ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

ملتان کا مصلح، 52 واں حصہ

زینب عرفانیان
ترجمہ: سید صائب جعفری
ویرائش: یوشع ظفر حیاتی

2023-10-5


علی کی تشیع جنازہ میں اس کو ادارہ کے سامنے سے سفر کراتے ہوئے اس کے والد کے گھر کی جانب وداع کے تقاضے پورے کرنے کے لئے لے جایا گیا۔ میں تمام راستہ  ، ایمبولینس میں نیم بے ہوشی کے عالم میں سفر کرتی رہی۔  جب علی کو مسجد امام رضا علیہ السلام لایا گیا تو میں ہوش آئی ، وہ مسجد جہاں علی نے اپنی جوانی گذاری تھی۔ ایسا لگتا تھا کہ ابھی کل کی ہی بات ہوہم مسجد میں جلسے منعقد کرتے تھےمیں جلسوں کی رپورٹس بنا کر علی کو دیتی تھی، آج اسی مسجد میں علی کی نماز جنازہ کا اہتمام تھا۔ نماز کے بعد علی کو اس کے والد کے گھر لے گئے۔

صرف ایک منظر جو مجھے بہت اچھی طرح یاد ہے وہ میرا علی کے جنازے کے پیچھےپیچھے دوڑنا تھا۔ مجھے لگتا تھا میرا لباس میری جان لے لے گا، میرا جسم میری روح کے لئے زندان بنا ہوا تھا، میری روح علی تک پہنچنا چاہتی تھی اور میرا جسم اس میں رکاوٹ بنا ہوا تھا۔ میں چاہتی تھی کہ خود کو جسم سے جدا کر کے علی سے ملحق ہوجاوں۔ میں نے  اپنے جوتے اتارے تابوت کے پیچھے دوڑنا شروع کردیا۔ علی لوگوں کے کندھوں پر سفر کر رہا تھا یوں میرا اس تک پہنچنا ناممکن تھا اس کا مسکراتا ہوا چہرہ مجھ سے دور نہ ہوتا تھا۔ انہی دنوں کا چہرہ جب وہ مسکراتے ہوئے مجھے دیکھا کرتا تھا۔ ایسا لگتا تھا وہ کہہ رہا ہو

-دیکھا میں نے کہا تھا ناں ایک دن سڑکوں پر میرے پیچھے پیچھے بھاگو گی۔

کچھ دیر تک تو میں جنازے کے پیچھے دوڑی مگر جب طاقت جواب دے گئی تو گر پڑی اور جب دوبارہ میرے پیروں میں جان آئی تو میں نے پھر جنازے کے پیچھے چلنا شروع کر دیا۔ گھر پہنچے تو علی کے تابوت کو دروازے پر اوپر نیچے کرنا شروع کر دیا ۔ ہر بار جنازہ اٹھنے اور نیچے آنے کے ساتھ میرا دل سینے کے پنجرہ کو توڑ کر باہر آنے لگتا تھا۔ علی کے نہ ہونے اور ہمیشہ کے لئے چلے جانے کا احساس میرے سر پر ہتھوڑے برسا رہا تھا۔ سب کچھ کس قدر تیزی سے ختم ہو گیا تھا اور اب یہاں لوگوں کو بھی نہ جانے کیوں مجھ میں اور علی میں جدائی ڈالنے کی جلدی تھی۔ میں کچھ ایسا کرنے کا سوچ رہی تھی جس کے باعث میں لوگوں کو اس بات سے روک دوں کہ وہ علی کو مجھ سے دور لے جائیں۔ اے کاش زمانہ اسی رات ہی تھم جاتا جب علی ساری رات مجھ سے باتیں کر رہا تھا  یا پھر میں بھی علی کے ساتھ ہی چلی گئی ہوتی۔ لوگ بہشت زہراء [1]کی جانب روانہ ہوئے میں مردہ دل کے ساتھ علی کی آخری رسومات  کا مشاہدہ  کر رہی تھی وہ رسومات جو ہر  لحظہ  علی کو مجھ سے دور تر کر رہی تھیں۔میری حالت پھر بگڑنے لگی اور مجھے ایمبولینس میں بھیج دیا گیا۔

جب علی کو دفن کیا جارہا تھا تو میں قبرستان  واپس آگئی اور اس کی قبر کے کنارے ہی بیٹھی تھی اس کے چہرے سے کفن ہٹا دیا گیا تھا اور مٹی پر لٹا دیا گیا تھا۔ میں اپنے سر پر مٹی ڈالنے لگی اور روتے ہوئے سب کی منتیں کرنے لگی  اس پر مٹی نہ ڈالو، لیکن اتنے لوگوں میں کوئی بھی ایسا نہ تھا جو میری بات کو سنتا ۔ مجھے جب ایسا لگا  شاید کوئی میری آواز نہیں سن پایا ہے تو میں نے  زور سے چلانا چاہا مگر آواز گلے میں گھٹ گئی۔ پلک جھپکتے ہی میری آنکھوں کے سامنے مٹی کا ایک ٹیلہ تھا جس کے نیچے علی سو رہا تھا۔ میں اس کی قبر سے لپٹ گئی اور وہاں اٹھنے کو تیار نہ تھی ، بھلا میں علی کو اکیلا کیسے چھوڑ سکتی تھی؟ مجھے زبردستی وہاں سے اٹھا لیا گیا۔

-مجھے علی سے کیوں جدا کرتے ہو؟ مجھے یہیں رہنے دو۔ یہاں سے نا اٹھاو۔ سب چلے جائیں گے تو علی اکیلا رہ جائے گا اور اس کو اکیلا رہنے کی عادت نہیں ہے۔

میری طبیعت پھر بگڑنے لگی اور قبرستان سے مجھے سیدھا اسپتال پہنچا دیا گیا۔ مجھے نرسوں کی آوازیں،  ان کی باتیں اب تک ہیں وہ کہہ رہی تھیں

-اس کا فشار خون بہت کم ہے جلدی کرو ۔ فشار خون خطرناک حد تک گر گیا ہے۔

تدفین کے مراسم کی ادائیگی کے دوران میں یا تو ڈرپ پر تھی یا ایمبولنس میں ۔دو قدم  چلتی تھی کہ کچھ ایسا یاد آجاتا کہ میری حالت بگڑ جاتی میرا سانس اکھڑنے لگتا  اور مجھے ایمبولنس میں لٹا دیا جاتا۔ اس دن کے بعد سے مجھے رات اور دن کی خبر ہی نہ تھی۔

علی  کی شہادت کے بعد میں کئی بار اس کے دفتر گئی تھی اور اس کے گرم خون نے میرے پیروں میں مہندی لگائی تھی، ایک بار جب میں نے وضو کے لئے موزے اتارے  تو علی کی بہن نے تعجب سے کہا

-مریم تمہارے پیروں میں خون لگا ہے۔

میں نے جو اب غور کیا اور علی کے جمے ہوئے خون کو محسوس کیا تو میرے زخم پھر سے ہرے ہونے لگے اور مجھے علی اور وہ رات یاد آنے لگے جس کا دوسرا کنارہ ہی نہ تھا۔ بعض اوقات صدمے کی شدت اور اعصابی دباو اس قدر ہوجاتا تھا کہ  میرے ہاتھ پیر ٹھنڈے پڑ جاتے تھے اور میں بس چھت اور دیواروں کو گھورتی رہتی تھی۔ ایک آدھ بار تو ایسا بھی ہوا کہ میرا جسم اس قدر سرد پڑ گیا کہ بچے سمجھے میری روح قفس عنصری سے پرواز کر چکی ہے۔ ان سب باتوں کے ساتھ میرے لئے سب سے سخت یہ تھا کہ علی ہر وقت میری نظروں کے سامنے تھا وہ مجھ سے الگ نہ ہوتا تھا میں جس طرف نظر کرتی علی وہاں موجود ہوتا۔ میں نگاہیں نیچی رکھتی اور علی کے پیروں کو دیکھتی تھی۔ وہ اسی پینٹ میں ملبوس ہوتا جو اس نے شہادت کے وقت پہن رکھی تھی۔ مجھ میں سر اٹھانے کی ہمت نہ تھی کہ مبادا علی کا خون آلود چہرہ  اور زخمی بدن نظر پڑے جو گولیوں سے چھلنی تھا۔ میں نظریں چرالیتی اور ادھر اھر دیکھنے لگتی تو وہ گھوم کر میرے سامنے آجاتا۔

اب یاد نہیں  کتنے عرصے بعد مگر علی کی شہادت کے کچھ دن بعد جنتی صاحب ہمارے پاس آئے تو میں نے ان سے سب درد و تکالیف بیان کرنا شروع کر دیں اور ان  کو بتایا کہ وہ جب ملتان آئے تھے تو علی نے کس طرح ہم لوگوں کو حقیقت حال کے پنہان کرنے کا حکم دیا تھا۔ انہوں نے اپنے سر کو افسوس سے ہلایا اور دلجوئی کرنے لگے۔

-آپ  نے کچھ نہ کہا تھا مگر مجھے معلوم تھا کہ آپ لوگ وہاں انتہائی سختیوں اور مشکلات میں زندگی گذار رہے ہیں۔

اس ملاقات کے دوران بھی علی ہمارے ساتھ تھااور میں بس اس کے قدموں کو دیکھ رہی تھی سر اٹھانے کی ہمت کہاں تھی۔

-آپ کو خدا کا واسطہ علی سے کہیں کہ یہاں سے چلا جائے میں برداشت نہیں کر سکتی میں اس کو نہیں دیکھ سکتی مجھے تکلیف ہوتی ہے۔

میں نے ان کو بتایا کہ علی ہروقت میرے سامنے ہوتا ہے اور اس کی وجہ سے میں کوئی کام نہیں کر پاتی۔ اب نہ جانے انہوں نے دعا کی تھی یا  علی نے خود میرے حال پر رحم کیا مگر اس ملاقات کے بعد علی میرے پاس نہ آیا اور اب میں اطمینان سے منہ اوپر اٹھا کر دیکھ سکتی تھی اس کے چلے جانے سے مجھے غم غلط کرنے میں کچھ مدد ملی اور اب مجھے سکون و قرار نصیب ہو گیا تھا۔

انہی دنوں بہت سارے ملنے آنے والوں کے ساتھ علی کے ایک دوست بھی ملاقات کو آئے اور کچھ خطوط مجھے دیئے جو علی نے ان کو اور کچھ دیگر افراد کو لکھے تھے میں نے خطوں کو لیا سونگھا اور سینے سے لگا لیا، آنسو تھے کہ خط پڑھنے کی اجازت ہی نہ دیتے تھے۔

" بعض اوقات انسان لفظوں کو صرف شرح ِاسمی تک ہی محسوس کر پاتا ہے اور سے آشنائی اور ان کا مفہوم اس شخص کے لئے بہت محدود ہوتا ہے لیکن جب انسان انہی لفظوں کے ہمراہ زندگی گذارنا شروع کرتا ہے اور ان کے معنی اس کی روح میں آمیختہ ہوجاتے ہیں تو کسی قسم کی محدودیت باقی نہیں رہتی بلکہ اب دنیا ہی بدل جاتی ہے، فضاء ہی اور ہوتی ہےاور بقولے ایک عالم جدید جنم لیتا ہے ۔ انہی الفاظ میں سے ہجرت اور غربت بھی ہیں

ایسا لگتا تھا علی میرے سامنے کھڑا ہے اور خط پڑھ کر مجھے سنا رہا ہے۔ میں نے اپنے آنسووں کو پونچھا۔

"عجیب دنیا ہے یہ ہجرت اور غربت کی دنیا۔ تلخ بھی ہے شیریں بھی۔اس میں غم بھی ہے خوشی بھی۔دل  تنگ  بھی ہوتا ہے خوشحالی بھی ہے۔ سوز بھی ہے شوق بھی ہے، سکون بھی ہے شور بھی ہے، دوری، فراق اور بے قراری بھی ہے اور قرار بھی،  تشویش بھی ہے آرام بھی ہے۔ غم سے گلے میں پھندے بھی پڑتے ہیں اور عاشقی کے آنسو بھی ہیں، گوشہ انزوا بھی ہے اورلوگوں کا ہجوم بھی،بالآخر سب کچھ ہے بھی اور کچھ ہے بھی نہیں۔۔۔۔ حقیقت ہے ۔ اس غربت اور ہجرت کے عجیب جلوے ہیں

میں  نے آنکھیں بند کر کے خط کو سینے سے لگالیا علی نے غریب الوطنی کا تذکرہ کیا تھا میں اپنی غریب الوطنی کی یادوں میں کھو گئی، اس کا مہربان چہرہ میرے سامنے آ گیا۔ میں کس طرح بے مہری کے ساتھ اس سے گلے شکوے کرتی تھی اور وہ اطمینان سے مجھے دیکھتا رہتا تھا اور ہنستا رہتا  اور میرے غصہ کو بڑھنے نہ دیتا۔

"مجھ حقیر کے لئے ابوذر اب تک صرف ایک نام اور ربذہ ایک مقام تھا۔ اب آہستہ آہستہ سمجھا ہوں کہ ابوذر صرف ایک نام نہیں ہے بلکہ ایک روح ہے تمام غریب الوطنوں  اور بے کسوں کی سردار۔ اور ربذہ۔۔ یہ ربذہ صرف ایک مقام نہیں ہے بلکہ ایک وسیع فضا ہے تما غریبوں اور بے کسوں کے لئے۔ اب میں سمجھا ہوں کہ ابوذر اور ربذہ کا حقیقت میں کیا عالم ہے۔۔۔ ایک جہانِ بے کسی ہے جہاں کرامت کی برسات ہوتی ہے

میں سسکیاں لینے لگی۔

"کہنے کو تو بہت کچھ ہے مگر سمجھ نہیں آتا کیا کہوں اور کہاں سے بات شروع کروں۔ بس اتنا کہوں گا کہ تم جیسے ہی ایران سے باہر قدم رکھو گے شیعوں کی غربت اور شیعیت کی غریبی کو اپنے پورے وجود کے ساتھ محسوس کرو گے اور مسلمانوں کو ایک بالکل اور طرح کا پاو گے۔ اسلامی تعلیمات سے دور اور ظاہر پر فریفتہ

علی نے کتنی محنت کی تھی شیعوں کے حقیقی  چہرے کو لوگوں کے سامنے نمایاں کرنے کی۔ وہ خانہ فرہنگ کے خرچے کے لئے ملنے والی رقم سے کس طرح بچت کرتا تھا کہ ایک وقت کا کھانا ہی چند غریب شیعہ فقراء کے گھر پہنچا سکے اور اسی کام کے سلسلے میں اس پر کتنے گھناونے الزامات داغ دیئے گئے تھے۔

"یہاں ملتان میں خانہ فرہنگ میں مشکلات معمول کے مطابق ہیں۔ بہت زیادہ صبر و تحمل کی ضرورت ہے۔ کام بے انتہاء ہے حتیٰ ۱۶ سولہ گھنٹے کام کرنے  پر بھی کام باقی رہ جاتا ہے۔  مذہبی، ثقافتی، تعلیمی اور ادبی منصوبے، کبھی نہ  ختم ہونے والا سلسلہ ہیں اور ضروری ہے کہ روزانہ خصوصی توجہ اور تنوّع کے ساتھ ان کو انجام دیا جائے تاکہ جاذب نظر رہیں اور لوگ یکسانیت سے اکتا نہ جائیں۔ مگر خدا کی حمد و ثناء ہے اور اس کا خاص لطف و عنایت میرے شامل حال ہے۔ بہت خوب میرے عزیز اب صبح کی نماز کا وقت ہوا چاہتا ہے تو میں اس خط کو یہیں ختم کرتا ہوں ان شاء اللہ  جیسے ہی فرصت نصیب ہوئی پھر کچھ نہ کچھ لکھ بھیجوں گا

رات کا وقت تھا میں نے علی کی سطور کو پڑھا اور خوب خوب آنسو بہائے، علی کی زندگی کی شب و روز میری آنکھ کے پردے پر کسی فلم کی طرح چلنے لگے۔ میں چند سطور پڑھتی اور دوسروں کو علی کے بارے میں بتانے لگتی۔

میری آنکھیں کمرے کے اس کونے کی جانب مرکوز ہو گئیں جہاں علی نے بہت حسرت کے ساتھ اپنے خواب کا تذکرہ کیا تھا۔ اتنا عرصہ گذر جانے کے بعد بھی میرے لئے وہ منظر بالکل واضح تھا، وہ میرے سامنے بیٹھا تھا اور حسرت سے کہہ رہا تھا۔

-مریم میں زیادہ دن زندہ نہیں رہوں گا۔

اس نے اپنے خواب کی تفصیل جس کی تعبیر کو اب وہ پا چکا تھا، کبھی مجھے نہ بتائی۔  اس واقعہ کو یاد کرکے جگر چھلنی ہو گیا۔ سب کس قدر جلدی گذر گیا تھا لگتا تھا ابھی علی نے کل ہی مجھ سے کہا ہو۔۔۔ اب میں تھی اور میری تنہائی اورعلی کی یادگار کے طور پر میرے پاس اس کی تین نشانیاں تھیں  اور وہ خدا تھا جس نے میرا ہاتھ تھام لیا تھا ورنہ میں کب کی مر چکی ہوتی۔

 

[1] تہران میں واقع ایک قبرستان کا نام



 
صارفین کی تعداد: 696


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
کتاب"در کمین گل سرخ" سے اقتباس

شہید علی صیاد شیرازی کی داستان

اُن لوگوں کی ان کے برتاؤ کے مطابق طبقہ بندی کی تھی۔ پہلے اور دوسرے کمانڈر کے احساسات ہم آہنگ نظر آئے جس سے محسوس ہورہا تھا کہ ان کے ساتھ کام کیا جاسکتا ہے۔ دوسرے دو افراد سے الگ الگ بات کرنی چاہئے تھی تاکہ نفسیاتی اعتبار سے کوئی تداخل پیدا نہ ہو۔
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔