کس طرح میرے والد سے دستخط لیے گئے

ترجمہ: ابو زہرا علوی

2022-02-26


آخر عمرمیں میرے مرحوم والد صاحب کی ایک آنکھ میں خون اترآیاتھا؛  لہذا وہ اپنی دوسری آنکھ سے مطالعہ کیاکرتے تھے میرا سب سے چھوٹا بھائی والد صاحب کی عمرتک ان کےساتھ رہا،  ایک دن جب میں اپنے  والد کوسلام کرنے آیاتو والد صاحب نے مجھ سے کہا:  "مجھے اپنی ساری زندگی میں اتنا غصہ نہیں آیا جتنا کہ آج آیا۔  وہ اس لیے کے چشمہ لگا کر بھی میں کتاب نہیں پڑھ سکا۔"

اس وقت سے انکی بینائی ختم ہوگئی۔  ایک مدت تک وہ اسی طرح درس دیاکرتے تھے طلاب کتاب پڑھتے تھے اور وہ درس دیاکرتے تھے۔  جب ریاستی اور صوبائی انجمنوں کی لغویت کی منظوری کے خلاف علماکی تحریک شروع ہوئی،  اس وقت والد صاحب کی دونوں آنکھوں میں خون بھرچکاتھا اور انکی بینائی مکمل جا چکی تھی۔  اس حالت میں حکومتی کارندے والد صاحب کے گھر آئے تاکہ ان سے دستخط لے سکیں کے مسجد عزیزاللہ میں کل دعا کا پروگرام نہیں ہوگا۔

مجھے یاد ہے کہ کارندے رات کے آخری حصے میں جناب بھبھانی و خونساری و آملی کے گھرگئےاور ان سے دستخط لیے۔  تقریباً رات ایک بجے جبکہ والد صاحب سو رہے تھے۔  انہیں جگایا اورکہا:  "جناب آپ نابیناہیں آپ یہاں دستخط کردیجئے،  انھوں نے لرزتے ہاتھوں سے خود دستخط کیےاور "الاحقری"  لکھا اورایک چیزاور لکھی،  کےجو ساواک کی دستاویزات میں موجود ہوگا۔

مختصر یہ کہ وہ ان  چار حضرات سے جلدازجلد دستخط لینا چاہتے تھے تاکہ  اس دن مسجد عزیزاللہ میں پروگرام منعقد ناہو۔

۲۹/۱۱/۱۹٦۲ کی صبح دعا کا پروگرام منعقد ہونا تھا لوگ پہلے سے طے شدہ پروگرام کے مطابق گروہ کی صورت میں آنے لگے مسجد عزیزاللہ بھرچکی تھی مسجد کا اطراف لوگوں سے کھچاکھچ تھا۔  کئی بار مسجد کی انتطامیہ نے لاؤڈاسپیکر پراعلان بھی کیا کہ  حکومت نے ریاستی اور صوبائی انجمنوں کو کالعدم قرار دے دیا ہے اور حکومت نے علما تک یہ پیغام پہنچادیا ہے اور علما نے یہ پیغام دیا ہے کہ آج پروگرام نہیں ہوگا۔  لیکن لوگوں نے حکومت سے کدورت کی وجہ سے علما کے اس معاہدے کو قبول نہیں کیا۔  لوگ مسجد و بازار کو چھوڑنے پر تیار نہیں تھے۔  ناچارمسجد والوں نے فون کیا اس کے علاوہ چارہ نہیں تھا کہ میں مسجد آؤں اور منبر پر جاکر اس معاملے کے صحیح ہونے کی اطلاع لوگوں کودوں۔  میں مسجد آیا۔  میرا مسجد میں داخل ہونا ہیجان کا سبب بنا۔  نعرے اور دورد کی صدائیں تھمنے کا نام نہیں لیے رہی تھیں،  میں ممبر پر گیا سب سے پہلے میں لوگوں کا انکی  استقامت کا انکے جذبات  کا انکے احساسات کو شکریہ  ادا کیا پھرکچھ مطالب ذکر بعد میں نے کہا کے کل راست حکومت نے ریاستی اور صوبائی انجمنوں کے قانون کو ختم  کردیاہے اورتہران قم کے علمائے اعلام  تک خبرپہنچادی ہے،  پھر آخرمیں میں نے لوگوں سے مسجد کوترک کرنے کوکہا۔

حکومت کے ٹلیگراف کے بعد  قم و تہران کے مراجع عظام نے آپس میں مشورے کے بعد یہ اعلان کیا کہ حکومت اس لغویت کو اخبارات و ریڈیو کے زریعے عام کرے اور لوگوں تک پہنچائے۔

اگلی صبح دعا کا پروگرام مسجد ارک میں منعقد ہوا اور میں نے تقریر میں شدید لحن کے ساتھ حکومت کو متنبہ کیا کہ ہم حکومت کو فرصت دیتے ہیں کہ وہ  جلدی اپنے لغویت کے اقدام کوجرائد اور اخبارات و ریڈیو کے زریعے لوگوں تک پہنچائے نہیں تو تمام ترذمہ داری حکومت کی ہوگی،  تقریر کے آخر میں میں وہ  اعلامیہ پڑھاجو امام خُمینی اور دیگر مراجع اعظام کی  جانب سے لغویت کے عام کرنے پر جاری ہواتھا،  بلآخر اگلے دن ریاستی اور صوبائی انجمنوں کے کالعدم ہونے کے اعلانات حکومتی  سطح پر اخبارات،  جرائد اور ریڈیو پر نشر ہوئے۔

 

منبع: خاطرات و مبارزات حجت‌الاسلام والمسلمین محمدتقی فلسفی، مصاحبه‌ها: سیدحمید روحانی (زیارتی)، چ 1، 1376، تهران، انتشارات مرکز اسناد انقلاب اسلامی، ص 241 – 242.

 



 
صارفین کی تعداد: 563


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
حسن مولائی کی یادیں

سو افراد، سینکڑوں افراد، ہزاروں

وہ لوگ جو چند گھنٹوں پہلے جمرات جا رہے تھے تاکہ رمی جمرات کا فریضہ ادا کرسکیں اب تولیہ اوڑھے سو رہے تھے۔ جب جنازے ختم ہوئے، تو مجھے سمجھ نہیں آئی کہ مجھے کہاں لوٹنا چاہئیے۔ اچانک میرے پیروں نے کام کرنا چھوڑ دیا اور میں نے پہلی مرتبہ وہاں گریہ کرنا شروع کردیا۔ واپس پلٹ کر ان سفید پیکروں کو دیکھنا شروع کیا۔ پوری سڑک جنازوں سے سفید ہوچکی تھی۔ ایک جوان مرد کی آواز پر چونکا جو میرے ساتھ کھڑا تھا اور میرے پیروں کے سامنے چپلیں رکھ رہا تھا۔
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔