ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

ملتان کا مصلح، 40 واں حصہ

زینب عرفانیان
ترجمہ: سید صائب جعفری
ویرائش: یوشع ظفر حیاتی

2023-7-13


خانہ فرہنگ ملتان کی مشکلات ابھی ابھی تو حل ہوئیں تھیں اب اگر یہ پاکستانی اس حالت کو دیکھیں گے تو کیا سوچیں گے؟ اس طرح لوگوں کے سامنے آفس کے کاموں اور مشکلات کو برملا کرنا اور انکا حل تلاش کرنا اور فیصلے کرنا نظام اسلامی کی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتا تھا۔ اس دن کی یہ حالت دیکھ کر اب میرا دل قابو میں نہ تھا۔ میرا دل جل رہا تھا ہم نے اس قدر سختیاں اور مشکلات جھیلی تھیں تاکہ اسلام اور انقلاب کا نام سربلند ہو۔ جو کچھ ہم نے ان چند دنوں میں بُنا تھا وہ سب اُدھڑتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔ تقریباً ۴۸ گھنٹہ یہ صورتحال قائم رہی میں مسلسل اپنے کمرے جاتی اور باہر آتی علی کے دفتر تک اور بس نظام اسلامی کی عزت و آبرو کی حفاظت کے لئے دعائیں کر رہی تھی کہ کہیں ایسا نہ ہو ہم کل کو لوگوں کے سامنے سر اٹھانے کے قابل بھی نہ رہیں۔  بچوں کو کھانا دیا اور مرے ہوئے دل کے ساتھ گھر کے باقی کام انجام دینے لگی۔ کام نمٹا کر اپنے آپ میں تنہا ہوکر بیٹھ گئی۔ بچے میری غیر حالت کو بھانپ گئے سو میرے نزدیک آنے سے گریزاں تھے۔ جب بھی علی گھر پر نہ ہوتا وہ ایسے ہی بے نشاط ہوجایا کرتے تھے۔ آدھی رات کے وقت علی نے فون کیا ۔ میں نے پوری کوشش کی کہ اپنی اضطرابی کیفیت کو اس سے چھپا لوں میں نے اس کا احوال پوچھا وہ بہت مطمئن تھا مجھے یقین نہ آیا میں سمجھی ہمیشہ کی طرح اپنی پریشانی مجھ سے چھپا رہا ہے۔

-تم ٹھیک ہو؟ تہران میں کچھ ہوا تو نہیں؟ ادارہ کی کیا خبر ہے؟

اس کی چھٹی حس بیدار ہوگئی  اور وہ سمجھ گیا کہ ملتان میں کچھ نہ کچھ ضرور ہوا ہے۔

-کیا ہوا ہے؟ اس نے پوچھا

میں اس کو پریشان کرنے کا ارادہ نہ رکھتی تھی اس لئے خاموش رہی۔ اگر اس کو معلوم بھی ہو جاتا تو وہ اتنی دور بیٹھ کر کیا کر سکتا تھا سوائے پریشان ہونے کے یہ سوچ کر بھی میں چپ تھی ۔ لیکن وہ میری لرزتی ہوئی آواز  اور میرے سوالات سے یہ سراغ پا گیا تھا کہ کچھ نہ کچھ ہوا ضرور ہے۔ مجھے رونا آرہا تھا اور گلا بند ہونے لگا تھا۔ گو کہ اب مجھ سے بات بالکل نہ ہوتی تھی مگر اس کے اصرار پر میں نے ٹوٹے پھوٹے الفاط میں اس کو ماجرا سنایا اور کہا

-بھلا بتاو ہم نے آخر ایسا کیا کر دیا ہے جو وہ لوگ ہمارے ساتھ اس طرح کا سلوک کر رہے ہیں؟

علی کی امی نے مجھے بتایا کہ اس رات علی ساری رات ٹہلتا رہا کہ اس عالم میں اس کے بیوی بچے اجنبی دیار میں کیا کر رہے ہونگے؟ ان پر کس قدر نفسیاتی دباو ہوگا۔ اس رات کو جیسے تیسے علی نے صبح کی اور صبح ہی صبح سیمینار کے بجائے سیدھا ادارہ جا پہنچا ۔

-میرے لئے ابھی ٹکٹ کا انتظام کریں میں پاکستان جاوں اور اپنے گھر والوں کو لے کر آّوں۔

علی کا یہ کہنا تھا کہ سب کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں کہ یہ کیا ہوا؟ انہیں خبر نہ تھی کہ میں علی کے تمام دفتری کاموں سے باخبر ہوں اور اس بارے میں علی سے بات بھی کر سکتی ہوں۔ اگلی صبح کو میں نے دیکھا کہ خانہ فرہنگ کا دروازہ بند ہے اور تمام فائلیں میز سے سمیٹ لی گئی ہیں اور ہر چیز پرانی حالت پر واپس آ گئی ہے۔ ملازمین کی بھاگ دوڑ بھی ختم ہوگئی ہے تفتیش کی آگ خاموش ہو گئی ہے۔ علی کے نائب نے مجھے بلایا اور کہا:

۔آپ نے رحیمی صاحب سے کیا کہا ہے؟

میں کوشش کی اس کے تند لہجے کے رعب نہ آوں اور بغیر کسی گھبراہٹ کے اس کو دو ٹوک جواب دوں۔

-جو بھی یہاں دیکھا وہ کہہ دیا

اس نے اپنی داڑھی کھجاتے ہوئے کہا

-آپ نے خواہ مخواہ اس بات کو بڑھا دیا ہے۔

وہ میرے فون پر علی کو سب کچھ بتادینے کی وجہ ناراض بلکہ چڑا ہوا تھا۔ میں وہاں نہ رکی کہ میرا اس سے بحث کرنے کا کوئی ارادہ نہ تھا۔ وہاں سے باہر نکل کر گھر آگئی۔

کوئی ایک گھنٹے کے بعد علی کے دفتر کے فون کی گھنٹی بجی۔ تہران سے فون تھا اور ان کو مجھ سے بات کرنی تھی اور سب کے لئے یہ حکم تھا کہ مجھے کمرے میں تنہا چھوڑ دیں۔ میں علی کے دفتر آئی تہران سے ایک افسر نے اپنے تند و تیز لہجے میں مجھ سے بات شروع کر دی۔

محترمہ رحیمی، آپ کو کس بات کی پریشانی ہے؟ اگر کوئی مشکل ہے تو بتائیں ہم آپ کے لئے وسائل مہیا کر دیں گے؟

میں ان کی اس بات سے بھانپ گئی کہ وہ اس طرح غیر مستقیم طریقہ سے میرے خانہ فرہنگ کی گاڑی استعمال کرنے پر اعتراض داغ رہے ہیں۔ میں نے کہا

-میری مشکل؟ میری مشکل میری مشکل نہیں میری پریشانی ادارہ ہے۔

انکا لہجہ اور زیادہ تلخ ہو گیا

-آپ کو ادارہ سے کیا لینا دینا؟

ان کا یہ جملہ مجھ پر بجلی بن کر گرا۔وہ بھی اس پر چڑے بیٹھے تھے کہ میں نے علی کو خانہ فرہنگ کی صورتحال سے آگاہ کر دیا تھا۔ اسی لئے فرما رہے تھے کہ خانہ فرہنگ کے امور سے میرا کیا لینا دینا۔  علی کی ذاتی زندگی اور اس کے کام میں کوئی حد فاصل نہ تھی اسی لئے اس نے ادارہ کے بہت سے کاموں کی ذمہ داری مجھے سونپ دی تھی مثلاً  ترجمہ کرنا، رپورٹس تیار کرنا اور ڈبنگ وغیرہ۔ بچوں کی تعلیم اور ہماری نجی زندگی سب علی کے کام کے زیر اثر تھی اور یہ بندہ کس طرح کہہ رہا تھا کہ ہمارا ادارہ سے کوئی تعلق نہیں۔

-جب ہم مع خانوادہ یہاں آئے ہیں تو پھر ادارہ کا مجھ سے بھی تعلق ہے۔ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ جب رحیمی صاحب یہاں ہوتے ہیں تو کیا وہ ہمارے لئے کام کرتے ہیں؟؟

پچھلا ایک سال اور علی کی تمام زحمتیں  میری آنکھوں میں پھر گئیں۔ وہ تمام سختیاں اور دباو جو ہم میں سے ہر ایک نے سہا تھا سب میرے سامنے مجسم ہونے لگا۔ شاید میں نے تو علی کی اس کے اداری کاموں میں مدد کی تھی مگر علی کے پاس وقت نہ تھا کہ وہ گھر کے کسی کام میں ہماری مدد کرسکتا۔ گھر کے تمام کام، بچوں کی تربیت اور دیکھ بھال سب کچھ میرے ذمہ تھا۔ انہیں سمجھنا چاہئے تھا کہ ہماری زندگی کا ایک ایک پل علی کے آفس کے کاموں کے زیر اثر ہے۔

-میں گھر اور بچوں کے تمام کام خود کرتی تھی کرتی ہوں اور کرتی رہوں گی ۔ جب رحیمی صاحب یہاں ہوتے ہیں تو خود وہ ہوتے ہیں ان کا دفتر اور ملازمین۔

میری مشکل ہم خود نہ تھے میرے  نزدیک اس بات کی ذرا بھی وقعت نہ تھی کہ علی کا  نائب جو کچھ کر رہا ہے اس سے ہماری بے عزتی ہوئی ہے مجھے صرف اس کی فکر لاحق تھی کہ جو باتیں ملتان کے لوگ بنائیں گے وہ انقلاب اسلامی کے لئے نقصان دہ ہونگی۔

-میں یہ نہیں کہتی کہ رحیمی صاحب کوئی معصوم ہیں اور ان سے کوئی غلطی سرزد نہیں ہو سکتی۔ وہ بھی آپ کی طرح کے ایک انسان ہیں۔ آپ جو تہران میں بیٹھے ہیں کیا معصوم ہیں؟ ہم سب سے خطا ہوسکتی ہے ۔ مگر خدا بھی گنہ گار کو سزا دینے پہلے اس کے نیک و بد اعمال  کو ترازو کے پلڑوں میں ڈال کر تولتا ہے۔ آپ بھی رحیمی صاحب کے اچھے برے کاموں کا تقابل کریں دیکھیں کس کا پلڑا بھاری ہے۔ فرض کیا رحیمی صاحب کے برے کاموں کا اور ان کی غلطیوں کا وزن زیادہ ہو تب  بھی یہ بات اس  رویہ کا جواز فراہم نہیں کرتی جو اس وقت علی کے نائب نے اختیار کیا ہوا ہے۔

-کیا آپ اس بات پر تیار ہیں کہ نظام اسلامی اور انقلاب  کی عزت پر پانی پھیر دیا جائے؟ مثلا رحیمی صاحب کو سزا دیں کیا یہ درست ہوگا؟ وہ آپ کے ملازم ہیں ان کے اس عہدہ  کا انتخاب آپ لوگوں نے خود کیا تھاآپ چاہیں تو ان کو پھانسی دے دیں آپ کی مرضی مگر یہاں نہیں کیونکہ یہ پھانسی انقلاب اور ادارہ کو رحیمی صاحب کے ساتھ پھانسی  دینے  کے مترادف ہوگی۔

-یہ نظم و انضباط جو آج خانہ فرہنگ ملتان  کو نصیب ہوا  ہے، سب مفت میں ہاتھ نہیں آیا ہے کہ اسے کسی بھی نالائق کے ہاتھوں یوں ہی ضائع کر دیا جائے۔  ہمارے ساتھ آپ کو جو کرنا ہے کریں مگر خدا را ،انقلاب اور ادارہ کی عزت کو خاک میں نہ ملائیں اور وہ وقار جو خانہ فرہنگ کو ایک مدت بعد نصیب ہوا ہے اس کو برباد نہ کریں۔

میرے اس لہجہ نے ان کے شعلے بھرے دہن کو ٹھنڈا کردیا اور اب ان کے پاس کچھ  کہنے کو باقی نہ بچا۔

-نہیں نہیں ایسے  مسائل نہیں ہیں اور ہمارا ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ میں ان شاء اللہ تمام معاملات کو درست کرتا ہوں۔

انہوں نے یہ کہہ کر فون بند کر دیا۔

میرے لئے اس واقعہ کا سب سے پر درد حصہ یہ تھا کہ ادارہ کے اندرونی اختلافات کے علاوہ یہاں کچھ خود غرض پاکستانی بھی تھے جن کو انقلاب یا ایران سے کوئی لگاو نہیں تھا اور ان کو صرف علی کی جاسوسی کے لئے بھرتی کیا گیا تھا۔ وہ ملازمین جن کا سارا ہم و غم صرف اپنا منافع اور عیاشی تھی وہ خانہ فرہنگ کی مخبری پر مامور تھے ۔ صرف مخبری کرتے تو کچھ ہاتھ نہ آتا اس لئے وہ رائی کا پہاڑ بنا کر غلط رپورٹس بناکر ایران بھیجا کرتے تھے۔ وہ ایک سادہ سے واقعہ سے ، کسی عام سے کام سے ایسی ایسی باتیں تراش لیا کرتے تھے جن سے علی کے لئے بدگمانی پیدا ہو۔ میں نے اپنے طور پر تحقیق و جستجو کی تو میں جان گئی کہ یہ کام کس کا تھا۔ ایک پاکستانی ملازم جو مالی اعتبار سے فقیر تھا اور علی اس پر بہت توجہ دیا کرتا تھااور ہمیشہ اس کی خالی جیب کے بارےمیں فکر مند رہتا تھا۔ اس کا حل علی نے یہ نکالا کہ اسکا رابطہ انگلستان میں مقیم اپنے  ایک دوست سے کرا دیا اور یہ شخص ملتان میں دوائیں درآمد کرنے لگا اس طرح علی نے ملتان کے لوگوں کی  بھی مدد کی تاکہ ان کو ضروری ادویات دوسرے شہروں سے منگوانی نہ پڑیں بلکہ ملتان میں ہی ان کو تمام دوائیں مل جائَیں  اور اس کا منافع اس فقیر آدمی کی جیب میں بھر دیاہر چند وہ آدمی قدر شناس نہ تھا مگر علی  اس سے لا پروا نہیں رہ سکتا تھا۔



 
صارفین کی تعداد: 575


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
اشرف السادات سیستانی کی یادداشتیں

ایک ماں کی ڈیلی ڈائری

محسن پورا جل چکا تھا لیکن اس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔ اسکے اگلے دن صباغجی صاحبہ محسن کی تشییع جنازہ میں بس یہی کہے جارہی تھیں: کسی کو بھی پتلی اور نازک چادروں اور جورابوں میں محسن کے جنازے میں شرکت کی اجازت نہیں ہے۔
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔