بھوک ہڑتال کا نتیجہ - ۱

تحریر: محمدہ قبادی
ترجمہ: محب رضا

2023-5-29


شہریور ۱۳۵۱ میں، غاصب حکومت اور اس کے ایجنٹوں کے مقابلے میں، وکیل آباد کے سیاسی قیدیوں کی بھوک ہڑتال کافی حد تک کامیاب اور مقبول رہی، اور اس کا چرچا ہو گیا۔ یعنی اس کی وجہ سے اعلیٰ حکام کو جیل آنا پڑا اور اس کا انجام، سیاسی اور غیر سیاسی، تمام قیدیوں کے فائدے میں ہوا۔

ہماری بھوک ہڑتال جیل حکام کے ناروا سلوک، جیسے قیدیوں کے ساتھ رویے، ملاقاتوں، کھانے  کی مقدار اور کیفیت، خلاصہ یہ کہ ان تمام خدمات اور فرائض کے خلاف تھی جن کے وہ ذمہ دار تھے اور انجام نہیں دیتے تھے۔ ان کوتاہیوں اور بےقاعدگیوں کے خلاف احتجاج، ایک دو مواقع پر سیاسی قیدیوں پر تشدد کے ساتھ شروع ہوا اور بالآخر ہمیں بھوک ہڑتال تک لے گیا، کیونکہ اب درخواستیں، یاد دہانیاں اور زبانی اعتراضات بے کار ہو چکے تھے۔ اس وقت تک قیدیوں کا، ان کی کوٹھریوں میں اجتماع، ممنوع اور حساس نہیں تھا، اس لیے ہم ایک دن اکٹھے ہوئے اور کافی بات چیت اور بحث و مباحثے کے بعد اس نتیجے پر پہنچے کہ بھوک ہڑتال کرنا چاہیے، غیر معینہ مدت کے لیے، 'تر بھوک ہڑتال'۔ خشک بھوک ہڑتال میں، ہڑتال کرنے والا شخص فیصلہ کرتا ہے کہ  کچھ نہیں کھائے گا، نا پانی، نا کوئی اور مشروب اور نا ہی کھانا۔ اس بھوک ہڑتال میں آدمی دو تین یا چند روز سے زیادہ نہیں رہ پاتا، اور مر جاتا ہے، لیکن 'تر بھوک ہڑتال' یہ ہے کہ ہڑتال کرنے والا شخص ، اپنے آپ کو صرف خشک خوراک سے محروم کرتا ہے اور مائعات کا استعمال کر سکتا ہے۔ اس صورت میں، یہ شخص اپنی جسمانی اور ذہنی شرائط کے مطابق تقریباً ایک ماہ یا اس سے بھی زیادہ عرصہ تک رہ سکتا ہے۔ لیکن اگر یہ سلسلہ مزید جاری رہے تو بہت خطرناک  ہو جاتا ہے اور موت کا امکان قوی ہوجاتا ہے۔

اس چیز کو سامنے رکھتے ہوئے، جیسا کہ میں نے ذکر کیا، ہم نے 'تر بھوک ہڑتال' کرنے کا فیصلہ کیا، اور یہ فیصلہ تمام مذہبی اور سیاسی اختلافات نظر سے بالاتر تھا۔

اس ہڑتال میں بیس تیس افراد نے شرکت کی۔ جب ہم نے ہڑتال کا آغاز کرنا چاہا تو جیل حکام کو مطلع کرتے رہے کہ مثلاً آج سے ہمارے لیے کھانا مت لائیں۔ جیل کے افسران نے پہلے دو تین دن ہمارے فیصلے کو سنجیدگی سے نہیں لیا، لیکن اس کے بعد انہوں نے دیکھا کہ یہ ایک سنجیدہ فیصلہ ہے اور حقیقت بھی یہی تھی۔ اس اعلان کے بعد ہم نے اپنے فیصلے پر عمل درآمد شروع کر دیا۔ ہم دن بھر کچھ نہیں کھاتے تھے سوائے پانی یا چائے کے اور صرف آرام کرتے تھے۔ اگر ہم چلتے بھی تھے تو آرام آرام سے۔ ہماری کوشش تھی کہ اپنی توانائی بچائے رکھیں اور نتیجتاً جتنا ضرورت پڑے، اتنے روز ہڑتال جاری رکھیں تاکہ اپنے مطالبات منوا سکیں۔

کھیل کود بند ہو گئے، لیکن ہمارا مطالعہ، یا کم از کم میرا مطالعہ، بڑھ گیا۔ پہلے دو تین دن میرے لیے مشکل تھے لیکن آہستہ آہستہ میں اس کا عادی ہو گیا۔ ان دنوں میں نے بہت سی لمبی اور پرحجم کتابیں پڑھیں جو اگر ہڑتال سے پہلے کے حالات میں پڑھتا تو امکان نہیں تھا کہ اتنی جلدی ختم کر سکوں۔

ہڑتال کے آٹھویں یا نویں دن، کچھ ہڑتالیوں کی حالت خراب ہوگئی اور انہیں ہسپتال لیجانا پڑا۔ ہم نے پہلے ہی اس بات پر اتفاق کر چکے تھے کہ اگر ایسی صورت حال پیش آئی اور ہمیں ڈرپ کے ذریعے غذا دینے کی کوشش کی گئی  تو ہوش وحواس میں آنے کے بعد ہم اپنی ڈرپ خود ہی اتار دیں گے اور ہڑتال جاری رکھیں گے۔ سب تو نہیں، لیکن کچھ لوگ اس قول پر ڈٹے رہے اور ایسا ہی کیا۔ اس دوران، مجھے آخری دن تک ہسپتال جانے کی ضرورت نہیں پڑی۔ یہاں تک کہ پندرہویں دن میں نے اپنی حالت چیک کرنے کے لیے مختصر حرکت کرنے کی کوشش کی۔ ذہنی طور پر میری حالت اچھی تھی لیکن جسمانی طور پر میں بہت لاغر اور کمزور ہو گیا تھا اور میرا وزن بھی کم ہو گیا تھا۔ میرا پیٹ، کمر سے چپک گیا تھا اور میری آنکھیں اندر دھنس گئی تھیں۔

منبع: قبادی، محمدی، یادستان دوران: خاطرات حجت‌الاسلام والمسلمین سیدهادی خامنه‌ای، تهران، سوره مهر، 1399، ص 308 - 314.



 
صارفین کی تعداد: 855


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 

خاموش فریاد

مجاہدین ناامید ہوگئے۔ ایک طرف سے بھوک اور پیاس تو دوسری طرف سے برف اور سردی نے انکی ہمت توڑ دی تھی۔ اگر مزید چند دنوں تک یہ سامان یہاں نہیں پہنچتا تو بہت سارے جوان شہید ہوجاتے۔ اس لئے جوانوں میں سے پانچ بہترین جوانوں نے رضاکارانہ طور پر اس درے میں اترنے کا فیصلہ کیا تاکہ وہ یہ ساز و سامان واپس لا سکیں۔ وہ لوگ درے میں اترے لیکن ہم نے جتنا بھی انکا انتظار کیا وہ واپس نہیں آئے
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔