ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

ملتان کا مصلح، سینتیسواں حصہ

زینب عرفانیان
ترجمہ: سید صائب جعفری
ویرائش: یوشع ظفر حیاتی

2023-6-22


ہر ایک کی ایک مختلف جگہ علی کے دل میں تھی۔ علی کا گھر کم کم آنا اور اپنے کاموں مشغول رہنا علی اور بچوں کے روابط میں دوری کا سبب نہ بن سکا اور نہ ہی علی کی مصروفیات نے بچوں کے دلوں میں علی کی قدر کم کی۔ میں اکثر دیکھتی کہ فہیمہ سورج مکھی کےبیج چھیل رہی ہے مگر کھا نہیں رہی میرے استفسار پر کوئی جواب نہ دیتی مگر جیسے ہی باپ گھر میں داخل ہوتا وہ رکابی اٹھائے اس کی طرف دوڑ پڑتی اور جاکر بیجوں کی گری اس کو پیش کر دیتی علی بھی رکابی ایسے تھام لیتا جیسےکسی نے اس کو خزانہ دے دیا ہو۔ وہ بیٹی کو گود میں اٹھا لیتا اور دونوں باپ بیٹی مل کر بیج کھانے لگتے۔ کبھی ایسا ہوتا کہ فہیمہ پھلوں کو چھیل کاٹ کر بھائیوں کے ہاتھ علی کے دفتر بھجوا دیتی۔  اگر رات کو دیر سے علی داخلی انٹرکام کی گھنٹی بجاتا  [یہ اس کے چائے مانگنے کا آلارم تھا]  تو اس سے پہلے کہ میں اٹھوں کیا دیکھتی ہوں فہیمہ چائے پیالی میں ڈال کر علی کے دفتر کی جانب روانہ ہو چکی ہے۔ علی اگر کبھی بہت تھکا ہوا گھر آتا تو فہیمہ کو آواز دے کر خود  صوفہ پر سر دھر کر بیٹھ جاتا ۔ فہیمہ تمام کام کاج چھوڑ کر باپ کے سر کی مالش کرنے لگتی اور اس کے بعد بڑی محبت سے باپ کے بال سنوارتی علی بھی پیار بھری نظروں سے اس کو دیکھتا۔ سکون اور اطمینان دونوں کے چہروں سے جھلکتا تھا۔ علی جب سفر پر گیا ہوتا تو یہ محبت اور کھل کر سامنے آتی۔

ایک بار جناب علی کو تین دن کے لئے پشاور جانا پڑا ۔ اس عرصہ میں محمد چڑچڑا اور بے کہنے ہوگیا اور مہدی و فہیمہ سست اور کاہل ہوگئے ۔اسکول سے آ کر ان کا بس ایک ہی کام تھا کہ وہ کتابیں کاپیاں کھول کر بیٹھ جاتے اور رات تک اپنی کتابوں میں لگے رہتے ہے۔ میرا حال بھی بچوں سے مختلف نہ تھا ۔ سارا گھر علی کے بغیر سونا سونا لگتا تھا ، دفتر کی روشنیاں گل ہوتی تھیں اور راہداریاں سنسان۔ تیسری رات ابھی دسترخوان سمیٹ رہی تھی اور کام کرنے کو دل ہی نہ چاہت تھا بڑی بے  دلی کے ساتھ ابھی ٹی وی کھولا ہی تھا کہ گھر کا دروازہ کھلا اور علی  ہوہو کی آوازیں نکالتا ایک بڑا سارا پُتلا [1]اپنے منہ کے سامنے رکھے گھر میں داخل ہوگیا۔بچے اس کی جانب دوڑ پڑے اور اسکی پیٹھ کندھوں اور سر پر چڑھ گئے۔  اس نے بچوں کو گود میں لے کر پیار کرنا شروع کردیا۔ بچوں نے اس کی چھوٹی سی اٹیچی لے لی او ر    وہ     پُتلے   کو لے کر کمرے کے بیچوں بیچ آ بیٹھا۔اس نے چینی کے برتنوں کے دو سیٹ خریدے تھے ایک گھر کے لئے اور فہیمہ کے جہیز کے لئے۔ اس سے پہلے ہمارے پاس چینی کا کوئی سیٹ نہ تھا۔ اس نے سب سے پہلے فہیمہ کو تحفہ دیا اس کے بعد بیٹوں کی باری آئی پھر میرے لئے  تحفے نکالے اس کو جو چیز بھی اچھی لگتی تھی وہ ہ میرے لئے خرید لیتا تھا جب اس نے تیسرا تحفہ مجھے دیا تو فہیمہ اپنی کمر پر ہاتھ رکھ کر کہنے لگی ۔

۔یہ کیا ہمارے لئے ایک ایک تحفہ امی کے لئے اتنے سارے۔

اس کے اس انداز اور اس بات پر علی کا ہنس ہنس کر برا حال ہوگیااس نے فہیمہ کو گود میں اٹھا لیا اور اس کے ہاتھوں کو مضبوطی سے پکڑ لیا تاکہ ہل جل نہ سکے اور اس کو گدگدیاں کرتے ہوئے بہت مشکل سے ہنسی کے درمیان میں کہا۔

۔تم سے کیا مطلب شیطان ؟؟؟ میری مرضی جتنے بھی تحفےدوں۔

امتحانات کے زمانے میں ایک نئی مشکل کھڑی ہوگئی۔ مہدی کو ملتان میں ہی امتحان دینا تھا اور محمد و فہیمہ کو امتحان کے لئے لاہور جانا تھا کیونکہ ملتان میں کوئی ایرانی اسکول نہیں تھا۔ میرا دل گھبرا رہا تھا اور مجھے یہ ڈر تھا کہ بچے امتحان میں فیل نہ ہو جائیں۔ محمد  اور فہیمہ کو میں نے خود گھر میں پڑھایا تھا اور اب ان کو امتحان ان بچوں کے ساتھ دینا تھا جنہوں نے سارا سال اسکول میں ماہر اساتید کی زیر نگرانی تعلیم حاصل کی تھی۔ فیصلہ یہ ہوا کہ میں فیہمہ و محمد کو لے کر لاہور چلی جاوں اور علی ، مہدی کے ساتھ  ملتان میں رہے گا۔

حبیب گاڑی چلا رہا تھا علی اس کے ساتھ آگے سیٹ پر بیٹھا ہوا تھا میں اور بچے پچھلی سیٹ پر۔ میرا دل مہدی کے لئے پریشان تھا کیونکہ وہ ملتان میں اکیلا تھا۔ جب میں  نے صحرائی راستوں کا مشاہدہ کیا تو جان گئی کہ علی نے کس وجہ سے ہمیں تنہا سفر نہیں کرنے دیااور خود اپنی تمام مصروفیات کو چھوڑ کر ہمارے ساتھ  آیا ہے۔میلوں سناٹا، کوہ و بیابان اور دور دور تک کسی دوسری گاڑی کا کوئی نام نشان نہ تھا۔ تا حدِ نگاہ لق و دق صحرا ور خاک آلود کچا راستہ، جس کا اگلا سرا نظر ہی نہ آتا تھا۔ ہمیں کچھ دن لاہور کے  مہمان خانے میں رہنا تھاتاکہ بچوں کو امتحانات دلوائے جا سکیں  ہمارے لاہور پہنچتے ہی علی نے مہمان خانے کے کمرے کی چابی لی اور ہمیں کمرے میں لے آیا۔ میرا دھیان مکمل طور پر مہدی کی طرف تھا۔ علی نے مجھے چابی دی اور خود حبیب کی طرف بڑھ گیا تاکہ بغیر کسی تاخیر کے ملتان کا سفر کیا جائے۔

 

[1] Puppet



 
صارفین کی تعداد: 672


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
اشرف السادات سیستانی کی یادداشتیں

ایک ماں کی ڈیلی ڈائری

محسن پورا جل چکا تھا لیکن اس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔ اسکے اگلے دن صباغجی صاحبہ محسن کی تشییع جنازہ میں بس یہی کہے جارہی تھیں: کسی کو بھی پتلی اور نازک چادروں اور جورابوں میں محسن کے جنازے میں شرکت کی اجازت نہیں ہے۔
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔