شہید ناصر کاظمی

تلخیص و ترجمہ: یوشع ظفر حیاتی

2022-05-07


شہید ناصر کاظمی ۳۱ مئی ۱۹۵۶ کو تہران میں پیدا ہوئے۔ آپ نے پیرا میڈکل کے شعبے میں تعلیم حاصل کی اور انقلاب اسلامی کے بعد سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کا حصہ بن گئے۔ ولی عصر عج بیرکس میں دو ہفتوں کی مختصر ٹریننگ حاصل کرنے کے بعد شہید محمد بروجردی کی جانب سے گرہان کے کمانڈر مقرر کردیئے گئے۔

سن ۱۹۷۹ میں زابل روانہ ہوئے جہاں ضد انقلاب طاقتوں کی جانب سے نقض امن کا سلسلہ جاری تھا اور وہاں جا کر اس فتنے اور سازش کا ناکام بنانے میں کامیاب ہوئے۔

اس کے بعد شہید ناصر کاظمی خوزستان روانہ ہوئے جہاں خلق عرب کے نامی سے علیحدگی پسند عناصر کا مقابلہ کیا اور خرمشہر میں اپنا مشن مکمل کرنے کے بعد واپس تہران آگئے اور ۴ نومبر ۱۹۷۹ کو مسلسل تین دن امریکی جاسوسی کے اڈے(لانہ جاسوسی) کی سیکیورٹی کی ذمہ داری ادا کی۔

۱۹۷۹ کو شہید محمد بروجردی کی سفارش پر ڈیموکریٹس اور ضد انقلاب عناصر کے سدباب اور عوامی خدمت کے لئے ایک گروہ کے ہمراہ ملک کے مغربی علاقوں من جملہ صوبہ کرمانشاہ چلے گئے۔

انہیں پاوہ شہر کے میئر کی ذمہ داری سونپی گئی جس کے بعد انہیں پاوہ شہر کی سپاہ کا کمانڈر بھی مقرر کردیا گیا۔ شہید ناصر کاظمی نے اس علاقے میں مقامی فورسز کو تشکیل دیا کیونکہ ان کا ماننا تھا کہ کرد علاقوں کے باسی اپنی مدد آپ کے تحت ہی ضد انقلاب عناصر سے نجات حاصل کرستے ہیں۔ بنا برایں انہوں نے مقامی افراد اور رضاکار فورسز کی مدد سے پاوہ اور نور یاب کے مابین شاہراہ اور قشلاق کے دیہاتوں اور بیرکس کو ضد انقلاب عناصر سے آزاد کروایا۔ اسکے بعد سن ۱۹۸۰ میں عوام اور رضاکار فورسز کی مدد سے بانگان کے علاقے کو ضد انقلاب عناصر سے نجات دلوائی۔ اسی سال ضد انقلاب عناصر کے لئے انتہائی اہمیت کے حامل مورچے بیلت کو کہ جو دراصل نوسود شہر کی آزادی کی اجنب ایک اہم قدم تھا آزاد کروا لیا۔ اس آپریشن میں آپ زخمی ہوگئی اور آپ کو تہران بھیج دیا گیا جہاں اسپتال میں زیر علاج رہے لیکن علاج مکمل ہونے سے پہلے ہی پاوہ واپس لوٹ گئے اور کلہ چنار کی انچائیوں، شمشیر، گلوتنگہ، اورمانات، مرسوک اور نودشہ نامی علاقوں میں کامیاب آپریشن کئے۔

۱۹۸۱ میں شہید محمد بروجردی نے محمد ابراہیم ہمت کو پاوہ کی سپاہ کا کمانڈر مقرر کردیا اور شہید ناصر کاظمی کو سپاہ کردستان کا کمانڈر بنا کر سنندج بھیج دیا گیا۔ جہاں شہید کاظمی نے شہداء بٹالین کی بنیاد رکھی جو آگے چل کر شہداء ڈویژن میں تبدیل ہوگئی ۔

شہید کاظمی نے آخری آپریشن پیرانشھر ک اور سردشت کے علاقوں میں کیا جو عراق کے سرحدی علاقوں سے متصل ہیں۔ یہ آپریشن سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی اور کرد فروس پیشمرگہ نے مل کر انجام دیا تھا۔

ناصر کاظمی کو ۱۹۸۲ کو اسی آپریشن کے دوران "ممین چہ" نامی ایک دیہات میں سر پر گولی مار کر شہید کردیا گیا۔

 

 



 
صارفین کی تعداد: 720


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 

تم اشارہ کرتے کہ زیادہ نہ ماریں

ہمارے تفتیشی افسر کا نام رحیم خانی تھا، جو بہت عجیب، عمدہ اور ماہرانہ طریقے سے کام کرتا تھا۔ہم میں سے جس سے بھی پوچھ گچھ کرتا ، کہتا تھا،" میں نے سنا ہے کہ تمہیں قید میں مارتے ہیں؟اگر کوئی شکایت  ہے تو بتاوَتاکہ اسکی خبر لگاوَں
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔