زبانی تاریخ سے آشنائی – 3

آپ بیتی اور غیر مکتوب تاریخ میں فرق

ترجمہ: محب رضا
ویرائش: یوشع ظفر حیاتی

2024-2-17


آپ بیتی [یادداشتوں کی کتابوں]اور غیر مکتوب تاریخ میں فرق

بدقسمتی سے، بہت سے لوگ جو کتاب کا نام ، آپ بیتی یا غیر مکتوب تاریخ رکھتے ہیں، وہ ان دونوں کا  فرق نہیں جانتے؛ اسی وجہ سے ہمیں نظر ایک ہی طرح کی کتابیں آتی ہیں، مگر ان  میں سے کچھ   آپ بیتیاں ہوتی ہیں  اور کچھ  غیر مکتوب تاریخ ۔

"یادداشت یا آپ بیتی "میں اصل "راوی" ہے؛ لیکن "غیر مکتوب تاریخ" میں اصل "انٹرویو" ہے۔ کیونکہ یہ طے ہے کہ انٹرویو لینے والے کے قانع ہونے کے لیے ، انٹرویو دینے والے سے عمیق سوالات پوچھے جاتے ہیں اور اُس کے ساتھ بحث شروع ہوجاتی ہے۔جو چیز یادداشت کو غیر مکتوب تاریخ میں بدل دیتی ہے وہ یہی بحثیں ہیں، جو انٹرویو لینے والا، انٹرویو دینے والے کے ساتھ کرتا ہے۔

وہ کتاب جس کے لیے بحث نہ ہو اوراس  انٹرویو میں، انٹرویو  لینے والا قائل نہ ہو، غیر مکتوب  تاریخ نہیں ہے!

یونیورسٹی کے کچھ پروفیسروں کا خیال ہے کہ یاداشت کا ایک فاعل ہوتا ہے اور وہ راوی ہے ؛ لیکن غیر مکتوب تاریخ کے دو فاعل ہوتے ہیں ،؛ راوی اور انٹرویو لینے والا۔

جہاں بھی انٹرویو لینے والے نے سوال کیا اور بحث کی (اور جدل نہیں کیا؛  بحث، جدل سے فرق ہے) اورمطمئن ہوگیا اور نادانستہ غلطیوں کی اصلاح اور درستی ہو گئی ، وہاں  اس طرح کے کام  کو ہم غیر  مکتوب تاریخ کا عنوان دےسکتے ہیں؛ لیکن اگر راوی نے صرف صحبت کی اور انٹرویو لینے والا محض سامع تھا، تو اسے یادداشت کہتے ہیں۔

 

oral-history.ir



 
صارفین کی تعداد: 421


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
اسد اللہ تجریشی کی یادداشتیں

بائیکاٹ

جیل کی اُس زمانے کی اصطلاح کے مطابق میرا بائیکاٹ کردیا گیا تھا۔ بائیکاٹ یعنی کسی کو بھی یہ اجازت نہیں تھی کہ وہ سلام کا جواب دے، ساتھ کھانا کھائے، گفتگو کرے، ورزش کرے، یا کوئی بھی اور کام انجام دے
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔