ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

ملتان کا مصلح،44 واں حصہ

زینب عرفانیان
ترجمہ: سید صائب جعفری
ویرائش: یوشع ظفر حیاتی

2023-8-10


آخری ایام میں علی کچھ موٹا بھی ہوگیا تھا اور اس کے سر کے بال بھی جھڑ رہے تھے۔میں نے از راہ مزاح اس سے کہا

-موٹے تو تم پہلے ہی تھے اب گنجے بھی ہو گئے ہو اب میں تمہارے ساتھ باہر نہیں جاوں گی، سڑکوں پر نہیں گھوموں گی۔

اس نے ہنستے ہوئے کہا

-یہ صرف تمہارا خیال ہے۔ دیکھنا ایک سڑکوں پر میرے پیچھے پیچھے  بھاگ رہی ہوگی۔

بعض اوقات عجیب مبہم سے جذبات جنم لیتے تھے جیسےمیں خوش بھی ہوں اور غمگین بھی۔  مطمئن بھی اور مضطرب بھی، خوفزدہ بھی اور پر امید بھی۔ خوف علی کے نا ہونے کا اور امید اس سے وابستگی کی میں ذہنی الجھن کا شکار ہو جاتی تھی۔

-علی تم بہت عجیب سے ہو گئے ہو۔

وہ حیرت سے پوچھتا

-کیا عجیب؟

میں کہتی

-برے نہیں ہوئے ہو اچھے سے ہو گئے ہو مگر عجیب سے

نہیں معلوم کیا تھا مگر وہ مجھے عجیب و غریب لگنے لگا تھا ہمیشہ سے مختلف۔  جب میں اس بات پر زیادہ زور دیتی وہ کہتا

۔ کیا ہوا ہے اچھا ہوگیا ہوں ناں؟؟ اس کا مطلب ہے تمہیں مجھ سے پہلے سے زیادہ محبت ہو گئی ہے۔

انہی دنوں کچھ پاکستانیوں کو خانہ فرہنگ سے روابط رکھنے کے جرم میں گرفتار کرلیا گیا تھا۔ آخری رات تک میں اس بات سے بے خبر تھی  بس اتنا معلوم تھا کہ علی ،  زہیر کے ہاتھ کچھ لوگوں کے کھانا بھجواتا ہے کس کے لئے بھجواتا ہے یہ راز اس کی شہادت سے ایک رات پہلے  کھلا۔ کیونکہ اس سے پہلے میں جب بھی سوال کرتی تو کہتا فقراء کے لئے بھجوایا ہے۔ نہ میں زیادہ زور دیتی نہ ہی وہ بتاتا، میں بھی اس کے توضیح نہ دینے کی عادی ہوچکی تھی۔

ان دنوں میں بھی،  جب ساری آمد و رفت پولیس کی زیر نگرانی ہوتی تھی اور حالات بہت خراب تھے ، خانہ فرہنگ کی تقاریب اپنی شان و شوکت کے ساتھ جاری تھی۔ آخری ۲۲ بہمن[1] کا جشن ایک ہوٹل میں منعقد ہوا کیوں کہ خانہ فرہنگ کا ہال زیر تعمیر تھا۔  اہم بات یہ تھی کہ اس بار شرکت کرنے والوں کی تعداد ہمیشہ سے زیادہ تھی اور  مہمانان خصوصی اور عمومی سب ہماری توقع سے زیادہ تعداد میں آئے تھے۔  بہت سی مشہور شخصیات ایسی بھی تھیں جن کو دعوت نامہ نہ دیا گیا تھا مگر وہ از خود تشریف لے آئے تھے۔ میں نے جوش و جذبہ اور داد و تحسین ہر ایک کے لبوں اور آنکھوں میں پائی۔ تقریب کے اختتام کے بعد بھی تقریباً دو گھنٹے تک ہم ہوٹل میں ہی رہے اور لوگوں کے سوالات کے جوابات دیتے رہے۔ یہاں خاجہ فرہنگ کے ملازمین ہم سے زیادہ اس تقریب سے محظوظ ہوئے۔ ایک ملازم بہت خوش خوش میرے پاس آیا اور کہنے لگا

-واہ واہ محترمہ ماشاء اللہ۔ دیکھیں تو سہی کتنے لوگ آئے ہیں

خوشی کے مارے میرے پاوں زمین پر نہ تھے ۔ میں سمجھتی تھی کہ یہ سب علی  کی شب و روز کی محنتوں کا نتیجہ تھا۔  اگلی رات علی کو رپورٹ بنا کر ارسال کرنی تھی اور اس کو اس کے لئے میری مدد درکار تھی رات تقریباً دو بجے دفتر سے آکر اس نے چند اردو  تحریروں کے ترجمے  کا تقاضہ کیا۔ علی اصرار کر رہا تھا اور میں انکار، کیونکہ تہران والوں  کی بد تمیزی اور  بکواس کے بعد اب مجھ میں اتنا حوصلہ نہیں تھا کہ میں کوئی کام کروں۔ علی نے بڑی ہی مظلومانہ آواز میں کہا

-اچھا میرے لئے ترجمہ کردو۔

جب اس نے کہا کہ میرے لئے کردو تو میرا دل بھر آیا اور میں نے ان مطالب کا ترجمہ کردیا جو اردو اخبارات میں خانہ فرہنگ کی تقریب کی ستائش میں چھپے تھے۔ اب سوچتی ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ یہ کام میں  علی کی جگہ خدا کے لئے بھی کر سکتی تھی۔ یہی وہ فرق ہے جو ایک انسان کو دوسرے سے مختلف بناتا ہے اور خدا کے لئے کام انجام دینے والا شہادت کا درجہ پاتا ہے دوسرا تنہا رہ جاتا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ علی اپنی منزل کی جانب تیزی سے سفر کر گیا اور میں اس کی گردِ پا کو بھی نہ پا سکی۔

رپورٹ مکمل ہوگئی تو وہ ویڈیوز اور تصاویر جو ہم نے تیار  کی تھیں علی نے رپورٹ کے ساتھ منسلک کر دیں ہر سال بہمن کے مہینہ میں ہر خانہ فرہنگ اپنی سالانہ رپورٹ ،تہران ارسال کرنے کا پابند تھاجس کی بنیاد پر خانہ فرہنگ کی درجہ بندی کی جاتی تھی ۔ صبح کے وقت میں نے  ترجمہ علی کے حوالے کیا تو اس نے ترجمہ ، رپورٹ کے ساتھ منسلک کیا اور تہران روانہ کر دیا ۔ یہ آخری ایام ہوا اور بجلی کی سی تیزی سے گذر رہے تھے سو ان کا مصروف ترین اور پرکار ترین دن اور مہینہ بھی گذر گئے۔

 

[1] انقلاب اسلامی کی سالگرہ کا دن



 
صارفین کی تعداد: 758


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 

جب یادداشت چلی گئی

انقلاب کی کامیابی کے فوراً بعد میں نے مسجد امیر المومنین (ع) میں کام شروع کیا۔ اب، اپنے  اور اپنے خاندان کے بارے میں میری یادداشت مکمل طور پرمحو ہو چکی تھی ۔ جب جنگ شروع ہوئی تو میں نے بسیج  میں شامل ہو کرمحاذ پر امدادا ور سامان کی فراہمی شروع کر دی
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔