ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

ملتان کا مصلح، بتیسواں حصہ

زینب عرفانیان
ترجمہ: سید صائب جعفری
ویرائش: یوشع ظفر حیاتی

2023-5-18


علی کو جو دھمکیاں مل رہی تھیں وہ اہل سنت کی جانب سے نہ تھیں  کیونکہ علی اپنے کام اس طرح سے انجام دے رہا تھا کہ شیعہ سنی کی کوئی بحث ہی نہ تھی۔ جو بھی چیز شیعہ سنی اختلاف کا باعث ہو سکتی تھی علی اس سے صرفِ نظر کرتا اس کا سارا ہم و غم شیعہ  سنی اتحاد تھا۔

علی کے جملہ منصوبوں میں سے ایک یوم  القدس کی تقریبات بھی تھیں  علی نے ان تقریبات کے تمام کام مع وسائل شیعہ سنی افراد میں بانٹ دیئے تھے اور خود ایک مہمان کے طور پر اس میں شرکت کی ٹھانی تھی۔ تقریب بہت جاذبِ نظر رہی۔ بہترین آراستہ ساز و سامان ، تقاریر ، مشاعرہ اور ضیافت جس کی تصویری جھلکیاں اخبارات کی زینت بنیں ۔ اس تقریب میں تمام مدعوین نے شرکت کی اور علی کی شیعہ سنی مسالک کو قریب لانے کی کوشش کامیاب ہوئی۔ شیعہ اور سنی افراد کو ایک ساتھ  مل بیٹھنے کا دوسرا موقع اس نے ماہ مبارک رمضان میں افطاری  کی صورت میں فراہم کیا۔  اس نے ماہ رمضان میں تین چار بار افطاری کا انتظام کیا ۔ ہم افطاری کا دسترخوان چن دیتے تھے تاکہ سب بیٹھ جائیں ۔ زبان فارسی اور کمپیوٹر کے طلاب و اساتید کو مع اہل خانہ مدعو کیا جاتا اور یوں شیعہ سنی افراد ایک ساتھ مل بیٹھتے۔ وہ علماء کرام جن کی خانہ فرہنگ میں آمد و رفت تھی ان کو بھی مدعو کیا جاتا۔ اذان کے قریب قریب اہلِ سنت افراد چائے سے روزہ افطار کر لیتے تھے پھر اذان کے منتظر رہتے تاکہ شیعہ حضرات بھی روزہ افطار کر لیں اور سب مل کر رات کا کھانا کھائیں۔ علی  ٹیپ ریکارڈ پر اذان چلا دیتا اور سب دسترخوان پر آ بیٹھتے۔ ان دعوتوں میں ،میں اور بچے بھی صحن میں خواتین کے ساتھ افطار کیا کرتے تھے  اور اسلام کے نقطہ مشترکہ پر نگاہیں مرکوز کر کے  ہم شیعہ سنی کے فرق پر دھیان نہ دیا کرتے۔ علی کی خواہش بھی یہی تھی کہ مسلمان بغیر تفرقہ کے ایک ساتھ جمع ہو جائیں ۔

پاکستان میں شیعہ عمومی پروگرامز میں زیادہ تر شرکت نہ کرتے تھے  اور ان کا عمومی مراکز پر جمع ہونا   عزاداری سید الشہداء کے جلوس و مجالس یا ولادت و شہادت  کی تقریبات کے موقعہ تک محدود تھا۔ شیعوں کے یہ اجتماعات زیادہ تر منفی تاثیر کا باعث تھے کیونکہ  بعض تقاریب میں کھل کر شیعہ سنی اختلاف کو ہوا دی جاتی تھی ۔ علی کا اصل درد یہی شیعہ سنی اتحاد تھا۔ خصوصاً پاکستان جیسے ممالک جہاں مختلف فرقہ اس بات کا سبب بن سکتے تھے کہ شیعہ سنی باہم دست و گریبان رہیں اور دشمن اس سے فائدہ اٹھائے۔ اس لئے علی کے تمام منصوبوں کا محوروحدت تھی۔

شیعہ سنی اتحاد کے لئے علی کے یہ کوششیں اور خانہ فرہنگ کے نئے انچارج کی شہرت نے ٹیلی فونی اور خطوطی دھمکیوں میں اضافہ کر دیا تھا وہ دھمکی دیا کرتے تھے کہ اس سے پہلے کہ ہم تمہیں اور تمہارے گھر والوں کو راستے سے ہٹا دیں یہاں سے خود ہی چلے جاو۔ علی کی شہادت تک میں ان جزئیات سے بے خبر تھی ۔ علی ان دھمکیوں کا مجھ سے ذکر نہ کرتا تھا مگر میں اس کی چال ڈھال سے اب خطرے کی بو محسوس کر رہی تھی ۔ ہر گذرتے دن کے ساتھ ہماری آمد و رفت حساس سے حساس تر ہوتی جا رہی تھی۔  علی نے مجھے تاکید کر دی تھِی اکیلی گھر سے نہ نکلوں ہر چند ملتان میں ہم گھر سے باہر نکلتے ہی کب تھے؟  مگر اب اس کی تاکید کے بعد میں اور ہوشیار ہو گئی تھی۔ بچوں کا  گھر سے باہر نکلنا بھی صرف اسکول جانے کے لئے تھا اور میں بھی باہر بس اردو کی کلاس اور ڈبنگ کے لئے جایا کرتی تھی۔ تمام جگہوں پر خانہ فرہنگ کی گاڑی اور اس کا ڈرائیور انچارج کے زیرِ نگین ہوتا ہے لیکن ہندوستان کی طرح یہاں بھی علی نے خانہ فرہنگ کے وسائل سے استفادہ کرنے کو جائز نہ جانا اور ہم بھی اس کے عادی ہو چکے تھے کہ اپنے کام خود اپنے ہاتھوں انجام دیں یا علی ہمارے کام کرے۔  نا امنی اور راستوں سے عدم واقفیت کے پیش نظر میں گھر سے بہت کم باہر جایا کرتی تھی علی کے پاس کام بہت تھا وہ اپنی مصروفیت کی وجہ سے ہمیں باہر لے جانے سے قاصر تھا ناچار گھر میں پڑے رہتے۔ ملتان میں ہندوستان کی طرح رکشہ ٹیکسی بھی نہ تھے اور نہ ہی ماحول ایسا تھا کہ جوان اجنبی خاتون تنہا گھر سے باہر جائے مجبوراً ضروری کاموں کے لئے ہمیں حبیب کے ساتھ ہی باہر جانا پڑتا خصوصا اردو کی کلاس کے لئے۔ فلموں کی ڈبنگ اور اردو اخبارات کا ترجمہ میری ذمہ داری تھی سو اس کے لئے اردو زبان کے قواعد و ضوابط سے آگاہی ضروری تھی۔ اس کے لئے میں ہفتہ میں ایک دو بار اردو کی مختصر[1] کلاسوں میں شرکت کرتی تھی۔ ان کلاسوں کی بھی اکثر چھٹی ہو جایا کرتی تھی کیونکہ میں اکیلی تھی اور گھر اور بچوں کی تعلیمی ذمہ داریاں میرے کندھوں پر تھیں۔ میرے اردو کے استاد کے خانہ فرہنگ سے روابط استوار تھے سو وہ جب وہ علی سے ملنے آتے تو میرے لئے نوٹس ساتھ لے آیا کرتے۔ بہت عرصہ بعد مجھے یہ خبر ہوئی کہ یہ جو میں بہت مجبوری میں خانہ فرہنگ کی گاڑی کبھی کبھی استعمال کر لیتی ہوں یہ بھی بعض لوگوں کو ہضم نہیں ہوتا۔  فارسی کے استاد فلموں کا ترجمہ کرتے تو میں وہ فلمیں چلا کر ترجمہ کی تطبیق کرکے اس کی صحت کا جائزہ لیا کرتی تھی اور ضروری تصحیح کا کام انجام دیا کرتی تھی ۔ اکثر اوقات ترجمہ کا کام گھر لے آیا کرتی  تھی اور راتوں کو جب علی جاگ رہا ہوتا تھا تو میں بھی ترجمہ کا کام کر لیا کرتی تھی۔ میرا کام تو جلد نمٹ جاتا تھا اور میں سو جاتی تھی مگر جب  فجر کے لئے بیدار ہوتی تو معلوم ہوتا کہ علی اب تک جاگ رہا ہے۔ اس پر میرادل بڑا کڑھتا تھا اور میں دعا کرتی تھی کہ کاش کچھ ایسا ہو جائے کہ علی  جی بھر کے سویا کرے اور اس کو سکون و قرار میسر آئے۔

ان سب کاموں کے ساتھ جو چیز علی کے لئے اضافی پریشانی کا باعث تھی وہ بچوں کی فکر تھی۔ وہ ایسا نہیں چاہتا تھا کہ کام اس قدر غرق ہو جائے کہ بچوں کا دھیان ہی نہ رہے ۔ وہ آرام تو ویسے ہی بہت کم کرتا تھا اب اس نے بچوں کو وقت دینے کے لئے اپنے آرام اور سونے کے وقت میں مزید کمی کر دی تھی۔ بہت دن پہلے اس نے بچوں سے وعدہ کیا تھا کہ ان کو خریداری کے لئے باہر لے جائے گا ۔ بالآخر وہ دن آ ہی گیا جب علی نے اپنے قول کو عملی جامہ پہنایا اور بچے باہر جانے کو تیار ہونے لگے۔

 

[1] Short course



 
صارفین کی تعداد: 727


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
اشرف السادات سیستانی کی یادداشتیں

ایک ماں کی ڈیلی ڈائری

محسن پورا جل چکا تھا لیکن اس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔ اسکے اگلے دن صباغجی صاحبہ محسن کی تشییع جنازہ میں بس یہی کہے جارہی تھیں: کسی کو بھی پتلی اور نازک چادروں اور جورابوں میں محسن کے جنازے میں شرکت کی اجازت نہیں ہے۔
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔