امام خمینی کی حمایت میں، ویٹی کن اور پیرس میں بھوک ہڑتال - ۲

ترجمہ: محب رضا

2023-6-4


اسی دوران، ہم نے سنا کہ بیرون ملک جدوجہد کرنے والے علماء میں سے چند افراد - حجۃ الاسلام محمد منتظری کی قیادت میں - پیرس میں جمع ہوئے ہیں۔ ہم نے کہا کہ اس سے اچھا کیا ہوگا، اب وہ آگئے ہیں تو بھوک ہڑتال کا پروگرام مل کر انجام دیں گے۔اس کی دو دلیلیں تھیں: ایک، ویٹی کن میں سابقہ ​​بھوک ہڑتال کے تجربے کی وجہ سے ہم اس قدم سے اپنے مقصد کے حصول کے لیے پہلے سے تیار تھے، اور اس ہڑتال کے مجموعی مثبت اثرات پیرس اور فرانس میں منتقل ہو چکے تھے۔ دوسرا یہ کہ امام کئی سالوں سے علماء اور طلباء کی وحدت کی نصیحت کر رہے تھے، اس طرح یہ قدم ایک مشترکہ سیاسی حرکت بن جاتا اور ایک علامت کے طور پر سامنے آتا۔

اصلی کام پر اتفاق ہو گیا لیکن فوراً ہی چند اختلافی مسائل پیش آ گئے، جیسا کہ جناب محمد منتظری سیاسی قیدیوں کی ایک فہرست لے آئے، جن کی آزادی کے مطالبے کو ہڑتال کرنے والوں کے مطالبات کی فہرست میں شامل کرنا تھا، جن میں سید مہدی ہاشمی کا نام بھی شامل تھا۔ ہمارا ماننا یہ تھا کہ اس مسئلے کو نہ اٹھایا جائے کیونکہ ہم نے امام پر سے پابندی ہٹانے کے لیے بھوک ہڑتال شروع کی تھی، اور اس معاملے کو ایران میں سیاسی قیدیوں کی رہائی کی طرف موڑنے سے ہم عراقی حکومت پر زیادہ دباؤ نہیں ڈال پائیں گے۔ لیکن جناب منتظری مصر تھے۔ ہم نے کہا کہ چونکہ ہم نے امام کو اپنی سرگرمیوں سے آگاہ کر دیا ہے اور وہ اس معاملے سے باخبر ہیں لہذاٰ ہمیں نجف کے ساتھ مشورہ کرکے آگے بڑھنا چاہیے۔ میں نے جناب دعائی کو فون کیا، انہوں نے امام سے بات کرنے کے بعد، ہم سے اس طرح بات کی کہ ہمیں لگا کہ اس فہرست میں مہدی ہاشمی کے نام کی شمولیت سے امام راضی نہیں ہیں۔ ہم نے آپس میں بات کی کہ اگرچہ ہم یہ نہیں چاہتے لیکن اگر وہ اپنے مطالبے پر اصرار کرتے ہیں تو ہمیں ناچار کام تقسیم کرنا پڑے گا یا ہم مشترکہ ہڑتال کا خیال چھوڑ دیں اور کہیں اور یہ کام کریں، البتہ  ہم ان کی مدد کریں گے۔

البتہ یہ بات طے تھی کہ اگر ہم مل کر کام کرتے تو اس کا زیادہ اثر ہوتا لیکن اگر دو تنظیمیں، دو مختلف بیانات دیں تو یہ اچھا نہیں تھا۔ جناب دعائی نے ایک بار پھر دہرایا کہ امام کہتے ہیں کہ آپ ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کر کے مسئلہ حل کر سکتے ہیں اور یہ کہ آپ کو سید مہدی ہاشمی کے نام کو قبول نہ کرنے کا حق ہے۔ تاہم باقی قیدیوں کی رہائی کی درخواست کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے جن میں آیت اللہ طالقانی، آیت اللہ منتظری، عزت اللہ سحابی، لطف اللہ میثمی وغیرہ کے نام شامل تھے، جن کی کل تعداد 12 بنتی تھی۔ بہرحال، چونکہ جناب محمد منتظری اور ان کے دوست مصر تھے، اس لیے ہم نے اتفاق کیا کہ ہماری بھوک ہڑتال کا مقام ایک ہوگا، جس کے لیے پیرس میں سینٹ میری چرچ کا انتخاب کیا گیا۔ لیکن ہم نے اپنے روزمرہ کے بیانات کو الگ کر لیا، جن میں بھوک ہڑتال کے مطالبات و اہداف، ہر روز کے واقعات کی رپورٹنگ اور انکی میڈیا میں تحلیل و تفسیر شامل تھی۔

البتہ ہم اس بھوک ہڑتال کے لیے امام کی جانب سے کوئی پیغام وصول کرنے میں ناکام رہے۔ یہ بھوک ہڑتال یکم اکتوبر 1977/9 مہر 1356 کی شام کو شروع ہوئی اور ایک ہفتہ تک جاری رہی۔ خوش قسمتی سے ایران اور دیگر غیر ملکی میڈیا میں اس کو بہت کوریج ملی۔ اس دوران انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندے آتے رہے اور انٹرویو لیتے رہے۔ دیگر تنظیموں اور سیاسی شخصیات نے بھی حمایت کے اعلان کیے اور گزشتہ بھوک ہڑتال کی طرح پیشکش کی کہ آپ بھوک ہڑتال ختم کریں، ہم آپ کے مطالبات اور اہداف کو آگے لیکر چلیں گے۔ ہم نے بھی ایک پریس کانفرنس کرکے ہڑتال ختم کی۔ البتہ ہماری مرضی کے خلاف، دو الگ الگ کانفرنسیں منعقد ہوئیں۔ جدوجہد کرنے والے علماء کی جانب سے، محمد منتظری اور جناب غرضی اور ایک اور دوست نے اس میں حصہ لیا، البتہ اس وقت اکثر حضرات کے نام عرفی تھے، اور ہمیں بعد میں پتہ چلا کہ ان کے اصل نام کیا ہیں۔

منبع: طباطبایی، صادق، خاطرات سیاسی ـ اجتماعی دکتر صادق طباطبایی، ج 1، جنبش دانشجویی، تهران، مؤسسه چاپ و نشر عروج، 1387، ص 149 ـ 144.

 



 
صارفین کی تعداد: 890


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
شہید رحمان غلامی کی جانب سے اپنی والدہ کی شفاعت

آسمانی باتیں

اچانک شہید نے کہا کہ نہیں کل تک صبر کریں۔ قرار ہے کہ کازرون کی شہید فاؤنڈیشن کے کچھ افراد والدہ کی عیادت کے لئے آئیں گے۔ یہ چار افراد ہوں گے جن کے ہاتھوں میں امام خمینی رح اور میری تصویر ہوگی اور ان میں سے دو مرد اور دو خواتین ہوں گی، جیسے ہی وہ گھر آئیں گے والدہ ٹھیک ہوجائیں گی۔
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔