نصرت اللہ محمود زادہ کے واقعات کا ایک ٹکڑا

جنگ کے دروران سڑکیں بنانے کی اہمیت

انتخات: فائزہ ساسانی خواہ
ترجمہ: صائب جعفری

2023-11-2


جنگ کے دوران اآپریشنز کی کامیابی اور ناکامی کا تعین پہاڑی علاقوں میں بنائے جانے والے  راستے کرتے تھے۔ یہ راستے ہی امداد ، کھانا، فوجوں کی آمد و رفت اور شہداء  اور زخمیوں کو لانے لے جانے کے کام آتے تھے۔

عراقیوں کی زیادہ تر قوت کا مرکز گلان کی چوٹی تھی۔ جس بٹالین کے ذمہ اس چوٹی کو سر کرنا تھا وہ عراقیوں کی شدید فائرنگ اور گولہ باری کی وجہ سے شکست کھا چکی تھی۔ عراقیوں نے پہاڑیوں کو جو ماووت شہر کی جانب تھیںاور پلیس ہیڈ کوارٹر جو غربی  ضلع میں واقع تھا، مزید طاقت ور کر لیا تھا۔ وہ ان مقامات سے مسلسل گولہ باری اور فائرنگ کرکے بسیجیوں کی پیش قدمی  میں رکاوٹ ڈالے ہوئے تھے۔

دو بدو لڑائی میں شدت آچکی تھی۔ سپاہی گرنیڈز کے ذریعہ عراقی  مورچوں پر حملہ آور تھے۔ وہاں دوشہیدوں کے جنازوں کی جانب ایک بسیجی کا دھیان گیا ان دونوں شہیدوں کے جسم چھلنی تھے۔ اس بسیجی نے آر پی جی کا رخ مورچہ کی جانب کیا  تو عراقیوں کی جانب سے بمباری شدید ہو گئی۔ لیکن یہ گولہ باری بھی  بسیجیوں کی راہ میں مانع نہ ہوئی اور وپ چوٹیوں کی جانب مسلسل بڑھتے رہے۔

لڑائی اب حساس مرحلہ میں داخل ہو چکی تھی۔ اگر عراقیوں کی مزاحمت کا خاتمہ نہیں ہوتا ہے تو اب مجاہدین بھاری نقصان اٹھائیں گے۔

جنگی امداد کو  چوٹی تک پہنچانا بمشکل تمام انجام پایا۔ امداد  راسانی کے لئے کچھ خچر ہمارے پاس تھے مگر وہ سب سامان لے جانے کے لئے کافی نہ تھے۔ اس لئے مجاہد مجبور تھے کہ سامان کو کاندھوں پر لاد کر لے جائیں۔ پہاڑی کی اونچائی سے عراقیوں کی فائرنگ تھی کہ تھمنے کا نام نہ لیتی تھی۔  اس کی وجہ سے مجاہدین کو کمر جھکا کر چلنا پڑ رہا تھا۔ تمام مجاہدوں نے اپنی آنکھیں چوٹی پر لگائی ہوئی تھیں اور فائرنگ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اپنی منزل کی جانب گامزن تھے۔

انہوں صبح کی روشنی پھیلنے سے قبل ہی چوٹی کو سر کرنا تھا۔ بلڈوزروں کی جانب کمانڈر کی نگاہیں جمی ہوئی تھیں کہ انہیں کو  چوٹی تک پہنچنے کا راستہ صاف کرنا تھا۔

راستہ میں کچھ موڑ بھی  تھے  جو عراقیوں کی نظروں میں تھے۔ اس راستے پر چلنے والی کچھ گاڑیوں کو انہوں نے نشانہ بنایا تھا  اور ان میں آگ لگی ہوئی تھی۔ آگ اور فائزرنگ اس قدر شدید تھی کہ چند گھنٹہ کے لئے راستہ ہی بند ہوگیا تھا  کچھ گاڑیاں مکمل تباہ ہوگئی تھیں اور کچھ مجاہدین جام شہادت نوش کر چکے تھے۔ اس واقعہ کے بعد سے ہی اس جگہ کا نام شہدا موڑ پڑ گیا تھا۔

مجاہدین کا آخری معرکہ چند مختلف مقامات  کو اپنا محور بنائے ہوئے تھا۔ بلڈوزر پہاڑیوں کا سینہ چیرتے ہوئے گلان کی چوٹی کی جانب گامزن تھے۔ یک دم دشمن کی فائزنگ نے تمام پہاڑی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ کچھ مجاہدین نے چند بوری مٹی کی مدد سے ایک مورچہ بنا لیا تھا اور اب وہ آخری جھڑپ کے لئے آمادہ تھے۔ فائرنگ کی شدت کے سبب وہ مورچہ سے باہر نہیں نکل پا رہے تھے۔  اسی عالم میں انہوں نے دیکھا کہ جنوبی راستے کے جانب سے عراقی اوپر آرہے تھے۔ پہاڑی کے اس طرف فائرنگ کسی کو بھی نکلنے کا موقع نہ دی رہی تھی۔

عراقی جب اس مورچہ کے نزدیک آئے تو مجاہدوں نے ان کو اپنی گولیوں کا نشانہ بنایا  لیکن عراقی بھی مسلسل آگے بڑھ رہے تھے اور وہ چوٹی کا کنٹرول سنبھالنا چاہتے تھے۔ اس جھڑپ میں دو گن مین شہید ہوئے  اور ان کے جسد  دوشکا کے پاس بے حس و حرت کت پڑے تھے۔ عراقی سمجھ رہے تھے کہ انہوں نے یہاں کا کنٹرول دوبارہ حاصل کر لیا ہے اس  لئے وہ مسلسل اوپر کی جانب آرہے تھے۔

ہیلی کاپٹر کی آواز نے مورچہ پر موجود دو بسیجیوں کو پریشان کر دیا و بے حس و حرکت زمین پر لیٹ گئے۔ یہ ہیلی کاپٹرز گلان کے سامنے والی چوٹی پر اتر گئے کہ یہ چوٹی ابھی سر نہ ہوئی تھی۔ انہوں نے وہیں سے اپنے میزائلوں کو مجاہدوں کی جانب پھینکنا شروع کر دیا۔  اس کام نے سپاہیوں کی مشکل بڑھا دی اب ان  کو عراقی کمانڈوز کے ساتھ ساتھ ان میزائلوں کا بھی دھیان رکھنا تھا جو ہیلی کاپٹر ان کی جانب پھینک رہے تھے۔

بلڈوزر کے تمام ڈرائیورز  بڑی جانفشانی سے عراقی  حملہ کے ساتھ ہی خود کو چوٹی سے نزدیک کر رہے تھے۔ ان کی پیچ و خم سے مملو حرکت میں تیزی آچکی تھی ان پیچھے ایمبولینسز اور کھانے اور جنگی ساز و سامان کی گاڑیاں تھیں۔

مجاہدوں جنگ کی شدت کی وجہ سے مجبور تھے کہ خچروں پر زیادہ وزن ڈالیں  جس کی وجہ سے خچر اب چلنے کے قابل نہ رہے۔ بسیجیوں نے جلدی جلدی خود کو چوٹیوں سے نزدیک کیا ۔ مجاہدوں کی سانس پھولی ہوئی تھی اور ان کا سارا بدن پسینہ سے شرابور تھا اس حال میں بھی وہ اپنی منزل پر نظریں جمائے مسلسل آگے بڑھ رہے تھے۔

کچھ خچر زمین پر گر پڑے تھے۔ بیچارے جہاں تک ہمت کر سکے آگئے تھے مگر آخری ۱۰۰ میٹر پر وہ ہمت ہار گئے تھے۔ مجاہدوں نے سامان کو ان کی پیٹھ سے اتار لیا اور اپنے کاندھوں پر لاد کر چوٹیوں کی جانب بڑھنے لگے۔

لڑائی شدید تھی۔ مورچہ پر شہدا اور زخمیوں کی تعداد دس ہو چکی تھی۔ جب بھی وہاں کو زخمی ہوتا یا شہید ہوتا تو اس کی جگہ ایک اور مجاہد لے لیتا تھا۔ دوشکا کی پشت پر موجود ہر بسیجی جس وقت بھی کسی زخمی کو دیکھتا تھا تو وہ  اپنے اوپر قابو نہ رکھ پاتا اور  ایسی فائرنگ  کرتا تھا کہ  عراقیوں کا ایک ایک سپاہی زمیں پر نہ گر جاتا۔

عراقی ہیلی کاپٹرز چوٹیوں پر مسلسل میزائل برسا رہے تھے۔ مجاہدوں کو اس کا موقع نہیں مل رہا تھا کہ وہ چوٹیوں پر اپنی جنگی نمائش کر سکیں۔ اسی اثنا میں ہیلی کاپٹرز کی آواز کے ساتھ ہی ایک اور آواز بھی گونجی  یہ آواز جنگی جہاز کی تھی۔ ان جہازوں نے   اپنے سارے بم برسائے اور عراق کی جانب لوٹ گئے۔

عراقی اپنی اس حرکت سے چاہتے تھے کہ اپنے کمانڈوز کی مدد کریں۔ اس کے بعد ایک بار پھر دو بدو لڑائی شروع ہوگئی۔ مجاہدین ایک بار  پھر مجبور تھے کہ ہینڈ گرنیڈز استعمال کریں۔  ان گھاٹیوں میں ہینڈ گرنیڈز کی آواز عراقیوں کے ہوش اڑا رہی تھی۔

غروب کے قریب مجاہدین کی آنکھوں میں دھواں اور دھول سی بھر گئی۔ سب سوچ رہے تھے کہ دھول مٹی کیا ہے۔ ناگہاں بلڈوزرز کی آواز آئی۔  بلڈوزرز چوٹی تک پہنچ چکے تھے۔ ان کے پیچھے پیچھے کچھ گاڑیاں تھیں  جن میں تازہ فوجی اور جنگی سامان تھا۔

ان تازہ دم فوجیوں نے  شدید فائرنگ میں بھی  خود کو چوٹی تک پہنچا دیا اور عراقیوں پر   شدید فائرنگ شروع کر دی۔ آرپی جی کی فائرنگ اس قدر شدید تھی کہ کچھ دیر بعد ہی عراقی مجبور ہو گئے کہ اسلحہ پھینک کر نشیب کی جانب فرار کر جائیں۔ کچھ گن مینز جو چوٹی پر مستقر تھے انہوں نے عراقیوں کو یہ موقع فراہم نہ کیا کہ وہ فرار کر سکیں اور انہی گھاٹیوں کو ان کا قبرستان بنا دیا۔

چوٹی پر پہنچنے والی ایمبولنسز نے زخمیوں کو ایمرجنسی میں پہنچایا۔ اسی اثنا میں ایک بم ایک  بلڈوزر کے پاس آگرا اور اس کو ناکارہ بنا دیا۔ بم کے چھروں نے ایک بسیجی کے  کی کلائی کاٹ دی تھی۔ مگر وہ بسیجی کمال اطمینان کے ساتھ کٹے ہاتھ کو دوسرے ہاتھ میں لئے ایمبولینس کی جانب جارہا تھا۔  دوسرے بسیجی اس کو دیکھ رہے تھے تو ان سے اس زخمی نے  کہا تم لوگ اپنا کام کرو مجھے کچھ نہیں ہوا ہے۔

ان بسیجیوں کے ساتھ ہی ایک مجاہد مولویوں کے لباس میں بھی موجود تھے۔  اس کے چہرے سے ظاہر تھا کہ وہ اس منظر کو  اس جنگ کو عاشقانہ نظروں سے دیکھ رہا ہے۔ اس کے ارد گرد کچھ گولیاں گریں تو سپاہیوں نے اس سے کہا کہ وہ مورچہ میں  چلا جائے وہ اس بات پر حیران تھا کہ یہ لوگ خود اپنے لئے  فکر مند کیوں نہیں ہیں۔

اس وقت سب کی آنکھیں گہرےمطالب اور دروس کا مطالعہ کر رہی تھیں۔ مولوی کی آنکھیں بسیجیوں  کے لئے پریشان تھیں اور بسیجی اس مولوی کے لئے مضطرب تھے۔ یہاں حوزہ علمیہ  مباحثہ و درس نہیں تھا یہ تو گلان کی چوٹی تھی اور چاروں طرف دشمن کی گولیاں تھیں۔

سوچئے وہ کیوں اپنے دل کی بات کو زبان پر نہ لا پارہے تھے؟

در اصل ان کے دلوں میں خدا کے عشق کا طوفان برپا  تھا اور اس لمحہ  اس کا اظہار صرف  آنکھوں سے ہو سکتا تھا۔

اس وقت اس مولوی نے مسکرا کر بس اتنا کہا: ’’ کاش مجھے بھی تمہاری شربت کا ایک گھونٹ میسر ہو جائے۔‘‘ بس یہ جملہ تھا جس نے دلوں میں چھڑی ہوئی بحث کو انجام تک پہنچا دیا۔[1]

 

 

 

 

 

 

 

 


[1] محمود زادہ، نصرت اللہ، بام کردستان، صفحہ ۷، ناشر مرکز حفظ و نشر آثار دفاع مقدس، ۱۹۹۷



 
صارفین کی تعداد: 575


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
کتاب"در کمین گل سرخ" سے اقتباس

شہید علی صیاد شیرازی کی داستان

اُن لوگوں کی ان کے برتاؤ کے مطابق طبقہ بندی کی تھی۔ پہلے اور دوسرے کمانڈر کے احساسات ہم آہنگ نظر آئے جس سے محسوس ہورہا تھا کہ ان کے ساتھ کام کیا جاسکتا ہے۔ دوسرے دو افراد سے الگ الگ بات کرنی چاہئے تھی تاکہ نفسیاتی اعتبار سے کوئی تداخل پیدا نہ ہو۔
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔