شیخ عبدالحسین مسجد میں شب عاشور کا خطاب

ترجمہ: محب رضا

2023-12-21


اس رات ہجوم اتنا زیادہ تھا کہ میں بازار کے راستے، لوگوں کے درمیان سے گزر مسجد تک نہ پہنچ سکا۔ چنانچہ میں بازار کی چھت سے ہوتا ہوا مسجد پہنچا اور مسجد کی چھت سے اتر کر نیچے آیا۔

یہ مبالغہ نہیں ہوگا، اگر میں یہ کہوں کہ لوگ اتنے گھس کر بیٹھے ہوئے تھے کہ مجھے آتے وقت انکے زانووَں پر قدم رکھ کر گزرنا پڑا۔ خدا کے بندے بہت محبت اور شوق سے کہتے رہے: "جناب، ہمارے زانو پر قدم رکھ لیجیے!"، انہوں نے میرا استقبال اس طرح کیا کہ میں اس زانو سے اس زانو پر، اور اس زانو سے اس زانو پر چلتا منبر تک پہنچ جاوَں۔ مجھے ناچار اسی طرح کرنا پڑا اور میں بالآخر منبر تک پہنچ گیا! عاشورہ کی اس رات کی تقریر کی ریکارڈنگ، ٹیپ پر دستیاب ہے، اور اسکی بڑے پیمانے پر کاپیاں کی گئی۔

جو چیز میں بالکل نہیں جانتا تھا وہ یہ تھی کہ اس ٹیپ کی کاپیاں ہونے کے بعد ایک پرجوش عقیدتمند نوجوان نے مجھے بتایا، "جناب، کیا آپ جانتے ہیں کہ اتنے سارے ساواکیوں کی موجودگی کے باوجود یہ ریکارڈنگ کون کر پایا؟" میں نے کہا: "نہیں"، اس نے کہا: "وہ میں تھا۔" میں نے پوچھا،"آپ نے اسے کیسے ریکارڈ کیا؟" اس نے بتایا، "میں نے اپنی جان کو خطرہ میں ڈالا۔ عاشورہ کی شام جب ابھی لوگ نہیں پہنچے تھے تو میں ایک مناسب مقام سے منبر کے نیچے تک بجلی کی تار لے آیا، پھر میں ٹیپ ریکارڈر سمیت منبر کے چھپ گیا اور ریکارڈنگ کر لی! منبر کے دونوں اطراف اور اس کی سیڑھیاں سیاہ کپڑے سے ڈھکی ہوئی تھیں، اسی وجہ سے کوئی مجھے منبر کے نیچے دیکھ نہیں پایا۔ اس جگہ گرمی اور تنگ جگہ ہونے کی وجہ سے میرا اتنا پسینہ بہا کہ میری جان ہتھیلی پر آ گئی۔"

اس زمانے میں چھوٹے ریکارڈر عام نہیں تھے۔ کیسٹیں ریل والی ہوتی تھیں اور ریکارڈر اکثر بڑے اور بھاری ہوتے تھے۔

 نوجوان نے بتایا، ’’میں اس طرح وہ ریکارڈر وہاں لے گیا اور اس عجیب طریقے سے ریکارڈنگ کی۔ پھر میں نے کیسٹ کو اپنی بغل میں چھپایا تاکہ کوئی اسے دیکھ نہ لے اور پھر اسے باہر بھجوا دیا۔ اسکے بعد، جب مسجد خالی ہو گئی، میں نے جا کر ریکارڈر بھی اٹھا لیا" بہرالحال، عاشورہ کی رات کی وہ تقریر، جو اس نوجوان نے ریکارڈ کی تھی، بہت تیزی سے کاپی ہوکر ملک بھر میں پھیل گئی۔ بعد ازاں یہ تاریخی تقریر ایک پرنٹنگ ہاوَس کے توسط سے ایک کتابچے کے طور پر بھی شائع ہوئی۔

 

منبع: خاطرات و مبارزات حجت‌الاسلام فلسفی، مصاحبه‌ها: سیدحمید روحانی (زیارتی)، چ 1، 1376، تهران، انتشارات مرکز اسناد انقلاب اسلامی، ص 257 – 258.

 

 



 
صارفین کی تعداد: 450


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
اشرف السادات سیستانی کی یادداشتیں

ایک ماں کی ڈیلی ڈائری

محسن پورا جل چکا تھا لیکن اس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔ اسکے اگلے دن صباغجی صاحبہ محسن کی تشییع جنازہ میں بس یہی کہے جارہی تھیں: کسی کو بھی پتلی اور نازک چادروں اور جورابوں میں محسن کے جنازے میں شرکت کی اجازت نہیں ہے۔
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔