ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

ملتان کا مصلح، پچیسواں حصہ

زینب عرفانیان
ترجمہ: سید صائب جعفری
ویرائش: یوشع ظفر حیاتی

2022-10-21


لاہور میں گنجی  صاحب کی شہادت کے بعد سے پاکستان سے مسلسل دہشت گردی اور فرقہ واریت کی خبریں موصول ہو رہی تھیں ۔ شیعہ  اور سنی مختلف مسالک اور رجحانات میں بٹ گئے تھے ۔ پاکستان میں شیعہ کثیر تعداد میں ہونے کے باوجود پسے ہوئے تھے اور ہر سال بہت سے شیعہ  مختلف فسادات میں شہید ہوجاتے تھے  اندرونی اتحاد نہ ہونے کے برابر تھا جس کی وجہ سے ذات پات اور قومیت و زبان نے پاکستان میں اپنی جڑیں  مضبوط کر لی تھیں۔ ایران، اسلامی جمہوریہ  اور انقلاب اسلامی ، سعودیہ عرب جیسے ممالک کے لئے جو پاکستان کی اس حالت سے فائدہ اٹھا رہے تھے خطرے کی گھنٹی تھا۔ سعودی عرب اس خطہ میں انقلاب اسلامی کے نفوذ کو روکنے کے لئے پیسہ پانی کی طرح بہا رہا تھا دھڑا دھر مدرسے قائم ہو رہے تھے وہ بھی شیعہ مخالف مدارس۔ یہاں تک کہ انقلاب ایران کے بعد پاکستانی تعلیمی نصاب سے فارسی زبان کو خارج کر دیا گیا تھا تاکہ انقلاب کی سرائیت کا راستہ روکا جا سکے۔

میں علی کی اس ماموریت کا سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔ خطروں کا ایک سمندراور نا مساعد حالات  ایک طرف تو دوسری طرف تین مختلف جماعتوں میں پڑھنے والے بچوں کے ساتھ ایک ایسے شہر جانا جہاں ایک بھی ایرانی نہ ہو۔ پہلی بار جب علی نے ملتان کا تذکرہ کیا تو اسی وقت سے میں نے مخالفت شروع کردی۔ شروع میں علی نے بھی زیادہ زور نہ دیا اور زبر دستی تو کبھی نہ کی۔ وہ میری رضا مندی کے ساتھ وہاں جانا چاہتا تھا۔ بعد میں اس کے مخطوطات اور محفوظات پڑھ کر مجھے اندازہ ہواکہ مجھے ہوا لگے بغیر ہی علی ،پاکستان کے  بارے میں مکمل اور مفصل تحقیق کر چکا تھااور اس کی تحقیق کا اصل محور ملتان کا سیاسی اور مذہبی ڈھانچہ تھا۔ یوں مجھ پر کھلا کہ یہ ملتان کا سفر کوئی اتفاقی نہیں بلکہ  مجھے بتانے سے بہت پہلے سے اس کی بحث چھڑ چکی تھی اور اب مجھے گاہے بگاہے ملتان جانے کا کہنا صرف مجھے آمادہ کرنے کے لئے تھا اور میں تقدیر کے لکھے سے بے خبر مسلسل انکار کر رہی تھی مگر تمام تر مخالفت بھی قدرت کے فیصلے کو ٹال نہ سکتی تھی۔

میں رات کے برتن دھو رہی تھی علی میرے پاس آگیا اور چھیکے[1]  سے ٹیک لگا کر کھڑا ہو گیا۔ وہ عموماً ایسا اس وقت کرتا تھا جب اس کو کوئی اہم بات مجھ سے کرنا ہوتی۔ اس نے بات کرنا شروع کی وہ اپنی باتوں کے دوران جب جب ملتان کا نام لیتا میرا  دل دہل کر رہ جاتا۔

-خانہ فرہنگ کے سابقہ انچارج ، ثقافتی امور میں اپنی ذمہ داریوں سے احسن طریقے سے عہدہ برآں نہ ہوسکے۔ خانہ فرہنگ ملتان کو جاری بھی تو رکھنا ہے۔

آج اس کا لہجہ بہت بدلا ہوا تھا میں چاہتی تھی کہ اس کے چہرے کی طرف نہ دیکھوں کہ کہیں  اس طرح وہ مجھے راضی نہ کر لے۔ اس بار یہ فیصلہ ہوا تھا کہ علی ، ملتان میں خانہ فرہنگ کا انچارج ہوگا۔ وہ خانہ فرہنگ اور وہاں کی ذمہ داریوں کے بارے میں محوِ گفتگو تھااور میں برتن دھونےمیں مشغول تھی۔ میرے پاس کہنے کو حرف نہ تھے مگر ایک بات تھی کہ میرا دل کسی طرح بھی ملتان جانے کو تیار نہ تھا۔ اس کی آج کی باتوں سے یہ راز بھی کھلا کہ علی دوسال پہلے پاکستان کے سفر میں ملتان میں اسی جگہ سے ہوکر آیا  تھا  جہاں اب ہمیں جانا تھا۔

-وہاں جاکر ہمیں بھی مشکلات کا سامنا ہوگا مگر پاکستان کے بے چارے شیعوں کی دل جوئی کرنے والا کوئی نہیں ہے۔

میں نے نلکا بند کیا اور ہاتھ پونچھنے لگی وہ دنیا کے کسی بھی گوشے میں جانے کا کہتا میں بے چون و چرا اس کے ساتھ چلی جاتی مگر پاکستان کا شیعہ مخالف سمندر میرے لئے ایک بھیانک خواب تھا ۔خدا نخواستہ وہاں علی یا بچوں کو کچھ ہو گیا تو؟ یہ سوچ کر بدن میں جھر جھری آ جاتی تھی۔ میں نے اسکی طرف دیکھا  میں کہنا چاہتی تھی کہ اتنا اصرار نہ کرومیں پاکستان کے سفر کے بارےمیں ایک حرف بھی سننا نہیں چاہتی مگر میرے لفظ قید ہوگئے اور علی نے پیش قدمی کی اور کہا:

-مریم۔ ملتان کا سفر مقدر ہو چکا ہے اگر آج ہی چلے جائیں تو کل جانے سے بہتر  ہے۔

ایسا لگا کسی نے بالٹیاں بھر کر ٹھنڈا پانی مجھ پر ڈال دیا ہے ۔ میرے الفاظ میرے منہ میں جم گئے۔ ملتان مقدر کئے جانے کا لفظ سننے کے بعد اب میں کچھ نہ کہہ سکی سوائے اس کے کہ بچوں کے امتحانات نمٹنے تک صبر کیا جائے۔

 

[1] Kitchen’s cabinet



 
صارفین کی تعداد: 406


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
ساواک کی تجویز کا جواب

یونیورسٹی میں تعلیم جاری رکھنے سے انکار،

میں ایک سال سے غیر حاضر تھا اور حالات کافی تبدیل ہو چکے تھے۔ اس سے قبل، میرے دوست سیاسی معاملات سے لاتعلق رہتے تھے لیکن اس بار وہ بہت جوش اور احترام سے میرے استقبال کو آئے۔
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔