ایران میں اسکی کاپی ہو ئی ہے، میری کو ئی کتاب نہیں کہ جو غیر قانونی ہو میں قانون مدار ہوں اور کو ئی بھی چیزخلاف قانون تحریر نہیں کی اور میں بلاوجہ کی حساسیت کو خاطر میں نہیں لاتا اپنی آخری کتاب کی جلد پر  لکھے ،م ،ع سپانلو ، پر اعتراض کیا تھا جبکہ ۵۰ سال سے میری ہر کتاب پر یہی لکھا چلا آرہا ہے اور نثر اور ترجموں پر محمد علی سپانلو لکھا جاتا ہے لیکن میری شعری کتابوں پر م ع سپانلو لکھا جاتا ہے۔ کبھی کبھی اس کے برعکس بھی ہوا ہے۔ ابھی میرے پاس کوئی کتاب نہیں ہے ورنہ میں آپ کو دکھاتا، میں نے ناشر کو فون کیا کہ اس کے بعد محمد علی لکھئے، جبکہ محمد علی میری کتاب کی پہچان ہے "آہ ۔۔۔۔۔ بیابان " سے میرے شعری  مجموعے اسی طرح چھپے ہیں ۔

سوال: آپ کے منظوم کلام میں ہم بڑی بحر کے اشعار دیکھتے ہیں لیکن "زمستان  بلاتکلیف ما" میں ہمیں چھوٹی بحر کے اشعار نظر آتے ہیں کیا یہ اعجاز در کلام کی جانب بازگشت ہے یاکہ آپ نے شعر کی سیر تکاملی کو یہاں پر قرار دیا ہے کہ جب شاعر اپنی پختگی کے اوج پر ہوتا ہے تو کلام چھوٹا لیکن زیادہ مفاہیم و معنٰی کی جانب جاتا ہے؟

جواب: یہ مسئلہ انسان کے ذہن سے تعلق رکھتا ہے کہ جب انسان کے ذہن پر کچھ حوادث گذرچکے ہوں یہ بھی کہنا ضروری سمجھتاہوں کہ میری کتاب " افسانہ شاعر گمنام" کہ جس میں بہت زیادہ کاٹ چھانٹ ہو ئی تھی اسی وجہ سے میں نے اس پر لکھا تھا  "گزیدہ افسانہ شاعر گمنام" یعنی شاعر گمنام کے افسانے کا خلاصہ کیوں کہ مجھے آرام کی ضرورت تھی، شعر چاہے چھوٹے ہوں یا بڑے انہیں گایا جا سکتاہے، شعر کا زیادہ ہونا اورکم ہونا بھی اعتباری ہے۔ کبھی ہم چار پانچ سطروں پر مشتمل اشعار کو کم کہتے اور کبھی۵۰ سطروں پر مشتمل اشعار کو کم کہتے ہیں ۔ یعنی ایسا کہا جاسکتا ہے کہ ایک قطعہ موسیقی اور فولک کی شبیہ ہے جبکہ بیشتر منظومہ کلاسکی میں چلا جاتاہے۔  میں نے اسی افسانہ شاعرگمنام کے لئے پندرہ سال محنت کی ہے اور اسکا 1/3 حصہ حذف ہوگیا۔ میں نے اس کام میں ١۵ ،١٦ سال میں ۲۰۰ سے ۳۰۰ گھنٹے موسیقی سنی ہے اس کے بعد شعر لکھنا شروع کیا ہے اوراس کے لئے سکوت ضروری ہے تا کہ موسیقی کا ہم پلہ شعر ڈھونڈا جا سکے۔ روایتی میوزک آپ کو صرف فضا فراہم کر تی ہے۔ اور جو قطعے میں نے اس میں کہے ہیں وہ جاز ہیں۔ آپ لوک موسیقی کو باہر سے سنیں اور ایک فضا میں آجا ئیں یعنی ایسا لگتا ہے کہ خود بخود کسی دریا میں تیر رہے ہوں۔ میں نے گھنٹوں موسیقی سنی ہے تاکہ اپنے مطلوب تک پہنچ جاوں اور سمجھوں کہ کہاں یہ اوپر جا رہا ہے کہا یہ نیچے جا رہا ہے، حتیٰ اشعار میں بھی ایساہی کیا ہے۔ یعنی جب موضوعات ایک دوسرے سے جڑ جا تے ہیں تو مصرعے بھی ایک دوسرے سے جَڑ جا تے ہیں اور وزن دیتے ہیں۔ پس اشعار کا چھوٹا ہونا یا بڑا ہونا اعجاز پر دلالت نہیں کرتا۔ہو سکتا ہے کہ ایک چھوٹا شعر طوالت اختیار کر جا ئے اور ایک بلند شعر اعجاز کی جانب چلا جائے۔

سوال: اس کتاب میں اشعار کے بہت سے نمونے ہیں کہ جس میں گفتگو ہے یا تھیٹرکے لئے اشعار بھی پائے جاتے ہیں اور آپ کے یہ اشعار قابل توجہ بھی ہیں۔ مثال کے طور پر ،، بانو اطاق ،، کہ اس میں آپ کی زبان میں شخصیت ٹوٹ گئی ہے ،، یادم نیار ۔۔۔۔۔ یادم کجاست کہ صحن خانہ را بہ یاد بیارم ،، یعنی مجھے یاد نہ دلائو۔۔۔۔میری یادیں کہا ں کہ میں گھر کے صحن کو یاد کروں اور بھی اس سے زیادہ نمونے آپ کی کتاب میں مل جا ئیں گے لیکن آپ نے کس قاعدے کے تحت اور کن شرائط پر شعر میں زبان کو توڑا اور شعری شخصیت کے لئے آپ کس زبان کا استعمال کرتے ہیں ؟

سپانلو: میں نے منظومہ میں یہ تجربہ کیاہے کیوں کہ منظومہ ایک ڈرامائی فن ہے اور جب آپ ایک شخصیت کے ربرو ہیں اور ہر شخصیت کی اپنی زبان ہے اس وقت یہ کام مشکل  ہے کہ ہم شعر بھی کہیں اور اس کی زبان کا بھی خیال رکھیں اور جب آپ اخبارات کے نثر کی تقلید کریں تو کوشش یہ ہونی چاہیے کہ ان شخصیات سے فاصلہ رکھیں، تاکہ اپنا کام کر سکیں، میری ایک کتاب میں اس طرح کے دو اشعار ہیں حتٰی کہ ایک جگہ میں اس نوع کے آگے تسلیم ہوگیا  اور وہ شعر لوری میں ہے کہ جو ایک تجربہ ہے کیوں کہ جب میں نے دیکھا کہ چند ایک مجموعے اس طرح کے شائع ہو چکے ہیں سب میں اسی طرح کا کام ہے لیکن ایک شعر اس طرح کا کہا جا سکتا ہے ہمیشہ نہیں، میں نے یہاں بہت سارے افراد کی زبان کو تبدیل کیا۔ میرا ایک منظومہ کہ جو زیادہ مشہور نہیں جس کا نام ۱۳۹۹ ہے وہاں میں ایک ائیر فورس کے کرنل، ایک فلسفے کے استاد اور ایک درزی کہ جو ہزار و یک شب میں بیٹھے ہیں سب کی زبان مختلف ہے، میرے ذہن میں اس کا ملکہ ہو چکا ہے کہ اشعار کو ڈرامائی انداز میں کہوں میں بڑی آسانی سے اس کردار کی جانب چلا جاتا ہوں ۔

سوال: سوال یہی ہے کہ کس طرح سے آپ شخصیتوں کی زبان کو بیان کرتے ہیں جبکہ شعر کی اپنی زبان بھی باقی رہے ؟

یہی تو مشکل ہے کہ زبان کو بیان کریں اور ادب کی صنف بھی باقی رہے۔ اس روش کو ہم اپنے پرانے ادب میں بھی پاتے ہیں میں سوچتا ہوں کہ جب سعدی نے کہا کہ "سعدیا دور نیکنامی رفت /نوبت عاشقی است یک چندی" اس میں یک چندی ایک ترکیب ہے یعنی یک اور چندی کہ جو فصیح نہیں ہے لیکن سعدی نے ایسا کہا، یعنی جانے بھی دو عاشقی است یک چندی یہاں آکر زبان عامیانہ ہو جا تی ہے لیکن صنف وہی زبان سعدی ہے اور بہتر کہنا بہت مشکل ہے ۔

سوال: اشعار میں شخصیت کو اسکی زبان کے ساتھ کہنا دشوار ترین ہے، کیا ایسا نہیں ؟

سپانلو: جی ایسا ہی ہے کیوں کہ شعر ایک عادت کو اپنے پڑھنے والے کو دیتا ہے اور اس عادت کی بنا پر وہ شعر پڑھتا ہے اور شعر میں خود کوپاتا ہے، یہ بہت اہم بات ہے، پہلے شعر وزن پر کہا جاتا تھا اور انسان سمجھ جاتا تھا کہ شاعر شعر کہہ رہا ہے لیکن اب اشعار میں وزن نہیں رہا لہذا ب ایسا کرنا پڑتا ہے کہ پڑھنے والا سمجھ جا ئے کہ وہ شعر پڑھ رہا ہے، یعنی ہماری تعبیر کے مطابق کہ وہ بھر پور طریقے سے  یہ سمجھ جا ئے کہ شاعر اب شعر کے میدان میں داخل ہو چکا ہے یا نثر بیان کر رہا ہے ۔

سوال: شعراء معاصر تھیٹرکے لئے اشعار کہتے دکھائی دیتے ہیں خود نیما ساختمان کا افسانہ ، یا شاملو کا دشنہ در دیس پہلا شعری مجموعہ کہ جس کا نام ضیافت تھا کہ جسے سیاہکل کے لئے بھی گایا گیا ہے یہ اشعار تھیٹرکا کام ہیں کہ جس میں راوی ،میزبان ،جوکر، آوارہ جیسی شخصیات ہیں یا اخوان کا کام کہ جسے اسکا نمونہ کہا جاسکتاہے ان سے پہلے میر زادہ عشقی نے بھی اس جیسے اشعار کہے ہیں جیسے ،، سہ تابلو مریم ،، و کفن پوش ۔ اپنے ادب میں ہم اس سابقے کو کہاں تک لے جا سکتے ہیں ؟

سپانلو: جی ہمارے پرانے ادب میں اس طرح کے نمونے بہت ہیں مثلا مسعود سعد کا کام کہ جو تھیٹری کام ہے، ایک اور تھیڑی کام کہ جو حاجی اور سیاہ جیسا ہے کہ جو ایران کے بازاری دھوکے باز کو بیان کرتے ہیں دو افرد اس میں ہو تے ہیں کہ جو اس میں کام بھی کرتے ہیں اور آپس میں جدال بھی کرتے ہیں، ان کے کام میں تھیڑ کا پردہ بھی ہوتا ہے، جس وقت ہم ان اشعار کی تلاش میں تھے بہرام بیضاوی نے کہا کہ جو کچھ بھی ملے مجھے لاکر دو  مجھے مسعود سعد کے اشعار مل گئے بیضاوی کو فون کیا کہ میرے پس یہ ہیں کہ اگر کبھی تھیڑ کی تاریخ کے بارے میں کچھ لکھاتو ان کو اس میں شامل کر لینا، اس جیسے اور بہت سے نمونے ہیں لیکن تعزیہ داری کو اس میں شامل نہیں کیا گیا ہے کیوں کہ یہ اسٹیج پر نہیں ہوتا، مثلاً کتاب شوالیہ شادرن میں کہ جو صفوی دور حکومت میں ایران آیا تھا اس میں آپ ایک خاتون کو گاتے ہوئے پائیں گے جیسا کہ یورپی تھیڑ میں ہوتا ہے کہ جہاں ایک خاتون گانا گاتی ہے لیکن قاچاریوں کے بعد اس طرح کے اشعار کو سنجیدگی سے لیا گیا ، تقی رفعت کے کاموں میں اس طرح کا کام ملتاہے۔ مرحوم یحیی آریان پور نے اس کتاب کی چھپائی میرے ذمہ لگائی تھی اورمیں نے بھی عبد العلی عظیمی کے ذمہ یہ کام لگادیا وہ یہ کام انجام دے رہے ہیں۔ اس کے بعد عشقی کا کفن سیاہ اور دو تبلو مریم ان کے علاوہ ان کے دوکام اور بھی ہیں ان میں سے ایک کہ جس میں کہتے ہیں کہ ،،من گدایم من گدایم گدای بینوایم" میں نے اسے استبنول اور دیگر جگہ پر دیکھا ہے اور کوشش کی ہے کہ اس جیسوں کو فارسی کے قالب میں ڈھالوں، اسکے بعد ہم آگے بڑھیں ۱۳۱۲ میں ایک تھیڑ تندرکیا کی ہے کہ جو تیسیفون کے نام سے ہے کہ جو پیرس میں چھپا ہے، یہ تھیٹر بھی اشعار میں ہے اور اس وقت کو بیان کرتاہے کہ جب بربریوں اور وحشیوں نے یورپ پر حملہ کیا اور ان میں سے کچھ لوگ انوشیروان کے پاس مدد کے لئے آئے تھے لیکن ان سب شعر کی انواع میں سے بہترین نمونہ ،، کاوہ آھنگر ،، کہ جو ابولقاسم لاہوتی کا ہے کہ جس کا میوزک آج بھی موجود ہے کہتے ہیں کہ " آن سلسلہ مواید اگر بر سر بازار / بازار شود ہر نفسش تازہ گلزار" اس کے بعد بھی کچھ نمونے تھے۔

لیکن میرے کام میں زیادہ تر تھیڑ کا کام ہے اور اس میں میں نے شکسپیر اور الیواٹ کی جانب توجہ کی ہے اور ان میں اپنے اشعارکی قدرت کو حفظ کیا ہے ایسا نہیں کہ کہا گیا جہاں کہا جائے کیسے ہو؟ تو ایسا ہی کہا گیا ہے عامیانہ انداز میں لیکن صنف شعر اس میں موجود ہے اور میں نے اپنے اشعار میں ایسا کیا ہے بالخصوص اپنے تھیڑ کے دو شعر میں کہ جو پائیز در بزرگ راہ میں کہے ہیں کہ بہت مرتبہ اس کی پریکٹس ہو ئی ، خانہ لیلی اور یویوگی پارک، یہ تھیڑ اسی گھر میں ہوا اس کو پہلی مرتبہ ہوشنگ گل شیری اور محمد حقوقی اور غزالہ علیزادہ نے انجام دیا اس میں کام کیا اور دوسری مرتبہ شیوا ارسطویی، چایچی اور مھیار رشیدیان نے کام کیا اور علی نادری نے اپنے کیمرے میں اس کو محفوظ کیا۔

میں نے اس کام میں اس بات کا خیال رکھا ہے کہ اس میں صنف شعر بھی باقی رہے اور پڑھنے والا اس بات کو سمجھ جائے کی وہ اشعار کے میدان میں داخل ہو چکا ہے ،یو گی جاپان میں ایک پارک ہے کہ جو اس وقت ایرانی لوگوں کی قیام گاہ تھا ان میں سے ایک مر جاتا ہے اور جو باقی اس کے دوست ہیں وہ اپنے دوست کے بارے میں شعری زبان میں کہتے ہیں کہ کیا ہوا کہ مر گیا ؟ یہاں سے شعر شروع ہوتا ہے ، پارک میں ایک سرد رات تھی ان کرداروں میں سے ایک کردار سامنے آتا ہے اور بینچ کے پیچھے کھڑا ہو کر کہتا ہے ،

شب اقلیم سایہ ھااست ،

ولی سایہ ھا در سیاہی ھویت ندارند ،

رفیق ما در کشوری غریب سفر کرد ،

در چالہ ای سیاہ تر از شب

افتادہ پلیس لاشہ اش را جست ،

وقتی خاک بر اورختیم ،

گودال لب بہ لب شد

و سایہ پیرون آمد ،

رات سایوں کی حکومت ہے ،لیکن سایوں کی کو ئی پہچان نہیں ہو تی ،ہمارا دوست اجنبی ملک میں ہم سے بچھڑا رات کی تاریکی سے زیادہ تاریک قبر، پولیس آئی اور لاش لے گئی ،جب ہم اس پر مٹی ڈال رہے تھے اور قبر لبالباب بھر گئی اور سایہ باہر آگیا  ،اس  کے بعد وہ بینچ کے آگے آتا ہے اور بینچ پر بیٹھ جاتا ہے اب یہاں سے فلش بیک شروع ہو جاتا ہے اور ان میں سے ایک تعجب خیز لہجے میں کہتا ہے کہ میں تو سوچ رہا تھا کہ وہ اُس دنیا میں بھی دولہا کی سیج پر اسی بینچ پر بیٹھا ہوگا اگر آپ زراسا غور کریں تو متوجہ ہوں گے کہ پانچوں قصوں میں شعروں کا وزن عروضی ہے لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ وزن کا احساس نہ ہو لیکن اس کے باوجود یہ سمجھ میں آجا تاہے کہ اب اشعا ر کی دنیا میں داخل ہو چکے ہیں ۔

اب یہ ایک تجربہ ہے کہ شاید کبھی کام آجائے جیسا بھی ہو میں نے کوشش کی ہے کہ فارسی کے اشعار میں جہاں کہیں کوئی کمی بیشی رہی ہو میں مشورہ دیتا ہوں،خود اس بات پر فکر کرتا ہوں کہ یہ تھیڑی اشعار ایک کامیاب تجربہ ہے  اور اس کامیابی کو تاریخ طے کرے گی۔ لہذا یہ تاریخ ہے کہ جو ثابت کرتی ہے کہ یہ یاد گار کے طور پر رکھے جا ئیں اور کبھی اس کو کیا جا ئے یا نہیں ہاں یہ بات ضرور ہے کہ صرف کرنا ہی نہیں ہے ۔

سوال: خانہ لیلی کو کب کیا، گل شیری و حقوقی اور علیزادہ کے علاوہ آپ نے بھی اس میں کام کیا ؟

سپانلو: جی ١۳۷۲ میں یہ تھیڑ ہوا اور مہر جوئی نے کیمرے میں اس کا م کو محفوظ کیا ۔

سوال: آپ نے کون سا کردار کیا ؟

سپانلو: میں نے دو کردار کئے کیوں کہ پانچ افراد کا کام تھا اور میں مجبور ہوا کہ دو کردار ادا کروں ایک پہلے سایے کا کردار کہ جو روای ہے اور داستان کو بیان کر رہا ہے اور واقعہ کچھ یوں ہے کہ چار افراد ہیں کہ جو میکدے سے باہر آتے ہیں یہ چاروں لیلی کے عاشق ہیں اور اس کے گھر کی تلاش میں ہیں لیکن لیلی اپنے کمرے میں مرگئی ہے۔ وہاں میں نے شعر میں بیان کیا کہ ہم موت کے ساتھ اس دنیا میں آئے ہیں اسے ویڈیو اور تصویرمیں دیکھا جاسکتاہے یا یہ کہ جب کہا کہ زیر نور پنجرھایی کہ چون یاد آوری، کھڑکیوں کی روشنیاں یاد ہیں، جیسے ہی یہ کہا روشنی آگئی، اسے تصویر میں دیکھا جاسکتا ہے کیوں کہ ایک کھڑکی روشن ہوگئی کہ جو لیلی کا سایہ تھا یہ بھی تصویر میں دیکھا جاسکتا ہے اور یہ چاروں اس کے عاشق تھے، کتاب "پائیز در بزرگ راہ" یعنی لمبی مسافت میں خزاں کہ جس میں یویوگی پارک اور خانہ لیلی کے اشعار اسی سال دوبارہ سے چھپیں ہیں۔

سوال: خانہ لیلی کے ڈائریکڑ مہرجویی تھے ؟

سپانلو: جی لیکن ہم نے پریکٹس کی اور یہ بہت ضروری تھا، بعد میں دوبارہ اس کو کیا اور محفوظ کیا۔ لیکن گل شیری کی اداکاری بہت اچھی تھی اسی طرح غزالہ علیزادہ کی ادکاری تھی کہ جو کالے لباس میں ملبوس تھی اور ان سیڑھیوں سے نیچے اتری اور اداکاری کی۔ ان چاروں میں سے ایک موت تھی کہ جس کو کہا جاتا ہے "پس تو در این سال ھای سال /ایے یہودا درمیان ما چہ می کردی ؟ ، وضع مارا خوب می دانستی از آغاز /تو شریک شریک قافلہ بودی /رفیق مرگ ۔۔۔۔۔" تم ان سالوں میں، اے یہودا ہمارے درمیان کیا کر رہے تھے، ہماری حالت تو تم اچھی طرح جانتے ہو، تم تو ہمارے قافلے کے ساتھ تھے، رفیق مرگ۔۔۔۔۔ بعد میں آتی ہے اور لیلی کے ہاتھوں میں ہاتھ دیتی ہے لیکن  لیلی اسے ہاتھ نہیں دیتی اسی وجہ سے میں ہمیشہ کہا کرتا ہوں کہ ایک طرح کی روشنائی میرے کام میں ہے ۔

سوال" یو یوگی پارک کس سن میں کیا اور اسکا ڈائریکڑ کون تھا اور کیا اس میں بھی آپ نے کام کیا ؟

سپانلو: دوسرے تھیڑ کو بھی ہم نے اسی گھر میں کیا اس بار میں  ڈائریکڑ تھا ساتھیوں کو شعر پڑھنے کے بارے میں، میں نے بتایا اور یہ کام بھی ریکارڈ ہوا اور بہت اچھا تھا۔ میں نے اس میں بھی ایک جگہ اداکاری کی ہے اور ڈائریکڑ بھی تھا۔ آپ کو ایک عجیب بات بتاتا ہوں کہ خانہ لیلی میں ایک جگہ پہ خود کشی کی بات ہ ئی ایک جگہ شعر میں کہا گیا کہ یہ درخت ہے کہ جب اس کو دیکھو تو خود کشی کی یاد آتی ہے اور اس ٹکڑے کو غزالہ نے پڑھا تھا اور اس کے بعد اس نے خود کو لٹکا لیا کیوں کہ اسے خودکشی کی بیماری تھی اور ان دنوں وہ بیمار بھی تھی زندگی کی راہ کو اس نے اس طرح طے کیا۔ شعر کا وہ ٹکڑا یہ تھا کہ "زیر ابنوہ درختانی کہ پنداری /یک نفر با وسوسہ خودکشی" "تحریک حلق آویزان بودن /چشم می دوزد بہ ہر  شاخش ۔۔۔۔۔" یعنی اس درخت کے نیچے ہر فرد کوخود کشی کا خیال آتا ہے، گردن سے لٹکا ہوا ایک ہلتا بدن ، شاخوں کو دیکھتا جاتا ہے۔

 

سوال: آپ نے انگلستان کے شکسپیر سے لیکر الیورٹ تک کا اشارہ کیا، کیا الیوٹ کے  تھیڑ کے کام کو  ایک اعلیٰ تین کام کہا جا سکتاہے؟

سپانلو: جی اس طرح کہ شعر بہت زیادہ ہیں لیکن اگر کوئی ہمت  کرے اور کام کرے تو یہ ایک الگ مسئلہ ہے، میرے لئے سب سے جالب تر یویوگی پارک کی دستان ہے کہ جو میں نے بیان کی ہے یہ اشعار فرانس میں ترجمہ ہو چکے ہیں اور مجھ سے کہا گیا تھا کہ ریڈیو کا ایک چینل کہ جو حکومت موافق ہے  اسے پیش کرے گا میں نے کہا کہ میں کیا کہہ سکتا ہوں موافقت کروں یا مخالفت کروں تم میرے وکیل ہو بعد میں میں نے سوچا کہ عیب کیا ہے ۔

 

سوال: "زمستان بلاتکلیف ما" کی جانب پلٹتے ہیں۔ اس کتاب میں منثور اشعار بھی نظر آتے ہیں جیساکہ حسرت بہار میں کہ جو قابل توجہ شعر ہیں، اگر آپ موافق ہیں تو منثور اشعار کی خصوصیات اور ان کا اور نثر کا کیا فرق ہے بیان کر دیں؟

سپانلو: حسر ت البہار میں تمام مصرعے وزن میں شروع ہو تے ہیں لیکن درمیان میں نثر میں تبدیل ہو جاتے ہیں مثلا "چہ رگبار ی" میں مفاعیلن، کہ می ترسم، مفاعیلن لیکن بعد میں نثر ہو گیا کیوں کہ میری نگاہ میں یہ ترکیب شعری اور نثر دونوں تھیٹڑ کے کام میں آتے ہیں۔ یعنی وزن سننے والوں کو سونے نہیں دیتا میری نگاہ میں میں نے خود اس کو اچھا بیان کیا ہے کیوں کہ اس میں چھ  اقساط ہیں کہ جو ایک دوسرے کو کامل کرتے ہیں اور آخری قسط  پھر اپنی روش پر پلٹ  جا تی ہے  "آن باغ سبز کہ تنھا سالخورد گان می بینند" یہ ایک ایسا سبزباغ ہے کہ جسے صرف بوڑھے ہی دیکھتے ہیں۔ جالب ہے کہ چھٹی قسط میں کہا گیا کہ "امسال صف آزادی از پار بیشتر شدہ است" یہ اشعار ۱۳۸۷ میں کہے تھے ۔

بہر حال میرے بہت کم اشعار ایسے ہیں کہ جو بے وزنی کا شکار ہو ئے ہیں۔ بے وزن داخل ہوتے ہیں اور کبھی کسی اور وزن میں چلے جاتے ہیں اور کبھی نثر ہو جا تے ہیں، بالکل ریل گاڑی کی مانند کہ جو پٹریاں تبدیل کرتی ہے اور پھر اپنی اصلی پٹری پر آجا تی ہے، حسرت  بہار میں بالکل ایساہی ہے کہ ایک سطر " افسردگان کہ در صف کالا برگ اشعار می نویسند" کہ جو موزوں ہے اور اس کا باقی حصہ وہی مفعول و فاعل شروع ہو جاتاہے۔ لیکن آخر میں، میں نے چھوڑ دیا یہ ایسا میں نے پہلی بار نہیں کیا، بلکہ منوچہر شیبانی نے پہلی مرتبہ اس کام کو انجام دیا اور شاملو اور فروغ اور دیگر افرد کے کاموں میں بھی ایسا نظر آتا ہے۔

 

سوال: پس وزن کے ساتھ وہ خصوصیات کہ جو آپ نے ذکر کی یا کلام کے ساتھ موسیقی ،یہ شعر منثور و نثر کی حدود ہیں ؟

سپانلو: جی میری نگاہ میں ایسا ہی ہے، یہ نیم وزن ہے، میرا پہلا انٹرویو ۱۳۴۳میں، آہ ۔۔۔۔ بیابان ، کے نشر ہونے کے بعد ہوااس وقت میں اصفہان میں توپ خانے کا افسر تھا اور کیوں کہ میں شطرنج کے مقابلے میں پہلے نمبر پر آیا تھا لہذا مجھے ایک ہفتے کی چھٹی دی گئی۔ البتہ میں توپ خانے کا طالب علم تھا اور بعدمیں فوجی افسر لگا ،اس چھٹی میں میں تہران آیا اپنا پہلاانڑویو دیا، کہ جو نادر ابراہیمی، احمد رضا احمدی اور ایک دو اور تھے، نے کیا اس انڑویومیں میں نے کہا تھا کہ میں وزن کو ایک  آکومپایمانی کی نگاہ سے دیکھتاہوں جیسا کہ موسیقی کہ جو دو سازوں سے بنی ہو اس حالت میں انسان کا ہاتھ ان کلمات کی نسبت سے کہ جو ہم وزن نہیں ہے خالی نہیں ہوتا کچھ الفاظ کہے اور پھر واپس اپنے وزن میں چلے گئے۔ دوسروں نے بھی یہ تجربہ کیا ہے لیکن میں نے اپنا کام کیا ہے اور اس بات کا معتقد ہوں کہ یہ وسیلہ ہے تاکہ شعر اچھی طرح سمجھ میں آجا ئے۔ میری نظرمیں حسرت البہار، بر انہیں۔ یہ ترکیب حسرت البہار بھی جالب تھی۔ کیوں کہ ال فارسی نہیں ہے یہ خود بخود ہو گیا۔

 

سوال: آپ کے اشعار میں ہمیشہ وزن کو اہمیت حاصل تھی اور اس کتاب میں رباعی بھی نظر آتی ہے یا آپ کے بہت سے اشعار مرکب اوزان پر مشتمل ہیں، آپ شعری موسیقی پر زیادہ اہمیت دیتے ہیں جو آج کے اشعار میں کم نظر آتی ہے ؟

سپانلو: شعری موسیقی اور روایتی موسیقی ایک نہیں ایک طرح کی موسیقی ہے کہ جو تصویروں کے ساتھ وجود میں آتی ہے اور تصویریں آپس میں ایک توازن کے ساتھ ہوں تو یہ خود سبب بنتا ہے کہ ایک طرح کی شعری موسیقی وجود میں آئے اور میری نگاہ میں یہ باتیں اشعار میں موجود نہیں، میری کتاب کی اشاعت کے وقت میری لڑائی ہوئی اور میں نے کہا مجھے اس طرح کی اشاعت نہیں چاہیے کہ اشعار اس طرح سےنشرہوں، چار خط یہاں اور چار خط کچھ فاصلے کے ساتھ دوسرے صفحے پر یہ اشعار ایک دوسرے سے ربط رکھتے ہیں انھوں نے بھی اچھا جواب دیا کہ اب ربط نہیں رکھتے کیوں کہ اب ہم چھاپ رہیں ہیں اس کے بعد میں جس چیز کی کو شش کرتا ہوں وہ عنوان ہے

 ایک طرح کی جہان بینی شاعر کے وجود میں ہوتی ہے کہ شاعر اس دنیا کو کس طرح سے دیکھتاہے ؟ یہ مسئلہ بعد کا ہے کہ وہ اسے درست بیان کر رہا ہے یا نہیں؟۔ لیکن جب وہ کچھ بھی نہیں دیکھ رہا ہےاور صرف کلمات سے سرو کار رکھتا ہے، ٹھیک، اب کو ئی اور ایسا باب نہیں کہ جسے ہم جانتے ہوں، بالخصوص اس وقت کہ جب کلمات اور ان کی ترکیبات ایک جیسی ہوں کہ دسیوں افرد اس میں غلطی کر سکتے ہیں، شاملو، اخوان، فروغ نادر پور ان میں سے ہر کوئی اپنا قلم رکھتا ہے ان کی اپنی پہچان ہے لیکن آج کل کے لوگ کسی بھی قسم کی آشنائی نہیں  کرواتے۔

 

سوال:  آج کے اشعار میں تجربے کا فقدان ہے ؟

سپانلو: جی بہرحال شاعر کا رنجور ہونا ضروری ہے، "بنشینم و شعر م را بگویم" یعنی میں بیٹھوں اور اپنے شعر کہوں، شعر انسان کو کھولتاہے حتیٰ ایک زخم کہ جو کھلا ہو ممکن ہے کہ وہ پرانا زخم ہو اور ابھی ہرا ہواہو۔ انسان شعری حوالے سے بغیر کسی تاثیر کے نہیں رہ سکتا۔

 

سوال: حسرت البھار کی ترکیب کی جانب اشارہ کیا یہ عنوان شعر ہے۔ اس سے پہلے کہ شعر پڑھیں جا ئیں عنوان اپنی جانب کھینچتا ہے اس طرح کی ترکیب آپ کے کام میں زیادہ نظر آتی ہیں یہ ترکیب  آپکے اشعار میں کس قدر اہمیت رکھتے ہیں؟

سپانلو:  کہا جاتا ہے کہ شعر ایک وسیع کلمہ ہے، میں نے پچاس سال پہلے جوانی کے عالم میں اپنی جوانی کی یادوں کو لکھا۔ میں نے لکھا کہ میری نظرمیں شعر ایک منبسط یعنی پھیلا ہوا کلمہ ہے اور اس کے بہت بعد میں ایک مقالہ جو اکٹاویو پاز کےمقالے کا ترجمہ تھا اگر مجھے یاد ہو تو اس کا نام " کودکان آب و گل" یعنی پانی اور مٹی کے بچے، اس میں پاز نے کہا تھا کہ شعر ایک جملہ ہے۔حسرت البہار یا " نام تمام مردگان یحیی است" یعنی تمام مرودں کا نام یحیی ہے "گاو سبز" یعنی ہری گائے، میں سب سے پہلے کہا گیا کہ  "چہ گاو سبز قشنگی" یعنی کتنی خوبصورت  سبز گائے ہے، بعد میں سب کے دل سے یہی نکلا کہ یہ درخت کس طرح سے ایک گائے کی مانند ہے اس کے بعد ایک تخیل ہے کہ جو شعر میں جان ڈالتا ہے اس بنا پر شاعر کہتا ہے کہ سورج و ہوا نے ایک پل میں اسے درخت کردیا اور یہ لحظہ ایک جاودانہ ہنر ہے۔ میں ان افراد میں سے نہیں ہوں کہ جو شعر کو مادی چیزوں میں تبدیل کرتے ہیں نا ہی اس بات سے اتفاق کرتا ہوں، شعر ایک ماورا شے ہے۔ کم از کم اسکا سرمایہ ماوارئی ہے اور بعد میں آپ ایک ادیب اور ایک ہنر مند کے ترمیم کرتے ہیں، اور اسے ایک شکل دیتے ہیں۔ لیکن اگر اس کا مایہ نہ ہو تو کو ئی فائدہ ہی نہیں اسی وجہ سے آپ ایک شعر سنتے ہیں ایک قطعہ سنتے ہیں کہ جس میں موسیقار نے اپنی استادی میں کو ئی کمی نہیں چھوڑی لیکن کیوں کہ اس میں مایہ نہیں ہے لہذا ایک دلربا اثر اس میں نہیں ہو تا۔

ماضی میں نوروز کے موقع پر سمنو﴿ ایک طرح کا حلوہ ہوتا ہے کہ جوکچی گندم سے بنتا ہے ﴾ پکایا جاتا تھا کہ جو ۲۴ گھنٹوں میں پکتا تھا کہ جس میں لکڑی ڈلتی تھی اور اس سے دھواں اُٹھتا تھا اور آنکھوں میں جاتاتھا کہا جاتا تھا کہ اس کا بھی ثواب ہے بعد میں ایک رات تک پڑا رہتا تھا اور کو ئی مقدس ہستی آتی تھی کہ جو اس میں سے ایک انگلی لگاتی  تھی اگر میٹھا ہوا تو نذر قبول ورنہ قبول نہیں، اشعار کا قصہ بھی ایسا ہی ہے ضروری ہے کہ کو ئی مقدس ہستی اس کو چھوئے تاکہ تمہارے اشعار میٹھے ہو جا ئیں۔

سوال: آپ نے ماورائی کی جانب اشارہ کیا، آپ کے اشعار میں یہ الہام  زیادہ دیکھائی دیتا ہے حتیٰ  آپ کے خواب و خیال آپ کے اشعار میں موجود ہیں۔ اشعار کو کہنے کے بعد آپ کتنی بار اس کی ترمیم کرتے ہیں ؟

سپانلو: بعض اوقات بہت مرتبہ اور بعض مرتبہ کبھی نہیں وہی پہلی مرتبہ کافی ہے، کچھ اشعار ایسے تھے کہ ایک کلمے کے لئے ایک مدت تک میں اس میں مشغول رہاہوں، میرا چوتھا  عنوان کہ "ملاح خشک رود" یعنی سوکھی ندی کا ملاح، بہت ہی اچھے اشعار ہیں ملاح خوش رود جبکہ ملاح پانی میں سفر کرتا ہے اور یہاں وہ ایک ادارے میں کام کررہا ہے  اس کے تیسرے حصے میں ایک لڑکی ہے جو جوان ہے اور اسکا ہاتھ بٹا رہی ہے۔ کہتی ہے کہ اے ناخدا تم دریا میں کیوں نہیں جا تے یہ تو بہت ہی بری بات ہے کہ آپ کے جیسا انسان کسی ادارے میں بیٹھ جا ئے، ملاح جواب دیتا ہے میں کبھی بھی پانی کو نہیں بھولتا ہوں۔ ہمیشہ سامارا کی بندرگاہ میرے ذہن میں ہے۔ ساماراکا نام میں  نے خواب میں دیکھا تھا، اس نام کی بندرگاہ موجودہے، ہمیشہ سامارا میرے ذہن میں رہتا تھا، میرا خیال ہے کہ اس کا نام ثمرہ تھا۔ خیر آخری بار وہ کہتا ہے کہ خلیج عدن میں ایک غرق شدہ لڑکی کو دیکھا کہ جو سمندر میں پڑی ہے ، ایک کنیز ہے کہ جو زندہ ہے اور میں اس کو نجات دلا سکتاہوں۔ لیکن میں نے دیکھا کہ ایک انگوٹھی اس کے ہاتھ میں ہے اور سخت طوفان ہے اس وقت متوجہ ہوا کہ ایک ارباب ہے کہ جو چند منٹوں پہلے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟ یہاں مجھے ایک لغت درکار تھی  اس کے بعد میں نے اسے سمندر کے حوالے کر دیا پس میں کیوں سمندر کی جانب واپس جاوں جب میں کسی کو نجات نہیں دے سکتا۔ اسی لئے میں اس ادارے میں کام کرتا ہوں، اس کلمے نے میرے ذہن کو مدتوں پریشان کر کے رکھا سقوط سے چند ثانیے پہلے ۔۔۔سات ماہ لگے کہ جب میں نے طلاق کا کلمہ ڈھونڈا تب پتہ چلا کہ یہ حقیقی دنیا میں بھی ہے ۔ میرے مقالات کے مجموعے میں "دیدہ بان خواب ذدہ" یعنی خواب آلودہ نگاہ بان، میں نے یہ بھی کہا تھا کہ کچھ خواتین ہیں کہ جو ۴۵ سال سے ٦۰ تک کی ہیں ان میں سے بعض بہت خوبصورت رہ گئی ہیں یا ان میں سے کچھ مالدار ہیں  لیکن بعض کی ایک ناموافق شادی رہی تو بعد میں وہ یہ رسک نہیں لیتی وہ اب شادی نہیں کرتیں مگر یہ کہ مطمئن ہو جائیں تب،  بس یہی ایک مرتبہ میرے ذہن میں طلاق کا کلمہ آیا کہ یہاں  طلاق کا کلمہ بہت مناسب رہے گا یہ وہ چیزیں ہیں کہ جو شعروں میں دکھائی نہیں دیتیں یہ سب شعروں کے پس پردہ ہیں۔

 

سوال: "زمستان بلاتکلیف ما" میں دو عنوان "ریش آبی" اور لری زبان میں کہوں کہ چند پہلوں سے یہ بات قابل توجہ ہے ایک تو طنز ہے کہ جو دونوں  شعروں میں نظر آتا ہے اور دوسرے یہ کہ اس میں شفاہی اشعار اور عامیانہ  اشعار بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ یہ عامیانہ اشعار یا گیت اور شفاہی اشعار مشروطہ اور اس کے بعد کے دور کے عکاس ہیں۔ آپ کے بعض اشعارعامیانہ ترانوں سے نزدیک ہیں حتیٰ عنوان "کہ نام تمام مردگان یحیی است" میں بھی یہ تاثر نظر آتا ہے اور بچوں کے ترانوں کو شعر کی شکل میں کہا ، شعر شفاہی اور عامیانہ گیت آپ کی نگاہ میں کیا اہمیت رکھتے ہیں؟

سپانلو: درست ہے، حتی کہ گلی و بازار و جنوب کے شہری بھی میرے اشعار میں ہیں، میرے ایک شعر میںآیا ہے کہ " آواز دستہ جمعی سب گردان /سلام خانم آفت با این بعد مسافت" راتوں کے گھومنے والوں کہ ایک گروہ کی صدا، سلام محترمہ اس مسافت کے بعد آفت، گانے والا گلی اور بازار میں اور رات میں گھومنے والے اس کو گاتے ہیں "دروازہ ای بہ آخری بن بست باز شد /آواز دست جمعی شب گردان" ایک دروازہ بندگلی سے کھلتا ہے، راتوں میں گھومنے والوں کی صدا یہ زندگی کے  مختلف کردار ہیں کہ جوبیان ہوئے ہیں۔ جب آپ یہ سارے اشعار جمع کریں گے تو ایک ملت کی روح اس میں جمع ہے اور ملت کی تجلی اس سے منعکس ہو رہی ہے "ہزار ویک شعر" کو میں نے ا س لئے جمع کیا ہے کہ کتنا اندوہناک وقت ہے کیسا ڈراونا  وقت ہے، کتنا چل چلاؤ کا وقت ہے، کہا جاتا ہے کہ جانے دو بابا کتنا کٹ حجت وقت ہے، یہ سب گون ناگون تعبیرات ہیں۔ یہ دوگانگی کہ جو ایک بیٹھک میں تھی ایک ہلکی بیٹھک میں تبدیل ہوگئی یا یہ کہ ایک جملے سے ایک سبک بیٹھک ایک سنگین بیٹھک میں تبدیل ہوگئی۔ اشعار میں ایسا ہو تا ہے اور یہ طبیعی ہے میں نے جان بوجھ کر ایسا نہیں کیا تھا بلکہ یہ کام میری زندگی کا شیوہ ہے ۔

 

سوال: رکیک الفاظ کو آپ نے کیوں اپنے اشعار میں جگہ دی کیوں کہ اس سےاشعار کی کیفیت گر جا تی ہے کہ جو غیر طبیعی ہے ؟

سپانلو: یہ سب ایک دور کی میراث ہے۔ میں لوک داستان لکھا کرتا تھا اور شاید میری زندگی کی میراث یہی فضا ہے، ان اشعار میں ایک توازن ہے جب کہا جاتا ہے کہ "ھمش تقصیر اون وقتاش" ،سارا قصور اس وقت کا ہے، ایک غم اس میں ہے، لیکن جب کہاجاتا ہے کہ "ولی بدان نشناس"  لیکن یہ شیطان، تو سطور ایک دوسرے کے متعادل ہو جا تی ہیں، یعنی طنز، غم نامے کو تعدل میں لے آتا ہے اور کبھی مفہوم زبان کو متعدل کرتا ہے، ممکن ہے کہ ایک آوارہ اندوہ کے عالم کہے کہ یہ سب زمانے کا قصورہے ، قدیم شاعروں کو دیکھیں اور ان کا تکیہ کلام بھی دیکھئے مثلا میں نے حافظ کا تکیہ کلام میں نے ان کے کلام میں پایا کہ وہ معمولا درویش کہا کرتے ہیں "نزاع بر سر دنیای دون مکن درویش" دگر ز منزل جاناں ای دوستانہ است ۔

 

سوال: اس کتاب میں ایک حصہ نظم کے ترجموں کا ہے کہ جو کتاب کے ابتدائی اشعار سے جدا ہوا ہے ، اس کی نام گذاری کی دلیل کیا ہے؟

سپانلو: یہ وزن شدہ اشعار تھے کہ جنہیں میں نے سادہ کیا ہے ، میرے لئے ایک تجربہ تھا اور اس کی نام گذاری کی دلیل بھی یہی ہے ۔ میں نے قصیدہ سرائی کو منوچھر کی روش پر شروع کیا تھا حتیٰ ان کی تقلید کی تھی اور قصیدہ اور غزل کو چھاپا بھی ہے مثنوی تو بہت لکھی ہیں، ابتدا میں اس کتاب کا آخری شعر ہی لکھا ہے "جہان بدون بدون تلالو جواہری مخفی ست /کہ من دراین کلمات سمج گمش کردم" یعنی بغیر چمک کہ جواہر پوشیدہ ہیں، یہ ایک غزل ہو سکتی ہے۔کلاسیکی اثر ماڈرن اثر کے ساتھ مجھ میں موجود ہے۔ لیکن میرا کام غزل و مثنوی و رباعی بھی ہے لیکن یہ حصہ غالبا موزوں ہے اور ابھی میرے پاس دسیوں موزوں اشعار ہیں کہ جو باقی ہیں کہ ان پر کام کروں اگر میں دن میں روزانہ پانچ گھنٹے ٹیبل پر کام کروں اور ان اشعار کو دیکھوں تو کام ہو سکتا ہے لیٹے لیٹے تو کوئی کام نہیں ہو سکتا ۔

 

سوال: آپ کی شعری زبان کا عرصہ ۵۰سال کاہے آپکی زبان نہ تو آرکاییک ہے نہ حجم ہے اور نہ لفاظی ہے اور نہ ہی آپکی زبان سادہ ہے آپ کی زبان منعطفی ہے کہ جو آپ کاخاصہ ہے کہ جو کبھی آکاییک کہ جانب حرکت کرتی ہے اور کبھی عامیانہ ہو جا تی ہے اس کی کیا ضرورت ہے ؟

سپانلو: یہ میری پسند پر مبنی ہے کہ جو مختلف ہے۔مجھے سمفونک بھی اس قدر پسند ہے کہ جتنا گلی محلے کی موسیقی۔ اسی طرح ادبی زبان جیسے آکاییک میرے لئے جذاب ہے اسی طرح میرے آرگو بھی جذاب ہے میرے ذہن کے مطابق ان میں سے کو ئی بھی ایک دوسرے کی نفی نہیں کرتا حتیٰ کبھی گفتگو میں بھی زبان مختلف ہو جاتی ہے کبھی ایک جملہ ادبی ہے اور کبھی عامیانہ حتیٰ سننے والے متعجب ہو جا تے ہیں۔

 

سوال: آپ ایک سماجی شاعر کی حیثیت سے پہچانے گئے ہیں آج کے جو شعر ہیں وہ کلی بین ہیں جبکہ آپ اجتماعی کے ہونے باوجود جزئیات کی جانب توجہ دیتے ہیں۔ کچھ شاعر اور ہیں کہ جو جزئیات پر نگاہ کئے ہوئے ہیں جیسے فروغ ، آخر اشعار سماجی اور کلی کیوں ہو تے ہیں آپ کی کیا رائے ہے ؟

سپانلو: آپ نے درست کہا، کیوں کہ عمومی کہنا اجتماعی مسئلے میں رسک سے خالی ہے اور شاید ہمارے ہم عصر شاعر بھی اس بات کو ترجیح دیں گے کہ وہ اجتماعی ہوں اور اس طرح کے شعر نہ ہوں کہ جن میں انکی پکڑ ہو۔ لیکن آپ نے درست کہا کہ کچھ ایسے ہیں کہ جو اجتماع کے ساتھ ساتھ جزئیات پر بھی نگاہ رکھتے ہیں اوراس ضمن میں اپنے ماحول کو بیان کرنا کہ کہ کیا حالات ہیں اس میں خطرہ زیادہ ہے۔ کیوں کہ یہ لوگ عادی ہوچکے ہیں مگر یہ کہ وقت کی پرواز کو بھی مد نظر رکھنا چاہیے۔ جیسا کہ حافظ کہتے ہیں کہ "ہمہ آفاق پُر از فتنہ و شر بینیم" تمام آفاق کو فتنہ و شر سے پُر دیکھتا ہوں، شاعر اپنے زمانے میں رہے لیکن اسے  وقت گریز ہونا چاہیے۔ میں یہ نہیں کہنا چاہتا کہ میرا کام ایسا ہے لیکن میں نے نشان چھوڑاہے اسی کتا ب میں "زمستان بلاتکلیف ما" میں "نامزدھا" منگنیاں، کےموضوع کے تحت نشان چھوڑا ہے۔ حتی اشعار بھول جائیں تب بھی یاد رہے گا، اس میں تصور اور تخیل کو باندھا ہے کہ ایک چیز نظر آتی ہے مجھے بعض لوگوں نے پکڑ کر اعتراض بھی کیا کہ شاعرکا الہام کہاں گیا یہ سب باتیں اہم نہیں ۔

 

سوال: آپ کے اشعارمیں روایت ایک اہم عنصر ہے لیکن آپ کی نظر میں روایت شعر میں کہاں داخل ہو سکتی ہے ؟ مثلا اخوان کے شعروں میں روایت کا رنگ بہت زیادہ ہے ایسا لگتا کہ کو ئی قصہ سنا رہا ہے ۔روایات کو اشعار میں داخل کرنے کی کو ئی حدود نہیں ہو نی چاہیے ؟

سپانلو: ریتسوس میرا پسندیدہ شاعر ہے کہ میں نے اسکاترجمہ کیا ہے۔ اس نے اپنے شعروں میں ایک حصہ روایت کو قرار دیا ہے مثلاً اسے کے خوبصورت عنوان میں "اویس پنہ لویہ" ہے پنہ لویہ اولیس کی بیوی ہے کہ جس نے ۲۵ سال صبر کیا لیکن ریتسوس نے صرف ایک ٹکڑا روایت کا لیا ہے پنہ لویہ جب سالوں بعد اولیس کو اس ناشناختہ حالت میں دیکھتی ہے تو کہتی ہے کہ میں نے کیسا کام کیا ہے، یہ اجنبی کون ہے؟ دیکھئے ریتسوس نے کہاں سے شعر لیا یعنی انسان روایت کو لیتا ہے تو شعر سے باہر آجاتا ہے کیوں صرف اسوقت وہ ایک دستان کو منظوم بیان کر رہا ہے ۔ اسی لئے اخوان کے بہترین اشعار میں سے "خوان ہشتم" نہیں ۔" آنگاہ پس از تندر" ان کے ایک شاہکار میں سے ہے جبکہ وہ شطرنج کھیل رہے ہیں لیکن شطرنج ان پر حاوی نہیں ہو ئی ۔

سوال: ارسطو جیسی شخصیات اور تاریخی لحظے آپکے اشعار میں رنگ دکھا رہے ہیں اب تک ان سب چیزوں کے بارے میں بہت زیادہ باتیں ہو چکی ہیں، لیکن آپکے اشعار میں کچھ اور ہی رنگ نظر آتا ہے اگر یہ شخصیات معروف ہیں لیکن یہ افراد مفاخر میں شمار نہیں ہو تے، مثلاًایک آوارہ یا ایک ایسی عورت کہ جو خوشنام نہ ہو یا دوسری جانب جیسے سند باد کہ جو ایک دستان ادبی  یعنی ہزار و یک شب کا ایک حصہ ہے آپ کے شعروں میں نظر آتے ہیں اسی کتاب کے آخرمیں ایک عنوان بے نام آزادی کہ جس میں سعید حنایی کے بارے میں کہا کہ جو ایک گینگسٹر تھا اس طرح کے کریکٹڑ آپ کے اشعار میں کیوں نظر آتے ہیں ؟

سپانلو: میرا ذہن ایساہی ہے میرے ذہن میں اپنے اطراف کے بارے میں اچھی معلومات ہیں اور یہ سب میرے ذہن میں رہتی ہیں اور زندگی گزارتی ہیں اور ایک لحظے کے لئے میرے ذہن کے پردے پر آجا تی ہیں۔ آپکو حقیقت بتاوں کہ کہ سند باد میرے لئے وہ ہے کہ جو کبھی رکتا نہیں اورہمیشہ سفر کرنے کی فکر میں رہتا ہے اور یہ میرے لئے ایک مسئلہ ہے۔ میری ایک کتاب کا نام "سند باد غائب ہے پس اس کے مسافر کہاں ہیں؟" ہے۔ جلال ستاری نے بہت ہی خوبصورت کتاب لکھی کہ جس کا نام "تہران در قاب  شعر" یعنی تہران شعروں کی زبان میں، اس میں ایک حصہ میری کتابوں کے بارے میں ہے۔ وہاں  ستار ایک منفی ارسطو کا نام لیتا ہے۔ جی میں نے آخری سالوں میں ایک خوبصورت  چیز دیکھی ہے۔ راتوں کومیں ایک گھنٹہ بیدار رہتا ہوں آسمان و ستاروں کو کی گردش کو دیکھتا ہوں اور وہ میرا بیدار رہنا دیکھتے ہیں۔ میں رات میں اُٹھا اور دیکھا کہ کھڑکی پر ناھید ہے، کتناحسین منظر تھا حتی میں نے اسے کھنچا، ایک تاج سر پر ہے اور ایک گروہ اس کے ہمراہ ہے۔ اس تاج کو دیکھا اس کی خوبصورتی کو دیکھیں، ستار نے لکھا تھا کہ ناھید کے تاج کی ایک ذمہ داری شہروں کی حفاظت ہے کتنی راتوں کو اُٹھا کہ ناھید کو دیکھوں اس کے بعد جتنی ناھیدیں تھیں کہ جنہیں میں جانتاتھا وہ یاد آگئیں، ان سب کی ناہید اوپر تھی کہ جو صبح سحر تک مقاومت کرتی ہے ایک رات ناھید کو کھجور کے درخت کی شکل میں دیکھا ایک رات دل پر ایک خال کے روپ میں دیکھا  میراخیال ہے کہ یہ تین تصویریں ایک ہی  یعنی ناھید، زہرہ، یورینس، سب ایک ہی روپ ہیں۔

 



 
صارفین کی تعداد: 3912


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
حسن مولائی کی یادیں

سو افراد، سینکڑوں افراد، ہزاروں

وہ لوگ جو چند گھنٹوں پہلے جمرات جا رہے تھے تاکہ رمی جمرات کا فریضہ ادا کرسکیں اب تولیہ اوڑھے سو رہے تھے۔ جب جنازے ختم ہوئے، تو مجھے سمجھ نہیں آئی کہ مجھے کہاں لوٹنا چاہئیے۔ اچانک میرے پیروں نے کام کرنا چھوڑ دیا اور میں نے پہلی مرتبہ وہاں گریہ کرنا شروع کردیا۔ واپس پلٹ کر ان سفید پیکروں کو دیکھنا شروع کیا۔ پوری سڑک جنازوں سے سفید ہوچکی تھی۔ ایک جوان مرد کی آواز پر چونکا جو میرے ساتھ کھڑا تھا اور میرے پیروں کے سامنے چپلیں رکھ رہا تھا۔
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔