عراق میں ریڈیو پروگرام شروع کرنے کی تجویز

ترجمہ: محب رضا

2023-12-23


ایک روز جناب مصطفیٰ نے مجھے بتایا کہ عراقیوں نے تجویز دی ہے کہ ہم ان کی ریڈیو سٹیشن کی سہولیات سے استفادہ کر سکتے ہیں،اور مزید پوچھا کہ کیا آپ آمادہ ہیں کہ ایسا کرسکیں اور کیا آپ کے خیال میں ایسا کرنے میں مصلحت بھی ہے؟

میں نے کہا: "یہ ایک بہت بہترین تجویز ہے کہ ایک شخص روزانہ 15 سے 20 منٹ تک اپنے وطن کے لوگوں سے رابطہ برقرار کرکے بات چیت کر سکے۔ لیکن خطرہ بھی ہے اور یہ بغداد ریڈیو اور عراقی بعثی حکومت کی آپس کی بات ہے۔ ہمیں خود آقا سے مشورہ کرنا چاہیے اور ان کی اجازت سے کام کرنا چاہیے، کیونکہ اس کام کے نتائج، ان پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

حاج آغا مصطفیٰ نے کہا: یہ ایک اچھی دلیل ہے، لیکن کسی بھی صورت میں، یہ ایک پرخطر اقدام ہے، یعنی ہمیں نہیں معلوم کہ آخر میں کیا ہوگا، ہو سکتا ہے کہ اس کے منفی نتائج نکلیں۔ اگر ہم امام سے پوچھنا چاہتے ہیں، یعنی جب انہیں اس مسئلے میں شامل کریں گے، تو اگر انکی رضامندی شامل ہوئی تو جو کچھ بھی ہو گا اس کی ذمہ داری ان پر بھی عائد ہوگی۔ لیکن اگر ان کو اس بارے میں کچھ پتہ نہ ہو، اور ہم پہلے ہی یہ کام کر چکے ہوں، تو اگر یہ کامیاب رہا تو وہ آئندہ اسکی تائید کر دیں گے اور یہ ان کے مقاصد کے مطابق ہی ہوگا۔ اور اگر کوئی مشکل ہو گئی تو ان کے پاس، خدا کے سامنے حجت ہوگی کہ ان کو اس بارے میں کچھ پتہ نہیں تھا اور وہ اس کام کے نتائج سے محفوظ رہیں گے۔

اس لیے ہم یہ کام شروع کرتے ہیں اور ایک، دو ماہ میں اس کے نتائج کو دیکھیں گے، اگر یہ اچھا کام ہوا اور اس کا استقبال کیا گیا، تو امام اس کی تائید کر دیں گے، اگر ایسا نہ ہوا تو ہم اس کو روک دیں گے اور اس کے نتائج کو ہم بھگت لیں گے۔

میں نے حاج آغا مصطفٰی کی دلیل قبول کی اور بغداد چلا گیا۔ بغداد ریڈیو سٹیشن کے غیر ملکی سیکشن میں ہم روزانہ 20 منٹ اور کبھی کبھی آدھا گھنٹہ بھی پروگرام کیا کرتے تھے۔ اس پروگرام کے بارے میں صرف مجھے اور حاجی آغا مصطفی کو معلوم تھا اور کسی کو اس کے بارے میں کوئی علم نہیں تھا۔

آخر کار ہم نے پروگرام شروع کر دیئے۔ میں ہر روز، اگلے دن کا پروگرام تیار کرتا اور اس میں اہم اور خاص خبروں کو شامل کرتا۔ یہ پروگرام ایران میں "تحریک علماء" کے عنوان سے نشر کیا گیا اور بہت کم مدت میں بہت مقبول ہو گیا۔ ایران میں اس کا اچھا استقبال ہوا اور لوگوں کی اکثریت اسکی سامع ہو گئی۔ آزادی کے متلاشیوں کی اکثریت خوش ہوگئی اور اس پروگرام کو سننے لگی۔ ریڈیو کے اس پروگرام میں، امام کے بیانات اور اعلانات پڑھے جاتے تھے۔ امام کی تقاریر کی ریکارڈنگز چلائی گئیں۔ جیلوں میں قید جدوجہد کرنے والے گمنام قیدیوں اور شہیدوں کا ذکر کیا گیا۔ بہرالحال اس نے حکومت کے خلاف تحریک پیدا کی اور جدوجہد کرنے والے افراد کے جوش میں اضافہ کیا۔

 

 منبع: گوشه‌ای از خاطرات حجت‌الاسلام والمسلمین سیدمحمود دعایی، مؤسسه تنظیم و نشر آثار امام خمینی(س)، عروج، 1387، ص 83 - 84.

 

 



 
صارفین کی تعداد: 4518


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
اسد اللہ تجریشی کی یادداشتیں

بائیکاٹ

جیل کی اُس زمانے کی اصطلاح کے مطابق میرا بائیکاٹ کردیا گیا تھا۔ بائیکاٹ یعنی کسی کو بھی یہ اجازت نہیں تھی کہ وہ سلام کا جواب دے، ساتھ کھانا کھائے، گفتگو کرے، ورزش کرے، یا کوئی بھی اور کام انجام دے
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔