ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

ملتان کا مصلح، 43 واں حصہ

زینب عرفانیان
ترجمہ: سید صائب جعفری
ویرائش: یوشع ظفر حیاتی

2023-8-3


قتل کی دھمکیاں تو ہمارے آنے کے ۴-۵ ماہ بعد ہی شروع ہوگئی تھیں اس لئے امن و امان کی ایسی صورت میں گھر سے باہر نکلنا  بہت مشکل تھا۔ ایک طرف تو باہر نہ جاسکتے تھے تو دوسری طرف علی کی مصروفیات ایسی تھیں کہ وہ گھر کو کافی وقت نہ دے پاتا تھا۔ آخری ایام میں جب بچوں کا باہر نکلنا صرف اسکول تک رہ گیا تھا ۔ ہم نے پاکستان میں ملتان سے باہر  صرف ایک بار ہی سفر کیا تھا وہ بھی محمد اورفہیمہ کے امتحانات کے لئے لاہور کا۔ بچوں کے لئے ایک اور تفریح کا سامان پھپھو شیریں کا خط ہوا کرتا تھا اس کا خط لکھنے کا انداز نرالہ تھا وہ کاغذ قلم ساتھ لئے پھرتی اور  اپنے پورے دن کے کام لکھتی رہتی۔ جب بھی اس کا خط آتا تو حبیب لفافہ دیتے ہوئے کہتا لیجئے وہ بھاری بھرکم خط  آگیا۔ علی خط لے کر درمیان میں بیٹھ جاتا اور بچے اس کے ارد گرد اور وہ مزے لے لے کر خط پڑھنے لگتا محمد جھانک جھانک کر خط پڑھنے کی کوششوں میں رہتا اور علی کچھ اس انداز سے خط پڑھتا کہ بچے قہقہے لگانے لگتے۔

ملتان میں جو دیگر تفریحات اور خوشیاں ہم نے منائیں وہ عیدیں تھیں یعنی غدیر و قربان  اور آئمہ کی ولادت کے ایام۔ علی ان تمام عیدوں کو خاص اہمیت دیتا تھا ہم ایرانی چینل لگا کر بیٹھ جاتے اور سب مل کر جشن مناتے۔ علی بچوں کے لئے باہر سے کھانا اور مٹھائی خرید لاتا ۔ علی تحفے دینے کے معاملہ میں کبھی کنجوسی نہیں کی جب بھی کوئی بچہ ایسا کوئی کام کرتا کہ انعام کا حقدار ٹھہرے تو ضرور اس کے لئے کچھ نہ کچھ خرید کر لاتا۔ خود کہیں سفر پر جاتا تو اس شہر کی سوغات ضرور لے کر آتا اگر اس کی جیب اجازت دیتی تو کچھ نہ کچھ کھلونے یا کتابیں بھی لے آتا وہ زیادہ تر  کتابیں تحفے میں دیا کرتا تھا۔

ملتان میں قیام کے اواخر میں پاکستان میں وہابیوں کا کوئی سرغنہ مارا گیا تھا  جس کی وجہ سے شہروں میں بدامنی بہت بڑھ گئی تھی۔ پاکستان کی حکومت نے ایرانی حکومت سے ہم آہنگی کرکے ہر شہر کے خانہ فرہنگ کی حفاظتی پولیس کی تعداد میں اضافہ کردیا تھا۔ علی نے کہا کہ بچوں کا اسکول جانا معطل کردیا جائے مگر میں جو واقعات کی گہرائی سے نا واقف تھی اس بات پر تیار نہ ہوئی کیونکہ کھلی فضا میں جانے کا بچوں کے پاس ایک ہو تو ذریعہ تھا یعنی اسکول اگر یہ بھی ان سے چھین لیا جائے تو یہ بچے کیا کریں گے؟  سو میری نظر میں اسکول جانا بچوں کو حق تھا اور کسی بھی حالت میں کسی کو حق نہیں  تھا کہ وہ ان کے اسکول جانے میں حائل ہو۔  جب علی کسی بھی طرح مجھے راضی نہ کر سکا تو یہ فیصلہ کیا گیا کہ بچے پولیس کے ساتھ اسکول آیا جایا کریں گے۔ علی ہمیں خوفزدہ نہیں کرنا چاہتا تھا اس لئے وہ اپنی بات پر مصر نہ ہوا۔ شروع شروع میں تو پولیس نے حفاظتی ذمہ داریوں کو اچھی طرح نبھایا مگر آہستہ آہستہ وہ سب کام سے جی چرانے لگے۔  ان کا کام بس یہ ہوتا کہ صبح صبح خانہ فرہنگ کے صحن میں جمع ہوجاتے اور سگریٹ پیتے ٹھٹھول بازیاں کرتے  ، چائے پیتے اور بس، نہ دروازہ پر پہرا دیتے تھے نہ اور کسی حفاظتی تدبیر پر عمل کرتے تھے۔ آخری چار پانچ ماہ میں ہر چیز بالکل ہی بدل گئی تھی۔ ہر چیز بدلی تھی یہاں تک کہ علی۔۔۔

اس کی آنکھیں اس کی چال ڈھال ، گفتگو کا انداز  سب کچھ پہلے سے مختلف تھا۔ قرآن پڑھنا تو اس کا معمول تھا مگر ان آخری ایام میں اس کی قرآن سے انسیت کچھ زیادہ ہی ہوگئی تھی وہ کچھ زیادہ ہی قرآن کی قرائت کرنے لگا تھا۔ جب بھی وہ گھر آتا قرآن لے کر بیٹھ جاتا اور دل نشین آواز میں قرآن پڑھنے لگتا بچے اس کے گرد حلقہ بنا لیتے یعنی ان کو بھی علی کا تلاوت کرنا پسند تھا مجھے تو اس کا صوت و لحن ہمیشہ سے بھاتا تھا۔ اس کی آواز کا سوز و گداز اب پہلے مختلف تھا اس کی آواز سن کر دل دہل  جاتا۔ مجھے اچھا لگتا تھا اور میں چاہتی تھی وہ گھنٹوں قرآن پڑھتا رہے اور میں اس کو سنتی رہوں۔ وہ بچوں کو بھی قرآن پڑھنے کا شوق دلاتا ۔ اگر کوئی بچہ کوئی سورہ حفظ کرتا  تو اس کو انعام ضرور دیتا تاکہ بچوں کے دل میں قرآن کے حفظ کا شوق پیداہو۔ آخری مہینہ میں تو صورت یہ تھی فہیمہ قرآن کی تلاوت کا کیسٹ لگا کر بیٹھ جاتی اور اس کے مطابق تلاوت کرتی وہ ایسا کسی انعام کی لالچ میں نہیں کرتی تھی۔ میں سوچتی ہوں اس طرح ہم سب کو انفرادی اور اجتماعی طور پر ایک بہت بڑی تبدیلی کے لئے آمادہ کیا جارہا تھا۔

میں بھی عجیب قسم کے احساسات کا تجربہ کررہی تھی دن میں کئی مرتبہ مجھے امام خمینی کا یہ جملہ یاد آ جاتا۔

-ہمیں مارڈالو۔۔ ہماریقوم اور زیادہ بیدار اور پہلے سے زیادہ زندہ قوم بن جائے گی۔

لیکن اس وقت میں اس طرف دھیان نہ دے پاتی تھی کہ کیوں یہ جملہ بار بار تکرار ہورہا ہے۔ بس ایک خاص سا احساس ہوتا تھا جو ہوا کے جھونکے کی مانند آتا اور گذر جاتا۔ یہ جملہ جب میں نے علی کی شہادت کے بعد خبر نگاروں کے سوالوں کے جواب میں کہا تو مجھے ان دنوں کی یاد آئی اور میں سمجھ گئی کہ خدا کی جانب سے مجھے مشق کرائی جارہی تھی اور صبر وشکیبائی کے ساتھ کوہِ گراں کو اٹھانے کے لئے آمادہ کیا جارہا تھا۔



 
صارفین کی تعداد: 801


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 

جب یادداشت چلی گئی

انقلاب کی کامیابی کے فوراً بعد میں نے مسجد امیر المومنین (ع) میں کام شروع کیا۔ اب، اپنے  اور اپنے خاندان کے بارے میں میری یادداشت مکمل طور پرمحو ہو چکی تھی ۔ جب جنگ شروع ہوئی تو میں نے بسیج  میں شامل ہو کرمحاذ پر امدادا ور سامان کی فراہمی شروع کر دی
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔